وادیٔ فرغانہ : قدرت کا انمول شاہکار

وادیٔ فرغانہ : قدرت کا انمول شاہکار

اسپیشل فیچر

تحریر : فقیر اللہ خاں


فرغانہ ازبکستان کی ولائت فرغانہ کا صدر مقام ہے۔ ازبکی زبان میں صوبے کوولایت کہا جاتا ہے۔ فرغانہ کا شہر تاشقند سے جانب مشرق 325 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تاشقند سے سڑک کے راستے نکلیں تو تقریباً اکثر پہاڑوں میں سے ہو کر گزرنا پڑتاہے۔ سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی سٹرک ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہے۔ فرغانہ کی وادی وسطی ایشیا کا سب سے بڑا صحت افزا مقام ہے۔
اس کے علاوہ وادی فرغانہ کا شمار دُنیا کے انتہائی خوبصورت خطُوں میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ ایسے علاقے ہیں جو ابھی تک دُنیا کے سیاحوں کی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ ایسے خطوں کو صحیح طرح سے دُنیا سے متعارف ہی نہیں کروایا گیا اور نہ ہی حکومتوں نے اس بارے میں کوئی تگ ودو کی ہے۔
فرغانہ شہر کی آبادی دو لاکھ ہے۔ فرغانہ قدیم شاہراہ ریشم پر واقع اہم شہر تھا جو چین میں کاشغر کے راستے باقی مغربی دُنیا سے ملا ہوا تھا۔ وادی فرغانہ میں فرغانہ کے علاوہ نمنگان، اندجان اور قوقند بڑے شہر ہیں۔ اس پوری وادی میں جگہ جگہ شفتالو، خوبانی، سیب،انگور، بادام، اخروٹ کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ اس کے علاوہ تربوز، سٹرابیری اور چیری کی بھی بہتات ہے۔ گندم، چال، مکئی، جو اور تمباکو کے علاوہ سبزیوں کی پیداوار عام ہے۔ ازبکستان کے دو بڑے دریا آمُو دریا اور سردریا ہیں۔ سِر دریا وادی فرغانہ سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ وادی فرغانہ کا سال میں اوسط درجہ حرارت سردیوں میں منفی 24 سینٹی گریڈ اور گرمیوں میں 30 سنٹی گریڈ تک رہتا ہے۔
وادی فرغانہ کا شہر اندجان اُسی ظہیر الدین بابر کی جائے پیدائش ہے جس نے 1526ء میں ہندوستان میں ابراہیم لودھی کی فوجوں کو تِگنی کا ناچ نچایاتھا۔ بابر اندجان ہی میں 14 فروری 1483ء کو عمر شیخ مرزا کے گھر پیدا ہوا۔ عمر شیخ مرزا اندجان میں اپنے علاقے کا حکمران تھا۔ بابر نے اپنا لڑکپن اسی وادی فرغانہ میں گزارا۔ بابر نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھڑ سواری، تیز اندازی اور فن سپاہ گری کی تربیت اپنے والد کے زیر سایہ ہی حاصل کی۔
1498ء میں باپ کے فوت ہونے کے بعد بابر کو علاقے کا امیر بنا دیا گیا۔ اُس وقت بابر ابھی صحیح طرح بالغ بھی نہیں ہوا تھا۔ صرف پندرہ سال کی عمر تھی کہ امارت کا تاج اُس کے سر پر رکھ دیا گیا۔ اُس نے 42 سال کی عمر میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان میں اس مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے پورے برصغیر پر دو صدیوں سے زیادہ حکومت کی۔
آج بھی ازبکستان اور خاص طور پر وادی فرغانہ کے لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس دھرتی نے ایسے سپوت کو جنم دیا، جس نے جنوبی ایشیا میں مغلیہ حکومت کی بنیاد رکھی۔ ہندوستانی مور خین کے مطابق بابر کے بادشاہ بننے سے پانچ سو سال قبل ہندوستان کا بادشاہ شمس الدین التمش بھی فرغانہ ہی کا رہنے والا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا میں سمندری مخلوق؟

خلا میں سمندری مخلوق؟

خلائی منظر یا بصری فریب، نئی بحث چھڑ گئیوسیع و عریض کائنات میں نت نئی دریافتیں انسانی تجسس کو مسلسل مہمیز دیتی رہتی ہیں، اور حالیہ دنوں میں خلائی سائنسدانوں کی ایک دلچسپ مشاہدے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ماہرین نے خلا میں ایک ایسی ساخت یا شبیہہ کی نشاندہی کی ہے جو حیرت انگیز طور پر سمندری گھونگے (Sea Slug)سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ انوکھا منظر نہ صرف سائنس دانوں کیلئے تحقیق کا نیا در کھولتا ہے بلکہ عام لوگوں کیلئے بھی کائنات کے اسرار و رموز کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض بصری فریب ہے یا واقعی کائنات میں چھپی کسی نئی حقیقت کی جھلک؟خلائی سائنسدانوں نے خلا میں ایک حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے جسے ''خلائی سمندری گھونگا‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ شاندار تصویر ناسا کے ''ہبل سپیس ٹیلی سکوپ‘‘ نے لی ہے، جو اس ہفتے اپنی 36ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 5ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کی پیدائش کے ایک علاقے ''ٹریفڈ نبیولا‘‘ (Trifid Nebula) کو ہبل نے اپنی پوری کائناتی خوبصورتی کے ساتھ قید کیا ہے۔ یہ دلکش تصویر ہبل کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 کے ذریعے لی گئی، جس میں گیس اور گرد و غبار کے چمکتے بادل دکھائی دیتے ہیں جہاں نئے ستارے تشکیل پا رہے ہیں۔ مرئی روشنی میں اس کے رنگ کسی زیر آب منظر کی مانند محسوس ہوتے ہیں، جہاں باریک ذرات گہرائی میں تیرتے ہوئے تلچھٹ کی طرح نظر آتے ہیں۔ تاہم اس تازہ مشاہدے میں ایک منفرد ساخت نمایاں کی گئی ہے، جسے ماہرین فلکیات نے ''کائناتی سی لیمَن‘‘ (Cosmic Sea Lemon) قرار دیا ہے کیونکہ یہ خلا میں تیرتے ہوئے سمندری گھونگے سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ماہرین فلکیات کے مطابق لاکھوں سال کے دوران اس علاقہ میں موجود گیس اور گرد و غبار بتدریج منتشر ہو جائیں گے اور آخرکار صرف مکمل بنے ہوئے ستارے باقی رہ جائیں گے۔ ناسا کے ہبل مشن ٹیم کے مطابق: ٹریفڈ نیبیولا، جسے میسیئر 20 یا ''ایم 20‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میں ہبل کی نظر ایک زنگ آلود رنگ کے گیس اور گرد و غبار کے بادل کے ''سر‘‘ اور لہردار ''جسم‘‘ پر مرکوز ہے، جو کسی سمندری سی لیمَن یا گھونگے سے مشابہت رکھتا ہے، گویا وہ کائنات میں تیر رہا ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کئی بڑے ستارے، جو اس منظر میں نظر نہیں آ رہے، کم از کم 3لاکھ سال سے اس خطے کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کی طاقتور ہوائیں ایک بہت بڑا بلبلا پیدا کرتی رہتی ہیں، جس کا ایک چھوٹا حصہ یہاں دکھایا گیا ہے، جو گیس اور گرد و غبار کو دھکیل کر سکیڑتا ہے اور نئے ستاروں کی تشکیل کے عمل کو تیز کرتا ہے۔1990ء میں اپنے آغاز کے بعد سے، ہبل خلائی دوربین نے 17 لاکھ سے زائد مشاہدات کیے ہیں اور ہزاروں سائنسی تحقیقی مقالوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل کے شواہد دریافت کرنے، مدھم اور دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے غیر متوقع مظاہر کا سراغ لگانے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے ایک دوسرے ستاروی نظام میں سیارچوں کے تصادم کو ریکارڈ کیا اور ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں ایک دمدار ستارے (کومیٹ) کو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھا۔ توقع ہے کہ ہبل کم از کم 2030ء تک فعال رہے گا، تاہم یہ 2040ء تک بھی ہزاروں نوری سال دور سے تصاویر زمین پر بھیجتا رہ سکتا ہے۔

’’ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی ڈے‘‘

’’ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی ڈے‘‘

تخلیق، تحفظ اور ترقی کا سنگمہر سال 26 اپریل کو دنیا بھر میں ''world intellectual property day‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانی تخلیقی صلاحیتوں، اختراعات اور علمی کاوشوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ جدید دور میں جہاں خیالات، ایجادات اور تخلیقی کام معیشت کی بنیاد بنتے جا رہے ہیں، وہیں ''intellectual property‘‘کا تصور بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔''intellectual property‘‘ سے مراد وہ تخلیقات ہیں جو انسانی ذہن کی پیداوار ہوتی ہیں، جیسے ادبی و فنی کام، ایجادات، ڈیزائن، علامات (ٹریڈ مارکس) اور تجارتی راز۔ ان تخلیقات کے تحفظ کیلئے قوانین وضع کیے گئے ہیں تاکہ تخلیق کاروں کو ان کی محنت کا صلہ مل سکے اور ان کے حقوق محفوظ رہیں۔ اسی مقصد کے تحت عالمی سطح پر ''ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن‘‘ (WIPO) سرگرم عمل ہے، جو اس دن کے انعقاد کی سرپرستی بھی کرتی ہے۔آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ''intellectual property‘‘ کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ تخلیقی مواد کی چوری اور غیر قانونی استعمال کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ موسیقی، فلم، سافٹ ویئر اور کتب کی غیر قانونی نقل و اشاعت تخلیق کاروں کے حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کی جائے کہ دوسروں کے کام کا احترام کرنا اور اس کے استعمال کیلئے قانونی طریقہ اختیار کرنا نہایت اہم ہے۔''intellectual property‘‘ کے تحفظ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ جدت (Innovation) کو فروغ دیتا ہے۔ جب موجد اور تخلیق کار یہ جانتے ہیں کہ ان کی محنت محفوظ ہے اور انہیں اس کا مالی و اخلاقی فائدہ ملے گا تو وہ مزید تحقیق اور تخلیق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہی عمل کسی بھی ملک کی سائنسی، صنعتی اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے ''intellectual property‘‘ کا تحفظ خاص طور پر اہم ہے۔ یہاں بے شمار باصلاحیت نوجوان موجود ہیں جو ٹیکنالوجی، فنون اور ادب کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ تاہم اگر ان کی تخلیقات کو مناسب تحفظ نہ ملے تو ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس حوالے سے قوانین اور ادارے قائم کیے ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد اور عوامی شعور کی بیداری ایک چیلنج ہے۔''world intellectual property day‘‘ ہر سال ایک خاص موضوع کے ساتھ منایا جاتا ہے، اس سال اس دن کا تھیم ''آئی پی اینڈ سپورٹس : ریڈی، سیٹ اینوویٹ‘‘ ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ''intellectual property‘‘ کا احترام دراصل انسانی ذہانت اور تخلیقی صلاحیت کا احترام ہے۔ اگر ہم ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف اپنے حقوق کا شعور ہونا چاہیے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرنا ہو گا۔ یہی شعور ہمیں ایک روشن، تخلیقی اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

تبریز کا بدترین زلزلہ26اپریل1721ء کوایران کے شہر تبریز میں شدید زلزلہ آیا۔جس نے شہر کا چوتھائی حصہ تباہ کر کے رکھ دیا۔ شہر کی بہت سی ممتاز مساجد اوراسکول زمین بوس ہو گئے۔ زلزلے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد ڈھائی لاکھ بتائی جاتی ہے۔زلزلے کی وجہ سے تبریز کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا کیونکہ ہزاروں افراد کے کاروبار اور گھر بار تباہ ہو گئے۔اس زلزلے کو ایران کی بدترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔''رینجر4‘‘کی ناکامی''رینجر 4‘‘ رینجر پروگرام کے زیر انتظام چلنے والا ایک خلائی جہاز تھا جسے 1962ء میں لانچ کیا گیا تھا۔ اسے چاند پر لینڈ کرنے سے قبل 10منٹ کی پرواز کے دوران چاند کی سطح کی تصاویر کو زمینی کنٹرول روم تک بھیجنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ ایک کیپسول چاند کی کھردری زمین پر اتارا جا سکے۔26اپریل کو آن بورڈ کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے سولر پینلز اور نیویگیشن سسٹم میں خرابی ہوئی اور اس مشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجتاً خلائی جہاز چاند پر گر کر تباہ ہو گیا اور اس سے کسی بھی قسم کا ڈیٹا حاصل نہیں کیا جا سکا۔بونا پارٹ کی عام معافی1802ء میں نپولین بوناپارٹ نے ایک عام معافی کے فرمان پر دستخط کیے، جس کے تحت انقلاب فرانس کے دوران جلاوطن ہونے والے بیشتر افراد کو فرانس واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم تقریباً ایک ہزار ایسے افراد کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا جو سب سے زیادہ متنازع یا خطرناک سمجھے جاتے تھے۔ اس اقدام کا مقصد سیاسی استحکام پیدا کرنا اور ملک میں مفاہمت کو فروغ دینا تھا، تاکہ طویل عرصے کی انقلابی کشمکش کے بعد معاشرتی ہم آہنگی کو بحال کیا جا سکے اور قومی اتحاد مضبوط ہو۔آئس ہاکی اولمپکس میں شامل1920ء میں آئس ہاکی کو پہلی بار اولمپکس میں شامل کیا گیا۔ اس تاریخی مقابلے میں کینیڈا کے کھلاڑی فرانک فریڈرکسن نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات گول اسکور کیے۔ فائنل میچ میں کینیڈا نے سویڈن کو 1-12 سے شکست دے کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ کینیڈا کی یہ فتح آئس ہاکی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جاتی ہے، جس نے اس کھیل کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ایسٹر فسادات 1943ء کے ایسٹر کے دوران اپسالا، سویڈن میں ہونے والی بدامنی کو ایسٹر فسادات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نیشنل سوشلسٹ گروپ سویڈش سوشلسٹ یونٹی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران اور وارسا یہودی بستی کی بغاوت جیسے واقعات کے چند دن بعد اپسالا میں اپنی قومی کانگریس منعقد کی۔ 26 اپریل کو بدامنی عروج پر پہنچ گئی۔ 1938 ء میںSSSنے نیشنل سوشل ونگ سے تعلق رکھنے کے بعد فاشزم کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اس کے ابتدائی اراکین انگور کمپراڈ نے ایک مظاہرے کے ذریعے کانگریس کا خاتمہ کیا۔ایریل 1''ایریل 1‘‘پہلا برطانوی سیٹلائٹ تھا۔ 26اپریل 1962ء میں اس کی لانچنگ نے سوویت یونین اور ریاستہائے متحدہ کے بعد، برطانیہ کو سیٹلائٹ چلانے والا تیسرا ملک بنا دیاتھا۔ اسے 1959ء اور 1960ء میں سیاسی بات چیت کے نتیجے میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت، NASA ،GSFC اور SERC کے ذریعے برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ دونوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

بازو پر کان نصب کروا نے والا پہلا انسان

بازو پر کان نصب کروا نے والا پہلا انسان

ایک آسٹریلوی فنکار کی جانب سے اپنے بازو پر سرجری کے ذریعے ایک اضافی کان نصب کروانے کا انوکھا اور چونکا دینے والا اقدام دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ غیرمعمولی تجربہ جہاں فن اور سائنس کے امتزاج کی ایک نئی مثال پیش کرتا ہے، وہیں انسانی جسم، شناخت اور تخلیقی آزادی سے متعلق اہم سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تجربات جدید بایو آرٹ کی ایک شکل ہیں، جن کا مقصد روایتی تصورات کو چیلنج کرنا اور انسانی حدود کو نئے زاویوں سے دیکھنا ہے۔اگر آپ کو کبھی آسٹریلوی باشندے Stelarc سے مدد کی ضرورت ہو، چاہے وہ ہاتھ ہو یا کان تو وہ ایک ہی عضو سے یہ کام کر سکتا ہے۔ جی ہاں، اس کا تیسرا کان واقعی آپ کو ''سُن‘‘ بھی سکتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے2007ء میں اس پرفارمنس آرٹسٹ کی خبر محض تفریحی خبروں تک محدود نہ رہی بلکہ سائنسی جرائد تک جا پہنچی، جب اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے بازو میں ایک کان نصب کروا کر دنیا کا پہلا ایسا انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ پرجوش منصوبہ ایک دہائی کے دوران تیار ہوا، کیونکہ قبرص میں پیدا ہونے والے اس تخلیقی فنکار نے روبوٹک دور میں انسانی جسم کے بارے میں اپنے کام کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی۔ 1972 میں جب اس نے اپنا نام بدل کر Stelarc رکھا، تب سے وہ اپنے آپ کو فن، جسمانی حرکیات اور ڈیزائن کے باہمی تعلق کے مطالعے کیلئے وقف کیے ہوئے ہے۔ ایک ایسا شعبہ جسے ''بائیو آرٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے دیگر کاموں میں ایک روبوٹک تیسرا بازو، انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول ہونے والا ایک ایکسو اسکیلیٹن، اور یہاں تک کہ ایک نگلا جا سکنے والا ''معدے کا مجسمہ‘‘ بھی شامل ہے، جسے اس نے اپنے اندرونی اعضا کی تصاویر حاصل کرنے کیلئے ہضم کیا۔2016ء میں انٹرویو دیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اس کے فن کے پیچھے بنیادی تحریک یہ ہے کہ انسان اپنی روزمرہ جسمانی سرگرمیوں اور خودکار افعال جیسے تجربات پر سوال اٹھائے، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں تقریباً ہر چیز قابلِ پروگرام ہو چکی ہے۔اس نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ ہم صرف برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum)کا ایک محدود حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں، جو بصری سطح ہے۔ چمگادڑ اور ڈولفن الٹراساؤنڈ کے ذریعے راستہ تلاش کرتے ہیں، کتے صرف سیاہ و سفید دیکھتے ہیں اور سانپ انفراریڈ شعاعیں محسوس کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں جسم کی ساخت بدل دوں تو شاید میں اپنی دنیا کو سمجھنے کے انداز کو بھی بدل سکوں گا۔ اس کے باوجود ''Ear On Arm‘‘بلاشبہ اس کا سب سے مشہور فن پارہ بن گیا، کیونکہ اس کیلئے ایسے غیر معمولی اور پہلے کبھی نہ کیے گئے جراحی (سرجیکل) طریقوں کی ضرورت تھی جنہوں نے اس کے جسم کی ساخت کو مستقل طور پر بدل دیا۔Stelarc نے اس عمل کیلئے تین پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، اور یہ پورا منصوبہ مکمل ہونے میں 12 سال کا طویل عرصہ لگا۔سب سے پہلے ٹیم نے اس کے سر کے ایک جانب ایک اضافی کان کی تصویر سازی (امیجنگ) کی، جو بعد میں نئے مصنوعی (prosthetic) امپلانٹ کیلئے ماڈل کے طور پر استعمال ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اسٹیلرک کے زندہ خلیات سے ایک کان تیار کیا، جو مکمل ڈیزائن کیلئے ایک نمونہ (replica) کے طور پر استعمال ہوا۔ آخر میں ''Ear On Arm‘‘ کے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جس دوران اس کے بازو پر ایک مکمل سائز کا کان جراحی کے ذریعے تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد آواز کو منتقل کرنا تھا۔یہ کان ایک گردے کی شکل کے سلیکون امپلانٹ میں نمکین محلول (Saline Solution) انجیکٹ کر کے بنایا گیا، جس سے اضافی جلد (skin) پیدا ہوئی جسے سرجنز نے مطلوبہ شکل دینے کیلئے تراشا اور ڈھالا۔ پہلی سرجری سے صحت یاب ہونے کے بعد Stelarc کے منصوبے کا اگلا مرحلہ ایک ایسا کان تیار کرنا تھا جو واقعی سن بھی سکتا ہو۔ اس مقصد کیلئے امپلانٹ کے اندر ایک چھوٹا سا مائیکروفون نصب کیا گیا۔اگرچہ اس کا بازو مکمل طور پر پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا اور سرجن بھی ماسک کے پیچھے سے گفتگو کر رہے تھے، لیکن فنکار اس بات پر بے حد خوش ہوا کہ یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اسے واضح طور پر اپنے سرجن کی آواز اس وائرلیس ٹرانسمیٹر کے ذریعے سنائی دے رہی تھی جو کان کے اندر نصب کیا گیا تھا۔بدقسمتی سے انفیکشن کی وجہ سے وہ تار (wire) نکالنا پڑا، تاہم Stelarc نے مستقبل میں دوبارہ آپریشن تھیٹر میں جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ ایک بار پھر ایک منی ایچر مائیکروفون نصب کیا جا سکے، جو انٹرنیٹ سے وائرلیس کنکشن قائم کرنے کے قابل ہو۔ اس طرح یہ کان ایک ایسے ریموٹ سننے والے آلے میں تبدیل ہو جائے گا جسے مختلف مقامات پر موجود لوگ استعمال کر سکیں گے۔انہوں نے اپنے ''Ear On Arm‘‘ پورٹ فولیو میں کہا کہ مثال کے طور پر، وینس میں موجود کوئی شخص میرے کان کے ذریعے وہ آوازیں سن سکتا ہے جو میں میلبورن میں سن رہا ہوں۔ یہ منصوبہ ایک جسمانی ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے، اسے نئی جگہ منتقل کرنے اور پھر اسے مختلف افعال کیلئے دوبارہ وائر کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ کام اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی ارتقائی جسمانی ساخت کو توڑ کر دیکھیں اور مائیکرو الیکٹرانکس کو جسم کے اندر ضم کریں۔ انسان نے نرم اندرونی اعضا اس لیے ارتقا کے ذریعے حاصل کیے تاکہ وہ دنیا سے بہتر طور پر تعامل کر سکے، اور اب ہم اضافی اور بیرونی اعضا بنا کر خود کو اس تکنیکی اور میڈیا سے بھرپور دور کے مطابق بہتر بنا سکتے ہیں جس میں ہم رہ رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کا ایک متبادل مقصد یہ ہے کہ ان کا کان ایک بلیوٹوتھ سسٹم کے طور پر کام کرے، جس میں ریسیور اور اسپیکر ان کے منہ کے اندر نصب ہوں۔ اسٹیلرک کے مطابق اگر آپ مجھے اپنے موبائل فون پر کال کریں تو میں آپ سے اپنے کان کے ذریعے بات کر سکتا ہوں، لیکن میں آپ کی آواز اپنے دماغ کے اندر سنوں گا۔ اگر میں اپنا منہ بند رکھوں تو صرف میں ہی آپ کی آواز سن سکوں گا۔اگر کوئی شخص میرے قریب ہو اور میں اپنا منہ کھول دوں تو وہ شخص بھی اس دوسرے فرد کی آواز کو میرے جسم کے ذریعے آتے ہوئے سن سکے گا، جیسے وہ کسی اور جسم کی صوتی موجودگی (acoustical presence) ہو جو کہیں اور موجود ہے۔اور جیسے جیسے Stelarc اپنے فن کے ذریعے انسانی جسم کی حدود کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں، ہم سب یہ دیکھنے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ انسانی جسم اور ہماری ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی مل کر آگے کیا تخلیق کر سکتے ہیں۔لہٰذا اس دلچسپ اور حیرت انگیز فنکار اور اس کی ذہین سرجیکل ٹیم کو مبارکباد-آپ سب واقعی ‘‘سرکاری طور پر حیرت انگیز'' ہیں!

World Malaria Day:ملیریا سے بچاؤ!

World Malaria Day:ملیریا سے بچاؤ!

شعور، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داریپاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 25اپریل کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس خطرناک مرض کے خلاف عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا اور اس کے خاتمے کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کے موقع پر مختلف تقاریب، سیمینارز اور آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو ملیریا کی وجوہات، علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے روشناس کرایا جا سکے۔ملیریا ایک مہلک متعدی بیماری ہے جو ہر سال دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا میں سالانہ 20 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جبکہ تقریباً 4 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ بیماری ایک سنگین مسئلہ ہے جہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جس کے باعث ملک کو ملیریا کے حوالے سے حساس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ بیماری ایک مخصوص مادہ مچھر، اینوفیلس، کے ذریعے پھیلتی ہے۔ جب یہ مچھر کسی متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے تو پلازموڈیم نامی جراثیم اس کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے، جو بعد ازاں دوسرے صحت مند افراد تک منتقل ہو کر بیماری پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ جراثیم انسانی جگر اور خون کے سرخ خلیات پر حملہ آور ہو کر جسم کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ملیریا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ملیریا کی علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، کپکپی، پسینہ آنا، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، متلی اور قے شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ علامات فوری ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ کچھ کیسز میں ان کے ظاہر ہونے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔اگرچہ ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ سب سے اہم بات صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہے کیونکہ مچھر گندے اور ٹھہرے ہوئے پانی میں افزائش پاتے ہیں۔ گھروں اور اردگرد کے ماحول میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے، پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھے جائیں اور نکاسی آب کا مناسب انتظام کیا جائے۔اس کے علاوہ گھروں میں مچھر مار اسپرے کا استعمال، دروازوں اور کھڑکیوں پر جالیاں لگانا، مچھر دانی کا استعمال اور جسم کو ڈھانپ کر رکھنا بھی مؤثر حفاظتی اقدامات ہیں۔ خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں احتیاط برتنا ضروری ہے کیونکہ یہ مچھر اسی وقت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال اور ماحول کو صاف رکھنا بھی اس مرض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ خطرہ بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کو ہوتا ہے، اس لیے ان کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مدیحہ گوہر:ایک عہد ساز فنکارہ (2018-1956ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مدیحہ گوہر:ایک عہد ساز فنکارہ (2018-1956ء)

٭...21ستمبر 1956ء کو فوجی افسر سید علی گوہر کے گھر کراچی میں پیدا ہوئیں۔٭... مدیحہ تین سال کی تھیں والد کا تبادلہ ہونے کے سبب پورے گھرانے کو لاہور شفٹ ہونا پڑا۔ یہی شہر بعد ازاں ان کا مستقل ٹھکانہ بنا۔ ٭...کانونٹ جیسس اینڈ میری لاہور سے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا۔ یہاں وہ نجم الدین ڈرامیٹک سوسائٹی کی صدر رہیں۔٭... مدیحہ نے 17سال کی عمر میں انور سجاد کے لکھے ہوئے کھیل ''سورج کو ذرا دیکھ‘‘ میں قوی خان کی منگیتر کا کردار کیا۔٭...1975ء میں کنیئرڈ کالج سے بی اے کرنے کے بعد 1979ء میں گورنمنٹ کالج سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ وہ یہاں ڈرامیٹک سوسائٹی کی سیکرٹری رہیں۔ ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ بطور لیکچرر پڑھایا۔٭...بطور سوشل ورکرانہوں نے ویمن ایکشن فورم کے پلیٹ فارم سے حنا جیلانی، عاصمہ جہانگیر، روبینہ سہگل سمیت دیگر کے ہمراہ صنفی امتیاز کیخلاف پوری توانائی سے آواز بلند کی۔٭... ضیاء دور میں دو بار جیل کی ہوا کھانا پڑی اور لیکچرر شپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے،اور ٹیلی ویژن پر ان کے ڈراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی٭...1983ء میں انہوں نے اجوکا تھیٹر قائم کیا، اس کا مقصد سماجی ا ور معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔٭...1985ء میں لندن یونیورسٹی کے رائل ہالوے کالج سے ''برصغیر کے تھیٹر پر مغربی اثرات‘‘ کے موضوع پر ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ٭...1987ء میں انہوں نے شاہد محمود ندیم سے شادی کی۔٭... اجوکا تھیٹر کے ذریعے بھارت سمیت نیپال، لندن اور لاس اینجلس میں بھی ڈرامے سٹیج کئے۔٭...پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کیلئے متعدد ورکشاپس منعقد کیں۔٭...تھیٹر کے موضوع پر برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، فلپائن، تھائی لینڈ، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں بین الاقوامی کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کی اور لیکچر دیئے۔اداکارہ فریال گوہر ،مدیحہ گوہر کی چھوٹی بہن ہیں۔ ٭...ہالینڈ کے شاہی ایوارڈ ''رائل پرنس ایوارڈ‘‘ سمیت سینکڑوں نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کئے۔٭...ادب اور ثقافت کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے 2003ء میں انہیں ''تمغۂ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭...2018ء میں معدے کے کینسر کے باعث ان کا انتقال 62برس کی عمر میں ہوا۔