روٹی تیرے کتنے رُوپ!
اسپیشل فیچر
نظیراکبرآبادی کا ’’روٹی نامہ‘‘ پڑھیے تو یہی لگتا ہے کہ:ہم تو نہ چاند سمجھے نہ سورج ہیں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں یہی ’’خمار گندم‘‘ کے وہ ’’کٹورے‘‘ ہیں جن کے لیے انسان سو سو جتن کرتا ہے۔ یہ نت نئے پیشے اور کسب معاش کے طور طریقے اس روٹی کی خاطر ہی تو ہیں۔ انسان نے اس کے لیے کتنے روپ دھارے ہیں اور دوسری جانب مختلف خطوں اورعلاقوں کے طبعی حالات اور ثقافتوں میں پہنچ کر روٹی نے بھی کئی شکلیں اختیار کی ہیں۔ اب دیکھتے چلیے کہ اس چمتکاری نے کہاں کہاں کیا کیا روپ دھارے ہیں۔ برصغیر پاک وہ ہند کی بنیادی غذا ’’روٹی‘‘ ہے ۔ گوکہ پورے برصغیر پاک وہند میں روٹی اور نان کے بنیادی اجزاء آٹا، نمک، پانی وغیر ہ ہیں۔ ’’روٹی‘‘ کو علاقائی زبانوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ بر صغیر میں تقریباً ہزار سالہ بیرونی معاشرت کے امتزاج سے یہاں روٹی میں کئی تبدیلیاں آتی رہیں۔ یہ چپاتی، پھلکہ، پراٹھا اور پوری وغیرہ کے نام سے پکاری جاتی ہے ۔ دیگر اناجوں کے آٹے سے بنی روٹیوں کے محض تعریفی نام ہوتے ہیں، جیسے مکئی کی روٹی، باجرے کی روٹی ، جوار کی روٹی اور چاول کی روٹی وغیرہ۔ بر صغیر کے شمالی اور جنوب مشرقی حصوںکے علاوہ تمام علاقوں میں روٹیاں عام ہیں، دیگر علاقوں میں چاول کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ بیسن سے بنی روٹی کو ’’بیسنی روٹی ‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے آٹے میں کٹی ہوئی پیاز، لہسن اور ٹماٹر بھی ڈالے جاتے ہیں۔ گجرات، کاٹھیاواڑ اور راجستھان ، چولستان کی علاقائی روٹی کو ’’کھاکھڑا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کراچی کے علاقے گودھرا کالونی ، میٹھا در میں دست یاب ہے۔ اس کی مشہور قسم ’’روٹلا‘‘ ہے جو چپاتی کی شکل کا ہوتا ہے یہ ہلکا پھلکا اورکاغذ کی طرح باریک ہوتا ہے۔ یہ حیدرآباد (سندھ)، ٹنڈو آدم، میرپور خاص، میرپور ماتھیلو اور ماتلی میں دست یاب ہے۔ دال ڈھوکلی، کھمان، کاٹھیاواڑ، گجرات وغیرہ میں روٹی کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ دال ڈھوکلی خود ایک مکمل غذا ہے ۔ ’کھاکھڑا‘ خشک کُرکُری روٹی کو کہتے ہیں۔ جو کافی دنوں تک تازہ رہتی ہے۔ اسے پانی اور دودھ کے ساتھ گوندھ کر پکایا جاتاہے۔ کاٹھیاواڑ، گجرات کی ایک اور روٹی کو ’’بھاکڑی‘‘ کہتے ہیں، جوباجرے کے آٹے سے بنتی ہے۔راجستھان کی روایتی روٹی میں بغلے ، فیفرے ، ٹُکّر اور باٹی گندم کے کُٹے ہوئے آٹے سے بنائی جاتی ہے۔ ’’باٹی‘‘ کے لیے آٹے کے پیڑے بنائے جاتے ہیں اور انہیں تنور میں پکایا جاتا ہے۔ مگر روایتی طور پر انہیں کوئلوں اور اُپلوں پر پکایا جاتاہے ۔ یہ بلوچستان میں بھی پائی جاتی ہے مگر یہاں آٹے کو چکنے پتھروں پر لپیٹ کر تنور یا د ہکتے ہوئے کوئلوں پر پکایا جاتا ہے ۔ جب یہ پک جائیں تو انہیں صاف کرکے ٹکڑوں میں توڑکر گھی سے بھرے پیالے میں ڈال دیا جاتا ہے۔’’بغلوں‘‘ کو پہلے دال کے شور بے میں پکایا جاتا ہے اور پھر تنور میں سینک لیا جاتا ہے ۔ ’’فیفرے‘‘ قدرے گول ہوتے ہیں۔ ان کے لیے پیڑوں کو چپٹا کر کے توے پر پکایا جاتا ہے۔ پھر کوئلوں کی آگ پر رکھا جاتاہے، یہ گھی اور دال کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔’’ٹُکّر‘‘ راجستھان اور چولستان میں بہت مقبول ہے ۔ یہ موٹی روٹی ہوتی ہے جس میں آٹا، میدہ، بہت سا پسا ہو ا لہسن، پیاز ٹماٹر، ہری مرچیں اور دھنیا استعمال ہوتا ہے۔ اس پکانے کے لیے توے پر ہلکا سا تیل لگایا جاتا ہے ۔ کچھ علاقوں میں ’’دوپڑی روٹیاں‘‘ بھی بہت مشہور ہیں۔ یہ نرم اور چپاتی کے مانند ہوتی ہیں۔ لیکن اگر انہیں علیحدہ کیا جائے تو دو علیحدہ علیحدہ روٹیاں نظر آتی ہیں۔ اس روٹی کی تیاری میں اسے بیلنے کی مہارت درکار ہوتی ہے ۔ اسی طرح ’’باٹیا‘‘ نامی روٹی راجستھان، چولستان، مارواڑ کے لوگوں میں مشہور ہے۔ مگر یہ کراچی اور حیدرآباد، میرپور ساکرو، میرپور خاص، مونابائو اور ٹنڈوالہ یار میں بھی دست یاب ہے۔’’رومالی روٹی‘‘ بدوئوں کی ایک روٹی ’’شرک‘‘ (Sharak) سے ملتی جلتی ہے، ایسی ہی روٹی بلوچستان میں ’’سجّی‘‘ کے اوپر بھی لپیٹی جاتی ہے۔ یہ حیران کن حد تک آپس میں ملتی جلتی ہیں اور دونوں سائیکل کے پہیے جتنی بڑی ہوتی ہیں، یہ اُلٹے توے پر پکائی جاتی ہے۔ مصر میں یہ روٹی ’’روغاگ‘‘ اور ملبار میں ’’مانڈہ‘‘ کہلاتی ہے۔ مانڈہ کراچی میں کثرت سے بنتا ہے ۔ اس کے نام کا مطلب ہی ’’ململ کی طرح باریک‘‘ ہے۔ اسے باریک کرنے کے لیے خوب بیلا جاتا ہے۔ مانڈہ سموسوں اور رول کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ’’رومالی روٹی‘‘ سنگاپور اور ملائشیاء ’’مراتبہ‘‘ سے ملتی جلتی ہے۔’’یہودی روٹی‘‘ برصغیر میں بغداد کے یہودیوں کے ساتھ آئی۔ یہ پانی اور خمیر ملے سادہ میدے سے بنتی ہے ۔ یہ قندھاری روٹی سے ملتی جلی ہے ۔ اسے چپاتی یا روٹی کی شکل میں بیل لیا جاتا ہے ۔ مگر اسے پکانے کا روایتی طریقہ کسی قدر مختلف ہے۔ پیڑے کو گدی پر رکھ کر گدی کے قطر جتنا کھینچ لیاجاتا ہے اور پھر نان کو تنور میں لگا کر گدی ہٹالی جاتی ہے۔ جب روٹی پک جائے تو اسے بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ کھایا جاتاہے ۔ گوکہ بغداد کے یہودی اب اسرائیل ہجرت کرچکے ہیں مگرکراچی میں مختلف بیکریاں یہ روایتی روٹی تیار کرتی ہیں۔ ایک قسم ’’انڈے کی روٹی ‘‘ بھی ہے جو ایک مکمل غذا ہے اور انڈے، پسی ہوئی سبز مرچوں اور دھنیے پودینے کے ساتھ بنتی ہے۔ یہ روٹی سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں دستیاب ہے ۔ اس روٹی کے ساتھ کسی قسم کے لوازم کی ضرورت نہیں ہوتی۔