سندھ میں نیا گورنر اور پرانی سیاست
سندھ میں رمضان المبارک کے دوران ایک بڑی تبدیلی آئی، وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن اور ساتھی نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کردیا۔
نہال ہاشمی کی اس عہدے پر تعیناتی پر سیاسی حلقوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے مطالبے پر کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے گورنر نہال ہاشمی سے ملاقات کی اور اُن کے تقرر کو خوش آئند قرار دیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے نہال ہاشمی کی تعیناتی کو ابتدائی مشاورت میں مسترد کردیا۔ ایم کیو ایم وفاقی حکومت کی اتحادی اور فیصلے سے ناخوش ہے۔ ایم کیو ایم رہنماؤں کے مطابق وفاق نے گورنر کی تبدیلی کے فیصلے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا، تبدیلی کا علم ذرائع ابلاغ سے ہوا، فیصلے پر جلد لائحہ عمل دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور فاروق ستار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وفاقی حکومت میں رہنے کا اب کوئی جواز نہیں بنتا۔ ایم کیو ایم اجلاس میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا مشورہ بھی سامنے آیا۔ ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور شہری سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے پر گورنر کو تبدیل کیا گیا۔ کامران ٹیسوری نے بھی یہی کہا کہ انہیں سانحہ گل پلازہ پر بات کرنے اور کراچی بچاؤ کانفرنس کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں گونگا، بہرا یا ڈمی گورنر نہیں تھا اور نہ رہنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے دھمکی بھی دی کہ ڈریں وہ لوگ جن کے سارے راز وہ جانتے ہیں،مزید کہا کہ جہاں تک بات سیاست کی ہے تو ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اگر چھیڑو گے تو چھوڑیں گے نہیں۔
میڈیا نے بعض ذرائع کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ (ن) لیگ اور پی پی کی قربت اور 28ویں ترمیم پر پی پی اور ایم کیو ایم کشیدگی نے سندھ کا منظرنامہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پی پی اور ایم کیو ایم میں کئی ماہ سے سیاسی گولہ باری جاری تھی۔ کشیدگی کو عروج اس وقت ملا جب کامران ٹیسوری نے غیرملکی دورے پر جاتے ہوئے گورنر ہاؤس کو تالا ڈال دیا اور چابی اپنے پاس رکھ لی۔گورنر کی تبدیلی کو اب تو بہت دن گزرگئے ہیں لیکن ایم کیو ایم کا تاحال کوئی باقاعدہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ سیاسی ناقدین کہتے ہیں کہ ایسا گمان ہے کہ رات گئی بات گئی کے مصداق گورنر تبدیلی پر ایم کیو ایم کا رد عمل اب شاید ہی آئے۔دوسری جانب خبر یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی میں طویل عرصے کے بعد سیاسی رابطہ بحال ہوا ہے۔ بلاول ہاؤس کراچی میں غیر رسمی بیٹھک ہوئی، صدر آصف زرداری سے خالد مقبول صدیقی کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں تمام امور کو بات چیت سے طے کرنے پر اتفاق کی گیا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ گورنر نہال ہاشمی نے کچھ کام کرنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس کی ہر چیز کا آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے کہ کتنے پیسے ملتے تھے اور کہاں خرچ ہوتے رہے، سب چیک کیا جائے گا۔ دیکھتے ہیں معاملات بہتری کی طرف جاتے ہیں یا پھر کوئی نیا پینڈورا بکس کھلنے کو تیار ہے۔
ادھر سانحہ گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ گل پلازہ منظوری کی ابتدائی اور اصل فائل ادارے کے ریکارڈ روم میں موجود نہیں ہے چنانچہ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ پہلے کتنی منزلوں کی تعمیرات کی منظوری دی گئی۔ 1998ء کے نظرثانی شدہ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی، آخری معائنہ 2003ء میں کیا گیا اور خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں مگر ایمنسٹی سکیم کے تحت ریگولرائز کردیا گیا۔
ادھرکراچی میں لاگو ای چالان سسٹم کی ناکامی بھی سامنے آرہی ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم سے بچنے کا توڑ نکال لیا ہے۔ 100موٹرسائیکلوں کو چالان جاری کرنے کے لیے سروے سیمپلنگ کی گئی جس میں 100فیصد موٹر سائیکل سوار دھوکہ دینے میں ملوث نکلے ۔ سروے کے مطابق 70 فیصد سے زائد موٹر سائیکلوں پر نمبر پلیٹیں موجود نہیں تھیں، 20 فیصد سواروں نے نمبر پلیٹوں کو مختلف طریقوں سے چھپا رکھا تھا، جن پر نمبر پلیٹیں موجود تھیں ان میں سے اکثر کے ایڈریس غلط پائے گئے یا نمبر پلیٹ پڑھنا ناممکن تھا۔
ڈی آئی جی کا سروے اپنی جگہ لیکن عدالت میں ای چالان کے خلاف کیس کا کیا جواب دیں گے، جس میں کیمرے نے بس کی رفتار 160کلومیٹر میٹر فی گھنٹہ لکھ دی جبکہ کمپنی کی تیار کردہ بس کی حد رفتار 120کلومیٹر ہے۔ عدالت نے غلط چالان جاری ہونے پر حکام کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ کیمروں اور دیگر تنصیبات پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، اگر یہی ان کی کارکردگی ہے تو اس سسٹم اور عوام کا اللہ ہی مالک ہے کیونکہ ہر آدمی تو عدالت جانے سے رہا۔
ایک افسوسناک خبر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی صاحبزادی 35سالہ ماروی ملک کی برین ہیمرج کے باعث وفات کی ہے ۔ وہ کئی روز تک زیرعلاج رہیں اور جانبر نہ ہوسکیں۔ صدر مملکت، وزیراعظم، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ سمیت سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے اس پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت کرے اور شیری رحمان سمیت تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔