مسجد میں حاضری کا سلیقہ

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


سنت یہی ہے کہ گھر سے جب چلنے لگے تو پہلے وضو کرلیا جائے پیدل مسجد آنا باعثِ کفارۂ گناہ ہے،وقت ہو تو مسجد آکر پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں

مسجد اسلام میں نہایت مقدس اور محترم مقام رکھتی ہے۔ یہ وہ بابرکت جگہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر عبادت، دعا اور ذکر  میں مشغول ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں مساجد کو اللہ تعالیٰ کے گھر قرار دیا گیا ہے، جن کی تعظیم اور احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مسجد میں داخل ہونے، وہاں بیٹھنے، عبادت کرنے اور باہر نکلنے تک کیلئے مخصوص آداب مقرر کیے ہیں، تاکہ اس کا تقدس برقرار رہے۔آج کی اس تحریر میں مسجد کے کچھ آداب پیش خدمت ہیں۔

نیت پاک اور بخیر ہو

ہر چیز کی بنیادی اینٹ نیت ہے۔ ’’اِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِیَّاتِ‘‘کی حدیث جس پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ مسجد کا ارادہ کرتے ہوئے نیت پاک اور دل صاف ہو، قلب دنیاوی گندگیوں سے پاک ہو، نام و نمود، ریا وسمعہ کا چور دل میں چھپانہ ہو، بلکہ دل محبت مولیٰ سے سر شار اور خشیت الٰہی سے معمور ہو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ باعث ثواب اس وقت ہے جب اچھی طرح وضو کرے ، پھر مسجد کیلئے نکلے اور فقط نماز ہی کی نیت سے نکل رہا ہو(صحیح بخاری)۔

باوضو آئے 

گھر سے جب چلنے لگے تو پہلے وضو کرلیا جائے ، سنت طریقہ یہی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے جہاں جماعت کی نماز میں ثواب کی زیادتی کا ذکر فرمایا ہے ، وہاں یہ تصریح کی ہے کہ ثواب کی زیادتی اس وجہ سے ہے کہ وضو کیا اور اس کے بعد خالص نیت سے مسجد روانہ ہوا۔ انھی آداب کے ساتھ چلنے پر درجہ کی بلندی اور گناہ کی معافی کی بشارت ہے ۔ حدیث میں ہے کہ مرد کی باجماعت نماز اس کی اس نماز سے جو گھر اور بازار میں پڑھی جائے ، پچیس گنا بہتر ہے اور وہ زیادتی اس وجہ سے ہے کہ اس نے وضو اس کے حقوق کے ساتھ ادا کیا اور محض نماز ہی کی نیت سے نکلا، اس سلسلے میں جو قدم اٹھائے گا اس کے بدلے میں ایک درجہ بلند ہوگا اور اس کا ایک گناہ معاف ہو گا (بخاری)۔

اچھی ہیئت میں آئے 

روانہ ہوتے ہوئے ایک نظر اپنی ظاہری ہیئت پر بھی ڈال لی جائے ، اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ ہم ایک عظیم المرتبت دربار کو جا رہے ہیں، اتنا عظیم المرتبت کہ اسے دنیا کی جنت سے تعبیر کیا جائے تو مبالغہ نہیں،تو ادب یہ بھی ہے کہ ظاہری ہیئت عمدہ سے عمدہ ہو ۔

باوقار واطمینان آئے 

مسجد آتے ہوئے یہ خیال رہے کہ ہم  عبادت کیلئے اللہ کے گھر کی طرف جا رہے ہیں، اس لیے رفتار میں پورا وقار، اعتدال اور سکینت نمایاں ہو۔ ایسی رفتار ہرگز نہ اختیار کی جائے جس سے دیکھنے والا ہلکا پن محسوس کرے اور عام نظروں میں مضحکہ خیزی کی حد تک پہنچ جائے۔  راستہ میں چلتے ہوئے لہو ولعب، ہنسی مذاق اور ناجائز چیزوں پر نظر سے پرہیز کیا جائے۔ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان آیا ہے :تم جب اقامت سنو تو نماز کیلئے اس طرح چلو کہ تم پر سکینت ووقار طاری ہو، دوڑو مت ،نماز کیلئے اس طرح آؤ کہ تم پر وقار و اطمینان ہو، جو پالو پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پورا کرلو، جب تم میں  کوئی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو ہ حکماً نماز ہی میں ہوتا ہے (صحیح مسلم)۔

پیدل آئے 

مسجد پیدل چل کر آنا چاہیے ، بغیر عذرِ شرعی سواری سے آنا اچھا نہیں، تاکہ ہر قدم کا اجر نامۂ اعمال میں لکھا جائے۔ پیدل مسجد آنا باعث کفارۂ گناہ ہے ، جیسا کہ ایک لمبی حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے کہ جس میں آ نحضرت ﷺنے اپنا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت غنودگی کی حالت میں میسر آئی، رب العزت نے مجھ سے ملائے اعلیٰ کے بارے میں سوال کیا، میں نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، آخر کار اس نے اپنا دستِ قدرت مجھ پر ڈالا جس کا اثر میں نے محسوس کیا۔ اس کے بعد رب العزت کی طرف سے پھر وہی سوال ہوا، اب میں نے کہا کہ فرشتے کفاراتِ گناہ میں جھگڑ رہے ہیں، یعنی کونسے ایسے عمل ہیں جو گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتے ہیں، میں نے تفصیلی جواب دیا۔ اسی حدیث میں پہلا جملہ یہ ہے جماعت کیلئے پاؤں پاؤں چلنا(باعثِ کفارۂ گناہ ہے )۔

پہلے دایاں پیر داخل کرے 

راستہ اس طرح طے کر کے جب مسجد کے دروازے پر پہنچ جائیںتو داخل ہوتے ہوئے مسجد میں پہلا دایاں پیر رکھیں، پھر بایاں۔ فارغ ہو کر جب نکلنے لگیں تو پہلے بایاں پیر نکالیں پھر دایاں، مگر جوتا پہلے داہنے ہی پیر میں پہنیں کہ طریقۂ مسنونہ یہی ہے ۔صحابۂ کرام ؓ کا اسی پر عمل رہا اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نسبتاً دائیں کو بائیں پر فضیلت ہے ۔

دعا پڑھی جائے 

دایاں پاؤں رکھتے ہوئے یہ دعا پڑھی جائے :اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ جب نکلیں تو بایاں پاؤں پہلے نکالیں، اور یہ دعا پڑھیں: اَللّٰہُمَّ اِنِیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔اے میرے اللہ! تجھ سے تیرے فضل وبخشش کی درخواست کرتا ہوں۔

تحیۃ المسجد

وقت ہو تو پہلے مسجد آکر دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں، البتہ اوقاتِ مکروہ میں سے کوئی وقت نہ ہو، جیسے آفتاب کے طلوع وغروب کا وقت یا زوال کا۔ حضرت کعب بن مالکؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایاتم میں کوئی مسجد میں جب داخل ہو تو اس کو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے (بخاری)۔اگر کوئی اوقاتِ مکروہہ میں یا صبح ومغرب میں تحیۃ المسجد کی تلافی کرنا چاہے ، تو اس کو چاہیے کہ قبلہ رو بیٹھ کر ایک ساعت ذکر وتسبیح وتہلیل میں گزارے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آداب مسجد کے سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے(آمین)

٭٭٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

باہمی معاملات کے اسلامی اُصول

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘(القرآن) قرآن وسنت میں متنازع معاہدوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘( شعب الایمان ) ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘(صحیح بخاری)

شکرِ نعمت، رحمتِ الٰہی کا سبب

’’ تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘(البقرہ)

مسائل اور ان کا حل

عصرسے پہلے کی 4 سنتیں ادا کرنے کا طریقہ سوال :نماز عصر سے پہلے کی 4 سنتوں کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟یعنی دوسری رکعت میں جب بیٹھا جاتا ہے تو کیا التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھا جائے گا؟ (اکبر علی، بہاولپور)

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔

بحران سنگین،رویے غیر سنجیدہ

ایران امریکہ جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ حکومت نے معاشی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا، تعلیمی اداروں اوردفاتر وغیرہ کے لیے نئے اوقات کار متعین کیے گئے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، بازاروں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔