نیا سال ، نئے امتحانات:2026ء میں پاکستان کرکٹ کو درپیش چیلنجز
گرین شرٹس کی سب سے بڑی آزمائش فروری اور مارچ میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔ بدلتا ہوا ٹیم کمبی نیشن، نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت، تجربہ کار ستاروں پر بڑھتا دباؤ اور بین الاقوامی کرکٹ کے سخت مقابلے، یہ سب عوامل قومی ٹیم کیلئے نئے چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ شائقین کی توقعات حسبِ روایت بلند ہیں، جبکہ سلیکشن، فٹنس اور مستقل کارکردگی جیسے مسائل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ ایسے میں نیا سال پاکستانی کرکٹ کیلئے محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی، نئی حکمتِ عملی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا اہم موقع بھی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو نئے سال میں جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑی آزمائش فروری اور مارچ میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔ جس میں گرین شرٹس کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے۔سال 2026 کا آغاز آئی سی سی انڈر 19 مینز ورلڈ کپ سے ہوگا، جو زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔7 فروری سے 8 مارچ (ایک ماہ) تک جاری رہنے والا یہ ٹورنامنٹ دفاعی چیمپئن بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔پہلی بار ٹی 20 ورلڈ کپ میں 20 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ کی دو ٹاپ ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔ اگر وہ ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا تو وہ میچز بھی بشمول سیمی فائنل، فائنل کولمبو میں ہی کھیلے جائیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے ابتدائی اسکواڈ کے نام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو بھجوا دیئے ہیں۔ ابتدائی ناموں کی ڈیڈ لائن کے مطابق پی سی بی نے ابتدائی 15 رکنی اسکواڈ کے ساتھ ریزرو کھلاڑیوں کے نام بھی آئی سی سی کو بھجوائے ہیں۔ پی سی بی 31 جنوری سے پہلے تک ناموں میں تبدیلی آئی سی سی کی اجازت کے بغیر کر سکتا ہے اور اس کے بعد ٹیم میں تبدیلی کیلئے آئی سی سی ٹیکنیکل کمیٹی سے اجازت ضروری ہو گی۔ ابتدائی ناموں میں دورہ سری لنکا کے کھلاڑیوں کے ساتھ بابر اعظم، شاہین آفریدی اور حارث رؤف کے نام بھی شامل ہیں۔ دورہ سری لنکا کے کیلئے ٹی ٹونٹی سکواڈ میں کپتان سلمان علی آغا، عبدالصمد، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع اور محمد نواز شامل ہیں۔ محمد سلمان مرزا، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، عثمان خان اور عثمان طارق بھی سکواڈ کا حصہ ہیں۔پی سی بی سری لنکا کے خلاف سیریز کے بعد ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے ساتھ سیریز کے اسکواڈ کے اعلان کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ بورڈ کا سری لنکا کے خلاف سیریز میں کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھنے کا ارادہ ہے۔
2025ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کوئی بڑا ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی لیکن یہ سال اس حوالے سے خوش آئند رہا کہ پاکستان نے 29 سال بعد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کر کے بڑا اعزاز حاصل کیا۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے ساتھ تین ملکی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کی کامیاب میزبانی کی۔ زمبابوے اور سری لنکا کے ساتھ تین ملکی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز سے پاکستان کی میزبانی کی صلاحیت مزید ثابت ہوئی۔ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقا اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتیں جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف 34سال بعد ون ڈے سیریز میں شکست ہوئی۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز برابر کیں۔ پانچ میں سے دو ٹیسٹ جیتے اور تین میں شکست ہوئی۔
گزرے برس میں 2025ء میں پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر56 انٹر نیشنل میچ کھیلے اور سلمان علی آغا واحد کرکٹر تھے جنہوں نے تینوں فارمیٹس میں تمام میچز کھیلے، پاکستان نے 56 بین الاقوامی میچز میں سے 30 میں کامیابی حاصل کی۔ ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے 2025ء میں 34 میچ کھیلے اور 21 میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم رواں ماہ سری لنکا کا دورہ کرے گی اور اس دوران دونوں ٹیموں کے مابین 3ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے ۔ یہ ٹی 20 سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے سودمند ثابت ہو گی۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی میرٹ پر حوصلہ افزائی اور سپورٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ 2026ء میں اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن، سہولتوں میں بہتری اور نئے وینیوز کی شمولیت ترجیح ہو گی۔نئے سال میں پاکستان کرکٹ کو مزید مستحکم، منظم اور پائیدار بنانے پر مکمل توجہ دی جائے گی۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان مضبوط ربط قائم کر کے معیار کو اور زیادہ بلند کیا جائے گا۔ نئے سال میں قومی ٹیم کیلئے مزید کامیابیوں اور ایونٹس میں بہتر کارکردگی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ انشا اللہ 2026ء پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر مضبوط اور باوقار مقام دلانے کا سال ہوگا۔