صدقہ فطر: فضائل و مسائل

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے

حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو فرض فرمایا جو روزہ داروں کی لغویات اور بیہودہ باتوں سے پاکی ہے اور غریبوں کی پرورش کیلئے ہے۔ جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے اور جس نے اسے نماز عید کے بعد ادا کیا تو یہ ایک صدقہ ہو گا‘‘ (ابودائود :1609)

صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے یعنی جس مستحق کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ان ہی کو صدقہ فطر دینا بھی جائز ہے اور جس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اس کو صدقہ فطر دینا بھی جائز نہیں۔ غریب غیر مسلم لوگوں کو صدقہ فطر دینا جائز ہے، زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ صدقہ فطر کے مستحق فقراء اور مساکین ہیں لہٰذا عید کی نماز سے پہلے ادا کر دیا جائے بعض لوگ عید کی نماز سے پہلے تقسیم نہیں کرتے یہ سنت کے خلاف ہے۔  

مالدار آدمی کیلئے صدقہ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی نابالغ اولاد اگر مالدار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مالدار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مالدار ہے تو ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کر دے گا تو صدقہ فطر ادا ہو جائے گا۔حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے وادی مکہ کے بیچ ایک پکارنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ ندا لگائے کہ صدقہ فطر ہر مسلمان چھوٹے بڑے، مرد و زن، آزاد و غلام، شہری و دیہاتی پر ایک صاع جَو اور ایک صاع کھجور واجب ہے‘‘ (المستدرک: 1492)۔

صدقہ فطر عید الفطر کے دن کی صبح صادق طلوع ہونے کے وقت واجب ہوتا ہے البتہ صدقہ فطر رمضان المبارک میں بھی ادا کرنا درست ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز عید کیلئے جانے سے پہلے ادا کیا جائے‘‘(صحیح مسلم: 986)۔ جو شخص فجر کا وقت آنے سے پہلے فوت ہوگیا یا فقیر ہو گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں۔ جو کافر عید کے دن صبح صادق کے بعد مسلمان ہوا یا جو فقیر صبح صادق کے بعد مالدار ہوا، اس پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں۔ جو بچہ صبح صادق سے پہلے یا صبح صادق کے وقت پیدا ہوا اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا مالدار باپ پر واجب ہے اور جو بچہ یا بچی صبح صادق کے بعد پیدا ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں۔ 

صدقہ فطر میں کشمش، کھجور، جو، گندم، آٹا یا ان چیزوں کی قیمت دی جا سکتی ہے البتہ قیمت دینا زیادہ بہتر ہے تاکہ مستحق آدمی اپنی ضرورت کی چیز خرید سکے۔ صدقہ فطر دینے میں اپنے غریب رشتہ دار وں اور دینی علم کے سیکھنے سکھانے والوں کو مقدم رکھنا افضل ہے (درمختار) ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عیدالفطر نعمت الٰہی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریمﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اِس مہینے کا پہلا عشرہ رَحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ، ج3، حدیث:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے،

عید کا روز اور معمولاتِ نبویﷺ

اچھالباس پہننا :عید کے روز اچھے کپڑے پہننے کے متعلق امام شافعیؒ اور امام بغویؒ نے امام جعفربن محمد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ہر عیدکے موقع پر دھاری دار یمنی کپڑے کا لباس زیب تن کیاکرتے تھے۔

رمضان کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اور بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔

حاصل رمضان!

ماہ مبارک سے کیا پایا، اپنا احتساب کریں

عید الفطر: نماز کا طریقہ اور احکام

عید الفطر تو رمضان المبارک کی عبادات کی انجام دہی کیلئے توفیق الٰہی کے عطا ہونے پر اظہار تشکر و مسرت کے طور پر منائی جاتی ہے۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت!

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے، یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔