آزاد کشمیر انتخابی تیاریاں اور حکومتی ترجیحات
آزاد جموں و کشمیر میں جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں وہاں حکومت اپنے وزرا ، معاونین اور مشیروں کو سرکاری خزانے سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔
اس وقت وزیر اعظم کی کابینہ میں 18 وزرا اور دو مشیر شامل ہیں اور یہ سب فلیگ ہولڈرز جولائی میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز ہوں گے۔ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرول کی قلت کو کم کرنے کے لئے حکومت نے سرکاری دفاتر میں کام کے ایام کم کر کے ہفتے میں چار دن کر دیئے ہیں۔ ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی ادارے بھی بند کئے گئے لیکن آزاد جموں و کشمیر میں حکومت نے پٹرول؍ڈیزل سیلنگ پالیسی (نظرثانی شدہ) 2026 متعارف کرا دی ہے جس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور وزرا کو غیر محدود مقدار میں پٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور ہر وزیر کو دو سرکاری گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس نئی ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت ہر وزیر اپنی دونوں سرکاری گاڑیوں میں یومیہ 160 لٹر سے زائد پٹرول استعمال کر سکتا ہے۔ اگر پٹرول کی قیمت 321 روپے فی لٹر ہو تو ایک وزیر روزانہ 51,360 روپے مالیت کا پٹرول استعمال کرے گا، جو ماہانہ 15,40,800 روپے بنتا ہے۔ اس طرح وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور کابینہ کا ہر رکن عام انتخابات سے قبل تین ماہ (30 جون) کے دوران فی کس 46,22,400 روپے کا پٹرول اور ڈیزل سرکاری خزانے سے استعمال کرے گا۔
حکومت نے اپنے وزرا کو لامحدود پٹرول اور ڈیزل دینے کے ساتھ ساتھ افسر شاہی کے لئے بھی سرکاری پٹرول عام کر دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر سول سیکرٹریٹ کے افسران کے دفاتر سے گھر تک کا فاصلہ پانچ کلومیٹر سے بھی کم ہے اور اندرون میونسپل حدود فی کس سرکاری آفیسر کو ماہانہ 300لیٹر پٹرول اور ڈیزل دیا جاتا ہے جبکہ میونسپل حدود سے باہر ان سرکاری افسران کو ٹور کے لئے الگ سے پٹرول اور ڈیزل دیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے لئے ورک فرام ہوم اور لاک ڈاؤن تاکہ پٹرول کم خرچ ہو لیکن خود حکومتی وزرا ، مشیران ، معاونین اور اعلیٰ سرکاری افسران توانائی کے اس عالمی بحران کے دوران پٹرول لینے سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہونے کے بجائے الٹا نہ صرف مختص شدہ پٹرول کی مقدار میں اضافے کے ساتھ ساتھ لا محدود بھی کر دیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں ملک میں پٹرولیم بحران کی کوئی فکر نہیں، الٹا سر کار کی طرف سے پہلے سے جاری کردہ پٹرول کی مقدار میں اضافہ کردیا گیاہے۔ (ن) لیگ کے صدر نے کہا کہ حکومت سرکاری وسائل الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس مشق کو روکنے کے لئے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو اس کا نوٹس لینا چاہے۔
ادھر چاروں صوبوں میں مہاجرین کی بارہ نشستوں پر انتخابات اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کے سلسلے میں آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی ٰمغل اور ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے چیف الیکشن کمشنر پاکستان سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی اورکہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات کے سلسلے میں مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے حلقوں میں ووٹر لسٹوں کی تیاری، پولنگ سٹیشنوں کے قیام اور پولنگ عملے کی تعیناتی کے لیے تعاون درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن پاکستان نے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو اس سلسلے میں معاونت فراہم کی تھی اور امید ہے کہ اس بار بھی اسی طرح کا تعاون جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کا راولپنڈی دفتر اور الیکشن کمیشن پاکستان کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ انتظامی امور کو بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے اور مہاجرین کے حلقوں میں انتخابی عمل کو ہر ممکن سہولت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔اس موقع پر سکندر سلطان راجہ نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن کمیشن پاکستان، الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو مہاجرین کے حلقوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اسے قبل آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کی صدارت میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ،نمائندگان ،مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے ارکان اسمبلی و نمائندگان کے ساتھ مشاورت کا اجلاس جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
اس موقع پر آزاد جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یسین، مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس محمد انور، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹرمحمد مشتاق خان، محمد مدثر افضل اور چیئرمین صدائے حق سرفراز خان نے بھی شرکت کی۔مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور منظم بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں ووٹر لسٹوں کی بروقت تیاری، پولنگ سٹیشنوں کی سہولیات، انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد اور مہاجرین جموں و کشمیر کے ووٹروں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے کہا کہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔مئی میں الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا ،ارادہ یہی ہے کہ انتخابات پاک فوج کی نگرانی میں ہوں ،ووٹ کا تقدس ہر حال میں قائم رکھا جائے گا ،الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر آئندہ انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے تمام تر اقدامات کر رہا ہے۔