بلدیاتی انتخابات پیشرفت ہو پائے گی؟ پی ٹی آئی کا سیاسی کردار بحال ہوگا؟
صوبائی دارالحکومت لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کا مقصد توجماعتی عہد یداروں، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کو متحرک کرنا اور سٹریٹ موومنٹ کی فضا ہموار کرنا تھا۔ وہ اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب رہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبے میں آکر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہونااچھی روایت نہیں۔
اس سے تنائو اور ٹکرائو بڑھے گا۔ اس دورہ کی ٹائمنگ کو دیکھا جائے تو ایک جانب اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کا اعلان کر رہی ہے اور دوسری جانب پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ پنجاب میں مزاحمتی بیانیہ لیکر پہنچے ہوئے تھے۔کسی صوبہ کے وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبہ میں جا کر اپنی جماعت کے لوگوں کو احتجاجی و مزاحمتی سرگرمیوں پر اکسانا مناسب نہیں۔اس رجحان کابروقت نوٹس نہیں لیا جاتا تو اس کے اثرات ملکی سطح پر بھی ہو سکتے۔ جہاں تک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران تحریک انصاف کو فعال کرنے کی بات ہے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ پی ٹی آئی پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہے؟ فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اس لئے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس مؤثر لیڈر شپ نہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اصل طاقت اس کی حکومت ہے اور اسی حکومت کے بل پر اتنا سیاسی کردار نظر آتا ہے۔
وہاں جلسے جلوس اور احتجاج آسان ہے مگر پنجاب میں حکومت کام کرتی نظر آتی ہے اوروزیراعلیٰ مریم نواز سیاسی محاذ پر متحرک ہونے کی بجائے یہ ضروری سمجھتی ہیں کہ لوگوں کو ڈیلیور کیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ پنجاب کے معاملات پر اُن کی گرفت مضبوط ہے اور انتظامی مشینری کو سیاسی مقاصد کیلئے بروئے کار لانے کی بجائے عوامی سطح پر ڈیلیوری کیلئے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی مشینری کام کرتی اور حکومت کو نتائج فراہم کرتی نظر آتی ہے۔صاف ستھرا پنجاب، امن و امان کی صورتحال اورناجائز تجاوزات کے خاتمہ کیلئے اقدامات نے پنجاب حکومت کو عوام میں سرخرو کیا ہے۔ لہٰذا اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ وہ دوسرے صوبے سے مدد حاصل کرکے پنجاب پر سیاسی غلبہ حاصل کرے گی تو یہ خارج از امکان نظر آتا ہے۔
جہاں تک پنجاب اسمبلی میں ہونے والی بدمزگی کا سوال ہے تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی کابینہ کے اراکین سے کئے گئے سوالات کو سراہا نہیں جا سکتا لیکن کابینہ کے اراکین کی جانب سے آنے والے ردعمل کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔ اچھا ہوتا کہ پنجاب کے نمائندہ ایوان میں یہ صورتحال پیدانہ ہوتی اور اس ضمن میں آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے ساتھ بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کا اندراج اسمبلی سیکرٹریٹ کے پاس نہیں تھا، وہ زبردستی اسمبلی میں داخل ہوئے ، اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہونے والی بدمزگی میں ان کا بھی کردار تھا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ لاہور کے حوالے سے ان کے اور سپیکر خیبر پختونخوا کے مکتوبات کی روشنی میں حکومت اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی بھی ذمہ داری ہے کہ مذکورہ دورہ کی روشنی میں یہاں پیش آنے والے واقعات پر اپنا جوابی مؤقف بھجوائیں اور بتائیں کہ اس حوالے سے حکومت اور اسمبلی سیکرٹریٹ نے کیا انتظامات کئے اور کون کس طرح سے ان پر اثر انداز ہوا۔اس حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی کا بیان بھی آ چکا ہے کہ وہ اسمبلی میں موجود ہوتے تو وزیر اعلیٰ کے پی کو اسمبلی میں بلاتے۔
یہ پی ٹی آئی کی طے شدہ پالیسی لگتی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنے صوبہ کے مسائل اور عوام کی مشکلات کے حل کیلئے بروئے کار لانے کی بجائے انہیں دوسرے صوبوں میں سرگرم رکھنا چاہتی ہے۔اب اطلاعات ہیں کہ وہ کراچی جا رہے ہیں ، پنجاب کے کچھ اور شہروں میں بھی اُن کے دوروں پر غورو غوض کیا جارہا ہے۔
پنجاب کے سیاسی محاذ پر بلدیاتی انتخابات ایک بڑے ایشو کے طور پر موجود ہیں۔ حکومت بلدیاتی سسٹم کیلئے ایکٹ بنانے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا عندیہ تو دے رہی ہے لیکن سیاسی جماعتیں جہاں بلدیاتی سسٹم پر تحفظات ظاہر کر رہی ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے تو دوسری جانب بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے دبائو جاری ہے۔ حکومت جسے حد بندی کی ذمہ داری پوری کرنا تھی، اس حوالے سے حکومت نوٹیفکیشن جاری کرچکی ہے، جو ایک بنیادی ضرورت تھی ۔ مطلب یہ کہ بلدیاتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ کمشنر 6جنوری تک شہری اور دیہی علاقوں سے متعلق تجاویز مرتب کریں گے جن کی روشنی میں حد بندی کا مسودہ تیار ہوگا۔ 23جنوری تک تمام اضلاع میں حد بندی کا کام مکمل ہوگا۔ یہ عمل بلدیاتی انتخابات کی جانب پیش رفت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن شیڈول کا اعلان کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے سے یہ اعلان کہہ چکا ہے کہ حکومت اپنا کام مکمل کرکے ہمیں مطلع کرے تاکہ اس حوالے سے پیش رفت شروع کی جائے، لیکن مذکورہ عمل کے بعد بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیش رفت ہو پائے گی یہ ایک اہم سوال ہے۔ ماہرین اب بھی کہہ رہے ہیں کہ حد بندیوں اور دیگر انتظامات کے باوجود الیکشن کے امکانات سو فیصد نہیں اس لئے کہ کسی بھی بنیاد پر عدلیہ سے حکم امتناعی لیے جانے کا امکان ہے ۔ اسی بنا پر کوئٹہ میں انتخابات ملتوی ہو چکے ہیں۔
جماعت اسلامی با اختیار بلدیاتی سسٹم کے حوالے سے خاصی متحرک دکھائی دیتی ہے اور پنجاب کے بلدیاتی سسٹم کو ہضم نہیں کر پا رہی۔ وہ آئین کی دفعہ 140اے کے مطابق تمام اختیارات بلدیات کو دینے کیلئے سرگرم ہے اور اس کیلئے 15 جنوری کو ملک گیر ریفرنڈم کا اعلان کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کے بلدیاتی سسٹم کے خلاف اسمبلی کے گھیرائو کا اعلان بھی کیا ہے، لیکن مذکورہ اقدامات کے بعد کیا انتخابات کا راستہ ہموار ہو سکے گا، یہ اہم سوال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کام بلدیاتی انتخابات ہیں، حکومت کو اس طرح آنے دیں،ان اداروں کے فعال کردارکیلئے انہیں روکا نہیں جا سکے گا، لہٰذا جنوری کے مہینے کو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیش رفت کے ضمن میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔