اپنا ذخیرہ الفاظ بڑھائیے
اسپیشل فیچر
افریقیہ: شمالی افریقہ جس میں لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش کے علاقے شامل تھے، ماضی میں افریقیہ کہلاتا تھا۔ رومیوں نے اس علاقے کا نام افریقہ (Africa) رکھا تھا، لہٰذا عرب اسے ”افریقیہ“ کہنے لگے۔ اس بنا پر آج بھی براعظم افریقہ کو عربی میں افریقیہ ہی کہا جاتا ہے۔ ماضی کے افریقیہ (شمالی افریقہ) کو المغرب بھی کہتے تھے جبکہ آج کل عربی میں صرف ملک مراکش کو المغرب کہا جاتا ہے جہاں یوسف بن تاشفین کا آباد کردہ تاریخی شہر مراکش واقع ہے۔ اس شہر کی نسبت سے پورے ملک کو مراکش کہا جانے لگا۔ ملک مراکش کو انگریزی میں مراکو (Morocco) کہتے ہیں۔ صوبہ افریقیہ کا دارالحکومت قبروان (تیونس میں واقع) تھا، لہٰذا تیونس بالعموم ”افریقیہ“ کے نام سے مشہور تھا جبکہ تیونس عربی میںتُونس ہے۔ اِسِتفسار: کسی شے یا واقعہ کی تفصیل چاہنا، پوچھنا، دریافت کرنا۔ اس عربی مصدر کا مادہ ”فسر“ ہے جس سے ”تفسیر“ بھی مشتق ہے۔ تفسیر کے معنی ہیں ”تشریح، وضاحت یا تفصیل بیان کرنا۔“ اصطلاحاً قرآن مجید کی شرح ”تفسیر“ کہلاتی ہے۔ اس سے اسم فاعل ”مفِسّر“ ہے۔ بہرہ: نصیب، قسمت، حصّہ، بھاگ۔ ”بہرہ رکھنا“ کے معنی ہوئے ”دسترس رکھنا۔“ اسی سے بہرہ مند، بہرہ ور اور بہرہ یاب ہیں جن کے معنی ہیں ”خوش قسمت، فائدہ اٹھانے والا“ اور ”بہرہ مندی“ کو ”خوشحالی“ اور ”خوشی“ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ”بہرہ“ فارسی لفظ ہے۔ نجم، منجم ّ اور کوکب: نجومی (Astrologer) یا جوتشی کے لئے عربی اصطلاح منجم ہے جس کے معنی ہیں ”ستاروں کا علم جاننے والا۔“ عربی میں ”نجم“ ستارے (Star) کو کہتے ہیں، اس کی جمع نجوم یا انجم ہے۔ جبکہ کوکب (جمع ”کواکب“) کا لفظ جدید عربی میں سیارے (Planet) کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہماری زمین بھی ایک کوکب یا ستارہ ہے۔ علم نجوم کو انگریزی میں اسٹرالوجی (Astrology) کہا جاتا ہے جبکہ آسٹرانومی (Astronomy) کے معنی ہیں ”علم فلکیات“ یا ”ہیئت۔“فرستادہ: بھیجا ہوا، قاصد، رسول۔ یہ فارسی مصدر فرستادن (بھیجنا) سے اسم مفعول ہے۔ ”فرستہ“ یا ”فرشتہ“ بھی اسی معنی میں ہے۔ قرآن مجید میں ”رسول“ (بھیجا ہوا) نبی اور فرشتہ دونوں کے لئے آیا ہے۔ پیغمبر یا پیغامبر کے بھی معنی ہیں۔ مغلیہ دور کا ایک مورخ ابو القاسم فرشتہ تھا۔ مَلَک/ مَلَک/ مِلک: عربی میں مَلَک کے معنی ہیں ”فرشتہ۔“ اس کی جمع ملائک یا ملائکہ ہے اور مَلِک کے معنی ہیں ”بادشاہ“ جس کی جمع مُلُوک ہے۔ اسی طرح ”مِل±ک“ کے معنی ہیں ”ملکیت، جاگیر، جائیداد، مال و اسباب“ اور اس کی جمع اَملاک ہے۔ ”مِلکِ یمین“ لونڈی، غلام کو کہتے ہیں جبکہ یمین کے معنی ”دائیں“ یا ”دائیں ہاتھ“ کے ہیں۔ مُرتِکب: جرم کا ارتکاب کرنے والا، گناہ کرنے والا۔ یہ مصدر ارتکاب کا اسم فاعل ہے۔ اس کا مادہ رکب (سوار ہونا) ہے اور اِرتِکَاب کے لغوی معنی ہیں کسی جرم کو عمل میں لانا، اختیار کرنا، عمل میں لانا، اختیار کرنا، عمل کرنا۔ سوار ہونے والا ”رَاکِب“ ہوتا ہے اور ”مَرکب“ کے معنی ہیں: سواری یا سواری کا جانور یا گاڑی۔ سُوہانِ روح: جان کو چھیلنے والا، دردناک، تکلیف دہ، ناگوارِ خاطر۔ ”سوہان“ فارسی میں ”ریتی“ کو کہتے ہیں۔ خُمس: پانچواں حصہ، پنجم، مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ جو غرباءاور لاوارثوں کے لیے وقف کیا جائے۔ یہ عربی لفظ خَمسہ (پانچ) سے مشتق ہے۔ ”خمسہ“ سے ”مخّمّس“ بنا ہے جس کے معنی ہیں ”پانچ اضلاع والی شکل یا عمارت“ یا ”وہ نظم جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں۔“ اسی طرح ”خَامِس“ کے معنی ہیں پانچواں یا پنجم، مثلاً عثمانی خلیفہ محمد خامس (1909-18ئ) موالی: مولیٰ کی جمع، غلام، نوکر چاکر، دوست۔ اسی سے ”موالات“ ہے جس کے معنی ہیں: ”باہمی اتحاد، آپس کی دوستی۔“ نیز ”وِلا“ کے معنی ہیں: ”محبت، الفت، دوستی۔“ ”وِلا“ سے ”ولایت“ (دوستی، صوبہ) بنا ہے۔ ”مولیٰ“ کو ”مولا“ بھی لکھتے ہیں۔ مولا (مولیٰ): مالک، آقا، اللہ تعالیٰ، بادشاہ، آزاد کیا ہوا غلام، دوست، حضرت، جناب۔ اسی سے مولای (میرا آقا، میرا دوست )، مولوی اور مولانا ”ہمارے آقا“ کی اصطلاحیں بنی ہیں۔ مولای یا مولائی مراکش کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ چپقلش: تلوار کی لڑائی، جھگڑا، فساد، لڑائی۔ یہ ترکی لفظ ہے۔ لام کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ مستعمل ہے۔ خُبث: پلیدی، گندگی، بدباطنی، شرارت۔ ”خُبثِ باطن“ بھی ”بدباطنی“ کے معنی میں ہے۔ طراوت: رطوبت، نمی، تری، ٹھنڈک، تازگی۔ یہ عربی لفظ ہے۔ اردو میں ”تراوت“ بھی اسی معنی میں ہے۔ کوشاں: کوشش کرنے والا۔ یہ اسم فاعل فارسی مصدر ”کوشیدن“ (کوشش کرنا) سے مشتق ہے۔ ”کوش“ (کوشش کرو، ڈھونڈو) فعل امر ہے، اس سے سخت کوش (سخت جان)، آرام کوش کی ترکیبیں بنی ہیں۔کہانی: ایران کے قدیم بادشاہوں کا ایک خانوادہ۔ ”کَے“ (بادشاہ) کی طرف منسوب۔ بادشاہوں کے لائق۔ ”کَے“ کی جمع ”کیان“ ہے۔ علامہ اقبالؒ کی نظم ”جواب شکوہ“ کا شعر ہے کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیںڈھونڈے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںیہاں ”کئی“ (شاہی) بھی ”کَے“ سے مشتق ہے۔