آج کا پکوان:چکن وائٹ کڑاہی

تحریر : انعم شیخ(شیف)


اجزا:چکن :آدھا کلو،پیاز :تین عدد، لہسن کا پیسٹ : آدھا چائے کا چمچ،ادرک :ایک انچ کا ٹکڑا باریک کٹا ہوا،ہری مرچ: باریک کتری ہوئی 3 عدد،پسی کالی مرچ؛

 آدھا چائے کا چمچ،پسا ہوا گرم مصالحہ:آدھا چائے کا چمچ،ہرا دھنیا: باریک کترا ہوا،فریش کریم : چھ چمچ،نمک: آدھا چائے کا چمچ،کوکنگ آئل : چار چمچ

 ترکیب: کڑاہی میں آئل گرم کرکے چکن اور نمک ڈال کر اچھی طرح مکس کر کے پانچ منٹ تک ڈھانپ کر پکائیں۔ پیاز ، لہسن ،کالی مرچ، شامل کرکے مزید 15 منٹ پکانے کے بعد ہری مرچیں ڈال کر بھونیں۔جب چکن آئل چھوڑ دے تو اس میں فریش کریم ڈال کر دو منٹ پکائیں اور آخر میں ادرک ڈال کر دو منٹ کیلئے دم پر رکھ کر اتار لیںاور ہرا دھنیا چھڑک کر نان اور سلاد کے ساتھ تناول کریں۔اس ڈش میں پانی با لکل استعمال نہ کریں۔

گاجر کی کھیر

اجزا: گاجر:دو کلو گرام،چاول: ایک پاؤ،دودھ: ڈیڑھ کلو گرام،بادام: حسب ذائقہ،پستہ: حسب ذائقہ،الائچی:باریک پسی ہوئی آدھا چائے کا چمچ،برفی : ایک پاؤ،کیوڑا: چوتھائی چائے کا چمچ، چینی: حسب ذائقہ

ترکیب: کھیر پکانے سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے چاول اچھی طرح صاف کر کے پانی میں بھگو دیں۔ایک دیگچے میں دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر چڑھا دیں۔جب دودھ اچھی طرح ابلنے لگے تو اس میں بھیگے ہوئے چاول ڈالتے جائیں اور چمچے کی مدد سے دودھ کو ہلاتے جائیں۔چاول ڈال کر تھوڑی دیر پکنے دیں اور پھر اس میں کدو کش کی ہوئی گاجریں شامل کر کے اسے تقریبا پون گھنٹے کے لیے پکنے کے لیے چھوڑ دیں، پون گھنٹے کے بعد اس میں چمچ چلانا شروع کریں اور برفی اورچینی شامل کر دیں۔اتارنے سے کچھ پہلے اس میں بادام، پستے اور پسی ہوئی الائچی کے ساتھ تھوڑ سا کیوڑا ڈالیں اور ڈھکن اچھی طرح بند کر کے آگ بند کر دیں۔پیش کرتے وقت ثابت بادام اور پستے سے گارنش کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق اللہ کے ذمہ:آغازِ پارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘ وہ، اُس کے قیام کی جگہ (اس سے مراد باپ کی پُشت یا ماں کا رَحم یا زمین پر جائے سکونت ہے) اور سپردگی کی جگہ (اس سے مراد مکان یا قبر ہے)، سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 12)

رزق منجانب اللہ:اس پارے کا آغاز سورۂ ہود سے ہوتا ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں‘ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔