قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز
خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔
اس حوالہ سے پاکستان میں یہ اتفاق رائے دیکھا گیا ہے کہ عوام کے تمام طبقات اور سیاسی جماعتوں کے اراکین جہاں ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں تو دوسری طرف وہ ایرانیوں کے ساتھ اس لیے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اس جنگ میں ایران مظلوم نظر آتا ہے اور وہاں ہونے والی تباہی پر پاکستان میں اس لیے بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور اس کی سرحدیں ہمارے ملک کے ساتھ ملتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت نے امریکہ ایران جنگ کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے ایسی پالیسی اختیار کی اور ایسا بیانیہ ترتیب دیا کہ اس اہم اور سلگتے ایشو پر سیاست کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے ایران پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کی اور بعدازاں پیدا ہونے والی صورتحال پر فریق یا شریک بننے کی بجائے جنگی صورتحال کے خاتمہ اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بطور ثالث خود کو پیش کیا۔ اس طرح نہ صرف پاکستان کو بیرونی محاذ پر پذیرائی ملی بلکہ اندرونی محاذ پر بھی پاکستان کی اس پالیسی کو ہرسطح پر سراہا گیا۔ کچھ عناصر نے اپنے روایتی انداز میں حکومت کی اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا اور پاکستان کو امریکہ کے ساتھ بریکٹ کرنے کی کوشش کی مگر ایرانی لیڈرشپ نے پاکستان، حکومت پاکستان اور خصوصا ًوزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی لیڈر شپ بارے اچھے خیالات کاا ظہار کر کے اور پاکستان کو دوست ملک قرار دیکر ان تحفظات کا ازالہ کر دیا ۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کے لیے اندر یا باہر سے جس جس نے بھی شر پھیلانے کی کوشش کی اس میں سے پاکستان کے لیے خیر نکلا اور پاکستان کے لیے عالمی میڈیا سے آنے والی خبروں خصوصاً ًاسلام آباد کے ذمہ دارانہ کردار اور امن عمل کیلئے کاوشوں کے اثرات ملک کے اندر تمام طبقات میں اطمینان کا باعث بنے۔ آج کے حالات میں جنگی صورتحال اور اس کے سدباب کے حوالہ سے پاکستان کے کردار بارے ایک بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اس کٹھن صورتحال میں پاکستان کی پالیسی اور اقدامات ہر حوالہ سے ملک کے بہترین مفاد میں تھے اور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالہ سے عوام کے سبھی حلقے مطمئن نظر آتے ہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ اگر پاکستان کی کوششوں سے خلیج میں امن کے لیے راستہ بنتا ہے اور جنگ بندی ممکن ہوتی ہے تو پاکستان کو اس کے بدلے کیا ملے گا؟ ماہرین کی رائے میں پاکستان کے اس کردار کے باعث جہاں پاکستان کی سفارتی اہلیت اور صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے وہاں عالمی سطح پر پاکستان کو خصوصی پذیرائی بھی ملی ہے۔ عالمی قوتیں پاکستان کی طرف مائل ہوئی ہیں اور خلیجی ممالک مدد و معاونت کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ خود ایران پاکستان کا احسان مند نظر آ رہاہے۔ اس سارے عمل کی وجہ یہ رہی کہ پاکستان کی متحارب فریقین تک رسائی تھی ۔ اس پوزیشن نے پاکستان کو ثالثی کے کردار کے لیے اہل ثابت کیا۔ بلا شبہ پاکستان کے اس کردار کے بعد ایک بات جو نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کا معرکہ ہوا تووہاں بھی پاکستانی افواج فتح مبین سے ہم کنارہوئیں اور دنیا میں پاکستان ناقابل تسخیر قرار پایا۔ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کی اہلیت کے گن گائے جا رہے ہیں، مگر اندرونی سطح پر جس استحکام کی ضرورت ہے اس سے ہمکنار نہیں ہو پا رہے ۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے اندر بعض عناصر ہیں جو ایک خاص ایجنڈا سے ملک میں انتشار برپا کرنے کے درپے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی سیاسی بقا اس عمل سے مشروط ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان جس پٹڑی پر گامزن ہے وہ ترقی و خوشحالی کی منزل کی طرف جاتی ہے اور اس پر چلنے کے لیے اہل سیاست کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہیے اور نیت بھی نیک رکھنی چاہیے اور سیاست کو ملک و قوم کی خدمت سے مشروط کرنا چاہیے۔ اگر اہل سیاست اپنی سیاست کا دائرہ ملکی مفادات سے مشروط کر لیں ،آئین و قانون کی بالا دستی اور عوام کی خدمت کا عزم کر لیں تو ان کی عزت و تکریم بھی بحال ہو گی اور ملک میں سیاست اور جمہوریت بھی مضبوط ہو گی۔ آج اگر ملک میں استحکام اور اطمینان نظر آرہا ہے تو اس میں حکومت کے ساتھ ریاست کا بھی عمل دخل ہے۔ اگر سب کچھ اہل سیاست پر چھوڑا جاتا تو شاید ایسے نہ ہوتا۔موجودہ ٹیم ورک کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف سارا کریڈٹ خود لینے کی بجائے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،مسلح افواج اور دیگر اداروں اور اپنی ٹیم کو بھی کریڈٹ دیتے نظر آرہے ہیں اور ان کے اس عمل سے وہ خود بھی مضبوط اور محفوظ ہیں اور عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اب قومی سطح پر کام تقسیم ہے۔ کوئی عالمی محاذ پر سرگرم ہے تو کوئی خطے میں اپنا اثرورسوخ بروئے کار لا رہا ہے اور کسی نے اندرونی محاذ پر ذمہ داری لے رکھی ہے۔ البتہ آج کی صورتحال میں جس معاشی مضبوطی کی ضرورت ہے اس کے لیے مزیدتگ و دو کرنا ہو گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے بعد ملکی معیشت پر جن مضر اثرات کے امکانات تھے وہ اب تک بہت حد تک ٹلے رہے ہیں، خصوصاً پٹرولیم کا بحران ایک طوفان بنا نظر آ رہا تھا اور خدشہ تھا کہ اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی مگر حکومت نے اس طوفان کے آگے بند باندھ رکھا ہے اور وزیراعظم خود اسے دیکھ رہے ہیں۔ متعد بار حکومت کو پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ تجویز کیا گیا مگر حکومت نے یہ لوڈ خود برداشت کیا اورابھی تک حکومت اس پر سٹینڈ لیے ہوئے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس پر ثابت قدم رہتی ہے؟
گزشتہ برس پنجاب میں گندم کی قیمتوں کے بحران نے کسانوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ ان کی گندم اونے پونے بکنے کے باعث مالی بحران بڑھا مگر اس سال پنجاب حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گندم کے کاشتکاروں کومالی بوجھ سے بچانے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔30 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی ٹریڈنگ کمپنیوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ باردانہ کاشتکار کو فراہم کریں گی اور گندم کے کاشتکاروں کی آن لائن رجسٹریشن کے بعد ان کی گندم کی خریداری ممکن ہوگی۔ یہ فیصلہ خالصتا ًکسان کے مفاد میں نظر آتا ہے مگر اصل چیلنج اس پالیسی پر عمل درآمد کا ہے۔ اگر اسی سپرٹ سے کام ہوا تو اس سے کسان میں پیدا شدہ تشویش کا قلع قمع ہو سکے گا۔اس حوالہ سے متعلقہ محکمہ کو ذمہ داری لینا ہو گی۔