کرشن چندر :اردو افسانے کی قدآ ور شخصیت
شاعر جو افسانہ نگار کا روپ دھار کر آتا ہے:علی سردار جعفری نے کہا تھا: ’’سچی بات یہ ہے کہ کرشن کی نثر پر مجھے رشک آتا ہے‘وہ اپنے ایک ایک جملے اور فقرے پر غزل کے اشعار کی طرح داد لیتا ہے
مارچ کا مہینہ آ ئے تو اُردو کے ممتاز اور قد آ ورافسانہ نگار کرشن چندر کی یاد آ تی ہے کہ وہ 1977ء میں اسی مہینے کی آ ٹھ تاریخ کودل کا دورہ پڑنے سے چل بسے تھے۔
کرشن چندر کی تاریخ اور مقام ولادت کے بارے میں مختلف بیانات ملتے ہیں تاہم زیادہ تر ناقدین کے مطابق وہ 1914ء میں پیدا ہوئے۔ کرشن چندر نے آرام و آسائش کے ساتھ بچپن گزارا۔ والد ڈاکٹر تھے اسلیے اچھی پوزیشن کے مالک تھے۔ ہر قسم کی سہولت انہیں حاصل تھی۔ خوشحال و آسودہ گھرانے کے لڑکوں کی طرح انہوں نے کھیل کود میں دلچسپی لی۔ کرکٹ کھیلا اور Blind بیٹسمین کہلائے۔ کھیل کود کے علاوہ ڈراموں میں کام کرنے کا بھی بے حد شوق تھا، سنگیت میں بھی دلچسپی تھی۔ ساتویں، آٹھویں جماعت میں تھے تو پینٹنگ کا بے حد شوق تھا لیکن خاطر خواہ ہمت افزائی نہیں ہوئی۔ نویں اور دسویں جماعت میں آئے تو ان کی دلچسپی ڈراموں میں ہوگئی۔کرشن چندر کی ماں ڈراموں اور اداکاروں کے سخت خلاف تھیں اور کرشن چندر اتنے ہی شوقین۔ جو ڈرامہ سب سے پہلے دیکھا وہ ’’خونِ ناحق‘‘ آغا حشر کا لکھا ہوا ہیملٹ کا چربہ تھا۔
ہائی سکول میں شاعری کا شوق چرایا۔ ایک بار اپنے استاد دینا ناتھ شوقؔ کو اپنی شاعرانہ کاوش دکھائی۔ استاد نے برُی طرح مذاق اُڑایا اور سخت سست کہا۔اس طرح شاعری کا خیال ذہن سے نکل گیا۔پہلوانی کا بھی شوق پورا کیا۔ کرشن چندر کے والد نے اپنے دونوںبیٹوں کو الگ الگ پہلوانوں کے نگرانی میں دائو پیچ سیکھنے کیلئے بھیجا۔ اپنے بھائی مندر ناتھ سے کشتی لڑی اور ہار گئے۔ اس کے بعد پہلوانی کا ارادہ ترک کر دیا۔ناولوں کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔ اپنی ماںسے چوری ناول پڑھا کرتے تھے۔ تیسری جماعت ہی میں ’’الف لیلیٰ‘‘ پڑھ لی تھی۔کرشن چندر نے ادبی زندگی کا آغاز طنزیہ و مزاحیہ مضمون ’’پروفیسر بلیکی‘‘ سے کیا۔وہ لکھتے ہیں ’’غور سے دیکھا جائے تو مجھے لیکھک بنانے کی ساری ذمہ داری ہمارے ہوم منسٹر شری گلزاری لال نندہ کے خاندان پر عائد ہوتی ہے۔ جن دنوں میں والد پونچھ میں تھے انہیں دنوں گلزاری لال نندہ کے والد بلاقی رام نندہ بھی پونچھ میں وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول میں پڑھاتے تھے۔سکول میں بلاقی رام مجھے اُ دھیڑنے لگے تو چونکہ اب میں پرشین چھوڑ کر کوئی دوسری زبان اختیار نہیں کر سکتا تھا اس لئے میں نے ایک دن مجبور اور پریشان ہو کر اپنے پرشین ٹیچر کے خلاف ایک مضمون لکھ ڈالا۔ عنوان تھا ’’پروفیسر بلیکی‘‘ وہ مضمون میں نے دہلی میں چھینے والے ہفتہ وار اخبار ’’ریاست‘‘ کو بھیج دیا جو اُن دنوں ریاستی نظام کی پٹائی میں مصروف تھا اور اس لئے ہر ریاست میں بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔
میری بدقسمتی دیکھئے کہ وہ مضمون چند دنوں کے بعد من وعن اس اخبار میں چھپ گیا اور طنز آمیز خاکے میں میں نے پروفیسر بلیکی کی آڑ میں ماسٹر بلاقی رام کی شان میں گستاخیاں کی تھیں‘‘۔اخبار ریاست کے ایڈیٹر دیوان سنگھ مفتون تھے۔ کرشن چندر اُن دنوں دسویں جماعت میں تھے۔ اس طنزیہ مضمون کی اطلاع کرشن چندر کے والد کو گئی تو سخت ناراض ہوئے۔ پھر ایم اے تک کرشن چندر نے کچھ نہ لکھا۔کالج کے زمانے میں ایک بار یرقان کا شکار ہو گئے، صحت یاب ہونے کے بعد اس عنوان سے انہوں نے اپنا پہلا افسانہ ’’یرقان‘‘ لکھا مگر والد نے اختتام تعلیم تک لکھنے سے منع کردیا۔دورانِ تعلیم میں وہ زیادہ تر انگریزی میں لکھتے رہے۔ اپنے کالج کے میگزین سیکشن کے ایڈیٹر رہے اور ایم اے میں آئے تو شعبہ انگریزی کے رسالے کے چیف ایڈیٹر بن گئے۔ایل ایل بی کرنے کے بعد لاہور کے ایک گرلز کالج میں چھ مہینے تک انگریزی پڑھائی۔ اس کے بعد پروفیسر سنت سنگھ کے ساتھ مل کر انگریزی کا ایک پرچہ ’’دی ناردرن ریویو‘‘ نکالا۔ اس کے متعلق ہنس راج رہبر لکھتے ہیں: ’’یہ پرچہ ادبی تھا، تخیل انارکسٹانہ۔ پالیسی غیر متعین، اس لئے ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا، گو سمندر پار کے انگریزی اور امریکی ادبیوں نے بھی اس میں شرکت کی۔‘‘ پھر فریدہ نامی ایک انگریز خاتون کے اشتراک سے انگریزی ماہنامہ ’’دی ماڈرن گرل‘‘ شائع کیا۔
انگریزی میں معاشی و سیاسی مضامین بھی لکھے جو لاہور کے مشہور انگریزی روزنامہ ’’ٹریبیو ن‘‘ میں شائع ہوا کرتے تھے۔21اپریل 1938ء کو علامہ اقبال ؒ کا انتقال ہوا تو کرشن چندر نے اقبال کی کچھ نظموں کے تراجم پیش کئے۔تعلیم ختم کرنے کے بعد دماغ میں باغیانہ مواد کافی تھا، سوشلزم پر کافی کتابیں پڑھ چکے تھے اور لاہور میں جتنے بھی نامور سوشلسٹ تھے ان سے بھی مل چکے تھے۔ان ہی دنوں کہانیاں لکھنی شروع کر دیں۔’’یرقان‘‘ انہوں نے کالج کے دنوں میں لکھا تھا۔ اب باضابطہ لکھنا شروع کیا تو ’’جہلم میں نائوپر‘‘ اور ’’لاہور سے بہرام گلہ تک‘‘ لکھا۔کرشن چندر نے ’’یرقان‘‘ ادبی دنیا کو شائع کروانے کی غرض سے بھیجا تو مولانا صلاح الدین احمد نے عنوان پر اعتراض کیا لیکن پھر یہی عنوان برقرار رکھا۔ ان کا پہلا شائع شدہ افسانہ ’’یرقان‘‘ہی ہے جو ’’ادبی دنیا‘‘ سالنامہ1936ء میں شائع ہوا اس کے بعد ’’لاہور سے بہرام گلہ تک‘‘ (ہمایوں اگست 1935ء) ’’جہلم میں نائوپر‘‘(ہمایوں جنوری 1937ء) میں شائع ہوئے تو ادبی حلقے چونک پڑے۔ پھر کرشن چندر نے ایک انشائیہ ’’ ہوائی قلعے‘‘ ستمبر 1937ء میں ’’ہمایوں‘‘ میں لکھا۔ ہمایوں کے ایڈیٹر میاں بشیر احمد نے لکھا: ’’یہ شخص ہماری زبان کا ایک زبردست ادیب ثابت ہوگا‘‘۔
ادبی دنیا کے ایڈیٹر صلاح الدین احمد نے کرشن چندر کی بہت ہمت افزائی کی اور ان کے افسانے شائع کئے۔وہ متواتر لکھنے لگے اور ان کی کہانیاں، ہمایوں، ادبی دنیا اور ادب لطیف میں شائع ہوتی رہیں اور کرشن چندر نے ادبی حلقوں میں حیرت انگیزی مقبولیت حاصل کرلی۔پہلا افسانوی مجموعہ ’’طلسم خیال‘‘ چودھری نذیر احمد نے 1939ء میں شائع کیا۔ افسانوی مجموعے کی اشاعت نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر دیا۔ان دنوں وہ اپنے بھائی مہندر ناتھ کے ساتھ ایک ہوٹل میں رہتے تھے اور بے کار تھے۔ ان کی ملاقات کنہیا لال کپور، اپندر ناتھ اشک اور راجندر سنگھ بیدی سے ہوئی۔ کرشن چندر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی زندگی ادب کی نذر کر دیں گے ،مگران کی والدہ چاہتی تھیں کہ وہ وکیل یا جج بنیں۔ کرشن چندر نے اپنی والدہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے ایل ایل بی کر لیا لیکن وہ وکیل یا جج نہیں بن پائے۔ لیڈری کرنا بھی اُن کے بس کی بات نہ تھی؛ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے قلم کو حصولِ معاش کا ذریعہ بنائیں گے پھر وہ متواتر افسانے لکھنے لگے۔ لاہور میں کرشن چندر کی ملاقات مولانا صلاح الدین احمد، مرزا ادیب ، میرا جی، احمد ندیم قاسمی، عاشق حسین بٹالوی، دیو یندر سیتارتھی، ممتاز مفتی، فیاض محمود اور چوہدری نذیر احمد سے ہوئی۔ان کا سب سے پہلا ڈرامہ ریڈیائی نوعیت کا تھا۔ جس کا عنوان ’’بیکاری‘‘ تھا جو 1937ء میں آل انڈیا ریڈیو لاہور سے نشر ہوا تھا۔تعلیمی زندگی ختم کرنے کے بعد وہ ڈیڑھ سال بے روزگار رہے مگر ترقی پسند گروپ سے قریب ہوتے گئے۔1938ء میں جب پہلی بار ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس کلکتہ میں ہوئی تو کرشن چندر نے پنجاب کی صوبائی انجمن کی نمائندگی کی۔ یہیں وہ سجاد ظہیر، پروفیسر احمد علی اور کئی نئے ادیبوں سے متعارف ہوئے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین نے انہیں پنجاب کا سیکرٹری چن لیا۔
دوسری عالمگیر جنگ چھڑی تو آل انڈیا ریڈیو کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کرنے کی ضرورت تھی؛ اس خدمت کیلئے کئی بڑے ادیبوں کو ریڈیو سٹیشن میں ملازمت دی گئی۔ پطرس بخاری ڈائریکٹر جنرل تھے۔ کرشن چندر نے نومبر1939ء میں آل انڈیا ریڈیو لاہور میں پروگرام اسسٹنٹ کا عہدہ قبول کرلیا لیکن وہ اس ملازمت سے زیادہ خوش نہ تھے۔ انہیں اپنی شخصی آزادی کے کھونے کا غم تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ سرکاری نوکری کرتے ہوئے وہ آزادی سے لکھ نہ سکیں گے۔ ایک طرف محکمے کی پابندیاں اور دوسری طرف انگریزوں کا راج لیکن انہیں حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اپنی اس ذہنی کیفیت کا اظہار کتاب ’’نظارے‘‘ کے انتساب میں بھی کیا ہے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں شالیمار فلم کمپنی کے پروڈیوسر، ڈائرکٹر زیڈ احمد نے ان کا ایک افسانہ پڑھا اور انھیں ٹیلیفون کر کے اپنی فلم کمپنی میں مکالمے لکھنے کی دعوت دی۔ کرشن چند نے ریڈیو کی ملازمت چھوڑ دی اور پونے روانہ ہو گئے۔ پونے کا زمانہ کرشن چندر کی زندگی کا یادگار زمانہ تھا۔تخلیقی لحاظ سے بھی یہ ان کا اچھا دور تھا جس میں انہوں نے ’’ان داتا‘‘ اور’’موبی‘ جیسی کہانیاں لکھیں۔
کرشن چندر 1946ء میں پونے سے بمبئی چلے گئے جہان ان کو بمبئی ٹاکیز میں ڈیرھ ہزار روپے ماہوار پر ملازمت مل گئی۔ اس کمپنی میں ایک سال کام کرنے کے بعد وہ ملازمت ترک کرکے فلموں کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بن گئے۔ ان کی پہلی فلم ’’سرائے کے باہر‘‘ ان کے ایک ریڈیائی ڈرامے پر مبنی تھی۔ اس میں ان کے بھائی مہندر ناتھ ہیرو تھے۔ فلم بری طرح ناکام ہوئی اس کے بعد انہوں نے فلم ’’راکھ‘‘ بنائی جو ڈبہ میں ہی بند رہ گئی اور کبھی ریلیز نہیں ہوئی۔ کرشن چندر نے تقریباً دو درجن فلموں کے لیے کہانی، منظر نامے یا مکالمے لکھے ان میں کچھ فلمیں چلیں بھی لیکن بطور فلم رائٹر وہ فلموں میں کوئی بلند مقام نہ حاصل کر سکے۔کرشن چندر دل کے مریض تھے۔ ان کو 1967ء، 1969ء اور 1976ء میں دل کے دورے پڑے تھے لیکن بچ گئے تھے۔ 5 مارچ 1977ء کو ان کو ایک بار پھر دل کا دورہ پڑا اور وہ 8 مارچ کو چل بسے۔
علی سردار جعفری نے کہا تھا: ’’سچی بات یہ ہے کہ کرشن چندر کی نثر پر مجھے رشک آتا ہے۔ وہ بے ایمان، شاعر ہے جو افسانہ نگار کا روپ دھار کے آتا ہے اور بڑی بڑی محفلوں اور مشاعروں میں ہم سب ترقی پسند شاعروں کو شرمندہ کر کے چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے ایک ایک جملے اور فقرے پر غزل کے اشعار کی طرح داد لیتا ہے اور میں دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوں کہ اچھا ہوا اس ظالم کو مصرع موزوں کرنے کا سلیقہ نہ آیا ورنہ کسی شاعر کو پنپنے نہ دیتا۔‘‘
کرشن چندر کی کتابیں
پانچ لوفر، تین غنڈے، دل کی وادیاں سو گئیں، دیوتا اور کسان،زر گائوں کی رانی، طلسم خیال، مسرت، مشینوں کا شہر، کشمیر کی کہانیاں،کرشن چندر شخصیت اور فن، کرشن چندر کے افسانوی ادب میں دس بہترین افسانے، چندا کی چاندی، نئے زاویے، نیا ادب، ہل کے سائے میں وغیرہ شامل ہیں۔