فیضان نے دی عیدی
آج فیضان بہت خوش تھا، کیونکہ عید کی چھٹیاں ہونے والی تھیں لیکن ساتھ یہ رمضان کا مہینہ مکمل ہونے پر اداس بھی تھا۔ فیضان نے رمضان کا مہینہ بہت خوشی سے گزارا تھا۔
روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، سکول کا بھی کام کیا اور دادی کے دیے ہوئے تحفے قرآن کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق بھی کی۔ اس طرح فیضان کیلئے رمضان بہت ہی خوشیوں والا ثابت ہوا۔
اس رمضان اس نے ایک بات سیکھی تھی۔ جس کو وہ سب لوگوں کو بتانا چاہتا تھا۔سکول میں چھٹیاں شروع ہونے سے قبل اس کی کلاس ٹیچر نے سب بچوں سے پوچھا کہ ’’آپ نے رمضان سے کیا سیکھا؟‘‘ تو فیضان نے پوری کلاس کے سامنے اپنی سیکھی ہوئی بات بیان کی۔ اس نے کہا کہ جوسب سے زیادہ محنت کرتیں اور ہمیں روزہ رکھواتی ہیں، سارے گھر کے کام بھی کرتی ہیں،ہمیں ان کا احساس کرنا چاہیے، ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اب بتائیں وہ کون ہیں جو رمضان کو ہمارے لیے بھر پور بناتی ہیں اور سکول کا ہو م ورک بھی کرواتی ہیں؟‘‘۔
سب بچوں نے یک زبان ہو کر کہا: ہماری مائیں اور ہماری ٹیچرز۔فیضا ن نے فوراً خوشی سے تائید کی اور سب بچوں سے کہا ’’ہمیں ہمیشہ اپنی مائوں اور سکول ٹیچرز کا احترام کرنا چاہیے۔ میں اپنے گھرمیں دیکھتا ہوں کہ میری مما روزہ رکھ کر سارے گھر کے کام کرتی ہیں، سکول کا کام بھی ہم بہن بھائیوں کو کرواتی ہیں، عبادات بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہماری سکول ٹیچرز بھی ایسے ہی کرتی ہیں،ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے‘‘۔ فیضان کی بات سن کر ساری کلاس نے تالیاں بجائیں، خود ٹیچرز بھی اس کی اس سوچ سے بہت خوش ہوئیں۔
فیضان سکول سے گھر پہنچا تو اس کی دادی اور امی جان افطاری کااہتمام کرنے اور عید کیلئے میٹھے پکوان پکانے میں مصروف تھیں۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد روزہ افطار سے کچھ دیر قبل جب دسترخوان سج چکا تھا تواس نے اپنے ابو سے کہا کہ ’’میں اپنی امی اور دادی کو چاند رات پر عیدی دینا چاہتا ہوں‘‘۔افطاری کے بعد وہ اپنے ابو کیساتھ مارکیٹ گیا اور اپنی امی اور دادی کیلئے سوٹ، چوڑیاں اور مہندی خریدی اور ساتھ میں مٹھائی اور پھول بھی۔
جب گھر آیا تو عید کا چاند نظر آچکا تھا اور ہر طرف عید کی گہما گہمی تھی۔ فیضان نے اپنی امی کو کچن سے لے کر دادی کے کمرے میں گیا جہاں اس کی دادی ، ابو اور بہن اور چھوٹا بھائی موجود تھا۔ اس نے سب کے سامنے کہا ’’امی جان آپ نے روزہ رکھ کر سارے گھر کی خدمت کی ہے اور ہر افطاری کا بھرپور اہتمام کیا۔ کسی بھی طرح سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تو جو ہم سب لوگ کہتے ہیں نا کہ عید تو صرف روزے داروں کی ہوتی ہے، میں کہتا ہوں بیشک ایسا بھی ہے مگر جو روزے رکھواتے اور کھلواتے ہیں ان کا بھی برابر ثواب اور اجر عظیم ہے۔ اس لیے میں آپ اور دادی کیلئے عید کے تحائف لا یا ہوں۔ پلیز عیدی میری جانب سے لیجیے۔ ‘‘ فیضان کی مما اور دادی کی آنکھوں میں تحائف دیکھ کر خوشی کے آنسو چھلک پڑے ۔مما نے فیضان کو گلے لگا لیا۔
سب نے اگلے روز مل کر عید منائی اور خوب انجوائے کیا۔ فیضان کی مما اور دادی اس کے اس احساس سے بہت خوش ہوئیں اور اسے دعائیں دیں۔
پیارے بچو! آپ بھی اپنی مما کو عیدی دیا کریں اور اسی طرح اپنی ٹیچرز کا بھی خاص خیال رکھیں کیونکہ یہ آپ سب کی بہت خدمات کرتی ہیں۔