سانحہ گل پلازہ،متاثرین کا کیا بنے گا؟
٭سندھ کے وزیرتعلیم نے نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق طلبہ کو جو مفت درسی کتابیں دی گئی تھیں وہ سالانہ امتحانات کے بعد واپس لے لی جائیں گی٭سانحہ گل پلازہ کیلئے قائم عدالتی کمیشن کا 10فروری کو گزٹ نوٹیفکیشن ہوگیا ہے٭لاڑکانہ میں اربوں روپے کی لاگت سے پھل و سبزی منڈی بنائی جائے گی٭ ساتویں جماعت کی طالبہ کو والدین نے آگے پڑھنے سے روکا تو وہ گھر سے بھاگ نکلی۔
یہ مختلف خبریں ہیں جو بظاہر الگ الگ ہیں لیکن ان کا تعلق ہر صورت عوام سے ہے۔ صوبائی وزیرتعلیم کے شاندار حکم نامے کی بات کریں تو وزیر تعلیم سردار شاہ کے حکم نامے کے مطابق مفت دی گئی کتابیں واپس لی جائیں گی۔ کتابوں کے اجرا اور واپسی کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا اور رزلٹ کارڈ پر اندراج بھی ہوگا۔ کتابیں جمع کرنے، سٹور کرنے کا نظام بھی وضع کردیا گیا، لیکن مفت دی گئی کتابیں کیوں واپس لی جائیں گی؟ کیا ان کتابوں کو دوبارہ طلبہ میں تقسیم کیا جائے گا؟ کیا حکومت کا تعلیمی بجٹ کم یا ختم ہوگیا ہے؟ دنیا کی ہر چیز کے لیے پیسہ ہے لیکن تعلیم کے لیے نہیں اور شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے ایسی ایسی تجاویز سامنے آتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی اور ہم پرانی اور نئی کتابیں جمع کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک تو پہلے ہی ہمارا نظام تعلیم فرسودہ ہوچکا ہے، جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم تو نئی کتابوں کے بجائے طلبہ کو پرانی دینے پر کمربستہ ہیں۔ ہم نے پورے تعلیمی نظام کو سرکار سے نکال کر نجی اداروں کی گود میں ڈال دیا ہے، غیرملکی تعلیم کے نام پر لوٹ مار مچا رکھی ہے اور افسران کو پرانی کتابیں جمع کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔ کیا قسمت ہے ہمارے بچوں کی۔
کراچی سے ایک افسوسناک خبر بھی جان لیں۔ والدین نے ساتویں جماعت کی ایک طالبہ کو تعلیم جاری رکھنے سے روکا تو بچی گھر چھوڑ کر بھاگ گئی۔ بچی لاکھوں روپے اور اپنا بستہ بھی ساتھ لے گئی۔ پولیس نے بچی کو بحفاظت بازیاب کرکے والدین کے حوالے کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پرانی کتابیں واپس لینا اہم ہے یا اس بات کی منصوبہ بندی کہ ہر بچہ سکول، کالج جائے؟ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ ہیں جو دنیاوی تعلیم کو برا سمجھتے ہیں۔ انتظامیہ کا سارا زور صرف تعلیم نہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم ہونا چاہیے، اور ہم ہیں کہ پرانی کتابیں جمع کر رہے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہمارا مقابلہ ملک کے کسی صوبے سے نہیں دنیا سے ہے۔ اس طرح ہوتا ہے دنیا سے مقابلہ؟ ایک طرف تعلیم کا تو ہم نے یہ حال کردیا ہے اور دوسری طرف لاڑکانہ میں فروٹ منڈی بنانے کے لیے چارارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ ٹھیک ہے حکومت کا کام تاجروں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہے لیکن اتنی بڑی رقم؟
عوام کی بات ہورہی ہے تو خدا خدا کرکے سانحہ گل پلازہ کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا گزٹ نوٹیفکیشن 10فروری کو ہوگیا۔ کمیشن نے کام بھی شروع کردیا ہے۔ 17جنوری کو ہوئے سانحے میں 80کے قریب جان سے گئے۔ دکانداروں کا بہت نقصان ہوا لیکن ان کے پاس کام کرنے والے ورکرز بھی بے یارومددگار ہیں۔ ان ورکرز نے بھی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔ حکومت کو اس بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔
سیاسی میدان میں بھی کچھ گرماگرم خبریں ہیں۔ پی ٹی آئی نے 8فروری کے احتجاج کی کامیابی کا دعویٰ کیا تو دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج نہ صرف ناکام ہوا بلکہ عوام نے پی ٹی آئی مسترد کردیا۔ مراد علی شاہ بولے انہیں تو کہیں احتجاج نظر نہیں آیا البتہ صوبے میں ایم پی او کے تحت جاری تمام حراستی احکامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔ قید افراد کی رہائی کا حکم بھی دیا۔ یہ لوگ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں۔ احتجاج سے پہلے گرفتاری اور تاریخ گزرنے کے بعد رہائی، احتجاج ناکام ہی رہا۔جماعت اسلامی نے’ جینے دو کراچی کو‘ مارچ کیا۔ شاہراہ فیصل پر شرکا سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبے پر پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے اور اسے ختم کرانا ہی ہوگا۔ انہوں نے 14فروری کو اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا بھی اعلان کردیا جبکہ میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ اب کسی کو شاہراہ فیصل پر ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے نہیں دیا جائے گا اور سختی سے نمٹیں گے۔ دوسری طرف امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ شاہراہ فیصل پر بغیر اجازت جلسہ کرنے پر درج کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی نے چند روز قبل کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر عوامی نیوز کانفرنس کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے نہ ہونے دیا۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ 14فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج ہوگا۔ جہاں تک شاہراہ فیصل کی ریلی کی بات ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک تنظیم ریلی کا اعلان کرتی ہے، اہم شاہراہ کا ایک ٹریک بند کردیتی ہے، ہزاروں افراد ریلی میں شرکت کرتے ہیں اور اس کے اگلے روز وزیراعلیٰ اور حکومت کو سختی سے نمٹنے اور مقدمہ درج کرنے کا خیال آتا ہے۔ اگر حکومت نے اجازت نہیں دی تھی تو جلسہ کیسے ہو گیا؟سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ہر صورت قانون پر عمل کرائے اور جب ایسا نہ کرپائے تو خاموش ہی رہے کہ لوگوں کو چہ مگوئیوں کا موقع نہ ملے۔