کابینہ میں توسیع،ضروری یا مجبوری؟

تحریر : عابد حمید


خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاملہ نظرآتا ہے جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرنی ہے، لیکن یہ اتنا بھی سادہ نہیں۔

 اگروزیراعلیٰ ابتدا ہی میں اس معاملے کو نمٹا لیتے تو شاید اتنی پیچیدگیاں نہ بنتیں، اب اگر وہ توسیع کرنا بھی چاہتے ہیں تو یہ معاملہ اتنا آسان نہیں رہا۔ پی ٹی آئی کی گزشتہ دو حکومتوں میں یہی صورتحال رہی کہ کابینہ میں شمولیت یا توسیع پر اندرونی اختلافات سامنے آئے اور پارٹی کے مختلف گروپ وزیراعلیٰ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے رہے جس کی وجہ سے سابق وزرائے اعلیٰ اور مختلف پارٹی رہنماؤں میں اختلافات کی خبریں بھی آتی رہیں۔سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے پرویز خٹک گروپ کے ساتھ اختلافات سب کے سامنے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی اسی صورتحال کا سامناکرناپڑا۔اب سہیل آفریدی کو بھی ایسی ہی صورتحال درپیش ہے ۔کابینہ میں اپنے پیاروں یا چہیتوں کو شامل کرنے کیلئے ان پر دباؤ ہے۔ ذرائع کے مطابق تین مختلف گروپ اپنے منظورِ نظر ایم پی ایز کو کابینہ کا حصہ بناناچاہتے ہیں۔ کچھ ان میں سہیل آفریدی کے اپنے قریبی ساتھی بھی ہیں ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ کابینہ میں توسیع تو چاہتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں نہیں۔ ایسے حالات میں جب پاکستان کی تین سرحدیں خطرات سے دوچارہیں اور کفایت شعاری کی باتیں کی جارہی ہیں کابینہ میں توسیع کرکے اخراجات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کو فی الحال التوا میں رکھتے ہوئے ان اختلافات اور دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں جو اُن پر مختلف اطراف سے ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوئی صورت نظرنہیں آرہی ،ان کی رہائی کیلئے کوئی بھی مؤثر کوشش نظرنہیں آرہی ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع کرکے نیا مسئلہ نہیں کھڑا کرنا چاہتے۔ تاہم جلد یا بدیر انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا اور مختلف وزارتوں کو چلانے کیلئے کابینہ میں توسیع کرنی ہی ہوگی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق تیمور سلیم جھگڑا کی کابینہ میں شمولیت کا معاملہ بھی حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی ان کی کابینہ میں شمولیت کے خلاف ہے۔کابینہ میں توسیع کے التوا کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ واضع لائحہ عمل اپنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں پارٹی کی جانب سے کوئی واضح سپورٹ نہیں مل رہی ۔اندرونی اختلافات بڑھ چکے ہیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوچکی ہیں مگر اس حوالے سے کسی قسم کا لائحہ عمل کبھی ایک گروپ کو ناگوار گزرتا ہے تو کبھی دوسرا گروپ اس پر اعتراض اٹھا دیتا ہے ۔پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف دیکھا جائے تو وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ صوبائی حکومت ہی کارکنوں کو اکٹھا کرتی ہے اور اس کیلئے وسائل بھی فراہم کرتی ہے۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے متعدد مظاہرے اور دھرنے دیئے ،اگرچہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے بہرحال یہ کریڈٹ ان کو جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف ہزاروں لوگوں کو جمع کیا بلکہ اس کیلئے وسائل بھی مہیا کئے ۔اگرچہ یہ دھرنے اور مظاہرے ناکامی سے دوچار ہوئے لیکن وفاق پردباؤ ضرور پڑا۔اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت اس سطح پر کوئی بھی سرگرمی دکھانے میں ناکام نظرآرہی ہیں ۔سہیل آفریدی سڑکوں سے زیادہ دیگر فورمز پر آواز اٹھانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔

ان کی جانب سے وفاق کی طرف سے بلائے گئے اجلاسوں میں شرکت کو بھی ایک اہم قدم قراردیاجارہا ہے۔ ماضی میں ایسے کسی بھی اجلاس میں شرکت پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو تنقید کانشانہ بنایاجاتا تھا لیکن سہیل آفریدی پر پارٹی کے اندر اور باہر سے ایسا کوئی دباؤ نظرنہیں آرہا ۔انہوں نے گزشتہ روزبھی  صدر مملکت کی زیرصدارت اجلا س میں شرکت کی جس میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔اس اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے صوبے کی نمائندگی کی اور تجاویز پیش کیں ۔یہ خوش آئندہ امر ہے اور اس سلسلے کو جاری رہنا چاہئے تاکہ صوبے کے مفادات کا بہتر طریقے سے تحفظ کیا جاسکے۔ وفاق کو بھی ماحول کو خوشگوار بنانے اور یہ تسلسل جاری رکھنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا، جن میں بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہل خانہ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات بھی شامل ہے۔ یہ ملاقات مشروط طورپر بھی ہوسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ایسے کسی بھی بیان سے گریز کرنے کی پالیسی پر زور دے رہے ہیں جو حکومت یا اس کی پالیسی کے خلاف ہو ۔دیکھا جائے تو مطالبات دونوں طرف سے جائز ہیں ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینا آئینی اور قانونی حق ہے اسی طرح حکومت کی جانب سے یہ مطالبہ کہ ملاقات کے بعد سرکار کے خلاف کوئی بیان نہ دیاجائے یہ بھی بالکل جائز مطالبہ ہے ۔موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اب معاملات کو کسی ایک طرف کا رخ دیاجائے ۔

اس سے قبل ہماری سرحدوں کو صرف بھارت سے خطرہ تھا لیکن اب افغانستان کے ساتھ بھی ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں، دوسری جانب ایران امریکہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات بھی پاکستان پر ہوں گے۔ ایسے حالات میں ہم کسی بھی اندرونی خلفشار کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پی ٹی آئی اور ریاست کے مابین اس تناؤ کوختم کرنے کیلئے اب سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ ایسے بیانات اور حالات سے گریز کرنا ہوگا جس سے مزید افراتفری پھیلے ۔موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز کرنا ہوگا۔اگرچہ اس کے امکانات کم ہیں، لیکن اس حوالے سے صرف بیانات دینے سے بھی بے چینی پھیلتی ہے ۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم کو اب اسلام آباد کے بجائے پشاور کو زیادہ وقت دینا چاہیے۔یہ صوبہ اس وقت ان کی توجہ کامرکز ہوناچاہئے۔ جو وقت سہیل آفریدی اسلام آباد میں گزار رہے ہیں وہ وقت انہیں پشاور میں گزارنا چاہئے ۔ خیبرپختونخوا کوبیوروکریسی کے رحم وکرم پرچھوڑدیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہاں بیوروکریسی مضبوط ہوئی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مبینہ مالی بے قاعدگیوں کی خبریں بھی  سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ  کو اس طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور گورننس بہتر بنانے کیلئے زیادہ وقت اسلام آباد کے بجائے پشاور میں گزارنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔

بحران سنگین،رویے غیر سنجیدہ

ایران امریکہ جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ حکومت نے معاشی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا، تعلیمی اداروں اوردفاتر وغیرہ کے لیے نئے اوقات کار متعین کیے گئے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، بازاروں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔

بلوچستان،بدامنی کے سائے اور حکومتی دعوے

بلوچستان میں حالیہ دنوں پنجگور، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں خونریز واقعات نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابی تیاریاں اور حکومتی ترجیحات

آزاد جموں و کشمیر میں جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں وہاں حکومت اپنے وزرا ، معاونین اور مشیروں کو سرکاری خزانے سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔

صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

آرگنائزیشن کے سنہری اصول