عید کا روز اور معمولاتِ نبویﷺ

تحریر : روزنامہ دنیا


اچھالباس پہننا :عید کے روز اچھے کپڑے پہننے کے متعلق امام شافعیؒ اور امام بغویؒ نے امام جعفربن محمد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ہر عیدکے موقع پر دھاری دار یمنی کپڑے کا لباس زیب تن کیاکرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں ہے: آپؓ عیدین کیلئے اچھے کپڑے پہناکرتے تھے(فتح الباری، ج2، ص439)۔ حضرت حسن بن علیؓ سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدکے روز عمدہ کپڑے پہنیں اور عمدہ خوشبو لگائیں‘‘ (المستدرک للحاکم)

غسل کرنا

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:  ’’رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر غسل کرتے‘‘( ابن ماجہ)۔ حضرت نافعؓ،حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: آپؓ عیدگاہ جانے سے قبل غسل کیا کرتے‘‘ (مصنف عبدالرزاق)۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عیدالفطرمیں تین سنتیں ہیں: (1)عیدگاہ کی طرف پیدل چلنا، (2)نکلنے سے پہلے کھانا، (3) غسل کرنا۔

نمازعیدسے قبل کچھ کھانا

آپ ﷺ کا یہ مبارک معمول بھی ملتا ہے کہ آپﷺ کچھ نہ کچھ تناوّل فرما کر نماز عیدالفطرکیلئے تشریف لے جاتے اور عیدالاضحی کے موقع پر نماز ادا فرمانے کے بعد تناوّل کرتے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے:رسول اللہﷺ عیدالفطرکیلئے تشریف لے جاتے تو پہلے طاق کجھوریں تناوّل فرماتے (صحیح بخاری، باب عید الفطر )۔

کھلے میدان میں نماز

آپ ﷺ مسجد میں نماز عید ادانہیں کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں نماز عیدالفطر ادا فرماتے ۔حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ :رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحی کیلئے عید گاہ میں تشریف لے جاتے (صحیح بخاری)۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ عید کے روز عیدگاہ کی طرف تشریف لے جاتے آپﷺ کے آگے صحابی نیزہ اٹھا کر چلتے، جب آپﷺ عیدگاہ میں پہنچ جاتے تو آپ ﷺ کے سامنے گاڑ دیا جاتا آپﷺ اسے سترہ بنا کر نماز پڑھاتے۔ اس لیے کہ عیدگاہ کھلے میدان میں تھی اور اس میں سامنے کوئی پردہ یا دیوار نہ تھی (سنن ابن ماجہ)۔ نمازعیدکھلے میدان میں ادا کرنا سنت ہے البتہ اگرکوئی عذر ہو مثلاً جگہ نہیں یا بارش وغیرہ ہے تو پھر مسجد میں ادا کی جا سکتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ : عیدکے روز بارش ہوگئی تو رسول اللہﷺ نے مسجد میں نماز عید پڑھا دی۔(ابو داؤد)

خواتین کی شرکت

نماز عیدکے اجتماع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ تمام خواتین کو اس میں شرکت کا خصوصی حکم فرماتے خواہ وہ حالت حیض میں کیوں نہ ہو، ایسی خواتین کو حکم ہوتا کہ وہ نمازمیں شریک نہ ہوں لیکن دعااجتماع میں ضرور شرکت کریں۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :رسول اللہﷺ نے ہمیں عیدین میں نکلنے کاحکم دیاحتی کہ تمام خواتین کو حکم تھا خواہ بوڑھی ہوں، ہاں حیض والی خواتین نمازسے الگ رہتیں خیر اور دعا میں شریک ہوتیں۔(صحیح مسلم،حدیث 890)

عیدگاہ پیدل جانا

 حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ عیدگاہ پیدل تشریف لیجاتے اور پیدل ہی واپس آتے (سنن ابن ماجہ،باب الخروج الی العید، حدیث 1294)

 راستہ بدلنا

   حضرت جابرؓ سے مروی ہے: آپﷺ جب عیدکیلئے تشریف لے جاتے تو واپس دوسرے راستہ سے تشریف لاتے(صحیح بخاری، ابواب العیدین)۔

 حضرت ابوھریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عید کے روز معمول یہ تھا کہ: جب آپﷺ نماز عید کیلئے تشریف لے جاتے تواس راستہ پرواپسی نہ ہوتی بلکہ کسی دوسرے سے واپس آتے۔  (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین)

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عیدالفطر نعمت الٰہی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریمﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اِس مہینے کا پہلا عشرہ رَحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ، ج3، حدیث:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے،

رمضان کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اور بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔

حاصل رمضان!

ماہ مبارک سے کیا پایا، اپنا احتساب کریں

عید الفطر: نماز کا طریقہ اور احکام

عید الفطر تو رمضان المبارک کی عبادات کی انجام دہی کیلئے توفیق الٰہی کے عطا ہونے پر اظہار تشکر و مسرت کے طور پر منائی جاتی ہے۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت!

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے، یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔

صدقہ فطر: فضائل و مسائل

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے