23مارچ یوم قرار داد پاکستان
آئیں آج احیائے نظریہ پاکستان کا عہد کریں!
قراردادلاہور کا متن
٭… آئینی مسئلے پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مجلس عاملہ کے اس اقدام کی تائید و توصیف کرتے ہوئے جو ان کی27 اگست ، 17-18 ستمبر ، 22 اکتوبر1939 ء اور 3 فروری 1940 ء کی قراردادوں سے واضح ہوتا ہے، آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس پر زور اعادہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی منصوبہ جس کا اظہارگورنمنٹ آ ف انڈیا ایکٹ میں کیا گیا ہے ، قطعاََ غیرموزوں ، اس ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ناقابل عمل اور مسلم ہندوستان کے لئے یکسرناقابل قبول ہے۔
٭…اس اجلاس کی یہ حتمی رائے ہے کہ18 اکتوبر 1939ء کو جوا علان وائسرائے نے حکومت ملک معظم کی جانب سے کیا تھا ، وہ اس حد تک تو اطمینان بخش ہے کہ جس مسلک اور منصوبے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ء مبنی ہے اس پر ہندوستان کی مختلف جماعتوں ، مفادات اور فرقوں کے مشورے سے دوبارہ غورکرنے کا یقین دلایا گیا ہے لیکن مسلم ہندوستان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک کہ پورے آئینی منصوبے پر ازسر نو غورنہ کیا جائے اور کوئی نیا منصوبہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ ان کی رضامندی اور منظوری سے مرتب نہ کیا جائے ۔
٭… قرار پایا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر وضع نہ کیا گیا ہو یعنی جغرافیائی طور پر متصل وحدتوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے (مناسب ردوبدل کے ساتھ ) کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مثال کے طور پر ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے ، ان کی تشکیل ایسی ’’آزاد ریاستوں ‘‘کی صورت میں کی جائے جن کی مشمولہ وحدتیں خودمختار اور مقتدر ہوں۔ نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی ، ثقافتی ، معاشی ، سیاسی ، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب ، موثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیا جائے ۔ مزید برآں یہ اجلاس مجلس عاملہ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق آئین کا ایک ایسا منصوبہ مرتب کرے جس کی رو سے مذکورہ علاقوں کو بالا آخر کلی اختیارات حاصل ہوجائیں گے مثال کے طور پر دفاع ، امور خارجہ، مواصلات، محصولات اور دیگر ایسے امور جو ضروری سمجھے جائیں ۔
٭…جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ، ان کے اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی ، ثقافتی ، معاشی ، سیاسی ، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب ، موثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیا جائے۔
٭…٭…٭
23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور یادگار دن ہے، جو قوم کو اس کے روشن ماضی، عظیم جدوجہد اور شاندار مستقبل کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی موقع ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے 1940ء میں لاہور کے تاریخی مقام پر اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا واضح اور دوٹوک مطالبہ پیش کیا، جو بعد ازاں ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کے نام سے تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس دن نے مسلمانوں کی سیاسی سوچ کو نئی سمت دی اور ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا جس نے صرف سات برسوں میں پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھار دیا۔ یومِ پاکستان دراصل عزم، اتحاد، قربانی اور امید کی وہ روشن علامت ہے جو ہر سال قوم کو اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان کیلئے مسلسل جدوجہد کرنے کا درس دیتی ہے۔
سال ہے 1940ء کا
شہر ہے لاہور کا
مقام ہے منٹو پارک کا
مہینہ ہے مارچ کا
تاریخ ہے 23
دن ہے ہفتہ کا
موسم بہار اپنے عروج پرہے، ہر سو پھول کھلے ہیں اورشہر نے سبزے کی اوڑھنی اوڑھ لی ہے۔ کل یعنی22مارچ بروز جمعہ سے مسلم لیگ کا ستائیسواں تین روزہ سالانہ عظیم الشان جلسہ عام برپا ہے۔ جس کی صدارت خود قائد اعظم محمد علی جناحؒ فرما رہے ہیں اور افتتاحی اجلاس سے ان کا خطبہ اس جلسے میں خاصے کی چیز ہے۔ سر شاہنواز ممدوٹ استقبالیہ کمیٹی کے سربراہ ہیں اور میاں بشیر احمد کو سیکرٹری کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ دیگر اہم راہنماؤں میں چودھری خلیق الزماں، نواب محمد اسماعیل خان، نواب بہادر یار جنگ، اے کے فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، سرعبداللہ ہارون، قاضی محمد عیسیٰ، ابراہیم اسماعیل چندریگر، سردار اورنگزیب خان، خواجہ ناظم الدین، عبدالہاشم اور ملک برکت علی جیسے اکابرین شامل ہیں۔
اجلاس میں ہندوستان بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندان توحید موجود ہیں بڑے بڑے سیاسی رہنما اپنی تقریریں فرما چکے ہیں۔ فلک شگاف نعرے لگ چکے ہیں۔ شرکاء کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ منٹو پارک جیسے بڑے جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے۔ آج جلسے کا دوسرا روز ہے اور مسلم لیگ کو اپنی 35 سالہ جدوجہد کا نچوڑ عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو ایک ایسا نصب العین واضح کرنا ہے کہ جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے نکلنے کے بعد ہندوؤں کی غلامی میں جانے سے بچا سکیں۔
مسلم لیگ کیلئے اب سیاسی جدوجہد کا وہ فائنل مرحلہ آ چکا ہے کہ جس میں وہ کوئی واضح اعلان کریں کہ آنے والے دنوں میں ان کا برصغیرکے مسلمانوں کے بارے میں لائحہ عمل کیا ہو گا۔ انگریزی غلامی میں مسلمانوں کے 83 سالوں اور مسلمانوں کی جدوجہد کیلئے مسلم لیگ کے 35 سالوں کا حتمی مرحلہ آن پہنچا ہے۔ اب فیصلے کی گھڑی ہے۔ سو منٹو پارک میں موجود ان لاکھوں اور ہندوستان بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے سامنے ایک ایسا منصوبہ رکھا جانا ہے جو آنے والے وقت میں ایک انتہائی شاندار اور جاندار قسم کی سیاسی تحریک میں ڈھل کر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک نئی تاریخ رقم کرنے والا ہے۔ آج یہ فیصلہ ہونے والا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے منزل کے حصول کیلئے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ مسلم لیگ کے تمام قائدین اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کے لاہور میں براجمان ہیں۔ کارکنوں کے دھڑکتے دل ان کی ایک ایک بات پر لبیک کہہ رہے ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ ان کے قائدین انہیں وہ راستہ دکھائیں جس پر چل کر انہوں نے منزل کے حصول کو یقینی بنانا ہے۔
ایسے میں صوبہ بنگال کے وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق پرجوش اور پرزور تالیوں میں سٹیج پر نمودار ہوتے ہیں اور وہ ایک قرارداد انگریزی زبان میں پیش کرتے ہیں جسے سر سکندر حیات صدر پنجاب مسلم لیگ اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے لکھا تھا اوراس کی تصحیح خود قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے کی تھی۔ اس کا اردو ترجمہ بھی مولانا ظفر علی خان کی زبان سے سامعین تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس قرار داد کی ایک ایک شق کی عوام اور قائدین بھرپور تائید کرتے ہیں۔
اس کے بعد اس قرارداد کی تائید میں سندھ سے سر عبداللہ ہارون، اُتر پردیش سے چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ، صوبہ سرحد سے سردار خان اورنگزیب خان اور بیگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر اور مولانا عبدالحامد اور دیگر نے بھرپور تقاریر کیں اور اس کے بعد شہر لاہور کی فضائیں نعرہ تکبیر اللہ اکبر، لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان اور مسلم لیگ زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگتی ہے، جن سے بادشاہی مسجد کے فلک بوس مینار بھی لرز اٹھتے ہیں۔
اجلاس کے آخری دن یعنی 24مارچ بروز اتوار کویہ قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی جاتی ہے اورکئی دن ہندوستان کے تمام زبانوں کے اخبارات میں اس خبر کو نمایاں کوریج کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں انگریزی میڈیا اور اردو مسلمان اخبار اسے’’قرارداد لاہور ‘‘کہتے ہیں تو ہندو میڈیا میں اسے ’’ قرارداد پاکستان‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر مسلمان بھی اخبارات اور اپنی دیگر تحریروں میں اسے ’’قرارداد پاکستان‘‘ہی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک کے اخبار روز نامہ ’’انقلاب‘‘ لاہور نے اپنی 25مارچ 1940ء کی اشاعت میں اس کی شہ سرخی لگائی ’’مسلم اکثریتوں کی آزاد حکومتیں قائم ہوں گی، ہندوستان کے دستورکے اہم اسلامی اصول، آل انڈیا مسلم لیگ کی تاریخی قرار داد‘‘۔ یہ وہ پہلا موقع ہے جب پاکستان ایک واضح شکل کے ساتھ سامنے آگیا ہے۔ برصغیرکے مسلمانوں کو پتا چل گیا تھا کہ انہوں نے اب کیا حاصل کرنا ہے یا کس چیز کے حصول کیلئے جدوجہد کرنی ہے۔ اس قرارداد میں واضح طور پر مسلمانوں کیلئے الگ مملکت کی بات کی گئی ہے جو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو۔ اب اس کے بعد مسلمانوں کا قافلہ قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں چل نکلا ہے جس کی منزل زیادہ دور نہیں اور صرف سات برس کے مختصرعرصے میں دنیا کے نقشے پر ایک ایسی اسلامی مملکت طلوع ہوتی ہے جسے ناصرف خودبہت بلند تک جانا ہے بلکہ ساری مسلم امہ کی قیادت کا فریضہ بھی انجام دینا ہے۔
قرار داد پاکستان کی پیشکش کے اس دن کو اب ’’یوم پاکستان ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اوراس دن حکومت پاکستان کی طرف سے ہر شعبے میں نمایاں خدمات حاصل کرنے والوں کوسرکاری اعزازات بھی دیے جاتے ہیں۔اس قرارداد کی یادگار کے طور پر عین اسی جگہ پر،جہاں 23مارچ 1940ء کو یہ قرارداد پیش کی گئی تھی،ایک عظیم الشان مینارتعمیرکیا گیا جس کا نقشہ ایک ترک ماہر تعمیرات نصرالدین مرات خان نے بنایا اور اس کی تعمیر23مارچ1960سے لے کر21اکتوبر 1968ء تک جاری رہی۔اس مینار کے اندرآیات قرآنی اوردیگر طغرہ جات کے ساتھ ساتھ قرادداد پاکستان کا مکمل متن بھی خوبصورت خطاطی کی صورت میں تحریر کیا گیا ہے۔یہ مینار ہمیں اس عظیم قرار داد کی یاددہانی کرواتا رہتا ہے جس کی ہم ہرسال تجدید کرتے ہیں اورہر 23مارچ کو اس عزم کا عادہ کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں جس کیلئے ہمارے بزرگوں نے عظیم الشان قربانیاں دی ہیں۔