جنت کا متلاشی (چوتھی قسط )
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے۔ ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے۔ دن میں روزہ رکھتے اور راتوں کو اپنے اللہ کے حضور عجزو انکسار کے ساتھ نوافل ادا کرتے۔
جب بھی فارغ وقت ملتا، قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو جاتے۔ وہ قرآن کی تلاوت کو آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھتے تھے۔
ایک مرتبہ پوراقرآن ایک ہی رات میں پڑھ لیا۔ جب اس بات کی اطلاع اللہ کے رسول ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تین دن سے پہلے مکمل نہ کیا کرو۔ اس واقعہ کے بارے میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خود کہتے ہیں کہ میں نے قرآن مجید کو ایک ہی رات میں پڑھ لیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’ایک ماہ میں مکمل کیا کرو‘‘۔ میں نے کہا ’’اللہ کے رسولﷺ مجھے اللہ نے طاقت دی ہے، نوجوان ہوں زیادہ پڑھنے کی اجازت دیجئے‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو‘‘۔میں نے کہا ’’ میں اس سے بھی زیادہ پڑھنا چاہتا ہوں اجازت دیجئے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ سات راتوں میں مکمل کر سکتے ہو‘‘۔ میں نے پھر عرض کی ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ، مجھے اس سے بھی زیادہ پڑھنے کا شوق ہے، مزید اجازت عطا فرمائیں‘‘۔لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا، فرمایا ’’جس نے تین راتوں سے پہلے قرآن کی تلاوت مکمل کی گویا کہ اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں‘‘۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جو اللہ کے ڈر کی وجہ سے کثرت سے روتے رہتے تھے۔ یعلی بن عطا ؒ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کیلئے سرمہ تیار کرتی تھیں تاکہ وہ اپنی آنکھوں میں ڈالیں ۔آپؓ اللہ کے ڈر کی وجہ سے کثرت سے روتے رہتے تھے۔ اپنے دروازے کو بند کر لیتے اور دیر تک روتے رہتے، رونے کی وجہ سے ان کی بینائی تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ کیا یہ وہی انسان نہیں جو کہہ رہا ہے’’ اللہ کی راہ میں ایک آنسو بہانا مجھے اللہ کی راہ میں ایک ہزار دینار خرچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔
ایک دفعہ عبادت کے حوالے سے ایک بڑا عجیب قصہ ہوا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں ایک مرتبہ ہم اللہ کے حبیب ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی انسان آنے والا ہے‘‘ ۔ہم نے دیکھا تو آنے الا ایک انصاری تھا۔ اہل مدینہ کو انصاری کہتے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو مدینہ میں خوش آمدید کہا اور ان کی رسالت کو تسلیم کیا۔ اس انصاری کی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے گر رہے تھے، بائیں ہاتھ میں اس نے اپنے جوتے اٹھائے ہوئے تھے۔ دوسرے روز ہم اسی طرح بیٹھے تھے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے پھر فرمایا: ’’ابھی تمہارے پاس ایک جنتی انسان آنے والا ہے‘‘۔ ہم نے دیکھا کہ آنے والا تو وہی آدمی ہے جو کل آیا تھا۔ تیسرے روز پھر اسی طرح اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’ ایک جنتی ابھی آنے والا ہے‘‘ دیکھا تو پھر وہی انصاری ظاہر ہوا۔
جب اللہ کے رسول ﷺ مجلس سے رخصت ہوئے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ اس انصاری کے پیچھے چل پڑے جس کو تین دفعہ جنت کی بشارت مل چکی تھی۔ اس انصاری سے انہوں نے کہا: ’’ میرا اپنے والد صاحب سے جھگڑا ہو گیا ہے، میں نے قسم کھائی ہے کہ تین روز تک گھر میں داخل نہیں ہوں گا، کیا میں تین روز کیلئے آپ کے ہاں قیام کر سکتا ہوں‘‘۔
اس انصاری نے جواب دیا ’’ کوئی بات نہیں، آپ میرے ہاں ٹھہر جائیں‘‘۔ انس ؓفرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمروؓ نے ہمیں بتایا: ’’ میں نے تین راتیں اس انصاری کے گھر قیام کیا، لیکن اس میں ’’قیام اللیل‘‘ والی کوئی جھلک نہ دیکھی، یعنی راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے قطعی نہ دیکھا۔ سوائے اس کے کہ جب وہ اپنے پہلو کو بدلتا تو اللہ کا ذکر کرتا، اذان کے وقت نماز کیلئے اٹھ کھڑا ہوتا۔ جب تین راتیں گزر گئیں ممکن تھا اس کی عبادت کو حقیر جانتا، میں نے اسے اصلی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا: ’’اے اللہ کے بندے میرا والد صاحب سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا، نہ ہی انہوں نے مجھے گھر سے نکالا ہے۔ میں نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کی مجلس میں سنا کہ عنقریب تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ وہ خوش قسمت آپ ہی تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھوں آپ کیا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے اللہ کے رسولﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے تاکہ میں بھی آپ جیسا عمل کروں اور جنت کا حق دار بن جائوں۔ لیکن میں نے آپ میں کوئی بڑا عمل نہیں دیکھا، آخر کس وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کو تین مرتبہ جنت کی بشارت دی ہے۔ مجھے اس کے بارے میں ضرور بتائیں۔(جاری ہے)