عیدالفطر نعمت الٰہی پر شکر اور بخشش کا دن
نبی کریمﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اِس مہینے کا پہلا عشرہ رَحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ، ج3، حدیث:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے،
لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم جب مدینہ تشریف لائے تو اس زمانہ میں اہل مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جن میں وہ خوشیاں مناتے اور کھیل تماشے کرتے تھے۔ آپﷺ نے لوگوں سے پوچھا، یہ دو دن کیسے ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ان ایام میں ہم لوگ عہد جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیلتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دنوں کو دو بہترین دنوں میں تبدیل فرما دیا ہے یعنی عیدالاضحی اور عید الفطر(ابو داؤد: 1134)
عید الفطرکے روز خوشی کا اِظہار مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی کرنے کی ترغیب تو قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فرما دیجئے، (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں‘‘ (یونس: 58)۔ حضرت ابو امامہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے عیدین کی رات (یعنی شبِ عیدالفطر اور شب عِید الاَضحٰی) طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا، اُس دن اُس کا دِل نہیں مرے گا، جس دن (لوگوں کے) دِل مرجائیں گے(ابن ماجہ: 1782)۔ایک اور مقام پر حضرتِ سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو پانچ راتوں میں شبِ بیداری کرے، اُس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ذُوالحِجّہ شریف کی آٹھویں، نویں اور دسویں رات، چوتھی عید الفطر کی رات، پانچویں شعبان المعظم کی پندرھویں رات ۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓکی ایک رِوایت میں یہ بھی ہے : جب عید الفطر کی مبارک رات آتی ہے تواِسے ’’لَیلَۃْ الجَائِزہ‘‘ یعنی ’’اِنعام کی رات‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے، چنانچہ وہ فرشتے گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اِس طرح ندا دیتے ہیں : ’’اے امتِ محمد! اس ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف چلو!جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے‘‘۔ پھراللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے: ’’اے میرے بندو!مانگو!کیا مانگتے ہو؟ میری عزت وجلال کی قسم! آج کے روزاِس اِجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگوگے اْس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرمائوں گا ،میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطائوں کی پردہ پوشی فرماتا رہوں گا۔میری عزت وجلال کی قسم! میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کے ساتھ رسوا نہ کروں گا۔ بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت یا فتہ لوٹ جائو۔تم نے مجھے راضی کردیا اورمیں بھی تم سے راضی ہوگیا‘‘ (الترغیب والترھیب: 23)۔
نمازعیدکی ادائیگی کا وقت :عید الفطر کی نماز کا وقت آفتاب کے بلند ہو جانے کے بعد زوال سے پہلے تک رہتا ہے۔ عید الفطر کی نماز میں تاخیر کرنا جائز ہے جیسا کہ حضورنبی اکرمﷺ نے حضرت عمرو بن حزمؓ کو نجران میں حکم دیا : ’’عید الاضحی کی نماز جلدی ادا کرو اور عید الفطر کی نماز دیر سے ادا کرو اور لوگوں کو وعظ سناؤ‘‘ (بیہقی، السنن الکبری، رقم: 5944)۔
بغیر اذان و تکبیر کے نماز: آپﷺ عید گاہ میں فقط نماز عید ہی ادا فرماتے اس سے پہلے اور بعدمیں کوئی نماز ادا نہ فرماتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے منقول ہے کہ نبی کریمﷺ نماز عیدکی فقط دورکعتیں ادافرماتے۔ ان سے پہلے اوربعدمیں کوئی نمازنہ پڑھتے۔ (صحیح بخاری: 964) ۔ آپﷺ نماز عید کی جماعت اذان اورتکبیرکے بغیر کرواتے۔ حضرت جابربن سمرہؓ سے روایت ہے : ’’میں نے آپﷺکے ساتھ متعدد دفعہ بغیراذان وتکبیرکے نمازعیدادا کی‘‘ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین) ۔
نمازکی ادائیگی خطبہ سے پہلے: آپ ﷺ جمعہ میں خطاب پہلے ارشاد فرماتے مگر عیدین میں نمازکی ادائیگی پہلے ہوتی اورخطاب بعدمیں کرتے۔حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺعیدین کے موقع پرعیدگاہ تشریف لاتے توسب سے پہلے نمازادا کرتے (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین) نماز عید ادا فرمانے کے بعد آپﷺ خطاب کرتے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے عیدگاہ میں آپﷺ تشریف لاکرپہلے نماز عید پڑھاتے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور تمام لوگ اپنی جگہوں میں بیٹھ جاتے۔ اور آپ ﷺا نہیں وعظ،نصیحت اور متعدد تعلیمات سے نوازتے(صحیح مسلم)
خطبہ کے درمیان بیٹھنا:جس طرح آپ ﷺ خطبہ جمعہ کے دوران کچھ دیرکے لیے بیٹھ جاتے اسی طرح عیدکے خطبہ کے دوران بھی کچھ دیرکیلئے بیٹھ جاتے۔ مسندبزارمیں ہے حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نماز عیدالفطر اذان و اقامت کے بغیر پڑھاتے اور جب خطبہ ارشاد فرماتے توان کے درمیان بیٹھ کروقفہ کرتے۔
خطاب میں تکبیرکی کثرت: آپﷺ خطاب کے دروان تکبیر(اللہ تعالیٰ کی کبریائی) کی کثرت کرتے،آپﷺکے مؤذن حضرت سعدؓسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ عیدین کے خطبہ میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے۔(سنن ابن ماجہ)
عیدپرمبارک باد: عیدکے روز ایک دوسرے کومبارک بادکہتے ہوئے دُعادینابھی ثابت ہے ۔امام ابن عدی نے حضرت واثلہؓ سے نقل کیاکہ میں عیدکے روزحضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ ہمارا اور آپ کا عمل قبول فرمائے۔ آپﷺ نے سن کرفرمایا:ہاں اللہ تعالیٰ ہم سب کی طرف سے قبول فرمائے(فتح الباری، ج 2 ، ص 357)۔
صدقہ فطراداکرنا: صدقہ فطر کی ادائیگی کا افضل وقت عید کی صبح صادق کے بعد اور نماز عید سے پہلے کا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ نماز کی طرف جانے سے پہلے زکوٰۃ فطر ادا کر لی جائے (صحیح بخاری: 1438)
اختصارکے ساتھ عیدکے روزکے چندمسنون اعمال ذکرکیے جاتے ہیں: مسواک کرنا،غسل کرنا،کپڑے نئے ہوں تو بہتر ورنہ دھلے ہوئے پہننا،خوشبو لگانا،صبح سویرے اْٹھ کر عیدگاہ جانے کی تیاری کرنا، نماز عید الفطر سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا،پیدل عید گاہ جانا،ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔نماز عید الفطر کو جانے سے پہلے طاق عدد کھجوروں یا چھواروں کا کھانا یا کوئی اور میٹھی چیز کھالینا۔عید الاضحی کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے۔ اگر قربانی کا گوشت میسر ہو تو نماز عید کے بعد اس کا کھانا مستحب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کی ضیافت ہے۔ لیکن اگر کچھ کھا لیا تب بھی کوئی حرج نہیں۔ عیدین کی نماز کسی بڑے میدان میں ادا کرنا سنت ہے۔ لیکن بڑے شہر یا اس جگہ جہاں زیادہ آبادی ہو ایک سے زائد مقامات پر عیدین کے اجتماعات بھی درست ہیں اور میدان کی بھی شرط نہیں۔ بڑی مساجد میں بھی یہ اجتماعات صحیح ہیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگر کسی ایک جگہ اجتماع ہوگا تو بہت سے لوگ نماز عید سے محروم رہ جائیں گے، کچھ تو حقیقی مشکلات کی وجہ سے اور کچھ اپنی سستی کے باعث۔نمازِ عید کے لئے تکبیر تشریق کہتے ہوئے جانا۔ عید الاضحی میں با آواز بلند اور عید الفطر میں آہستہ کہنی چاہئے۔عیدین کا خطبہ سنت ہے، یہ خطبہ نماز کے بعد ہوگا۔اگر خطبہ نمازِ عید سے پہلے دیا تو کافی ہے اگرچہ مکروہ ہے بعد میں اعادہ نہیں کیا جائے گا۔