بحران سنگین،رویے غیر سنجیدہ

تحریر : طلحہ ہاشمی


ایران امریکہ جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ حکومت نے معاشی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا، تعلیمی اداروں اوردفاتر وغیرہ کے لیے نئے اوقات کار متعین کیے گئے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، بازاروں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔

 حکومتی اقدامات کا مقصد پٹرول اور ڈیزل کی بچت کرنا تھا، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ عوام کو حالات کی سنگینی کا شاید زرا بھی احساس نہیں۔ انہوں نے ان چھٹیوں کو تفریح کا موقع بنالیا۔ لوگوں کی اکثریت دوسرے شہروں کی طرف گھومنے پھرنے نکل کھڑی ہوئی،یوں تیل کی کھپت میں 25فیصد اضافہ ہوگیا۔ تاجروں اور دکانداروں نے دکانیں جلد کھولنے اور جلدبند کرنے پر شور شرابا شروع کردیا، جواز یہ پیش کیا جارہا ہے کہ کاروبار تو پہلے ہی نہیں ہے اگر اوقات کار بھی لاگو کردیے گئے تو مزید نقصان ہوگا۔ کورونا لاک ڈاؤن میں حکومت نے اوقات کار کا نفاذ کیا اور عمل بھی کرایا، گاہک کو بھی پتا تھا کہ بازار جلد بند ہوگا اس لیے جلد خریداری کرلیں۔ اگر حکومت اب بھی اوقات کار نافذ کرنے کا سوچ رہی تھی تو ظاہر ہے بازار جلد کھلے گا تو گاہک بھی جلدی آئے گا، اس صورت میں بجلی کی مد میں بھی دکانداروں کو خاصی بچت ہوگی۔ دنیا بھر میں دکانیں اور بازار جلد کھلنے اور سرشام بند کرنے کا رواج ہے۔ دنیا بھر میں حکومت کے دیے گئے وقت پر کام ہوتا ہے، یہ صرف پاکستان ہی ہے جہاں لوگ دکان جلد کھولنے کی بات پر احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ عوام کو بھی صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔

ادھر سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے لیے اقدامات کرنا شروع کردیے ہیں، سرکاری گاڑیوں کی 60فیصد تعداد کو کھڑا کردیا گیا ہے،اورپٹرول بچانے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد سینئر وزیر شرجیل میمن نے میڈیا کو بریفنگ دی اور کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تدریسی عمل کی بحالی کا بھی اعلان کردیا، ساتھ ہی ایم کیو ایم پر بھی تنقید کی کہ ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کے لیے اختیارات کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن بلدیاتی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی۔نیوز کانفرنس میں صوبائی وزیرداخلہ ضیا الحسن لنجار بھی موجود تھے جنہوں نے ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے بریف کیا اور بتایا کہ اب تک 400کے قریب ڈاکووں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، کچے کے وسیع علاقے کو ڈاکوؤں سے پاک کردیا گیا ہے، سکھر سے بہاولپور کے سفر کو محفوظ بنادیا گیا ہے، گاڑیوں کے لیے اب ماضی کے برعکس کوئی قافلہ نہیں چلتا اور امن و شانتی ہے۔ انہوں نے دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ میں ام رباب چانڈیو کے والد، چچا اور داداکے قتل کیس کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ فیصلہ بہت بڑا تھا، کوشش تھی کہ کسی بھی فریق کو کوئی نقصان نہ پہنچے، انہوں نے فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی کہا۔ اس کیس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ میہڑ میں 17جنوری 2018ء کو فائرنگ کرکے تین افراد کو قتل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دو ارکان صوبائی اسمبلی اور تھانیدار سمیت 8افراد کو کیس میں نامزد کیا گیا، تہرے قتل کے ہائی پروفائل کیس کی 450کے قریب سماعتیں ہوئیں، یہ کیس انسداد دہشت گردی عدالتوں سکھر،نوشہرو فیروز اورمیر پور ماتھیلو میں بھی چلا، لاڑکانہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی کچھ عرصہ سماعتیں ہوئیں۔

آخر کار دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے 150سماعتوں کے بعد ناکافی شواہد پر تمام ملزمان کو بری کردیا۔اس فیصلے پر شہر میں تناؤ کا یہ عالم تھا کہ دادو میں دفعہ 144نافذ تھی اور عدالت کے اطراف پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ام رباب چانڈیو نے مذکورہ فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیصلہ آنے کے بعد ملزمان کے ساتھیوں اور رشتہ داروں نے ہوائی فائرنگ کی، میڈیا پر چلنے والی فوٹیج میں ہتھیار اور فائرنگ میں ملوث افراد کے چہرے صاف نظر آرہے تھے۔ اب حکومت کی طرف سے مقدمہ درج کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کو میڈیا میں بڑی کوریج دی گئی، ملک بھرمیں اس خبر کو بڑے پیمانے پر دیکھا گیا، سوشل میڈیا پر عوام نے اس فیصلے کو انصاف کی ہار اور قانون سے کھلواڑ قرار دیا۔ لوگوں نے عدالتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسی کیس کا فیصلہ آنے میں برسوں لگ جاتے ہیں اور فیصلہ آبھی جائے تو طاقتور ملزم کو بریت مل جاتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اس فیصلے پر کہا کہ پھر ثابت ہوگیا کہ ملک کا نظام انصاف طاقتور جاگیرداروں کے زیر اثر ہے، انصاف کو ایک بار پھر شکست ہوئی وڈیرہ شاہی کو فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا کہ کیا ام رباب چانڈیو سندھ کی بیٹی نہیں؟کیا طاقتور اور جاگیردار ہی آپ کے چہیتے ہیں؟ سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ام رباب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے بھی سرعام فائرنگ اور لاقانونیت کی مذمت کی اور کہا کہ صوبے کو وڈیروں اور سرداروں کی جاگیر بنادیا گیا ہے، پولیس موجود تھی لیکن خاموش تماشائی بنی رہی، لگتا ہے جنگل کا قانون نافذ ہے۔

ادھرکراچی سے ایک افسوسناک  اور حیران کن خبر یہ ہے کہ چھینی گئی اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی واپسی کے لیے شہریوں سے رقم طلب کی جارہی ہے۔ پورٹس کے مطابق موٹرسائیکل کے مالک کو فون کرکے کہا جاتا ہے کہ آپ کی چوری شدہ موٹرسائیکل ہم نے خرید لی ہے اور اگر واپس چاہیے تو اتنی رقم ادا کریں اور اپنی موٹرسائیکل لے جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔

کابینہ میں توسیع،ضروری یا مجبوری؟

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاملہ نظرآتا ہے جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرنی ہے، لیکن یہ اتنا بھی سادہ نہیں۔

بلوچستان،بدامنی کے سائے اور حکومتی دعوے

بلوچستان میں حالیہ دنوں پنجگور، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں خونریز واقعات نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابی تیاریاں اور حکومتی ترجیحات

آزاد جموں و کشمیر میں جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں وہاں حکومت اپنے وزرا ، معاونین اور مشیروں کو سرکاری خزانے سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔

صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

آرگنائزیشن کے سنہری اصول