حاصل رمضان!

تحریر : مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


ماہ مبارک سے کیا پایا، اپنا احتساب کریں

روزہ کی روح اور اس کے اصل مقصد کو نہ ہی ہم سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی رمضان کے بعد اس حاصل تربیت کو باقی گیارہ مہینوں میں اپناتے ہیں۔کسی اور مذہب میں رمضان کے روزوں کی صورت میں مجاہدانہ تربیت کا اس قدر اہم نظام موجود نہیں جیسا کہ دین اسلام میں ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم محض فاقہ کشی کو روزہ سمجھ لیتے ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ’’برائیوں کو ترک نہ کرنے پر صرف بھوک اور پیاس ہی ملتی ہے‘‘۔ 

اصل روزہ تو یہ ہے کہ کھانے پینے اور خواہشات سے باز رہنے کے ساتھ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پائوں الغرض سرتاپا تمام اعضائے جسم کو ہر طرح کے گناہوں سے محفوظ رکھا جائے۔ کانوں کو ناجائز و بیہودہ باتوں، جھوٹ، غیبت اور چغلی کی باتیں سننے سے بچایا جائے۔ آنکھوں کو شرم و حیا کا لباس پہنایا جائے۔زبان کو جھوٹ بولنے، غیبت و چغلی فحش گفتگو سے بچایا جائے۔ہاتھوں کو گناہ اور ناجائز کاموں کی طرف نہ بڑھایا جائے۔پائوں کو برائی کی طرف نہ اٹھایا جائے اور پیٹ کو حرام اور مشتبہ رزق سے محفوظ رکھا جائے۔ 

اب جب کہ رمضان المبارک کی آخری گھڑیاں چل رہی ہیں اور یہ ماہ مبارک ہم سے بہت جلد الوداع ہونے والا ہے تو ہمیں اپنا جائزہ لینا ہے کہ ہم نے اس ماہ مبارک سے کیا پایاہے؟ کیا ہم خود کو اِن تمام برائیوں سے روک پائے ہیں؟ اور کیا ہم خود کو رمضان کے بعد بھی اپنی اس روٹین کو برقرار رکھ سکیں گے؟۔اگر ہم باقی 11مہینوں میں بھی خود کو جھوٹ، غیبت ،چغلی اور بیہودہ باتوں سے روک پائے تو سمجھ لیجئے گا کہ آپ نے اس ماہ مبارک سے بہت کچھ حاصل کر لیا۔بخاری شریف کی حدیث ہے کہ !’’جس نے رمضان کے روزے ثواب کی نیت سے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے رکھے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے ‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کو رمضان میں پانچ باتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نئی کی امت کو نہیں ملیں۔  (1) جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ انسانوں کی طرف نظر کرم سے دیکھتا ہے اور جس پر نظر کرم فرماتا ہے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔(2) شام کے وقت روزہ داروں کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے زیادہ بہتر ہے۔(3) ہر دن رات فرشتے روزہ دار کیلئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (4) اللہ تعالیٰ جنت کو حکم فرماتے ہیں میرے بندوں کیلئے خوب تیار اور مزین ہو جا عنقریب وہ دنیا کی تکلیف سے یہاں آ کر آرام کرنے والا ہے۔ (5) جب رمضان کی آخری رات ہوتی ہے تو اللہ ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ 

رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں نازل ہونے والی عظیم کتاب کی تلاوت کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت کی سب سے افضل عبادت تلاوت قرآن ہے‘‘ اس لئے اس ماہ میں تلاوت قرآن کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ رمضان المبارک کا ایک حاصل یہ بھی ہے کہ اس ماہ میں قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا گویا اس سے تعلق کو مضبوط و مستحکم کرتا ہے۔ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا اس عظیم کتاب سے یہ تعلق باقی مہینوں میں بھی اسی طرح جڑا رہے۔ 

 روز قیامت تلاوت قرآن کا اہتمام کرنے والوں کی شفاعت خود قرآن حکیم فرمائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کیلئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی‘‘(احمد بن حنبل)۔اللہ ذوالجلال ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآن کا حق ادا کریں۔ اللہ کی اس عظیم کتاب کا حق یہ ہے کہ اس کو شوق سے پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائیں پھر دیکھیں کہ کس طرح اللہ ذوالجلال ہماری ساری پریشانیوں کو دور کردیتے ہیں ۔

رمضان المبارک کا مہینہ امت مسلمہ کی تربیت کرنے کیلئے آتا ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں، ایک دوسرے کیلئے رحمت و شفقت کا پیکر بن جائیں۔ دوسروں کی ضرورتوں کا بھی اس طرح احساس کریں جس طرح اپنی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہیں۔ رمضان المبارک ہمیں ان نادار، مفلس، فاقہ کش، تنگ دست مسلمان بہن بھائیوں کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جن کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ کپڑے خرید کر اپنا اور اپنے بچوں کا تن ڈھانپ سکیں۔ ایسے لوگوں کی مدد ہمیں رمضان المبارک میں بھی کرنی چاہئے اور پورا سال بھی ایسے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ’’ نبی اکرمﷺ رمضان میں عمل صالح کی اتنی محنت کرتے تھے جتنی دوسرے کسی ماہ میں نہیں کیا کرتے تھے‘‘ ۔

حضور نبی کریم ﷺکے معمولات رمضان پر عمل ہمارے لئے باعث رحمت ونجات ہے۔ انہی معمولات کی روشنی میں ہم اس مہینے کی برکتوں اور سعادتوں سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔اب چونکہ یہ ماہ مبارک ہم سے جدا ہونے والا ہے تو ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ :کیا ہم اس ماہ کی رحمتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے آخرت میں نجات اور کامیابی کا سامان اکٹھا کرپائے ہیں؟ ۔ کیا ہم اس ماہ مقدس کے با برکت لمحوں کو غنیمت جان کر اپنی عاقبت سنوارنے کا اہتمام کرپائے ہیں؟ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوچنا چاہئے کہ ہم اس ماہ مبارک کا حق کہاں تک ادا کر پائے ہیں؟ ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس ماہ رمضان سے ہم نے کیا حاصل کیا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عیدالفطر نعمت الٰہی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریمﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اِس مہینے کا پہلا عشرہ رَحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ، ج3، حدیث:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے،

عید کا روز اور معمولاتِ نبویﷺ

اچھالباس پہننا :عید کے روز اچھے کپڑے پہننے کے متعلق امام شافعیؒ اور امام بغویؒ نے امام جعفربن محمد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ہر عیدکے موقع پر دھاری دار یمنی کپڑے کا لباس زیب تن کیاکرتے تھے۔

رمضان کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اور بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔

عید الفطر: نماز کا طریقہ اور احکام

عید الفطر تو رمضان المبارک کی عبادات کی انجام دہی کیلئے توفیق الٰہی کے عطا ہونے پر اظہار تشکر و مسرت کے طور پر منائی جاتی ہے۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت!

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے، یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔

صدقہ فطر: فضائل و مسائل

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے