رمضان کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟
رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اور بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔
یہ مہینہ ایک مسلمان کو ایمانی اور عملی طور پر عروج اور بلندی عطا کرتا ہے۔ ان میں وہ یقین اور ایمان پیدا کرتا ہے جو مسلمانوں کا عظیم سرمایہ ہے اور جو اسلام میں مطلوب اور مقصود ہے۔ عملی طور پر بھی ان میں وہ جذبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ اگر رمضان کے بعد بھی اسی رفتار سے سفر جاری رکھا جائے تو آخرت کی منزل آسان ہو جائیگی۔ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں وہ راحت نصیب ہوگی جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ ہمارا المیہ ہے کہ رمضان المبارک میں جو عمل کیا جاتا ہے اس کی رفتار بعد میں سست پڑ جاتی ہے۔ مسجدیں ویران ہو جاتی ہیں اور اب پرانے نمازیوں کی وہی ایک 2 صف باقی رہ جاتی ہیں۔ حالانکہ رمضان اس لئے دیا گیا تھا تاکہ اس میں مسلمانوں کی ایمانی و عملی لو تیز ہو سکے اور مسلمان رمضان کے بعد چلتا پھرتا قرآن نظر آئیں، ان کی زندگی قرآنی تعلیمات کے سانچے میں اس طرح ڈھل جائے کہ ان کو دیکھ کر لوگ شریعت اسلامی کو سمجھ سکیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کو فرض کرنے کی حکمت تقویٰ کے ساتھ متصف ہونا بیان کیا ہے یعنی انسان کا دل، سوچ، سمجھ، انداز اور اخلاق وکردار سب کچھ اس طرح بدل جائیں۔ رمضان کے بعد ایک نئی اور صالح زندگی کا حامل بن جائے اور زندگی میں ایک طرح کا انقلاب برپا ہو جائے۔ اگر وہ رمضان سے قبل سودی معاملات کا کاروبار کرتا تھا تو اب وہ توبہ کرلے اور اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ فرائض و نوافل کا ایسا خوگربن جائے کہ ان کے بغیر رات میں نیند آئے اور نہ دن میں چین و سکون کا احساس ہو۔
اگر یہ کیفیات دل میں پیدا ہو گئیں اور زندگی میں ایسا تغیر رونما ہو گیا تو سمجھنا چاہئے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالیا ورنہ بظاہر رمضان کا مہینہ ہم نے پایا اور کچھ اس سے حاصل کئے بغیر وہ ہم سے رخصت ہوگیا جو اہل ایمان کے لئے سب سے بڑی محرومی ہے۔
رمضان المبارک میں ایک روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس پختہ ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ سخت دھوپ اور گرمی میں جبکہ پیاس سے زبان خشک ہو جاتی ہے اس وقت بھی تنہائی میں پانی پینے کی غلطی نہیں کرتا۔ عمل کے اعتبار سے جیسا بھی ہو مگر روزہ کی حالت میں صبح سے شام تک بھوک اور پیاس کو بڑی بشاشت کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر میں نے تنہائی میں بھی کچھ کھا پی لیا تو اگرچہ انسان کی نظر سے بچا جا سکتا ہے مگر میں اپنے رب کی نظر سے نہیں بچ سکتا۔ یہی وہ احساس ہے جو اسے کھانے پینے سے روکتا ہے اور بھوک و پیاس برداشت کرنا اس کیلئے آسان ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا یہ پیغام ہے کہ جس طرح اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس تھا اور چلتے پھرتے اْس کا ڈر دل میں بسا ہوا تھا اسی طرح رمضان کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس اور اس کی گرفت کا ڈر دل میں موجود ہو۔ روزہ در حقیقت اسی کیفیت کو پختہ کرنے کا ایک نصاب ہے۔ اگر یہ کیفیت دل میں پیدا ہوجائے تو حرام وحلال کی تمیز دل میں پیدا ہو گی، کسی پر ظلم کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہو گا۔ شراب نوشی، زناکاری، دھوکہ دہی، کذب بیانی وغیرہ سے زندگی پاک و صاف ہوگی۔سودی لین دین سے وہ آدمی توبہ کرلے گا اور کسی ایسے کام کی طرف اس کا ذہن نہیں جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
ہر وقت اس کے دل ودماغ میں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے کا احساس ہوگا جس سے وہ تمام منکرات سے محفوظ رہے گا جیسا کہ صحابہ کرامؓ میں یہ احساس جاگزیں تھا، اس کے سبب ان کا مقام اتنا بلند ہوا کہ پوری امت ان کی بلندیوں پر رشک کرتی ہے۔ رسول اکرمﷺ کی تمام محنتوں کا خلاصہ بھی یہی تھا کہ ہر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ عرش کا مالک ہے اس کا کوئی ثانی اور نظیر نہیں، اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، اس کی بندگی میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ رمضان المبارک کا بھی یہی مقصد قرآن نے سورہ البقرہ،آیت 183میں بیان کیا ہے روزہ دار نے اگر اس مقصد کو پالیا تو گویا شریعت کے اصل مقصد کو اس نے پالیا اور اب وہ گمراہی سے محفوظ ہوگیا۔ ایک شخص روزے کی حالت میں اْن تمام چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے جن کو شریعت نے وقتی طور پر ممنوع قرار دیا ہے۔
یہ در اصل اس بات کی مشق کرائی جاتی ہے کہ جس طرح رمضان میں ان چیزوں سے رکے رہے اور شریعت کی پابندی کی، ویسے ہی رمضان کے بعد ان تمام چیزوں سے رکے رہنا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے جن کو شریعت نے مستقل طور پر حرام قرار دیا ہے۔اہل ایمان کو چاہئے کہ ممنوعات سے مکمل گریز کریں اور شریعت کا پاس و لحاظ رکھیں۔وہ چیزیں جن پر صرف صبح سے شام تک پابندی تھی جب ان پر اس قدر سختی سے عمل کیا گیا اور پورا مہینہ اس پر مشق ہوتا رہا تو جن پر ہمیشہ ہمیش کے لئے بندش عائد کی گئی ہے ان پر کس قدر ہمیں سختی سے عمل کرنا چاہئے۔