بلوچستان،بدامنی کے سائے اور حکومتی دعوے
بلوچستان میں حالیہ دنوں پنجگور، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں خونریز واقعات نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
پنجگور میں مسلح حملوں، فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔پنجگور کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کی نوعیت اور شدت نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد منظم انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ گھروں پر حملے، املاک کو نذر آتش کرنا اور شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی ہے جس کا مقصد خوف پھیلانا اور حکومتی عملداری کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نہ صرف سکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنایا جائے بلکہ انٹیلی جنس نظام کو بھی مضبوط کیا جائے۔ریلوے ٹریک اور پلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات معاشی اور سفری نظام کو مفلوج کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ جعفر ایکسپریس کی سروس معطل ہونا اور دیگر ٹرینوں کو بھی روک دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد صوبے کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نقصان پہنچا کر عوامی مشکلات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ادھرصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایگل سکواڈ کے اہلکاروں کی شہادت ایک اور افسوسناک واقعہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے براہ راست خطرات کی زد میں ہیں۔ کانسٹیبل محمد نور اور محمد ایوب کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس فورس فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے مگر اس جنگ میں انہیں مزید وسائل، تربیت اور حکومتی سرپرستی کی اشد ضرورت ہے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا بیان حقائق کی عکاسی کرتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ اقدامات اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں؟
حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا انعقاد، سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے دعوے اپنی جگہ مگر زمینی حقائق تقاضا کرتے ہیں کہ ان اقدامات کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ عوام کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی تحفظ درکار ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے جامع اور طویل المدتی حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس میں انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانا، مقامی سطح پر کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینا، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا اور دہشت گردی کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لینا شامل ہونا چاہیے۔ صرف عسکری کارروائیاں مسئلے کا مکمل حل نہیں سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔مزید برآں، عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب تک شہری خود کو محفوظ محسوس نہیں کریں گے، تب تک ترقی اور استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
بلوچستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سکیورٹی، معاشی دباؤ اور پسماندگی جیسے دیرینہ مسائل شامل ہیں تاہم صوبائی حکومت نے جس سنجیدگی، عزم اور عملی اقدامات کے ساتھ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے وہ مثبت اور حوصلہ افزاہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اقدامات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت حالات سے باخبر ہے اور ان کے حل کے لیے مصروفِ عمل ہے۔برشور کو ضلع کا درجہ دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک دور رس ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے کے پسماندہ صوبے میں نئے اضلاع کا قیام عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی جانب عملی قدم ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے برشور میں 254 سکولوں کو فعال بنانے، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو ڈی ایچ کیو کا درجہ دینے، پولیس نظام کو وسعت دینے اور ٹیلی ہیلتھ کا نظام متعارف کرانے کے اعلانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت ترقیاتی اقدامات پر یقین رکھتی ہے ۔ ایک قابل افسر کو ڈپٹی کمشنر تعینات کرنا اور اسے عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنانے کی ہدایت دینا گڈ گورننس کی مثال ہے۔ یہ اقدام اس تاثر کو زائل کرتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں تعیناتیاں سفارش یا سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے چھ ماہ بعد سکولوں کی کارکردگی کا خود جائزہ لینے کا اعلان بھی ان کی سنجیدگی اور جوابدہی کے نظام کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ کا یہ مؤقف کہ وہ سوشل میڈیا مہمات یا دباؤ کی سیاست سے مرعوب نہیں ہوں گے مضبوط اور خوداعتماد قیادت کی علامت ہے۔ موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا کو اکثر دباؤ ڈالنے اور بیانیہ مسلط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہاں ایک منتخب نمائندے کا یہ کہنا کہ وہ صرف عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے، قابل تحسین ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ حکومت وقتی دباؤ کے بجائے طویل مدتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کا بیان حقیقت پسندانہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی لیکن اس مہمان نوازی کے جواب میں بدامنی اور تخریب کاری کے واقعات سامنے آئیں تو اس پر آواز اٹھانا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ مطالبہ کہ پاکستان میں رہنے والے تمام افراد قانون کا احترام کریں اور امن و امان کو خراب نہ کریں ایک جائز اور قومی مفاد پر مبنی مؤقف ہے۔
معاشی محاذ پر بھی صوبائی حکومت کی سنجیدگی قابل ذکر ہے۔ کفایت شعاری اقدامات، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال جیسے فیصلے مشکلات سے نکلنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور طویل مدتی معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔معیشت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کا اتفاق رائے سامنے آیا جو بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کے وسیع تر مفاد میں سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف جمہوری روایات کو مضبوط کرتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔حکومت کا یہ عزم کہ غریب طبقات کو ریلیف فراہم کیا جائے گا،اس مہنگائی کے دور میں انتہائی اہم ہے۔ اگر حکومت واقعی مؤثر انداز میں ان اقدامات پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے جو کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا مختلف علاقوں کا دورہ کرنا، عوامی اجتماعات سے خطاب کرنا اور براہ راست مسائل سننا ایک متحرک طرز حکمرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی وہ طرز عمل ہے جو عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے اور اعتماد کی فضا کو فروغ دیتا ہے۔اگر یہی رفتار برقرار رہی اور اعلانات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا گیا تو بلوچستان دیرینہ مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اس سفر کو مستقل مزاجی اور دیانتداری کے ساتھ جاری رکھا جائے۔