خلیجی جنگ، پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت

تحریر : سلمان غنی


امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں بات مفاہمت اور جنگ بندی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔امریکہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں، اگرچہ ایران نے اس کی تردید کی ہے‘ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس وقت اس جنگ کی بنیاد پر خطے میں پاکستان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

عالمی میڈیا خبریں دے رہا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر اس جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکہ، سعودی عرب اور ایران نے بھی پاکستان کی ثالثی کو ایک سطح پر قبول کر لیا ہے اورمفاہمت کے اس عمل میں ایک بڑی سیاسی بات چیت اسلام آباد میں متوقع ہے۔پاکستان شروع سے یہ چاہتا تھا کہ یہ جنگ  بند ہو اور ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ ہمیں اس میں کوئی ایسا فیصلہ کرنا پڑے جو خود ہمارے لیے مشکلات پیدا کرے۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پہ کیے جانے والے حملوں کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات خراب ہو سکتے ہیں،لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس نازک صورتحال میں نہ صرف سعودی قیادت کو اعتماد میں لیا اور ایران کی قیادت بھی ان کے ساتھ رابطے میں رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نظر آرہا ہے۔اگر واقعی  جنگ بند ہوتی ہے تو اس کا کریڈٹ جہاں دیگر ممالک کو جائے گا وہاں پاکستان کو بھی عالمی سطح پر بہت اہمیت حاصل ہوگی ۔

 اس جنگ کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے جیسے ممالک جن پر پہلے ہی معاشی دباؤ نہت ہے، اس جنگ کے خاتمے سے ہی معاشی  دباؤ کی صورتحال سے نکل سکیں گے۔اس جنگ کے نتیجے میں جہاں دنیا کی معیشت خراب ہوئی ہے وہیں پاکستان کی معیشت کیلئے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو یہ بھی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے عالمی قوتوں کو اعتماد میں لیا اوران کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اس جنگ کا فوری خاتمہ ان کے اپنے اندرونی مفاد میں ہے۔یہاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بھی داد دی جائے گی کہ ان کا کردار بھی مثبت طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ ہم اس جنگ سے میں پیدا ہونے والے مسائل میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہے لیکن گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد صورتحالبدل گئی۔وہی دنیا جو پاکستان کو اہمیت نہیں دے رہی تھی اب پاکستان اس کی آنکھ کا تارہ بن چکا ہے۔ دنیا کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ پاکستان ایک طاقتور ملک ہے اور وہاں ایسی سیاسی و عسکری قیادت موجود ہے جو عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں نے جس طرح سے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بھی اس وقت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دے رہا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ  پاکستان کے ساتھ مل کر بیشتر معاملات میں بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔سعودی عرب بھی سمجھتا ہے کہ جو اس وقت حالات بنے ہوئے ہیں اور جس طرح سے ایران خلیجی ممالک پر حملے کر رہا ہے اس کو کم کرنے میں پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے۔اس لیے سعودی قیادت کی نظریں بھی پاکستانی قیادت کی جانب ہیں۔اگر پاکستان نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تو اس سے  امریکہ بھی خوش ہوگا اور سعودی عرب اور ایران کو بھی پاکستان پر مزید بھروسہ ہوگا۔

تاہم پاکستان کو سفارت کاری کے محاذ پر جو اہمیت مل رہی ہے وہ یقینی طور پر بھارت کو قابل قبول نہیں۔بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا مودی پر تنقید کر رہا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان سفارت کاری کے محاذ پر دنیا میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

اس اہم موقع پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو دنیا کے لیے قابلِ قبول ہو۔جنگ کا خاتمہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ایک طرف پاکستان سیاسی ڈپلومیسی کے محاذ پر موجود ہے تو دوسری طرف ملٹری ڈپلومیسی بھی کردار ادا کر رہا ہے۔سول اور ملٹری ڈپلومیسی کے اشتراک کی وجہ سے اندرونی معاملات میں بھی کافی پیش رفت نظر آتی ہے۔لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ ہماری فوجی قیادت نے پاکستان کو نہ صرف مضبوط کیا ہے بلکہ دنیا میں ثابت کیا ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا دنیا کی بڑی غلطی تھی۔بہرکیف دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان، ترکی اورمصر کی مدد سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو اس میں امریکہ اسرائیل سعودی عرب دیگر خلیجی ممالک سمیت ایران کس حد تک اپنی پالیسیوں میں بیلنس پیدا کرتے ہیں۔ جب تک یہ ممالک ایک دوسرے کے لیے راستہ نہیں نکالیں گے اور بگڑے ہوئے معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جنگ نہیں رک سکے گی۔خاص طور پہ امریکہ اور اسرائیل جس طرح سے مسلم دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بار بار گریٹر اسرائیل کی بات کی جاتی ہے مسلم دنیا میں اس کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔مسلمان ملکوں میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ اپنے ملکوں میں جو امریکی اڈے قائم کیے گئے ہیں وہ ہماری حفاظت سے زیادہ ہمارے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اگرچہ مذاکرات کے عمل میں اس وقت پاکستان، ترکیہ اور مصر کی بات ہو رہی ہے لیکن کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پس پردہ چین بھی ان معاملات میں شامل ہے۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ اسرائیل کے بارے میں اور ایران کے بارے میں اپنے مؤقف میں کس حد تک لچک پیدا کرتا ہے کیونکہ جب تک امریکہ اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا مسلمان ممالک میں امریکہ کے بارے میں خدشات موجود رہیں گے۔پہلے ہی غزہ پیس بورڈ میں مسلم ممالک کی شمولیت کی وجہ سے ان پر تنقید ہو رہی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں کفایت شعاری کے حوالے سے جو اقدامات کیے ان کو بھی اچھی نظر دیکھا جارہا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں اعلانات کر رہی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ ان اعلانات پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے تو آنے والے دنوں میں پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور ہمیں بہت سے معاملات میں اپنے بجٹ اور خرچ اخراجات میں کٹوتیاں کرنی پڑیں گی۔اب دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

دنیا کے فیصلے پاکستان میں۔۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس صورتحال کے حل میں پاکستان دنیا میں مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کے امن اور معیشت کے مستقبل کا دارومدار پاکستان کے کردار سے جڑا ہوا ہے۔

سندھ میں نیا گورنر اور پرانی سیاست

سندھ میں رمضان المبارک کے دوران ایک بڑی تبدیلی آئی، وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن اور ساتھی نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کردیا۔

پی ٹی آئی کس سمت جا رہی ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27مارچ کو پشاور موٹروے انٹر چینج کے قریب بانی پی ٹی آئی رہائی رضاکار وں سے حلف لینے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان فیصلہ کن مرحلے میں

بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی، شورش اور گمراہ کن بیانیوں کی زد میں رہا ہے جہاں چند عناصر نے عوامی احساسات کو بھڑکا کر صوبے کو ترقی کی راہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، انتخابات سے قبل صف بندیاں

سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر تعینات کر دیا ہے۔

کم خرچ میں خوبصورت گھر‘ سجاوٹ کے آسان آئیڈیاز

گھر صرف اینٹ پتھر سے بننے والی عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان سکون، محبت اور اپنائیت محسوس کرتا ہے۔