برصغیر میں علیحدہ وطن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

تحریر : اختر سردار چودھری


پس منظرو حقائق

برصغیر میں علیحدہ وطن کی ضرورت ایک اچانک پیدا ہونے والا خیال نہیں تھا بلکہ یہ ایک طویل تاریخی، سیاسی اور سماجی عمل کا نتیجہ تھا۔ برطانوی دورِ حکومت میں ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں ایک ہی سرزمین پر آباد ہونے کے باوجود اپنے مذہب، تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اختلافات مزید نمایاں ہوتے گئے اور مسلمانوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ ایک متحدہ ہندوستان میں ان کی مذہبی آزادی، ثقافتی شناخت اور سیاسی حقوق محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہندو اکثریت کی بالادستی اور کانگریس کی پالیسیوں نے اس احساس کو مزید تقویت دی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کو ناگزیر سمجھا۔ یہی سوچ آگے چل کر ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر گئی، جس نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کی۔23مارچ1940 ء کے دن آل انڈیا مسلم لیگ نے مینار پاکستان کے وسیع میدان میں جو قرار داد پاس کی اسے قرار داد لاہور کا نام دیا گیا بلکہ اسے ’’تقسیم ہند کا ریزولیوشن ‘‘ کہا گیا تاہم اس وقت تک پاکستان کا نام جو چودھری رحمت علی نے تجویز کر رکھا تھا مسلمانوں میں کافی مقبول عام ہو چکا تھا۔ بیگم محمد علی نے اپنی تقریر میں اس قرار داد کو ’’ قرار داد لاہور‘‘ کہہ کر پکارا تو ہندو میڈیا اور کانگرس نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قرار داد پاکستان کا نام دے دیا ۔

آزادی کی تحریکوں میں کچھ دن سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ، یہ دن مستقبل کی راہ متعین کرنے یا منزل کی نشاندہی اور اس کے حصول کی کوشش میں ایک نئی روح پھونک دیتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک دن بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی تحریک میں آیا جو 23مارچ1940ء کا دن تھا ۔ اس دن کے انتخاب کی وجہ آل انڈیا مسلم لیگ کا  اجلاس تھا جو لاہور میں منعقد کیا گیا ۔اس دن تقسیم ہند کی قرار داد مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی ۔ اس قرارداد کی روداد سے پہلے اس کا مختصر پس منظر کچھ یوں تھا کہ 1937ء کے بعد کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں تو اس نے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کر دی۔ 

پورے ہندوستان پر ہندوراج کا خواب دیکھتے ہوئے اس نے قومی منظر نامے کا نقشہ بدلنے کی کوشش کی ۔  1937ء کے بعد کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں تو مسلمانوں میں احساس محرومی بڑھا۔کانگرس کے اقدامات اور رویہ نے مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ وہ متحدہ ہندوستان میں محفوظ نہیں ۔مسلم لیگ کو مٹانے،مسلمانوں کی ثقافت اور مذہبی شعار کو روندتے ہوئے ہندو دھرم کے نفوذ کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ مساجد کی جگہ مندر تعمیر ہونے لگے ، مسلمانوں کے عبادت کرنے میں دشواریاں پیدا کیا جانے لگیں ، ہندی اور مرہٹی زبانوں کو رائج کیا گیا ۔ طلبہ کو بندے ماترم ترانے اور دیگر ہندو رسوم میں شرکت پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ہندووں کی مسلم دشمنی اور ہندو رام راج کی خواہش کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ کانگرس کی وزارتیں قائم ہونے پر نہرو نے کہا ’’ آج ہندوستان میں صرف دو طاقتیں ہیں ، ایک کانگرس اور دوسری حکومت ‘‘۔ گاندھی نے کہا ’’ صرف ایک سیاسی جماعت ہے جس سے حکومت سازی کا معاملہ طے ہو سکتاہے اور وہ کانگرس ہے ، میں باقی کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتا ‘‘۔

 ہندو پریس مسلسل لکھ رہا تھا کہ ’’ ہندووں کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ اب ہندو راج کا سورج نکل آیا ہے اس لیے مسلمانوں کے ساتھ حکمرانوں کا سا سلوک کرنا چاہیے ‘‘۔ مگر قائد اعظمؒ نے للکارا اور کہا ’’ہندوستان میں ایک تیسرا فریق اور طاقت بھی ہے اور وہ مسلمان ہیں جو حکومت کی پالیسی اختیار کریں گے اور نہ ہی کانگرس کی پیروی کریں گے ، مسلمانوں کی اپنی پالیسی اور پروگرام ہے ‘‘۔ جب 1939ء کے آخر میں یہ وزارتیں ختم ہوئیں تو اسی سال 22 دسمبر کو قائد اعظم ؒ نے مسلمانوں کویوم نجات کے طور پر منانے کی ہدایت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو دو نعرے دئیے، ایک یہ کہ کانگریسی وزارتیں مسلمانوں پر ظلم کرنے کی مجرم ہیں اور دوسرا یہ کہ مسلمان کوئی اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں ۔ہندوستان میں کوئی ایسا آئین نافذ نہیں کیا جا سکتا جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور ثقافت کے خلاف ہو ۔ مسلمانوں کا اپنا سیاسی، سماجی اور ثقافتی نظام ہے جسے وہ فروغ دینا چاہتے ہیں ۔

 مزید یہ کہ مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں دیگر ہندوستانی علاقوں کے مقابلے میں حالات مختلف تھے ۔ چند سال پہلے لاہور میں ہوئے مسجد شہید گنج کے واقعہ نے مسلم لیگ کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے تھے ۔ ہندوؤں اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ نے مسلمانوں کے اندر مذہبی اور ملی جذبات پیدا کر دیے تھے ۔ اس میں پنجاب پر ونشیل مسلم لیگ کا کردار انتہائی اہم تھا جس نے پنجاب کی مسلم رائے عامہ کو مسلم لیگ اور ایک الگ قوم اور وطن کے تصور کیلئے ہموار کیا۔ لاہور جسے پنجاب کی سیاسی سر گرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا میں مسلمانوں کے اندر مطالبہ پاکستان زور پکڑ رہا تھا ۔ 

 ان حالات میں لاہور میں مسلم لیگ کا  اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وہ تاریخی قرار داد پیش کی گئی جس کے خدو خال قائد اعظمؒ تیار کر چکے تھے اور جو آگے چل کر قیام پاکستان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ یہ قرارداد مسلمانوں کے دو قومی نظریے اور الگ وطن کے مطالبے کے موقف پر ثابت قدم رہنے کا آخری فیصلہ تھا جس کی باز گشت نے دہلی سے لندن تک اور کانگرس کے ایوانوں تک ہل چل مچا دی ۔ اس موقع پر مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا ، ہندو پریس اور کانگرس نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ گاندھی نے اس قرار داد میں مسلمانوں کے مطالبے کے متعلق اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ ہندوستان ہماری ماں ہے ،ہم اس کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے َ‘‘۔ اسی  طرح کچھ متعصب اور حاسدین نے تقسیم ہند کو گائے کے ٹکڑے کرنے کے مترادف قرار دیا لیکن ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام نوشتہ دیوار بن چکا تھا جو کانگرس کی آنکھوں پر تعصب اور دشمنی کی دھندسے انہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔

 مسلم لیگ نے قرار داد میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ’آل انڈیا مسلم لیگ کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے ( شمال مغربی اور مشرقی) کو آزاد مملکتوں کی صورت میں اکٹھا کر دیاجائے جن کے اندر شامل اکائیاں خود مختار اور مکمل حاکمیت کی حامل ہوں ۔ ان اکائیوں کے آئین میں اقلیتوں سے مشورے کے بعد ان کے مذہبی، اقتصادی اور سیاسی نظم و نسق اور حقوق کے متعلق تحفظات رکھیں جائیں ۔ مجلس عاملہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق ایک سکیم مرتب کرے جس میں اس بات کا انتظام کیا جائے کہ دونوں خطے امور خارجہ ، مواصلات کسٹم اور دیگر ضروری معاملات کو سنبھال لیں ۔قائد اعظم ؒنے اس موقع پر مسلمانوں کو اپنے خطبہ صدارت میں دو قومی نظریہ اور ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کے حل کے متعلق بتایا کہ ’’ ہند ئووں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف فلسفوں،معاشرتی رواجوں اور ادبیات سے ہے ۔ دونوں قومیں دو ایسی تہذیبوں کی پیروکار ہیں جو بنیادی خیالات اور تصورات میں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔آپ کو چاہیے کہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو متحد کریں جو بیدار ہو چکے ہیں ،وہ اپنے اندر ایک نظم پیدا کریں اور پھر اس میں استحکام پیدا کرو ، اسلام کے خادم کے طور پر ان کی خدمت اور رہنمائی کرو ، تمہاری طاقت کو تسلیم کیا جائے گا ‘‘۔ 

قائد اعظمؒ تقسیم ہند کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’ ہندوستان کے سماج میں بہتری کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ اس کی تقسیم کا راستہ ہے۔مسلمان ایک الگ قوم ہیں اس لیے ان کا ایک الگ وطن ہونا چاہیے ، دونوں قوموں کو ایک نظام میں باندھ دینا جس میں ایک کی اکثریت اور دوسرے کی اقلیت ہو ، بربادی اور فساد کی صورت میں ہی اس کا نتیجہ نکلے گا ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر ہم قائد ؒکی روح کو پر سکون رکھنا چاہتے ہیں اور یہ کہ باعزت اور با وقار قوموں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کی خدمت ایک خادم کے طور پر کرنی چاہیے ۔ 

٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

23مارچ یوم قرار داد پاکستان

آئیں آج احیائے نظریہ پاکستان کا عہد کریں!

عیدالفطر نعمت الٰہی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریمﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اِس مہینے کا پہلا عشرہ رَحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ، ج3، حدیث:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رَحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے،

عید کا روز اور معمولاتِ نبویﷺ

اچھالباس پہننا :عید کے روز اچھے کپڑے پہننے کے متعلق امام شافعیؒ اور امام بغویؒ نے امام جعفربن محمد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ہر عیدکے موقع پر دھاری دار یمنی کپڑے کا لباس زیب تن کیاکرتے تھے۔

رمضان کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ فگن ہوا اور بڑی تیزی سے ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔

حاصل رمضان!

ماہ مبارک سے کیا پایا، اپنا احتساب کریں

عید الفطر: نماز کا طریقہ اور احکام

عید الفطر تو رمضان المبارک کی عبادات کی انجام دہی کیلئے توفیق الٰہی کے عطا ہونے پر اظہار تشکر و مسرت کے طور پر منائی جاتی ہے۔