پی ٹی آئی کس سمت جا رہی ہے؟

تحریر : عابدحمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27مارچ کو پشاور موٹروے انٹر چینج کے قریب بانی پی ٹی آئی رہائی رضاکار وں سے حلف لینے کا اعلان کیا ہے۔

 سہیل آفریدی کی جانب سے عید کے بعد بانی پی ٹی آئی کے رضاکاروں کی بھرتیوں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیاگیاتھا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں مختلف صوبوں اور شہروں کابھی رخ کیاتھا۔اس رضاکار فورس کے حوالے سے پی ٹی آئی میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پہلے اسے ’فورس‘ کہاگیا، جب چہارجانب سے تنقید آئی تو اسے رضاکارقراردیاگیا، لیکن کیانام کی تبدیلی سے معاملے کی سنگینی کم ہوگئی؟اس کا جواب نفی میں ہے اور یہ جواب کسی اور طرف سے نہیں بلکہ پارٹی کے اندر سے ہی آیا ہے ۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض سینئر رہنما سمجھتے ہیں کہ یہ رضاکار فورس پی ٹی آئی کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ ان رہنماؤں کے مطابق پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، موجودہ حالات میں ایسی کسی بھی رضاکار فورس کی تشکیل کو غلط رنگ دیاجاسکتا ہے اور اسے بغاوت بھی تصور کیاجاسکتا ہے ۔ان رہنماؤں کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو یہ بھی بتایاگیا ہے کہ اس بار اسلام آباد پر کسی بھی چڑھائی کی صورت میں شدید ردعمل آسکتا ہے جس سے پارٹی کا نقصان ہوگا،تاہم سہیل آفریدی فی الوقت ایسے کسی بھی مشورے  کو سننے کو تیار نظرنہیں آرہے اور اس مشورے کے برخلاف انہوں نے اب 27 مارچ کو ان رضاکاروں سے حلف لینے کا اعلان کیاہے ۔

 موجودہ حالات میں جب پاکستان کے تینوں بارڈر گرم ہیں ایسے میں اسلام آباد پر چڑھائی اور اس کیلئے نوجوانوں کی بھرتی دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔پاکستان اس وقت تین سرحدوں پر مصروف ہے افغانستان کی جانب سے سرحد پر رمضان المبارک میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جو عید الفطر پرکہیں جاکر رکا اور یہ ابھی بھی عارضی جنگ بندی ہے جو بمشکل چلتی نظرآرہی ہے۔ جس وقت پاکستانی فورسز افغانستان کی فورسز اور وہاں پر موجود دہشت گردوں سے لڑنے میں مصروف تھیں ایسے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا،یہ بارڈر جو پہلے محفوظ تھا اب کہیں زیادہ غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ بھارت کے ساتھ ہماری سرحد پر کئی جنگیں تو پہلے ہی ہوچکی ہیں ،پاکستان تین اطراف سے دشمنوں میں گھر گیا ہے اور ریاست کی تمام تر توجہ اس طرف ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران امریکہ تنازعے سے خود کو بچائے رکھنے کی پالیسی کامیاب رہی ہے اور ہم نے اس جنگ میں نہ صرف کودنے سے گریز کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک بہترین اورقابل اعتبار ثالث کے طورپر بھی سامنے آئے ہیں۔ ان حالات میں اسلام آباد کی جانب کسی قسم کی مہم جوئی نہ صرف وفاق کیلئے مشکلات پیدا کرے گی بلکہ اس پرجو ردعمل اس بار آسکتا ہے وہ بھی انتہائی شدید ہوگا۔ پاکستان کو اندرونی دشمنوں کابھی سامنا ہے۔ جس طریقے سے گلگت اور سکردو میں پرتشدد مظاہرے کئے گئے وہ بھی قابلِ تشویش ہیں ۔ایسے پرُتشدد عناصر پاکستان بھر میں موجود ہیں جو غیرملکی مفاد کیلئے وطن عزیز میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ان عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ عناصرف پی ٹی آئی کی کسی بھی ریلی یا مظاہرے کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو یہی مؤقف ہے کہ سانحہ نومئی میں ان کی قیادت یا کارکن ملوث نہیں بلکہ یہ شرپسند عناصرتھے جو کارکنوں کے بھیس میں مظاہروں میں شامل ہوگئے اور انہوں نے حساس مقامات پر حملے کئے ۔

پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ درست مان لیاجاتا تو کیا دوبارہ ایسا ہونا ممکن نہیں ؟کیا دوبارہ پی ٹی آئی کے کسی مظاہرے یا اسلام آباد کی طرف مارچ میں پرتشدد اور شرپسند عناصرشامل نہیں ہوسکتے؟بانی پی ٹی آئی سے ان کے خاندان کی ملاقات اُن کا قانونی حق ہے لیکن اگریہ حق نہیں مل رہا تو اس کیلئے متعلقہ قانونی فورم موجود ہیں۔ اگروہاں سے بھی انصاف نہیں مل رہا تو اسمبلی کے فلور موجود ہیں۔ اس وقت صوبائی اور قومی اسمبلی بلکہ سینیٹ میں بھی پی ٹی آئی کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کے سینیٹرز اور ایم این ایز  کی وہ موجودگی نظرنہیں آتی جو آنی چاہئے۔ اسمبلی کا فلور ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں سے مؤثر طریقے سے آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی بات کی جائے تو یہاں تو پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی ایز کا یہ حال ہے کہ کورم پورا نہیں ہوتا اور اسمبلی اجلاس منسوخ کردیاجاتا ہے۔ بہر حال موجود حالات کسی بھی صورت میں پی ٹی آئی کی مہم جوئی کیلئے موزوں نہیں اور ایسی کوئی بھی مہم جوئی نہ صرف پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھادیں گی بلکہ یہ ایک صوبے میں حکومت کے خاتمے اور پارٹی پر پابندی تک معاملات بڑھاسکتی ہے ۔

پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کچھ قریبی ساتھی ان کی ناتجربہ کاری کافائدہ اٹھارہے ہیں اور انہیں ایسے راستے پر ڈالا جارہاہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے بھی بلند بانگ دعوے کئے جاتے تھے لیکن آخری وقت میں وہ معاملات کو سنبھال بھی لیتے تھے، کیاسہیل آفریدی رضاکاروں کو جمع کرکے اور جتھے کی صورت میں اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے بعد معاملات کو سنبھال پائیں گے؟یا ایک بارپھر یہ رضاکار صرف خیبرپختونخوا کی حدود کے اندر ہی مظاہرے کریں گے؟مقتدرہ سے اس بار کسی قسم کی رعایت کی توقع عبث ہوگی اور کسی بھی واقعے کی صورت میں نقصان اس صوبے کے عوام کا ہی ہوگا۔موجودہ حالات میں ریاست کو تمام صوبوں کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ریاست صرف وفاقی حکومت یا مقتدرہ کا نام نہیں، عوام اور صوبائی حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں ۔امریکہ ایران جنگ اگر رک بھی جاتی ہے تو پھر بھی اس کے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔ آنے والاوقت کافی دشوار نظرآرہا ہے۔ اس حوالے سے وفاق اور صوبوں کو مل جل کر پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی۔وفاق کو بھی خیبرپختونخوا حکومت کو ان معاملات میں اعتماد میں لینا ہوگا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات انتظامی افسروں کو سپرد کردیئے گئے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی مدت 15مارچ کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد صوبائی حکومت نے اختیارات ڈپٹی کمشنروں اور ٹی ایم اوز کے حوالے کردیئے ہیں۔ کیپٹل میٹروپولیٹن پشاورکے اختیارات ڈی سی کو دے دیئے گئے ہیں جبکہ سٹی لوکل گورنمنٹ کے معاملات ڈپٹی کمشنروں اور ٹی ایم اوز کو دیئے گئے ہیں ۔تاہم صوبائی حکومت فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ نظرنہیں آرہی بلکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کا عندیہ دیا گیا ہے ۔یوں لگ رہاہے کہ ماضی کی طرح ایک بارپھر کسی عدالتی حکم کے بعد ہی  بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے جاسکتے ہیں۔ اس وقت تک صوبائی حکومت اختیارات اور وسائل اپنے پاس ہی رکھنا چاہتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

دنیا کے فیصلے پاکستان میں۔۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس صورتحال کے حل میں پاکستان دنیا میں مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کے امن اور معیشت کے مستقبل کا دارومدار پاکستان کے کردار سے جڑا ہوا ہے۔

خلیجی جنگ، پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت

امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں بات مفاہمت اور جنگ بندی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔امریکہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں، اگرچہ ایران نے اس کی تردید کی ہے‘ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس وقت اس جنگ کی بنیاد پر خطے میں پاکستان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

سندھ میں نیا گورنر اور پرانی سیاست

سندھ میں رمضان المبارک کے دوران ایک بڑی تبدیلی آئی، وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن اور ساتھی نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کردیا۔

بلوچستان فیصلہ کن مرحلے میں

بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی، شورش اور گمراہ کن بیانیوں کی زد میں رہا ہے جہاں چند عناصر نے عوامی احساسات کو بھڑکا کر صوبے کو ترقی کی راہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، انتخابات سے قبل صف بندیاں

سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر تعینات کر دیا ہے۔

کم خرچ میں خوبصورت گھر‘ سجاوٹ کے آسان آئیڈیاز

گھر صرف اینٹ پتھر سے بننے والی عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان سکون، محبت اور اپنائیت محسوس کرتا ہے۔