مسائل اور ان کا حل
عصرسے پہلے کی 4 سنتیں ادا کرنے کا طریقہ سوال :نماز عصر سے پہلے کی 4 سنتوں کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟یعنی دوسری رکعت میں جب بیٹھا جاتا ہے تو کیا التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھا جائے گا؟ (اکبر علی، بہاولپور)
جواب :عصرسے پہلے کی 4 سنتیں غیر موکدہ ہیں، انہیں پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعا بھی پڑھنی چاہئے اور تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہونے کے بعد ثناء اور تعوذ و تسمیہ پڑھنا بھی افضل ہے۔ تاہم اگر کوئی اس طرح نہ پڑھے یعنی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھے بغیر تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے تو یہ بھی جائز ہے ۔
بغیر گواہوں کے نکاح
سوال :کیا بغیر گواہوں کے نکاح ہوجاتا ہے ؟اگر کسی مجلس میں دو گواہ موجود نہ ہوں تو کیا میاں بیوی کے ایجاب وقبول سے نکاح شرعاً درست ہوجاتا ہے ؟(گل محمد خان، اسلام آباد)
جواب :نکاح درست ہونے کیلئے باقاعدہ دو گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے۔ اگر نکاح کی مجلس میں دو گواہ موجود نہیںہونگے تو نکاح نہیں ہوگا ۔(وفی البحر الرائق، ج3، ص88)
چچا زاد وماموں زاد سے نکاح کا معاملہ
سوال : اپنے چچا،ماموں یا خالہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (قاسم علی، لاہور)
جواب: چچا،ماموں یا خالہ کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز ہے ،بشرطیکہ کوئی اور سبب حرمت مثلاً رضاعت(دودھ کا رشتہ ) یا مصاہرت نہ پایا جائے۔
قسم کا کفارہ
سوال:ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے دوست سے بات نہیں کرے گا مگر اس نے دوست سے بات کرلی اور قسم توڑ دی۔ براہ کرم یہ بتائیے کہ قسم کا کیا کفارہ ہوتا ہے؟(طاہرمحمود ،اسلام آباد)
جواب:مذکورہ صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔ اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ 10مسکینوں کو پیٹ بھر کے صبح شام کھانا کھلایاجائے۔ یا 10مسکینوں میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو (احتیاط 2کلو گندم یا گندم کا خالص آٹا یا اس کی رقم دے دی جائے) یا 10 مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کپڑا جوڑا دے دیاجائے۔ اور اگر قسم کھانے والا شخص ان میں سے کسی کام کی اطاعت نہیں رکھتا تو پھر قسم کی کفارے کی نیت سے مسلسل 3روز تک روزے رکھے۔(سورۃ المائدہ:89)
مخصوص ایام میں آیت کریمہ پڑھنا
سوال: کیا خواتین مخصوص ایام میں آیت کریمہ وظیفے کی نیت سے پڑھ سکتی ہیں؟ (طاہرہ بتول ،کراچی)
جواب: آیت کریمہ دُعا اور حمدو ثناء پر مشتمل ہے لہٰذا اسے مخصوص ایام میں وظیفے اور ذکر کی نیت سے خواتین پڑھ سکتی ہیں تاہم تلاوت کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں۔
بیوی کو جیب خرچ دینے کا معاملہ
سوال:میرے شوہر میرے نان و نفقہ یعنی کھانے پینے اور کپڑوں وغیرہ کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن الگ سے جیب خرچ باقاعدگی سے نہیں دیتے۔ پوچھنا یہ ہے کہ نان و نفقہ میں جیب خرچ بھی شامل ہے یا نہیں۔ کیا بیوی اپنے شوہر کو جیب خرچ دینے پر شرعاً مجبور کرسکتی ہے؟ (بمعرفت ابراہیم جوہری، کوئٹہ)
جواب:شوہر پر اپنی مالی استطاعت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ(کھانا ،پینا، کپڑے اور رہائش) دینا واجب ہے (سورہ بقرہ: 233) اور نفقہ کے علاوہ علیحدہ سے جیب خرچ کا واجب اور ضروری ہونا کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ اس لئے بیوی کا اپنے شوہر کو نفقہ کے علاوہ علیحدہ سے جیب خرچ دینے پر مجبور کرناتو درست نہیں ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات چونکہ محبت اور شفقت پر مبنی ہوتے ہیں، اس لئے شوہر کیلئے بیوی کو نفقہ کے علاوہ کچھ اضافی رقم حسب توفیق اور عرف و دستور کے مطابق بطور جیب خرچ دے دینا بہتر و مناسب ہے، تاکہ وہ بوقت ضرورت یا شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی ضرورت کو پورا کرسکے۔ البتہ بیوی کو بھی شوہر سے اس کی استطاعت سے زیادہ نان و نفقہ کے تقاضے یا غیر ضرورتی مطالبات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔