جنت کا متلاشی (آخری قسط )
اُس انصاری نے کہا ’’ آپ نے جو کچھ دیکھا، بس یہی عمل تھا، میں تو اتنا ہی عمل کرتا ہوں‘‘۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں واپس آنے لگا تو انہوں نے مجھ سے کہا: ’’ٹھہرو! میں جو عمل کرتا ہوں، آپ نے دیکھ لیا، لیکن اس کے علاوہ ایک بات اور ہے، میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کینہ، بغض نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ نے کسی کو دے رکھا ہے اس پر حسد نہیں کرتا‘‘۔عبداللہ بن عمروؓنے فرمایا’’ یہی وہ کام ہے جس کی وجہ سے آپؓ کو جنت کی بشارت ملی ہے‘‘۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مقصد ہی آخرت کی کامیابی تھا۔ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سما گیا تھا کہ دنیا کا سامان تو عارضی ہے اور آخرت تو صرف پرہیز گار کیلئے ہے۔ تم پر کل قیامت کے دن ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اندر بے انتہا عاجزی اور انکساری تھی۔ عاجزی اور انکساری کی پہلی علامت یہ ہے کہ آپؓ لوگوں کی عزت وقار کو پہچانیں۔
حسن بن شفیعؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم عبداللہ بن عمروؓکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؓ کا ایک شاگرد حاضرِ خدمت ہوا۔ عبداللہ ؓنے فرمایا: تمہارے پاس وہ آدمی آیا ہے جو زیادہ جانتا ہے‘‘۔ جب وہ بیٹھ گیا تو عبداللہ ؓ نے اس سے کہا: ’’ ہمیں تین اچھی اور تین بری چیزیں بتائو!‘‘۔ اس نے ادب کے ساتھ کہا: ضرور بتائوں گا بھلائی کی تین چیزیں یہ ہیں: سچی زبان، پرہیز گار دل، نیک عورت۔ تین بری چیزیں یہ ہیں: جھوٹ بولنے والی زبان، گناہ گار دل، بری عورت۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت بہادر، شہسوار اور دلیر جنگجو تھے۔ جنگ کے میدان میں بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ان کی عبادت کے معمولات ان کو جہاد سے نہیں روکتے تھے۔ اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کیلئے نکلتے۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دو تلواروں کے ساتھ ایک ہی وقت میں لڑائی لڑتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں آپؓ کئی جنگوں میں شریک ہوئے، فتح مکہ جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی واضح فتح قرار دیا۔ اس میں آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ غزوۂ حنین میں بھی آپؓ نے کامیابی کی مٹھاس چکھی۔ غزوہ تبوک میں بھی آپؓ نے شرکت کی۔’’ جیش ردۃ‘‘ میں آپؓ نے اپنے والد عمرو بن عاص ؓ کے ہمراہ اسلامی لشکر کی جانب سے شرکت کی۔ جیش ردۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مرتد ہو گئے تھے یعنی اسلام سے پھر گئے تھے۔ یہ مسلمانوں کیلئے بہت آزمائش کا دور تھا۔ لیکن مسلمانوں نے ان مرتدین کیخلاف بہت بہادری اور جرات کے ساتھ جنگیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح نصیب فرمائی، اسلام پھر سے اسی طرح طاقتور ہو گیا جس طرح رسول اللہ ﷺ کے دور میں طاقتور تھا۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ستر سال عمر پائی۔ دنیا نے ان کو کبھی کوئی دھوکا دیا اور نہ ہی اپنی زیب و زینت کی وجہ سے اپنی طرف متوجہ کر پائی۔ پوری زندگی اللہ کی رضا کا خیال رکھا۔ رکوع و سجود، ذکر الٰہی اور قرآن کی تلاوت ہمیشہ ان کی زندگی کا حصہ رہے۔ اپنی زبان کی ہمیشہ حفاظت کی۔ کتابوں کی صورت میں انہوں نے ہمارے لئے بہت علم چھوڑا، ایسا علم جو ان کیلئے صدقہ جاریہ بنا۔ جب بھی کوئی سیکھنے والا اس علم کو سیکھے گا یا کوئی پڑھنے والا پڑھے گا تو ان کو مسلسل ثواب ملتا رہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے چند اقوال اس دعا کے ساتھ پیش خدمت ہیں کہ اللہ ان سے ہمارے لئے ہدایت اور رہنمائی کے دروازے کھول دے۔
٭…ایک مرتبہ صبح کی نماز کے بعد وہ ایک سوئے ہوئے آدمی کے پاس سے گزرے، اس کو اپنے پائوں کی مدد سے ہلایا اور اٹھا کر کہا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس گھڑی میں اپنی مخلوق کو دیکھتے ہیں، پھر ان میں سے ایک جماعت کو اپنی رحمت کے ساتھ جنت میں بھیج دیتے ہیں۔
٭…عبداللہؓ کے اقوال میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جو کسی کیلئے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اس میں گرپڑتا ہے۔
٭…اسی طرح ان کا یہ قول بھی ہے کہ بھلائی کے متعلق جو میں آج کرتا ہوں یہ ہمیں اس عمل سے زیادہ محبوب ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر کرتے تھے، اگرچہ وہ اس سے دوگنا بھی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اس وقت ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمیں صرف آخرت کی فکر ہوتی تھی، ہمیں دنیا کی کوئی پروا نہیں تھی۔ آج ہم دنیا کی طرف جھک چکے ہیں آخرت کو بھول گئے ہیں۔
٭… آپؓ نے فرمایا: ’’ اللہ کے خوف کی وجہ سے ایک آنسو بہانا میرے نزدیک ایک ہزار دینار خرچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔