انتظار حسین کے ناول تقسیم ، ہجرت تہذیبی بحران
انتظار حسین نے تقسیم ہند کے بعد 1948ء میں اردو میں فکشن کا آغاز کیا۔ وہ اردو کے ایسے تخلیق کار تھے جن کے ناول اور افسانے کسی نہ کسی شکل میں ہجرت، تقسیم اور اس سے پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کا احاطہ کرتے ہیں۔
وہ نئی علامتوں، استعاروں ، تمثالوں اور لفظ کے نئے حوالوں کے منفر د فکشن نگار تھے۔ ان کی تخلیقات میں ہجرت غالب نظر آتی ہے، کیونکہ ہجرت ان کے ہاں محض گلی محلوں اور بستیوں کی خاک سے بچھڑنے کا مسئلہ نہیں اپنے اجداد کی یادگاروں،روایات اور رسموں سے بچھڑنے ، تاریخ اور تہذیب کی شہادتوں سے لاتعلق ہونے اور اپنے تخلیقی وجود کی شکست و ریخت کا معاملہ تھا۔ ان کے ناولوں کا علامتی نظام بھی ماضی ہی سے وابستہ تھا ۔ یا دیں ، خواب ، تو ہمات ، اساطیر،مذہبی، تاریخی قصے، قوموں کے عروج و زوال اور تہذیبوں کے اتار چڑھاؤ سب کچھ بڑی باریکی سے پیش کرتے ہیں۔ انتظار حسین مہاجروں کی اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان چلے آئے تھے لیکن جن کے روحانی مراکز وہ چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جہاں ان کے مشترکہ خاندان آباد تھے۔ انتظار حسین کے افسانے ، ناول اور مضامین اسی گم شدہ دنیا کے بارے میں ہیں۔
ہجرت کر کے آنے والے شاعروں اور ادیبوں میں ہجرت کے کرب کا پایا جانا فطری عمل تھا۔ ان کی تخلیقات میں آبائی سرزمین کو چھوڑنے اور مخصوص تہذیب و ثقافت سے علیحدگی کا غم بھی اسی وجہ سے ملتا ہے۔ ماضی کا شدید احساس اس انسان کی سوچ کا حصہ ہے جو ہجرت کے کرب سے گزرا ہو۔ ہجرت کے واقعہ سے صرف قرۃ العین حیدر ہی نہیں بلکہ کئی اور بھی متاثر ہوئے ۔ ناصر کاظمی، محمد حسن عسکری ، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین سبھی اپنی چھوڑی ہوئی بستیوں کو کبھی فراموش نہ کر سکے۔ سب نے اپنے فن پاروں کی شکل میں اپنے ماضی کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انتظار حسین کے ناول تقسیم ، ہجرت تہذیبی بحران اور اخلاقی قدروں کے زوال کا نوحہ ہیں اور وطن کی جدائی، ہجرت اور گم شدہ معاشرے کے تہذیبی و جذباتی رشتوں کی کہانیوں پر مشتمل ہیں۔انتظار حسین کے ناول ’’تذکرہ‘‘ میں اخلاق مرکزی کردار ہے۔ جو تقسیم سے قبل یوپی کے ایک قصبے کا رہائشی تھا۔ تقسیم کے بعد اخلاق اپنی والدہ کے ہمراہ ہجرت کر کے لاہور آتا ہے۔ مصنف اس سے قبل ’’بستی‘‘ میں بھی اپنی ماضی کی داستان کو ناول کے روپ میں امر کر چکے ہے۔’’ تذکرہ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ’’بستی‘‘ کا کردار ذاکر اور ’’تذکرہ‘‘ میں اخلاق ایک جیسے ہی کردار ہیں۔ذاکر کی روپ نگر سے ذاتی وابستگی اور اخلاق کا چراغ حویلی سے لگاؤ دونوں ہی ماضی پرستی کی مثالیں ہے۔
انتظار حسین کو مشترکہ تہذیب، آبائی سرزمین اور آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر ہجرت کے دکھ نے ہمیشہ بے چین رکھا۔’’ تذکرہ‘‘ میں اخلاق اپنی والدہ کے ساتھ لاہور آبسا ہے۔ گھر کے پرانے کاغذات میں اپنے اسلاف کی خاندانی روایات کا تذکرہ ملتا ہے۔ چراغ حویلی کے باسی پرانی شناختوں اور جاگیرداری قدروں کی پاسداری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ہر فرد تضادات کا شکار ہو چکا ہے اور نئے معاشرتی اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وقت نے تمام سماجی قدروں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اور دنیا میں نا پائیداری کا احساس جنم لے چکا ہے جس کے شکنجے سے کوئی محفوظ نہیں رہتا ۔اخلاق اپنی والدہ بو جان کے ساتھ لاہور میں گھر کی تلاش کرتا ہے۔ بو جان لاہور میں چراغ حویلی کی گمشدہ شان و شوکت کا رونا روتی عمر کا آخری حصہ گزار رہی ہے۔ بو جان ان مہاجرین کی طرح ہیں جو رہ تو پاکستان میں رہے ہیں لیکن ان کی ذات کا کوئی حصہ کٹ کر ماضی میں رہ چکا ہے۔ بو جان کو جدید طرز کے مکان، گیس کا چولہا ، اور پر یشر ککر سخت نہ پسند ہے۔ چراغ حویلی میں یہ سب سامان نہ تھا۔وہاں کے چولہے، کچا فرش ، کوئل کی صدا اور بیل گاڑی کا سفر انہیں اپنی ذات کے ادھورے پن کا احساس دلاتا ہے۔
وہ چراغ حویلی سے ہجرت کر کے لاہور تو آگئے لیکن ان کی یادیں اور جذباتی لگاؤ چراغ حویلی سے ہی متعلق تھا۔ بو جان کے پاکستان آنے کے بعد ان کی حالت اس بادشاہ کی سی ہے جس کی سلطنت چھن چکی ہے۔ چراغ حویلی جیسی وضع داری تحکم اور دبدبہ یہاں ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے کوئل کی آواز سن کر وہ آبدیدہ ہو جاتی ہے۔