خلا میں سمندری مخلوق؟
اسپیشل فیچر
خلائی منظر یا بصری فریب، نئی بحث چھڑ گئی
وسیع و عریض کائنات میں نت نئی دریافتیں انسانی تجسس کو مسلسل مہمیز دیتی رہتی ہیں، اور حالیہ دنوں میں خلائی سائنسدانوں کی ایک دلچسپ مشاہدے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ماہرین نے خلا میں ایک ایسی ساخت یا شبیہہ کی نشاندہی کی ہے جو حیرت انگیز طور پر سمندری گھونگے (Sea Slug)سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ انوکھا منظر نہ صرف سائنس دانوں کیلئے تحقیق کا نیا در کھولتا ہے بلکہ عام لوگوں کیلئے بھی کائنات کے اسرار و رموز کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض بصری فریب ہے یا واقعی کائنات میں چھپی کسی نئی حقیقت کی جھلک؟
خلائی سائنسدانوں نے خلا میں ایک حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے جسے ''خلائی سمندری گھونگا‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ شاندار تصویر ناسا کے ''ہبل سپیس ٹیلی سکوپ‘‘ نے لی ہے، جو اس ہفتے اپنی 36ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 5ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کی پیدائش کے ایک علاقے ''ٹریفڈ نبیولا‘‘ (Trifid Nebula) کو ہبل نے اپنی پوری کائناتی خوبصورتی کے ساتھ قید کیا ہے۔
یہ دلکش تصویر ہبل کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 کے ذریعے لی گئی، جس میں گیس اور گرد و غبار کے چمکتے بادل دکھائی دیتے ہیں جہاں نئے ستارے تشکیل پا رہے ہیں۔ مرئی روشنی میں اس کے رنگ کسی زیر آب منظر کی مانند محسوس ہوتے ہیں، جہاں باریک ذرات گہرائی میں تیرتے ہوئے تلچھٹ کی طرح نظر آتے ہیں۔ تاہم اس تازہ مشاہدے میں ایک منفرد ساخت نمایاں کی گئی ہے، جسے ماہرین فلکیات نے ''کائناتی سی لیمَن‘‘ (Cosmic Sea Lemon) قرار دیا ہے کیونکہ یہ خلا میں تیرتے ہوئے سمندری گھونگے سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق لاکھوں سال کے دوران اس علاقہ میں موجود گیس اور گرد و غبار بتدریج منتشر ہو جائیں گے اور آخرکار صرف مکمل بنے ہوئے ستارے باقی رہ جائیں گے۔ ناسا کے ہبل مشن ٹیم کے مطابق: ٹریفڈ نیبیولا، جسے میسیئر 20 یا ''ایم 20‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میں ہبل کی نظر ایک زنگ آلود رنگ کے گیس اور گرد و غبار کے بادل کے ''سر‘‘ اور لہردار ''جسم‘‘ پر مرکوز ہے، جو کسی سمندری سی لیمَن یا گھونگے سے مشابہت رکھتا ہے، گویا وہ کائنات میں تیر رہا ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کئی بڑے ستارے، جو اس منظر میں نظر نہیں آ رہے، کم از کم 3لاکھ سال سے اس خطے کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کی طاقتور ہوائیں ایک بہت بڑا بلبلا پیدا کرتی رہتی ہیں، جس کا ایک چھوٹا حصہ یہاں دکھایا گیا ہے، جو گیس اور گرد و غبار کو دھکیل کر سکیڑتا ہے اور نئے ستاروں کی تشکیل کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
1990ء میں اپنے آغاز کے بعد سے، ہبل خلائی دوربین نے 17 لاکھ سے زائد مشاہدات کیے ہیں اور ہزاروں سائنسی تحقیقی مقالوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل کے شواہد دریافت کرنے، مدھم اور دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے غیر متوقع مظاہر کا سراغ لگانے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے ایک دوسرے ستاروی نظام میں سیارچوں کے تصادم کو ریکارڈ کیا اور ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں ایک دمدار ستارے (کومیٹ) کو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا۔ توقع ہے کہ ہبل کم از کم 2030ء تک فعال رہے گا، تاہم یہ 2040ء تک بھی ہزاروں نوری سال دور سے تصاویر زمین پر بھیجتا رہ سکتا ہے۔