مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار
عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی، اس صورتحال میں پاکستان نے ایک متوازن، فعال اور مؤثر ثالث کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ یہ کردار محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، سفارتی رابطوں اور کثیرالجہتی مشاورت پر مبنی ہے۔مشرق وسطیٰ اس وقت شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کے اقدامات اور خلیجی ممالک کی سکیورٹی خدشات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر خطرات نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ایسے نازک وقت میں پاکستان کی سفارتکاری ایک توازن کا نمونہ بن کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو سعودی عرب، ایران، قطر، ترکیہ، چین اور امریکہ جیسے اہم عالمی و علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات رکھتے ہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ہے۔ یہ توازن پاکستان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نہ صرف مختلف فریقین کے درمیان بات چیت کو ممکن بنائے بلکہ اعتماد سازی کے عمل میں بھی کلیدی کردار ادا کرے۔
اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس اس پیش رفت کی واضح مثال ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا۔ یہ اجلاس محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں وسیع سفارتی رابطے جاری تھے جن میں دیگر اہم ممالک کے ساتھ ٹیلی فونک مشاورت بھی شامل تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ایک جامع حل کی تلاش میں ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سفارتی عمل کو ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے قبولیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کے لیے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بیان کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا درحقیقت اسی اعتماد کا اظہار ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی ، مذاکراتی اور ثالثی نشست سے چند گھنٹے قبل جب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ٹویٹ کیا کہ ایران نے پاکستان کے پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے تو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے اسے شیئر کرکے پیغام دیا کہ وہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطوں کی پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ عمل بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پاکستان پر اعتماد کا مظہر تھا۔
دوسری جانب پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر ایک پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ پانچ نکاتی امن منصوبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ چین کے دوران پاکستان اور چین نے مل کر تیار کیاجو اس بحران کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، علاقائی خودمختاری کا احترام، شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کا تحفظ اور بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ نکات نہ صرف بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔حالیہ پیش رفت میں ایک اور اہم پہلو امریکہ کے رویے میں تبدیلی ہے۔ اگرچہ ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا تاہم بعد ازاں ایران کے انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ڈیڈ لائن میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ بھی اس تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ، امریکہ کے بعض اتحادیوں کی جانب سے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار نے بھی صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان جیسے ملک کی ثالثی امریکہ کے لیے ایک قابلِ قبول راستہ فراہم کر سکتی ہے، پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کا ایک اہم پہلو اس کا محتاط اور ذمہ دارانہ بیانیہ بھی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی میں کمی کی بات کی بلکہ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے صرف بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ مثال کے طور پر آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس سے عالمی تجارت کے تسلسل میں بھی مدد ملی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا حتیٰ کہ امریکی قیادت نے بھی اس کی حمایت کا اظہار کیا۔اگرچہ ابھی تک مکمل جنگ بندی نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک سنجیدہ اور مربوط کوشش جاری ہے اور اب اس کے نتائج نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تک جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ڈائریکٹ مذاکراتی عمل یا بات چیت نہیں ہو رہی تھی مگر اب دونوں ممالک ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں براہ راست پیغام رسانی شروع ہو چکی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر انہیں مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہیں ہو گا تو وہ امریکہ اور اسرئیل کے خلاف جاری لڑائی ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران صرف جنگ بندی نہیں بلکہ اس جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ایران جنگ سے نکل جائے گا، جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل ضروری نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی رجیم کے ایرانی صدر نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کر دی ہے ، جنگ بندی کی درخواست پر تب غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پرمحفوظ ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سفارتکاری ایک امید کی کرن بن چکی ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار ہوگی بلکہ پاکستان کا عالمی وقار بھی مزید بلند ہوگا۔