رمضان المبارک: تقویٰ اور اصلاح باطن کا مہینہ

تحریر : ڈاکٹر مفتی سّید اطہر علی شاہ


روزہ انسانی نفس کی تربیت اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے

رمضان المبارک صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تربیتی مہینہ ہے جو انسان کی روح، عقل اور کردار سب کو سنوارتا ہے۔ قرآن مجید نے اس مہینے کی فضیلت کو نزولِ قرآن کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے اور اسے اللہ کے قرب حاصل کرنے اور تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ بتایا ہے۔روزہ نہ صرف جسمانی صبر سکھاتا ہے بلکہ اخلاقی تربیت کا بھی ذریعہ ہے۔ رمضان میں عبادات کے ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ افطار کرانا، صدقہ و خیرات دینا، رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھنا، اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا انسان میں ہمدردی اور تعاون کو بڑھاتا ہے۔ یہ مہینہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتا ہے جہاں رحم، مساوات اور باہمی تعاون نمایاں ہوں۔ نظم و ضبط رمضان کی ایک اہم تربیت ہے۔ سحری و افطار کے اوقات کی پابندی، نمازوں کا اہتمام اور تراویح میں شرکت انسان کو وقت کی قدر اور عملی ترتیب سکھاتی ہے۔ یہ عادت اگر باقی سال بھی برقرار رہے تو زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی بہتری لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اخلاص اور شعوری وابستگی کے ساتھ گزارا گیا رمضان انسان کی روحانی تجدید، اخلاقی مضبوطی اور اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے۔

 روحانی اور اخلاقی تربیت

روزہ صرف بھوک اور پیاس کی پابندی نہیں بلکہ انسان کے نفس کی تربیت اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں روزے کی فرضیت اور اس کا مقصد تقویٰ قرار دیا گیا ہے ( سورۃ البقرہ:183)۔ روزہ صبر پیدا کرتا ہے اور خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔روزہ دار کیلuے دو خوشیوں کا ذکر بھی صحیح حدیث میں آیا ہے، افطار کی خوشی اور اللہ کی رضا کی خوشی (صحیح بخاری:1904)۔ روزہ اخلاقی اصلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزہ دار کو چاہئے کہ وہ جھوٹ اور بدزبانی سے پرہیز کرے (صحیح بخاری: 1894)۔

قرآن کی تلاوت 

رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت، تدبر اور عمل پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ تاکہ اس کی تعلیمات کو بہترین طریقے سے سمجھا جا سکے۔ قرآن کے ہر لفظ میں ہدایت اور روحانی روشنی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کیلئے ہر حرف پر ثواب ملتا ہے (جامع الترمذی: 2910)۔

قیامِ رمضان

رمضان میں رات کا قیام انسان کے دل اور روح کو تازگی دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا  ’’جو شخص رمضان میں رات کے وقت قیام کرتا ہے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘(صحیح مسلم: 44)۔ رات کی عبادت انسان کی روحانی طاقت بڑھاتی ہے۔ قیام انسان کو نظم و ضبط سکھاتا ہے، رات کی عبادت اور دن کے روزے کا امتزاج روحانی تربیت کا مکمل نظام فراہم کرتا ہے۔

دعا اور استغفار 

رمضان دعا اور استغفار کا مہینہ ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: ’’میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں‘‘ (سورۃ البقرہ:186)۔ اس میں روزہ دار کی دعا کی بھی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے، کیونکہ افطار کے وقت کی دعا زیادہ قبولیت رکھتی ہے۔ استغفار دل کی صفائی اور روح کی نرمی کا ذریعہ ہے۔ رمضان میں سچی توبہ اور استغفار سے انسان اپنے گناہوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ رمضان میں یہ عمل انسان کو اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے اور نفس کی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔

صدقہ، زکوٰۃ اور معاشرتی فلاح

رمضان میں صدقہ و زکوٰۃ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ نبی ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی تھے (صحیح بخاری: 4997)۔ قرآن میں زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جو معاشرتی نظام میں عدل اور توازن پیدا کرتی ہے۔ رمضان میں مالی عبادات سے معاشرے میں فلاح اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ 

اخلاقی اصلاح اور کردار کی بلندی

رمضان اخلاقی اصلاح کا مہینہ ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ‘‘تم میں بہترین وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہو’’ (بخاری: 3559)۔ روزہ زبان، آنکھ اور دل کی تربیت کرتا ہے تاکہ انسان جھوٹ، غیبت اور بدزبانی سے بچے۔ قرآن میں عدل، احسان اور حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے (سورۃ النحل:90)۔ رمضان میں یہ اوصاف زیادہ نمایاں ہونے چاہئیں۔ اخلاقی بہتری گھریلو اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے اور معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دیتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی اخلاق میں بہتری برقرار رہے تو یہی اس مہینے کی حقیقی کامیابی ہے۔

صبر اور شکر

روزہ صبر کی مشق ہے۔ بھوک، پیاس اور مشکلات کا صبر انسان کے کردار کو پختہ کرتا ہے۔ قرآن میں فرمایا: ’’صبر کرنے والوں کیلئے بہترین جزا ہے‘‘ (سورۃ الزمر:10)۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ صبر کرنے والے کیلئے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں (صحیح بخاری: 21، صحیح مسلم : 51)۔ شکر نعمتوں کی پہچان اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔یہ دونوں اوصاف انسان کے دل کو سکون اور اطمینان عطا کرتے ہیں اور گناہوں سے بچاتے ہیں۔ 

آخرت کی تیاری 

رمضان کا اصل مقصد دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ قرآن میں فرمایا: ’’اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ (سورہ آل عمران:102)۔ یہ مہینہ انسان کو خود احتسابی اور روحانی بیداری کی طرف لے جاتا ہے۔ اعمال کی اصلاح اور اخلاق کی بہتری کی تربیت دیتا ہے۔ رمضان کے اثرات کو باقی سال بھی جاری رکھنے والے شخص کی زندگی میں مستقل تبدیلی آتی ہے۔ یہ مہینہ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب بناتا ہے اور اللہ کی محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ادائیگی زکو ٰۃ:فرائض، شرائط اور اہم فقہی نکات

’’اور نماز پڑھا کرو،اور زکوٰۃ دیاکرو‘‘(سورۃ النور) معدنیات پر 1/5، بارانی زمین پر 1/10، غیر بارانی زمین پر 1/20، سونا،چاندی اور مال تجارت پر 1/40 زکوٰۃ کی شرح مقرر ہے

مسائل اور ان کا حل

اذان کے اختتام تک سحری کھانا : سوال: ایک شخص سحری کر رہا تھا کہ اسی دوران اذان فجر شروع ہو گئی لیکن یہ شخص اذان کے اختتام تک کھانا کھاتا رہا تو اس کے روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا کوئی ایسی روایت موجود ہے کہ جس میں یہ فرمایا گیا ہو سحری کا وقت ختم ہونے کے باوجود کسی آدمی نے ہاتھ میں کوئی لقمہ کھانے کی نیت سے اٹھایا ہوا تھا اور اذان شروع ہو گئی تو اس کو کھا لینے کے باوجود بھی اس کا روزہ صحیح ہو جائے گا۔(طاہر علی، شیخوپورہ)

خلاصہ قرآن(پارہ 10)

مالِ غنیمت کا حکم :دسویں پارے کے شروع میں کفار پر غلبے کی صورت میں حاصل شدہ مالِ غنیمت کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ اس کے چار حصے مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ اللہ اور رسولؐ اور (رسولؐ کے) قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے‘ یعنی یہ اللہ کے رسولﷺ کی صوابدید پر ہو گا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 10)

مالِ غنیمت کی تقسیم :دسویں پارے کا آغاز سورۂ انفال سے ہوتا ہے۔ اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا ذکر کیا ہے کہ اس مالِ غنیمت میں اللہ اور اس کے رسول کا صوابدیدی اختیار پانچویں حصے کا ہے، یعنی رسول اللہﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ آپ مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اپنی مرضی کے ساتھ تقسیم کر سکتے تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

قومِ شعیب:نویں پارے کے شروع میں قومِ شعیب علیہ السلام کے سرکش سرداروں کی اس دھمکی کا ذکر ہے کہ اے شعیب! ہمارے دین کی طرف پلٹ آؤ‘ ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے پیرو کاروں کو جلاوطن کر دیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 09)

حضرت شعیبؑ کا واقعہ:نویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الاعراف سے ہوتا ہے۔ آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ اُن کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام و حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔