سید الشہداءامیر حمزہؓ عشق رسول کریم ﷺ آپؓ کی حیات کا مرکز و محور تھا
اللہ کے رسول ﷺ کو سیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ کی جدائی کا غم تا دم وصال رہا
سید الشہداء سیدنا حضرت امیر حمزہؓ اسلام کے ان جانثاروں میں سے ہیں جن کی خدمات مینارہ نور اور روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ جب تک آپؓ حیات رہے آپؓ نے عملی طور پر سرکار دوعالمﷺ کے نائب کا کردار ادا فرمایا۔ غزوہ احد وبدر میں آپؓ اسلامی لشکر کے سالار رہے۔ بعثت کے چھٹے سال سے لے کر 3ہجری تک، اعلان اسلام سے لے کر غزوہ احد میں سید الشہداء کا بلند مقام ملنے تک آپؓ کی پوری حیات مستعار حفاظت مصطفی کریم ﷺ میں بسر ہوئی۔
سیدنا حضرت امیر حمزہؓ کا دربار رسالت مآب میں بلند مقام و مرتبہ ہے۔ دور نبویﷺ میں بھی صحابہ کرامؓ نبی پاک ﷺ کے بعد رہنمائی کیلئے آپؓ سے رجوع کیا کرتے تھے۔ سیدنا حضرت عبدالمطلب کی ساری اولاد میں صرف ابولہب مشرک تھا، باقی سب بچے دین حنیف پر تھے۔ سیدنا حضرت امیر حمزہؓ بھی اپنے آباؤاجداد کے دین پر تھے جن کے بارے میں خود خدا پاک نے اپنے لاریب کلام مقدس میں ارشاد فرمایا کہ وہ سب سجدے کرنے والے تھے۔ آپؓ اعلان اسلام سے قبل بھی کبھی بت پرستی کے نزدیک نہ گئے۔ شراب،جوااور دیگر امور سے آپؓ کوسوں دور تھے۔ آپؓ کا شوق پہلوانی اور شکار تھا۔
سیدنا حضرت امیر حمزہؓ امام المجاہدین اور سید الشہداء کے بلند مقام پر فائز ہیں۔ آپؓ کی تلوار انتہائی منفرد ،دو دھاری اور انتہائی بھاری تھی۔ اگر یہ سیدھی پڑتی تو ڈھال کوکاٹ دیتی کیونکہ اتنی بھاری تلوار کو روکنا کسی ڈھال کا کام نہیں تھا۔ حقیقت میں آپؓ جیسا نہ کوئی طاقتور تھا اور نہ کوئی بہادر تیغ زن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کی وہ تلوار آپؓ کے بعد کوئی بھی نہ چلا سکا اور اکثر تو اسے اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ شمشیر زنی کی ہزاروں برس کی تاریخ میں کوئی بھی حضرت امیر حمزہؓ کا ثانی نہیں ملتا ۔
عشق رسول کریم ﷺ آپؓ کی حیات کا مرکز و محور تھا ۔آپؓ نے اپنی تمام زندگی حضور پاکﷺ کے قدموں میں وار دی اور ابدی حیات پائی اور جو محبت آقائے کائناتﷺ کو حضرت سیدنا امیر حمزہؓ سے تھی ویسی کسی اور سے نہ تھی۔ جب حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت ہوئی تو مدینہ کی عورتیں آئیں اور اپنے اپنے شہداء کا نوحہ کرنے لگیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ امیر حمزہؓ کا نوحہ کون کرے گا؟ یہ سن کر انصار نے اپنی عورتوں کو اپنے شہداء کے نوحہ کرنے سے روک دیا اور حضرت امیر حمزہ ؓ کا نوحہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے مل کر سید الشہداء کا نوحہ کیا اور اس کے بعد مدینہ میں یہ رسم پڑ گئی کہ جب بھی کوئی فوت ہوتا تو اس کی میت پر اظہار غم کرنے سے پہلے سیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ کا نوحہ کیا جاتا تھا اور صدیوں تک مدینہ پاک میں یہ رسم رہی کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے غم کو اپنے غم پر ترجیح دینے لگے۔ اللہ کے رسول ﷺ کو سیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ کے وصال کا غم تا دم وصال رہا۔
آپؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ روایات میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ قریش مکہ رسول خداﷺ کی عداوت میں پاگل ہورہے تھے۔ ایک دن سرکاردوعالم ﷺ کوہ صفا یا اس کے دامن میں جلوہ افروز تھے کہ ابو جہل اس طرف کو آنکلا اس نے آپ ﷺ کو نازیبا الفاظ کہے۔ آپ ﷺ نے جب اس کی بے ہودہ گوئی کا جواب نہ دیا تو اس نے ایک پتھر اٹھا کر سرکار دوعالم ﷺ کو مارا ،آپﷺ زخمی ہونے کے باوجود خاموشی سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ ابوجہل صحن کعبہ میں آ بیٹھا۔ حضرت سیدنا امیر حمزہؓ کی عادت تھی کہ روزانہ شکار کرنے کے بعد شام کو طواف کعبہ کرکے گھر جاتے تھے۔وہ حسب معمول جب شکار سے واپس آئے تو ابو جہل کی لونڈی نے ابو جہل کی بد زبانی و بدسلاکی کا بتایا۔ حضرت امیر حمزہؓ آپ ﷺکے چچا ہونے کے علاوہ آپﷺ کے رضا عی بھائی بھی تھے چنانچہ خون اور دودھ کے جوش نے ان کو ازخودرفتہ کر دیا اور وہ خانہ کعبہ میں گئے، طواف سے فارغ ہو کر سیدھے اس مجمع کی طرف متوجہ ہوئے جہاں ابوجہل باتیں کر رہا تھا۔
حضرت سیدنا امیر حمزہؓنے جاتے ہی اس زور سے کمان اس کے سر پر ماری کہ اس کا سرپھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ پھر کہا میں بھی حضرت محمدﷺ کے دین پر ہوں، وہی کہتا ہوں جو وہ کہتے ہیں، اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔اس کے بعد حضرت امیر حمزہؓ آقا کریم ﷺ کی مقدس بارگاہ امیں آئے اور کہا کہ بھتیجے تم یہ سن کر خوش ہو گے کہ میں نے ابوجہل سے تمہارا بدلہ لے لیا ہے۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ چچا میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوتا، ہاں اگر آپؓ مسلمان ہو جائیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ یہ سن کر سیدنا حضرت امیر حمزہؓ نے اسی وقت اسلام قبول کرنے کا علان کر دیا اور سرکار دوعالمﷺ سے کلمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔
غزوہ احد میں آپؓ سالار لشکر تھے اور پہلی مبارزت میں آپؓ نے قریش کے مشہور جنگجو سردار عتبہ کو جہنم واصل کیا اور پھر اس کے بھائی شیبہ کو بھی واصل جہنم کیا۔ جنگ اُحد میں آپؓ اپنی شجاعت سے اہل مکہ کا مقابلہ کرتے رہے ہندہ بنت عتبہ نے جو وحشی نامی ایک حبشی غلام جو ماہر نشانہ باز تھا سے کہا اگر تم جنگ میں امیر حمزہ ؓ کو شہید کر دو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔ وہ حضرت امیر حمزہؓ کا مسلسل تعاقب کر رہا تھا اور موقع کی تلاش میں تھا ۔ وہ ایک مقام پر چھپ کے بیٹھ گیا اور حضرت امیر حمزہؓ مقابلہ کرتے ہوئے اس کے قریب سے گزرے تو اس نے چھپ کر نیزے سے آپؓ پر وار کیا جو آپؓ کی ناف مبارک سے ہو کر پشت سے نکل گیا اور سیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ نے جام شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ ہندہ نے آپؓ کے جسم مبارک کی بے حرمتی کی اور آپؓ کا شکم مبارک چاک کر کے اس میں سے جگر کو نکالا اور چبا کر نگلنا چاہا مگر نگل نہ سکی۔
بعد میں جب فتح مکہ کے موقع پر ہندہ اور وحشی دونوں نے کلمہ پڑھا تو آپ ﷺ نے دونوں کو حکم دیا کہ وہ کبھی آپﷺ کے سامنے نہ آئیں۔ حضور پاکﷺ اپنے چچا کی شہادت پر اس قدر روئے کہ کبھی پھر آپ ﷺ کو اس قدر روتے نہیں دیکھا گیا۔ صحابہ کرام ؓفرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ حضرت امیر حمزہؓ کے جنازے کو قبلہ کی سمت رکھ کر بہت روئے حتیٰ کہ آپ کی ہچکی بندھ گئی۔
7شوال المکرم 3ہجری کو جنگ احد ہوئی اور یہی آپؓ کی شہادت کا مقدس دن ہے۔ آپؓ اور دوسرے شہداء احد کے مزارات جبل احد کے دامن میں واقع ہیں۔ سرکار دوعالمﷺکے عاشقان آپؓ کے مزارات پر حاضری دینے ضرور جاتے ہیں اور فیوض و برکات پاتے ہیں۔ اللہ آپؓ کے صدقے میں امت رسولﷺ کی بخشش کرے اور ہماری سب مشکلات کو آسان فرمائے آمین