بلوچستان فیصلہ کن مرحلے میں
بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی، شورش اور گمراہ کن بیانیوں کی زد میں رہا ہے جہاں چند عناصر نے عوامی احساسات کو بھڑکا کر صوبے کو ترقی کی راہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔
ایسے حساس حالات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کا ایک حالیہ بیان نہ صرف مضبوط سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح اعلان بھی ہے کہ ریاست اب کسی ابہام یا کمزوری کا شکار نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں جس کا نتیجہ خونریزی، تباہی اور پسماندگی کی صورت میں نکلا۔ ایسے میں حکومت کا یہ عزم کہ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے اور ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت صرف طاقت کے استعمال پر نہیں بلکہ اصلاحی اقدامات پر بھی یقین رکھتی ہے۔
پچھلے ایک سال کے دوران ایک ہزار دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی حالیہ کامیاب کارروائیاں، خصوصاً خضدار میں ایک خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے پوری طرح چوکس اور فعال ہیں۔ حکومت کی جانب سے سی ٹی ڈی کے لیے اربوں روپے کی منظوری اور بی ایریا کو اے ایریا میں ضم کرنے جیسے اقدامات اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔افغان مہاجرین اور سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے بھی وزیر اعلیٰ کا مؤقف قومی مفاد کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہائیوں تک مہاجرین کی میزبانی کی مگر اب ریاستی قوانین کے مطابق فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ بلوچستان حکومت کا موجودہ طرز حکمرانی ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ریاست نہ صرف اپنی رٹ قائم کر رہی ہے بلکہ عوامی فلاح، سماجی ترقی اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا کہ بلوچستان کو مزید انتشار کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی و سماجی قوتیں اس مثبت بیانیے کا ساتھ دیں تاکہ صوبہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔
بلوچستان جیسے وسیع مگر تعلیمی لحاظ سے چیلنجز سے دوچار صوبے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا شعبہ محض ترقی کا ایک جزو نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد ہے۔لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے دورافتادہ اضلاع میں قائم جامعات کو پروفیسرز اور تجربہ کار اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ بہتر مواقع کی عدم دستیابی ہے۔ گورنربلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے اس مسئلے کو محض ایک تعلیمی چیلنج نہیں بلکہ ایک وجودی سوال قرار دے کر اس کی سنگینی کو درست انداز میں اجاگر کیاہے۔خوش آئند بات ہے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کی جانب گامزن ہے۔ پروفیسرز اور سکالرز کو جاب سکیورٹی، بہتر مراعات اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان ایک مثبت اور دور رس فیصلہ ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی اساتذہ کو اپنے اداروں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حوصلہ ملے گا بلکہ دیگر صوبوں کے ماہرین کو بھی بلوچستان کا رخ کرنے کی ترغیب ملے گی اور یہ حکمت عملی ’’برین ڈرین‘‘ کو ’’برین گین‘‘ میں تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہو گی جو صوبے کے تعلیمی نظام میں انقلاب لا سکتی ہے۔ گورنر بلوچستان کی جانب سے یونیورسٹیوں میں شفافیت کے فروغ، سینیٹ اور سینڈیکیٹ اجلاسوں کے باقاعدہ انعقاد اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا ادراک اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات روشن مستقبل کی نوید ہے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو بلوچستان نہ صرف اپنے ٹیلنٹ کو سنبھالے گا بلکہ دیگر علاقوں کے طلبہ اور محققین کے لیے بھی پرکشش تعلیمی مرکز بن سکتا ہے۔
ادھربلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 256 میں ضمنی انتخابات کا میدان بھی سجنے کو ہے۔الیکشن کمیشن نے این اے 256خضدار میں انتخابات کے لیے 5 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔ قومی اسمبلی کا یہ حلقہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے قومی اسمبلی سے استعفیٰ کے بعد خالی ہوا تھا۔ اس حلقے میں پیپلز پارٹی میں حالیہ دنوں شامل ہونے والے شفیق مینگل، جمعیت علماء اسلام کے مولانا قمر الدین آزاد اور آغا شکیل درانی سمیت دیگر امیدوار مدمقابل ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تاہم وہ اس نشست پر جے یو آئی کے امیدوار مولانا قمر الدین کی حمایت کرے گی۔ جمعیت علماء اسلام کے مولانا قمر الدین اس سے قبل بھی اسی نشست پر 2013ء سے 2018ء تک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں جبکہ 2018ء سے 2024ء تک بی این پی کے سردار اختر جان مینگل جے یو آئی کی حمایت سے کامیاب ہوئے ۔ اگر چہ اس نشست پر جے یوآئی اور بی این پی کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس بار پیپلز پارٹی کا میر شفیق مینگل پر دست خاص مقابلے کو کانٹے دار بنا سکتا ہے۔
رواں ہفتے عید کے تیسرے روز بلوچستان کے علاقے پشین میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام جلسہ منعقد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔پشین کو عموماً پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق جلسہ میں پی کے میپ کے کارکنوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے دعوؤں کے باوجود ان کے کارکن کم تھے۔ جلسے کے ذریعے کوئی بڑا سیاسی اثر قائم نہیں ہو سکا۔بعض مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں نمایاں دکھائی دیں۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بلا وجہ جنگ مسلط کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اپوزیشن اتحاد ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم جبر کے خلاف ہیں، انہوں نے تجویز دی کہ اس وقت پاکستان کی تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان، پیپلز پارٹی، (ن) لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ اکٹھے ہوں۔ جلسے سے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر بختونخوا نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ رات سے سینکڑوں پی ٹی آئی کارکن گرفتار ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رات گئے چمن، پشین اور کوئٹہ میں پارٹی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، وزیر اعلیٰ بلوچستان پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کا نوٹس لیں اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔