دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان
اسپیشل فیچر
گھر کی خاموش دیواروں، لکڑی کے فرنیچر اور کتابوں کے ڈھیروں میں ایک ایسا دشمن پل رہا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خاموش تباہی پھیلانے والا کیڑا دیمک کہلاتا ہے۔ دیمک نہ صرف گھروں اور عمارتوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ قیمتی دستاویزات، کتب اور لکڑی سے بنی اشیاء کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی موجودگی کا اندازہ اس وقت کرتے ہیں جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیمک کی بروقت شناخت اور اس کا سدباب نہ کیا جائے تو یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑے معاشی نقصان میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
دیمک کا رنگ عموماً سفید بھورا ہوتا ہے، اس لئے اس کو سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک بھی کالی چیونٹی کی طرح خوراک کی طرف قطار بنا کر سفر کرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کالی چیونٹی سورج کی روشنی میں بھی کام کر سکتی ہے جبکہ دیمک سورج کی روشنی میں کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے دیمک مٹی کی سرنگ بنا کر اس سرنگ کے اندر قطار بنا کر سفر کرتی ہیں۔
دیمک ایک سوشل کیڑا ہے، اس کی کالونی میں ملکہ اور بادشاہ، سولجرز اور ورکرز ہوتے ہیں۔جب دیمک کی کالونی فل سائز میں پہنچتی ہے تو اس میں 60ہزار سے 2لاکھ تک ورکرز ہوتے ہیں۔ کالونی میں حکمرانی ملکہ کی ہوتی ہے جو 10ہزار سے 20ہزارتک ایک دن میں انڈے دیتی ہے اور اس کی عمر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دیمک کی خوراک عموماً لکڑی ہے اس کے علاوہ وہ کتابیں، کپڑے، فرنیچر، قیمتی پیپرز بھی کھا جاتی ہے۔
کماد یا دوسری فصلوں میں دیمک کا حملہ جڑ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی مرغوب غذا بھی سوکھی ہوئی جڑیا تنا ہوتا ہے۔ کھیت میں سوکھے ہوئے پودے اس کے حملہ کی نشانی ہیں۔ اگر ان پودوں کو اُکھاڑا جائے تو جڑیں کٹی ہوئی ملیں گی۔ سوکھی ہوئی جڑیں ختم کرنے کے بعد دیمک تنے پر موجود سوکھے ہوئے پتوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ان کے خاتمہ کے بعد سبز پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ درختوں پر حملہ کی صورت میں پودے کی پہلے ایک شاخ سوکھتی ہے اور اس طرح تمام شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور پودا پورا ختم ہو جاتا ہے۔ کنو شاید واحد پودا ہے جو اس موذی کیڑے کا آخری دم تک مقابلہ کرتا ہے۔ کئی شاخیں سوکھ جانے کے باوجود بھی پودہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
کپاس ، گندم، مرچ اور دوسری سبزیوں وغیرہ میں دیمک کے حملہ کی صورت میں کھیت میں کئی پودے مختلف فاصلوں پر خشک ہو جاتے ہیں اور کئی دفعہ یہ نقصان معاشی حد سے زیادہ ہو جاتا ہے اور دیمک مارا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔فصلوں والی زمینوں پر عمارات بنائی جاتی ہیں تو ان عمارات میں بھی دیمک کا حملہ ہو جاتا ہے۔ عمارات کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے انجینئرز، آرکٹیکٹس اور کنسلٹنٹس دیمک مار دوائی کا استعمال تعمیرات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ انتہائی آسان، کم خرچ اور موثر ترین ہے۔ عمارات میں دیمک مار دوائی کا استعمال قبل از تعمیر اور تعمیر کے بعد کیا جاتا ہے قبل از تعمیر پہلی دفعہ بنیادیں کھودنے کے بعد بنیادوں کے فرش پر سپرے کیا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ فرش بندی کیلئے مٹی ڈال کر ہموار کرنے کے بعد پریشر پمپ کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے۔
تعمیر شدہ عمارات جہاں دیمک کی مٹی کی سرنگیں موجود ہوں ماہر حشریات( انٹو مولوجسٹ) کی نگرانی میں کسی صحیح اور سفارش کردہ دیمک مار دوائی کا بذریعہ ڈرل اور انجیکشن کا طریقہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عمارت کی دیواروں کے اندر اور باہر ساتھ ساتھ 2فٹ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل کچی مٹی تک سوراخ کرکے دوائی کا محلول تقریباً 4لیٹر فی سوراخ بذریعہ پریشر مشین زیر زمین پہنچانا ضروری ہے تاکہ دیواروں کے ساتھ ساتھ دوائی کی تہہ لگ جائے اور دیمک الماریوں اور دروازوں تک دوائی کی تہہ کو پار کرنے کی کوشش کرے تو مرجائے۔
ایک بات بہت ضروری ہے کہ آج کل عطائی ڈاکٹروں کی طرح دیمک کنٹرول کے پروفیشن میں بھی عطائی قسم کے لوگ داخل ہو گئے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ادویات بھی جعلی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیمک کنٹرول کا کام صرف اور صرف انٹو مولوجیسٹ کی زیر نگرانی کروانا چاہئے اور اس سلسلہ میں دیمک مار دوائی بھی بااعتماد پارٹی سے خرید کرکے استعمال کروانی چاہئے۔ دیمک کنٹرول کے عمل کا خرچہ مقابلتاً گھر، عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ دروازوں، کھڑکیوں کو دیمک مار دوائی لگانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا جب تک عمارت کو دیمک سے صحیح طریقہ یعنی ڈرل اور پریشر مشین سے دوائی انجیکٹ نہ کی جائے تاہم فرنیچر وغیرہ دیمک مار دوائی لگانے کی وجہ سے دیمک اور گھن سے محفوظ رہتا ہے۔