شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

تحریر : ملک احسن اعوان( راولپنڈی )


بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

 زمانہ قدیم میں ایک عربی قبیلہ کو بر بر کہا جاتا تھا جو دریائے نیل کے دونوں کناروں پر آباد تھا۔ بربروں کا یہ علاقہ ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔ ان کی خصلت عربوں سے ملتی جلتی ہے اور یہ بہت بہادر اور جفاکش قوم ہے۔ 

بربر تین مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان پر رومی تہذیب کی چھاپ بھی لگائی گئی، تاہم وہ نیم وحشی اور اکھڑ مزاج کے حامل رہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے اواخر تک پورا بربر علاقہ آغوش ِ اسلام میں آگیا۔ اُنھوں نے جوق در جوق اسلام قبول کیا اور پھر بڑی تیزی سے اس کی تبلیغ کی۔ ان کے دو حکمران خاندانوں ، آل مرابطون اور الموحدون نے شمالی افریقا پر اپنی حکومت قائم کی۔ بربروں کو صحیح معنوں میں عبداللہ بن یاسین المرابطی نے اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بہت جلد ان حکمرانوں کی فتوحات دیگر علاقوں پر بھی محیط ہو گئیں۔ 

ابوبکر بن عمر نے شہر مراکش کی بنیاد رکھی۔ 1086ء کے بعد یوسف بن تاشفین نے عیسائیوں کو عبرت ناک شکست دے کر پورے اسلامی اندلس پر قبضہ کرلیا۔ یہ حکمران آل مرابطون کہلائے۔ ان کے خلاف ردعمل کے طور پر دیگر بربر عبد المومن کی قیادت میں اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اُنھوں نے 1147 ء میں آل مرابطون کو مغلوب کر کے الموحدون کے نام سے سلطنت قائم کر لی۔ تھوڑے ہی عرصے بعد بربروں میں پھوٹ پڑ گئی اور صرف ایک صدی میں یہ خاندان بھی مٹ گیا ، نیز مراکش، تلمسان اور بجایہ وغیرہ میں الگ الگ حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پندرہویں اور سولہویں صدی کے آتے آتے کئی بربر ایک بار پھر اپنے نیم صحرائی اور نیم وحشی تمدن کی طرف لوٹ گئے۔ 

آج کل بربر قبائل لیبیا، تیونس، الجزائر، صحارا، مراکش اور موریطانیہ میں آباد ہیں۔ لیبیا میں یہ کل آبادی کا چوبیس فیصد ہیں اور ان کی زبان عربی ہے۔ تیونس کے بربر قبائلی ابھی تک اپنی قدیم زبان بولتے ہیں۔ یہ کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ مراکش میں کل آباد کا دس سے پندرہ فیصد کے علاوہ باقی تمام بربر ہیں جن میں سے نصف ابھی تک قدیم زبان اور تہذیب کے ساتھ زندہ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا

امریکہ اور ایران میں سیز فائر تو جاری ہے مگر غیر یقینی صورتحال دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ بندی کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچنے نہیں دیئے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخاب، تاخیر کیوں ؟

سلگتے عوامی مسائل اور مہنگائی کے رجحان پر جوابدہ کون؟

کراچی کیوں پیچھے رہ گیا؟

صدر مملکت آصف علی زرداری کے دورۂ چین میں متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، ان میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

گڈ گورننس خواب بن گئی!

پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ورکرز صوبائی حکومت کو الزامات دے رہے ہیں۔ ایک طرف سلمان اکرم راجہ ہدف تنقید ہیں تودوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ورکروں کی تنقید کے نشانے پر ہیں۔

تجارتی راہداریوں سے جڑی امیدیں

بلوچستان ایک بار پھر قومی ترقی کے بیانیے کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اب معاشی استحکام، علاقائی رابطوں اور عوامی شمولیت کو زمینی حقیقت میں بدلنے کے لیے پر عزم ہے۔

آزاد کشمیر، نئی انتخابی صف بندیاں

آزاد جموں و کشمیر میں اس سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک طرف پیپلزپارٹی عوامی جلسے کر رہی ہے تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن) ہم خیال مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں مصروف ہے۔