دنیا کے فیصلے پاکستان میں۔۔۔۔

تحریر : عدیل وڑائچ


مشرقِ وسطیٰ عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس صورتحال کے حل میں پاکستان دنیا میں مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کے امن اور معیشت کے مستقبل کا دارومدار پاکستان کے کردار سے جڑا ہوا ہے۔

 کچھ ماہ پہلے تک کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا کے اہم فیصلے پاکستان میں ہوں گے، مگر اب یہی ہو رہا ہے اور دنیا کے اہم فیصلے پاکستان میں ہونے لگے ہیں۔ پاکستان کو دنیا میں تاریخ ساز اہمیت مئی 2025ء کے معرکہ حق میں فتح کے بعد ملی۔ امریکہ کی جانب سے ملنے والی اہمیت کو ناقدین عارضی قرار دیتے رہے مگر موجودہ صورتحال میں پاکستان کے کردار نے ناقدین کو خاموش کر دیا ہے۔

پاکستان کی اہمیت اتفاقاً نہیں بڑھی بلکہ اس میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے کچھ ایسے فیصلے شامل ہیں جو ماضی کے فیصلہ سازوں سے یکسر مختلف تھے۔ پاکستان نے کبھی اتنی کلیرٹی کے ساتھ سفارتی فیصلے نہیں کیے جتنے موجودہ دور میں کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں آپریشن غضب للحق شروع کیا گیا تو کہا گیا کہ ماضی میں کبھی کسی نے افغانستان کے ساتھ ایسا نہیں کیا، اورایسا کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، مگر پاکستانی قیادت بالکل واضح تھی کہ دہشتگردوں سے کیسے نمٹنا ہے۔ اگر افغان سرزمین استعمال ہوگی تو ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر سبق سکھایا جائے گا۔ آپریشن غضب للحق شروع ہونے کے بعد دیکھا جائے تو نہ صرف افغانستان سے دہشتگردی میں کمی آئی بلکہ بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان مخالف سوچ رکھنے والی افغان قیادت بھی اب بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر تیار نظر آتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن غضب  للحق شروع کرنے کے فیصلے کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ حملہ کرتے وقت شاید امریکہ اور اسرائیل کے ذہن میں تھا کہ 48 سے 72 گھنٹوں میں جنگ ختم ہو جائے گی اور وہ رجیم چینج کے منتظر تھے مگر ایران نے دنیا کو ایسا سرپرائز دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کو بڑا دھچکا لگا اور جنگ نے امریکی اتحادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مشرق وسطیٰ کا منظر نامہ بدل کر رہا گیا ،تیل کی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز  کی بندش کے باعث دنیا میں توانائی بحران پیدا ہو گیا مگر اس صورتحال میں جہاں دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کا معاشی امتحان شروع ہو چکا تھا وہیں پاکستان کا سیاسی اور سفارتی امتحان بھی شروع ہو گیا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدہ موجود ہے اور ایران کی جانب سے سعودی عرب کے کچھ علاقوں پر بھی حملے ہوئے، اس بات کا خدشہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک طویل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پاکستان نے کوئی جذباتی یا مقبول فیصلہ کرنے کی بجائے انتہائی مشکل حالات میں پسِ پردہ بڑے اور دانشمندانہ اقدامات کیے۔ نہ صرف سعودی عرب کو قائل کیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں تحمل اور گریز کا مظاہرہ کرے ، ایران کو بھی سعودی عرب کے ساتھ الجھنے سے روکا۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے سعودی اور ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنائی نے پیغام دیا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور وہ اس کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس بحرانی کیفیت میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور گزشتہ روز بھی وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت بھی کی جس میں سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا اور کشیدگی میں کمی، فوری جنگ بندی اور امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا گیا۔یہ پاکستان کی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ ایران نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک پر مسلسل حملے کیے وہیں سعودی عرب کے معاملے میں اپنی حکمت عملی مختلف رکھی۔ اسرائیل جہاں آذربائیجان، ترکیہ، سائپرس اور ڈیاگو گارشیا جزیرے پر موجود برطانوی اور امریکی اڈوں پر فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے دیگر ممالک کو جنگ میں شامل  کرنے کی کوشش کرتا رہا وہیں پاکستان اس جنگ کو رکوانے کے لیے پس پردہ انتہائی اہم کردار ادا کر نے  میں لگا رہا اب اس کی کاوشیں رنگ لاتی نظر آ رہی ہیں۔ جب امریکی صدر نے ایران کے انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا منصوبہ پانچ روز کے لیے مؤخر کیا اور کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اچھی پیش رفت ہو رہی ہے تو عالمی میڈیا نے اس میں پاکستانی کردار کا انکشاف کیا۔

پاکستانی قیادت کے واضح مؤقف کے باعث کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے سعودی عرب یا ایران کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں۔ یقیناً یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی صدر سے بھی رابطہ ہوا، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی کی باتیں سامنے آنے لگیں اور یہ باتیں حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔ منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں اعلان کیا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس پیغام میں امریکی صدر، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو  وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔صورتحال اس وقت مزید دلچسپ اور حیران کن ہو گئی جب امریکی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا، جس کا مطلب تھا کہ امریکہ پاکستان کی میزبانی کو خوش آئند قرار دے رہا ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے بھی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا گیا۔ ایک جانب سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات، دوسری جانب امریکا کا اعتماد اور ساتھ ہی ایران کا پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت مذاکرات کی میزبانی کے لیے سب سے موزوں ملک بن چکا ہے۔

جو کردار ماضی میں قطر ادا کرتا رہا اب وہ مقام پاکستان حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان مذاکرات کی میزبانی کرنے جا رہا ہے تاہم اس عمل میں شامل نمائندے کون ہوں گے اور یہ کب شروع ہوگا، اس حوالے سے آئندہ چند گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلیجی جنگ، پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت

امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں بات مفاہمت اور جنگ بندی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔امریکہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں، اگرچہ ایران نے اس کی تردید کی ہے‘ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس وقت اس جنگ کی بنیاد پر خطے میں پاکستان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

سندھ میں نیا گورنر اور پرانی سیاست

سندھ میں رمضان المبارک کے دوران ایک بڑی تبدیلی آئی، وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن اور ساتھی نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کردیا۔

پی ٹی آئی کس سمت جا رہی ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27مارچ کو پشاور موٹروے انٹر چینج کے قریب بانی پی ٹی آئی رہائی رضاکار وں سے حلف لینے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان فیصلہ کن مرحلے میں

بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی، شورش اور گمراہ کن بیانیوں کی زد میں رہا ہے جہاں چند عناصر نے عوامی احساسات کو بھڑکا کر صوبے کو ترقی کی راہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، انتخابات سے قبل صف بندیاں

سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر تعینات کر دیا ہے۔

کم خرچ میں خوبصورت گھر‘ سجاوٹ کے آسان آئیڈیاز

گھر صرف اینٹ پتھر سے بننے والی عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان سکون، محبت اور اپنائیت محسوس کرتا ہے۔