چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، انتخابات سے قبل صف بندیاں
سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر تعینات کر دیا ہے۔
گو کہ الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر میں سینئر ممبر کی تقرری ہونا ابھی باقی ہے جس کو حکومت آزاد جموں و کشمیر کسی بھی وقت تعینات کر سکتی ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گزشتہ سال 13 جنوری کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا کی مدت ختم ہونے کے بعد خالی ہو گیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری رواں سال جولائی میں متوقع آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے بروقت انعقاد سے متعلق خدشات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 9 جون کو مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر شاید انتخابات قبل از وقت کروا دئیے جائیں۔ اس کے لئے آئندہ چند روز میں چیف الیکشن کمشنر انتخابی شیڈل کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ جب الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی شیڈول جاری کیا جائے گا تو اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے قائدین سے لے کر کارکنان تک انتخابی عمل میں مصروف ہوں گے یوں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے دی گی ہڑتال کی کال پر بھی اثر پڑے گا اور لوگ بالخصوص نوجوان طبقہ انتخابات کی وجہ سے اس ہڑتال کے بجائے انتخابی سر گر میوں پر توجہ دیں گے۔
ابتدائی طور پر آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کیلئے چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیر کی انتخابی فہرستوں کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے جس کیلئے باقاعدہ رجسٹریشن افسران تعینات بھی کر دیئے گئے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں 2022ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد 18سال سے زائد ہونے والے افراد کے کوائف رجسٹریشن افسران کو فراہم کر دیئے گئے ہیں جو گھر گھر جاکر ان ووٹرز کی تصدیق اور ان کے علاوہ اہل رائے دہندگان کو بھی انتخابی فہرستوں میں بطور ووٹر درج کریں گے۔ نئے ووٹ کے اندراج کیلئے یکم اپریل 2026ء تک جو شہری اٹھارہ سال کی عمر پوری کر چکا ہو اس کا ووٹ درج کیا جائے گا۔ انتخابی فہرستوں کی تیاری و نظر ثانی کے سلسلہ میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت و تجاویز کیلئے 28مارچ کو کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کے ساتھ ساتھ ضابطہ اخلاق برائے امیدواران اور سیاسی جماعتوں کیلئے بھی ترتیب دیا جاسکے۔
آزاد جموں و کشمیر میں آنے والے عام انتخابات میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) کوپیپلزپارٹی کے مقابلے میں اس لئے برتری حاصل ہے کہ وہ متحد ہے جبکہ پیپلزپارٹی چار دھڑوں میں تقسیم نظر آ رہی ہے جس میں جماعت کے صدر چوہدری محمد یاسین کو کمزور کرنے کیلئے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس ، سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر اور وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور اپنے اپنے دھڑوں کو لے کر ایک دوسرے پر عدم اعتماد کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جماعت میں دھڑے بندی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ یہی مسلم لیگ (ن)چاہتی تھی کہ پیپلزپارٹی اندرونی اختلافات کے باعث عام انتخابات میں کمزور انتخابی مہم کی وجہ سے دفاعی پوزیشن پر آجائے تاکہ ان کے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو آسانی سے ہرایا جا سکے۔ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کے اندرونی اختلافات کا اندازہ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کے انتخابی حلقہ حویلی سے لگایا جا سکتا ہے جہاں2016ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار خواجہ طارق سعید نے گزشتہ روز خورشید آباد کے علاقے سے اپنی انتخابی مہم کا آغا زکر دیا۔ وہ اپنے آپ کو آنے والے انتخابات میں وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی جگہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ خواجہ طارق سعید 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد عزیز کے مقابلے میں 24124 ووٹ لے کر بھی الیکشن ہار گئے تھے۔
الیکشن ہارنے کے باوجود خواجہ طارق سعید نے حویلی کے انتخابی حلقے میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور قد کاٹھ کا بھر پور مظاہرہ کیا جسے وہ اس سال کے عام انتخابات میں استعمال کر کے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا رکن بننا چاہتے ہیں۔ خواجہ طارق سعید کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوا تھا کہ وہ2021ء کا الیکشن موجودہ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کو دینے کے پابند تھے اور اب اسی معاہدہ کے تحت وہ 2026ء کا الیکشن پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر حویلی سے لڑیں گے اور وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے الیکشن چھوڑ کر ان کی انتخابی مہم چلانی ہے، جس طرح انہوں نے ان کیلئے 2021ء کے انتخابات کے دوران چلائی تھی۔
دوسری جانب وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر فیصل ممتاز ممتاز راٹھور آنے والے الیکشن کو اپنی سیاست کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ کر حویلی سے ایک مرتبہ پھر خود ہی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان حالات میں یوں لگتا ہے کہ حویلی کے اہم انتخابی حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار انتخابی میدان میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔