جگر مراد آبادی اثر انگیز شاعر
ان کا طرز شعر خوانی اپنے دور میں بہت مقبول رہا یہاں تک کہ لوگوں نے نقل کرنا شروع کر دی :میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےجگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے اورموسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں وہ اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے: جگر نے شاعری کی ابتدا فارسی سے کی‘ کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دی
جگرؔ کی شاعری دماغ کی نہیں دل کی شاعری ہے۔ انہوں نے اپنے دلی جذبات و احساسات کا اظہار بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے عاشق ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں محبوب کے جذبات و احساسات کی ترجمانی بھی بڑے فن کارانہ ڈھنگ سے کی ہے۔ ان کی شاعری خالصتاً آمد کی شاعری ہے وہ شعر گوئی کیلئے کاریگری نہیں کرتے بلکہ فطری طور پر جو خیال ذہن میں آتا ہے اسے نظم کر دیتے ہیں، یہی ان کے کلام کی اثر انگیزی کی وجہ ہے۔
جگر بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ ان کی غزلیں عام طور پر سہل ممتنع میں ہیں اور عام فہم میں۔ ان کی زبان صاف شستہ اور رواں ہے۔ وہ عموماً ادق اور ثقیل الفاظ و تراکیب سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے جو تشبیہات ، استعارات اور تلمیحات برتی ہیں وہ اکثر سریع الفہم ہیں، بعید الفہم نہیں۔یہی بات ہے کہ جگر کی شاعری کبھی جمود کا شکار نہیں ہوئی۔ ان کے کلام میں تدریجی ارتقا پایا جاتا ہے۔
علی سکندر جگر مراد آبادی علما کے ایک خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ خاندان دہلی کا رہنے والا تھا جس نے بعد میں دو حصوں میں تقسیم ہو کر اعظم پورباشتہ(بہار) اور مراد آباد( یوپی) میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ جگر کے مورثِ اعلیٰ مولوی محمد سمیع شہنشاہ شاہجہاں کے اتالیق تھے۔ اُن کے والد علی نظر والیٔ ٹونک کے ساتھ بنارس میں رہتے تھے۔ بنارس ہی میں 6اپریل1890ء میں جگرؔ کی پیدائش ہوئی۔ لیکن ابھی عمر چھ ماہ ہی کی رہی ہو گی کہ اُن کے والد مراد آباد چلے آئے جو اُن کے اجداد کا وطن تھا۔ جگر صاحب کی ابتدائی تعلیم و تربیت مراد آباد ہی میں ہوئی۔ پندرہ سولہ کی سال کی عمر میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور 25،26 سال کی عمر میں والدہ کے سایہ شفقت سے بھی محروم ہو گئے۔ جب اُن کے چچا لکھنو آئے تو حصول تعلیم کی غرض سے یہ بھی لکھنو چلے آئے اور نویں درجے تک لکھنو میں تعلیم حاصل کی ۔شاعری انہوں نے ورثے میں پائی تھی۔ اُن کے پردادا حافظ نور محمد اور دادا حافظ مولوی امجد علی دونوں شاعر تھے۔ والد کی زبانی انہوں نے سنا تھا کہ جدِ امجد بھی شاعر تھے۔ خاندان کے دوسرے افراد کو بھی شاعری سے لگائو تھا ۔ جگر کی شاعری کی ابتدا اُن کے تایا مولوی علی اکبر کے سائے میں ہوئی۔ اس کے ثبوت ملتے ہیں کہ انہوں نے 14،15سال کی عمر میں پہلی غزل کہی ۔ اس سلسلہ میں جگر نے بڑا دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہتے ہیں ’’میں لکھنؤ اپنے تایا کے ساتھ آیا تھا وہیں میں نے پہلی غزل کہی تھی۔میرے والد بہت خوش مذاق تھے اور غالب کے معتقد ۔ میرے تایا قتیل کے مداح تھے ،میں قتیل پر غالب کو ترجیح دیتا تھا۔ بھائی محمد احمد مجھ سے عمر میں بہت بڑے تھے اور قتیل کے پرستاروں میں سے تھے۔ ہم دونوں میں تفاوتِ عمر اور کم علمی کے باوجود بحث ہوتی رہتی تھی۔ وہی باتیں جو سنتے تھے۔ میں نے جھنجھلاہٹ میں ایک غزل فارسی میں کہی، تخلص بھی قتیل رکھا۔ ایک دن موقع پا کر میں نے بحث چھیڑ دی۔ میں نے کہا آپ قتیل کی بہت تعریف کرتے ہیں دیکھئے میں ایک غزل لایا ہوں، میرا سن14،15سال کا تھا۔ میں جس قدر مقطع کے قریب آتا جاتا تھا، پیچھے ہٹتا جاتا تھا اور دور ہوتا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کے غزل پڑھتے ہی بھاگ جائوں گا۔ مقطع کے بعد میں نے جھک کر سلام کیا اور کہا یہ میں نے کہی ہے۔ یہ کہہ کر میں بھاگا اور بھائی صاحب نے مجھے دوڑایا۔ بات بزرگوں تک پہنچی۔ میری طلبی ہوئی۔ والد صاحب نے غزل مانگی۔ میں نے انکار کیا۔ والد نے سمجھایا کہ جھوٹ نہیں بولتے، لائو غزل۔ میری غزل دیکھی اور فرمایا’’ تم شعر ضرور کہو گے۔ مگر ابھی نہ کہو‘‘ ۔
یہ عجیب بات ہے کہ جگر نے شاعری کی بسم اللہ فارسی سے کی لیکن بعد میں دل و جان سے اردو کی طرف متوجہ ہو گئے۔ فارسی میں ان کا کلام بہت کم ہے۔ ابتدائی زندگی میں انہوں نے فارسی ادبیات کا اچھا مطالعہ کیا تھا۔ خسرو اور حافظ سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ انہی کے زیر اثر انہوں نے کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دیں۔جگر نے سب سے پہلے اپنے کلام پر داغ سے اصلاح لی۔ داغ سے کبھی ان کی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ خط کتابت کے ذریعہ اصلاح کا کام لیا ۔ یہ داغ کا آخری زمانہ تھا۔ وہ حیدر آباد دکن میں مقیم تھے۔ ضعیفی کا زمانہ تھا،1905ء میں انہوں نے انتقال کیا یہی زمانہ جگر کی شاعری کے آغاز کا ہے لہٰذا قیاس ہے کہ جگر کو ایک دو غزلوں سے زیادہ بھیجنے کا موقع نہ ملا ہوگا ۔اس کے بعد باقاعدہ مشورہ سخن حضرت رسا رامپوری سے ہوا۔شروع میں جگر نے کچھ غزلیں ڈاک کے ذریعہ ان کے پاس رامپور بھیجیں پھر دو تین بار خود رامپور جا کر ان سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد حضرت رسا رامپوری جگر کے استاد ہوگئے۔ رامپور کے قیام کے دوران رسا کے ایما پر منشی امیر اللہ تسلیم سے بھی ملاقات مشورۂ سخن کے سلسلہ میں نہیں تھی۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے اصغر گونڈوی سے بھی اصلاح لی۔ بقول رشیداحمد صدیقی جگر کو اصغر سے گہری عقیدت ہے لیکن شاعری میں اصغر سے بالکل علیحدہ ہیں۔ اصغر سے ان کا شغف شخصی ہے، شاعرانہ نہیں، جس طرح حالی کا غالب سے۔
کہتے ہیں جگر شعر عجیب کیفیت سے کہا کرتے تھے۔ شعر کہنے کے دوران اُن کے چہرے پر مختلف کیفیات ظاہر ہوتیں، جب طبیعت میں روانی ہوتی تو مسلسل کئی کئی شعر ایک ہی حالت میں کہہ ڈالتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں عام طور پر ایک کیفیاتی تسلسل پایا جاتا ہے۔ اگر کسی مصرع پراٹک جاتے توا سے چھوڑ کر دوسرے شعر کی طرف متوجہ ہو جاتے اور پھر کسی وقت طبیعت کو حاضر پا کر اس مصرع پر دوسرا موزوں کرتے۔ جگر فرمائش پر شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔ وہ مکمل طور پر آمد کے شاعر تھے چنانچہ کسی ایسے ماحول میں جہاں طبیعت خود بخود مائل نہ ہوتی ہو، جگر شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔ محمود علی خاں جامعی نے ان کے شعر کہنے کا نقشہ بڑے خوبصورت انداز میں کھینچا ہے، لکھتے ہیں: ’’ویسے جگر صاحب زیادہ رات گئے جب سب سو جاتے ہیں تو تنہائی میں شعر کہنے کے عادی ہیں۔ اس وقت ان کے پاس بہت رواں قلم، بہت روشن سیاہی اور بہت صاف شفاف کاغذ یا پیڈ ہونے چاہئیں۔ کہنے کی صورت یہ ہے کہ زمین پسند آنا ضروری شرط ہے۔ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ قافیہ کی فراوانی ہے یا نہیں۔ ردیف دست و گریباں ہوتی ہے یا نہیں۔
بس جو بحر پسند آ گئی اس پر کہنا شروع کر دیا۔ پہلے کاغذ پر نہایت خوش خط طغریٰ میں بسم اللہ لکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد جس زمین میں غزل کہہ رہے ہیں اس کا قافیہ اور ردیف اور جس قافیہ پر شعر کہہ رہے ہیں اس کے ساتھ دو تین لفظ لکھے جاتے ہیں۔ مثلاً بہار آہی گیا، جان بہار آ ہی گیا، جیسے وہ جانِ بہار آہی گیا۔ پھر اس پر مصرع اولیٰ بڑے بانکپن سے لگاتے ہیں جو نہایت باربط اور واضح ہوتا ہے۔ دونوں مصرعوں میں کوئی خلا نہیں ہوتا ہے ایک شعر مکمل ہونے تک کئی مرتبہ لکھا جاتا ہے اور کاغذ پر بہت سے نامکمل شعر لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک کاغذکے بعد دوسرا شروع ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر میں لکھے ہوئے کاغذوں کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے جن پر کہے ہوئے اشعار کے علاوہ طرح طرح کے نقش و نگار اور بیل بوٹے بھی ہوتے ہیں، کیونکہ جگر صاحب کو بیل بوٹے بنانے کا خاص ملکہ ہے۔ فکر شعر کے دوران وہ اکثر جو کاغذ سامنے آتا ہے اس پر خوش نما پھول بناتے رہتے ہیں‘‘۔
جگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے۔ وہ موسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے۔ وہ خود شعر کی کیفیت میں پورے طور پر غرق ہو جاتے اور سامعین کو بھی محو کر دیا کرتے تھے۔ جس مشاعرہ میں شرکت کرتے اس پر مکمل چھا جاتے۔دوسروں کا چراغ ان کے سامنے مشکل ہی سے جلتا تھا۔ جگر کا طرزِ شعر خوانی ان کے عہد جوانی میں بہت مقبول رہا اور اس حد تک پسندیدہ ہو گیا تھا کہ لوگوں نے ان کی نقل کرنا شروع کر دی تھی اور ہر وہ شخص جو جگر کے ترنم میں پڑھ سکتا تھاخود کو کامیاب شاعر تصور کرتا تھا۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بڑے شاعر مشاعروں میں بڑے محتاط رہتے ہیں دوسرے شاعروں کو داد دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں لیکن جگر کا انداز ان لوگوں سے بالکل مختلف تھا، وہ ہمیشہ دل کھول کر داد دیتے اور باصلاحیت شعرا کی ہمت افزائی کرتے۔وہ خود کو سامعین کے زمرے میں شامل کرتے، مخصوص لوگوں میں نہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی شخصیت کو اور بھی زیادہ محبوب اور ہر دلعزیز بنا لیا تھا۔
جگر دل کی بیماری کے پرانے مریض تھے اور اسی بیماری کے ہاتھوں 1960ء کو انتقال کر گئے۔
دل کو سکون ،روح کو آ رام آ گیا
موت آ گئی کہ یار کا پیغام آ گیا
غزلیات ِجگر
اب کہاں زمانے میں دوسرا جواب اُن کا
فصلِ حسن ہے اُن کی، موسم شباب اُن کا
یونہی کھلتے جاتے ہیں حسن و عشق کے اسرار
اک نفس سوال پانا، ایک نفس جواب اُن کا
ضبط کا جنہیں دعویٰ عشق میں رہا اکثر
ہم نے حال دیکھا ہے بیشتر خراب اُن کا
کہیے حالِ دل لیکن دیکھئے کن آنکھوں سے
ہر سکوں کے پردے میں حشر اضطراب اُن کا
جیسے حسن کی دیوی جھانکتی ہو چلمن سے
نیم وا سی آنکھوں میں اُف وہ کیفِ خواب اُن کا
………………
عشق میں لاجواب ہیں ہم لوگ
ماہتاب، آفتاب ہیں ہم لوگ
ناز کرتی ہے خانہ ویرانی
ایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ
غم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو
رہروِ ملکِ خواب ہیں ہم لوگ
ہر حقیقت سے جو گزر جائیں
وہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ
جب ملی آنکھ، ہوش کھو بیٹھے
کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ
…………………
اب اُن کا کیا بھروسہ وہ آئیں یا نہ آئیں
آ، اے غمِ محبت تجھ کو گلے لگائیں
جیسا وہ چاہتے ہیں، جو کچھ وہ چاہتے ہیں
آتی ہیں میرے دل سے لب تک وہی دعائیں
اب ہاتھ مل رہے ہیں وہ خاک عاشقاں پر
برباد کر چکے جب اپنی ہی کچھ ادائیں
بیتابی محبت، وجہ سکونِ غم ہے
آغوش مضطرب میں، خوابیدہ ہیں بلائیں
اشعار بن کے نکلیں جو سینہ جگر سے!
سب حسنِ یار کی تھیں بے ساختہ ادائیں
………………
منتخب اشعار
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
………
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
………
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
………
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
………
ان کا جو فرض ہے وہ اہل ِسیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
………
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
………
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
………
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
………
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
………
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
………
آغازِ محبت کا انجام بس اتنا ہے
جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے
………