ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
وادیِ سندھ کی تہذیب

وادیِ سندھ کی تہذیب

عالمگیر تمدن،سامی رابطہ اور الہامی روایت آثارِ قدیمہ کے ممتاز محقق رچرڈ ایچ میڈوز ( Richard H. Meadow) کے مطابق قدیم سندھی تہذیب محض ایک محدود جغرافیائی یا علاقائی تمدن نہیں بلکہ ایک طویل اور ہمہ گیر ثقافتی عہد کا نام ہے جس کی وسعت وادی سندھ اور ہاکڑا کے میدانوں سے نکل کر بلوچستان، چولستان، تھر، ساحلِ مکران، گجرات اور اس سے ملحقہ جزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیگر عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق بھی اس تہذیب کے اثرات مغرب کی جانب فارس اور عراق سے ہوتے ہوئے ترکیہ کے آخری خطوں تک پہنچے، حتیٰ کہ جارجیا اور آرمینیا میں ملنے والے کھنڈرات میں بھی اس کے نقوش نمایاں ہیں۔مارک کینویر اور جم شیفر نے قدیم سندھی تہذیب کو چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلا دور حجری یا نو حجری (Neolithic) کہلاتا ہے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وادیِ سندھ کی تہذیب اب تک معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین شہری تہذیب قرار پاتی ہے، جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کا عمومی اتفاق موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں مصر کی فراعینی تہذیب تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کی ہے جبکہ یونان (ایتھنز اور سپارٹا)، جنوبی امریکہ کی انکا، مایا اور ازٹیک تہذیبیں، نیز میسوپوٹیمیا (سومر اور بابل) اور عیلامی تہذیبیں اپنی تمام تر عظمت کے باوجود قدامت میں وادیِ سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔سات شہری ریاستیں اور بادِ ایمن کا تصوروادیِ سندھ کی تہذیب میں سات عظیم شہری ریاستوں کا ذکر ملتا ہے جن کے لیے بعض مؤرخین نے بادِ ایمن (Bad Imin) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان ریاستوں میں موئن جو دڑو، چہنوں جو دڑو، نال، آمری، ہڑپہ، نصیرآباد اور مہرگڑھ شامل ہیں۔ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زراعت اور تجارت اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ رزق کی فراوانی عام تھی اور غربت یا پسماندگی کے منظم آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غالباً اسی معاشی خوشحالی، امن اور سماجی توازن کے باعث ان ریاستوں نے مشترکہ تہذیبی شناخت کے طور پر ''بادِ ایمن‘‘ کو قبول کیا۔ویدک، غیر ویدک اور عربی روایاتسندھی تہذیب کو محض ویدک رشیوں کی پیداوار کہنا درست نہیں بلکہ یہ ویدی اور غیر ویدی عناصر کا ایک پیچیدہ اور بامعنی امتزاج ہے۔ مہا بھارت کے واقعات بالخصوص کوروؤں کی حمایت کرنے والے قبائل کے نام اگر عربی لسانی و تاریخی تناظر میں دیکھے جائیں تو قدیم تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو روشن ہوتے ہیں۔مثلاً شیمی قبیلہ جس کا ذکر شورکوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ملنے والی قدیم تحریروں میں شیمی پورہ کے نام سے ملتا ہے، عربی اور سبائی روایات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عربوں میں دادا کا نام پوتے کو دینا عام روایت تھی جس سے ہندی اوس اور عربی اوس (فرزندانِ سبا) کے مابین نسلی ربط واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح مہا بھارت کے شکست خوردہ فریق کے سردار راجہ کرن کا عربی متبادل ملکِ قرن بنتا ہے جو عربی تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔سید سلیمان ندوی نے سوامی دیانند سرسوتی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مہا بھارت کے زمانے تک ہندوستان میں عربی زبان نہ صرف سمجھی جاتی تھی بلکہ بولی بھی جاتی تھی جو برصغیر اور عرب کے مابین قدیم لسانی ربط کا واضح ثبوت ہے۔جغرافیائی ناموں کی تاریخی گردشہند اور سند محض نسلی نہیں بلکہ جغرافیائی اصطلاحات ہیں جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں۔ چوتھی صدی عیسوی تک جنوبی عرب کے بعض حصے ارضِ ہند کہلاتے تھے جبکہ ابلہ اور بصرہ جیسے مقامات بھی اسی نام سے معروف رہے۔ اوستائی دور میں ایران کا جنوبی حصہ بومِ ہندواں کہلاتا تھا اور عیلام کے بادشاہ کدراَدا کورماکو کو کدرتانِ ہندی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام شواہد ہند، سندھ اور عرب کے باہمی تاریخی ربط کو تقویت دیتے ہیں۔سندھی مہریں، رسم الخط اور مغربی تعصبسر جان مارشل نے 1925ء میں سندھی مہروں کا مطالعہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کا تعلق عراق کے اکدی دور تک جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہروں کو بائیں سے دائیں نہیں بلکہ دائیں طرف سے پڑھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بعد کے اکثر مغربی محققین نے دانستہ طور پر ان نوشتوں کو سامی، عربی یا عبرانی تناظر میں پڑھنے سے گریز کیا تاکہ وادیِ سندھ کی تہذیب کو الہامی روایت سے جوڑنے سے بچا جا سکے۔مولانا ابوالجلال ندوی اور ڈاکٹر خالد حسن قادری کا دوٹوک مؤقف ہے کہ قدیم سندھی نوشتے عربی کی ابتدائی صورت ہیں۔ مولانا ندوی کے مطابق چین کے سوا دنیا کی اکثر ابجدوںیونانی، لاطینی، عبرانی، عربی، اردو اور دیوناگری کا سلسلۂ نسب ہڑپہ کے نوشتوں سے جا ملتا ہے۔ اہرامِ مصر، موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار محض اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس علم کی یادگار ہیں جو نسلِ انسانی کو منتقل ہوا۔ مغرب آج بھی ان تہذیبوں کے کئی اسرار حل کرنے سے قاصر ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قدیم دنیا محض ابتدا نہیں بلکہ گہری روحانی اور علمی بنیادوں پر قائم تھی۔

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

صحت اور نفسیات کا اہم سوالڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ایک اہم سوال تیزی سے زیرِ بحث آ رہا ہے کہ بچوں کو سمارٹ فون کس عمر میں دیا جائے؟ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری میں سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشروں میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون عام ہوتے جا رہے ہیں۔ایک جامع تحقیق، جس میں 10 ہزار سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل تھا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر تک سمارٹ فون تھا، ان میں کئی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں ڈپریشن کی شرح زیادہ تھی۔ تقریباً 5.7 فیصد سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ڈپریشن پایا گیا جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سکرین ٹائم، سوشل میڈیا کا دباؤ اور آن لائن دنیا میں موازنہ کرنے کی عادت بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی زیادہ پایا گیا اور تقریباً 16 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے بجائے سکرین پر وقت گزارتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سمارٹ فون رکھنے والے بچے اوسطاً روزانہ تقریباً 17 منٹ کم سوتے ہیں۔ یہ معمولی فرق لگ سکتا ہے مگر مسلسل نیند کی کمی بچوں کی نشوونما، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جتنی کم عمر میں بچے کو سمارٹ فون دیا جائے اتنے ہی زیادہ صحت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے 12 سال کی عمر کے بعد فون لیتے ہیں ان میں بھی نیند کی کمی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگرچہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ صرف سمارٹ فون ہی مسائل کی وجہ ہے۔ کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کو فون کب ملا بلکہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر استعمال متوازن ہو، والدین کی نگرانی ہو، اور سکرین ٹائم محدود ہو تو خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں صورتحالپاکستان میں یہ مسئلہ کچھ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے ، مثال کے طور پرشہری علاقوں میں بچوں کو کم عمری میں موبائل فون مل جاتا ہے۔آن لائن کلاسز اور یوٹیوب نے سمارٹ فون کو ''تعلیمی ضرورت‘‘بنا دیا ہے اوروالدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے فون دے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ) کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بچوں میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ یہ تمام عوامل بچوں کے سکرین ٹائم کو بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور سماجی میل جول سے دور ہو رہے ہیں۔والدین کیا کریں؟ماہرین کے مطابق سمارٹ فون دینا کوئی غلط فیصلہ نہیں، لیکن اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ممکن ہو تو بچوں کو کم از کم 13 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سمارٹ فون دیں۔روزانہ استعمال کا وقت مقرر کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔بچوں کو سونے کے وقت فون سے دور رکھیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔ کھیل کود، واک اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔حقیقی زندگی میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سمارٹ فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنے کا ایک عمل ہے جس میں بچوں اور والدین دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حالیہ تحقیق واضح طور پر یہ اشارہ دیتی ہے کہ بچوں کو کم عمری میں سمارٹ فون دینا ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے ہو رہی ہے، والدین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط فیصلہ کریں۔اہم سوال یہ نہیں کہ بچے کو فون دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس حد تک دینا ہے۔اور یہی فیصلہ بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایفل ٹاور کا افتتاح 31 مارچ 1889ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی شاہکاروں میں سے ایک، ایفل ٹاور کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ٹاور فرانسیسی انجینئر گوستاو ایفل کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے فرانسیسی انقلاب کے 100 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ایفل ٹاور کی تعمیر 1887ء میں شروع ہوئی اور دو سال، دو ماہ اور پانچ دن میں مکمل ہوئی۔ابتدائی طور پر پیرس کے کئی ادیبوں اور فنکاروں نے اس کی مخالفت کی اور اسے شہر کے حسن کے خلاف قرار دیا مگر وقت کے ساتھ یہ نہ صرف پیرس بلکہ پورے فرانس کی پہچان بن گیا۔ آئزک نیوٹن کا انتقال 31 مارچ 1727ء کو عظیم برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا لندن میں انتقال ہوا۔ نیوٹن کو جدید سائنس کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، خصوصاً طبیعیات اور ریاضی کے میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین پیش کیے جنہوں نے کائنات کے طبعی نظام کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی کتاب Philosophiæ Naturalis Principia Mathematicaکو سائنس کی تاریخ کی سب سے اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کی دریافتوں نے نہ صرف سائنسی تحقیق کو نئی سمت دی بلکہ صنعتی انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی رکھی۔جارجیا ریفرنڈم31 مارچ 1991ء کو جارجیا میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں عوام نے سوویت یونین سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم میں تقریباً 99 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جو اس بات کا واضح اظہار تھا کہ جارجیا کے عوام سوویت کنٹرول سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد 9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔یہ واقعہ نہ صرف جارجیا بلکہ دیگر سوویت ریاستوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں آزادی کی تحریکیں تیز کر دیں۔یہ ریفرنڈم سرد جنگ کے خاتمے اور دنیا کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ٹیری شیاوو کا انتقال 31 مارچ 2005ء کو امریکہ میں ایک خاتون ٹیری شیاوو کا انتقال ہوا، جو ایک طویل قانونی اور اخلاقی تنازعے کا مرکز بنی رہی۔ وہ 1990ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد مستقل کومے کی حالت میں چلی گئی تھی۔اس کے شوہر اور والدین کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پیدا ہوا کہ آیا اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھا جائے یا نہیں۔ یہ معاملہ امریکی عدالتوں، سیاستدانوں، حتیٰ کہ امریکی کانگریس تک پہنچ گیا۔بالآخر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کی خوراک کی نالی ہٹا دی جائے جس کے بعد 31 مارچ 2005ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے اور طبی اخلاقیات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔

خلائی مخلوق کی تلاش!

خلائی مخلوق کی تلاش!

سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کر لئےسائنس کی دنیا میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے انسانیت کے تصورِ کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیقات میں سائنس دانوں نے زمین جیسے 45 سیارے دریافت کیے ہیں، جن میں زندگی کیلئے موزوں ماحول موجود ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ان سیاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں، یعنی انسانی پیمانے پر نسبتاً قریب۔ یہ دریافت نہ صرف خلائی تحقیق کیلئے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کائنات میں زندگی کی موجودگی ممکنہ حد تک وسیع اور متنوع ہو سکتی ہے۔ کیا خلائی مخلوق (ایلینز) موجود ہے، اور اگر ہیں تو وہ کہاں ہیں؟یہ سائنس کے سب سے بڑے اور حل طلب سوالات میں سے ایک ہے۔ اب سائنس دانوں نے ان سوالات کے جواب کی جانب ایک بڑا قدم بڑھا دیا ہے۔ ''کارل ساگن انسٹیٹوٹ‘‘(Carl Sagan Institute)کے ماہرین نے 45 زمین جیسے سیارے دریافت کیے ہیں جہاں ایلینز کیلئے موزوں حالات موجود ہو سکتے ہیں۔یہ تمام سیارے اُس علاقے میں واقع ہیں جسے قابلِ رہائش زون کہا جاتا ہے۔ وہ جگہ جو اپنے ستارے کے اتنے قریب نہیں کہ وہاں زیادہ گرمی ہو اور اتنی دور بھی نہیں کہ وہاں شدید سردی ہو۔ اس زون میں ہونے کا مطلب ہے کہ ان سیاروں کی سطح پر پانی موجود ہونے کا امکان ہو سکتا ہے، جو زندگی کیلئے ایک بنیادی جزو ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ سیارے صرف چند دہائیوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل میں ہم ان تک پہنچ بھی سکتے ہیں۔اس تحقیق کی مصنفہ پروفیسر لیزا (Professor Lisa Kaltenegger) کے مطابق زندگی ہمارے موجودہ تصورات سے کہیں زیادہ متنوع ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ جاننا کہ 6ہزار معروف سیاروں میں سے کون سے سیارے ممکنہ طور پر غیر زمینی زندگی کی میزبانی کر سکتے ہیں، نہایت اہم ہو سکتا ہے۔ہمارا مقالہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی تلاش کرنے کیلئے کہاں جانا چاہیے۔اپنی نئی تحقیق میں ٹیم نے ان سیاروں میں سے 45 ایسے سیارے مخصوص کیے ہیں جو قابلِ رہائش زون میں زندگی کی حمایت کر سکتے ہیں، اور اس کے علاوہ 24 دیگر سیارے ایک تنگ تر 3D قابلِ رہائش زون میں واقع ہیں۔ان میں کچھ ایسے سیارے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں آپ نے پہلے سنا ہو گا، جیسے '' Proxima Centauri b‘‘، ''TRAPPIST-1f‘‘ اور ''Kepler 186f‘‘۔دوسری جانب، کچھ سیارے اتنے معروف نہیں، جیسے ''TOI-715 b‘‘، یہ سیارہ زمین سے 137 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے صرف تین سال قبل TESS سیٹلائٹ نے دریافت کیا تھا۔ تحقیق کاروں کے مطابق سب سے دلچسپ سیارے ''TRAPPIST-1 d,e, f ,g,‘‘ ہیں، جو زمین سے صرف 40 نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔بدقسمتی سے، ناسا کے مطابق فی الحال ''TRAPPIST-1‘‘نظام تک پہنچنے میں کم از کم 8لاکھ سال لگیں گے۔تاہم، جیسے ہی خلائی جہاز جدید ٹیکنالوجیز جیسے نیوکلیئر پلس پروپلشن استعمال کرنا شروع کریں گے، ممکن ہے کہ یہ وقت صرف چند صدیوں تک کم کیا جا سکے۔ اسی دوران، محققین ان سیاروں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو اپنے ستاروں سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں جو زمین آج سورج سے حاصل کرتی ہے، کیونکہ یہ زندگی کیلئے موزوں حالات کے امکان کو بڑھاتا ہے۔اگرچہ قابلِ رہائش ( habitable zones) کے اندر موجود یہ سیارے خلائی مخلوق (ایلینز) کی تلاش کیلئے امید پیدا کرتے ہیں، لیکن محققین کو یہ بھی توقع ہے کہ قابلِ رہائش علاقے کے کنارے پر واقع سیارے اس بات کو سمجھنے میں مدد دیں گے کہ زندگی کیلئے موزونیت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ مطالعے کے مصنف گیلس لوری (Gillis Lowry) کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی چیز کسی سیارے کو زندگی کیلئے زیادہ موزوں بناتی ہے، لیکن یہ جاننا کہ کہاں تلاش کرنی ہے، پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ہمارے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یہ بتا سکیں کہ مشاہدے کیلئے بہترین اہداف کون سے ہیں۔اس تحقیق کے دوران ٹیم نے ان 45 سیاروں کے مشاہدے کے بہترین طریقے بھی متعین کیے۔ ان میں ''جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘، نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ( جسے 2027ء میں لانچ کیا جائے گا) اور ''ایکسٹریم لی لارج ٹیلی اسکوپ ( جس سے 2029ء میں پہلی روشنی حاصل ہونے کی توقع ہے) شامل ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق کی توجہ بیرونِ شمسی سیاروں (Exoplanets) پر تھی، لیکن سائنسدان اس سے قبل یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ممکن ہے خلائی مخلوق ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں بھی کہیں موجود ہو۔یونیورسٹی آف واروک سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ آرمسٹرانگ کے مطابق ''زمین پر ہمیں تقریباً ہر اس جگہ زندگی ملتی ہے جہاں پانی ہو، اس لیے خلائی زندگی کی تلاش کیلئے سب سے آسان جگہ بھی وہی ہے جہاں پانی پایا جائے‘‘۔خلائی مخلوق کی تلاش کیلئے سب سے زیادہ امید افزا جگہ وہ سمجھی جاتی ہے جو زحل اور مشتری کے گرد گردش کرنے والے کچھ چاندوں کے زیر سطح سمندروں میں موجود ہو سکتی ہے۔زحل کا چاند ''اینسیلاڈس‘‘ (Enceladus) اس حوالے سے خاص طور پر ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے جنوبی قطب سے مسلسل مائع پانی کے فوارے خارج ہوتے رہتے ہیں، جو زندگی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔اسی طرح ٹائٹن (Titan)، جو زحل کا ایک اور برفیلا چاند ہے، کو بھی خلائی حیات کی تلاش میں ایک اہم امیدوار قرار دیا گیا ہے۔

ٹمبکٹو: صحرا کے سینے میں علم و تہذیب کا عظیم مرکز

ٹمبکٹو: صحرا کے سینے میں علم و تہذیب کا عظیم مرکز

افریقہ کے مغربی حصے میں واقع ملک مالی کا تاریخی شہر ٹمبکٹو(Timbuktu) صدیوں سے علم، تہذیب اور تجارت کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ صحرائے اعظم (صحارا) کے کنارے آباد یہ شہر بظاہر ریت کے سمندر میں ایک خاموش بستی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی تاریخ انسانی شعور، فکری ارتقا اور علمی عظمت سے بھرپور ہے۔ ٹمبکٹو کو دنیا بھر میں ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں علم کی روشنی نے اندھیروں کو مات دی اور جہاں سے علمی و فکری تحریکوں نے جنم لیا۔ٹمبکٹو کی بنیاد تقریباً بارہویں صدی میں رکھی گئی، جب یہ علاقہ تجارتی قافلوں کا اہم پڑاؤ بن گیا۔ شمالی افریقہ اور صحارا کے پار علاقوں سے آنے والے تاجر یہاں سونا، نمک، ہاتھی دانت اور دیگر قیمتی اشیاء کی تجارت کرتے تھے۔ اس شہر کی جغرافیائی اہمیت نے اسے جلد ہی ایک تجارتی مرکز میں تبدیل کر دیا، لیکن اس کی اصل پہچان اس وقت بنی جب یہ علم و دانش کا گہوارہ بنا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں ٹمبکٹو نے اپنی عروج کی انتہا کو چھوا۔ اس دور میں یہاں کی درسگاہیں اور مدارس دنیا کے ممتاز تعلیمی مراکز میں شمار ہونے لگے۔ خصوصاً سنکور یونیورسٹی (Sankore University )نے اسے عالمی شہرت دی، جہاں ہزاروں طلبہ دینیات، فلسفہ، فلکیات، طب اور ریاضی جیسے علوم حاصل کرتے تھے۔ اس زمانے میں ٹمبکٹو کو ‘‘افریقہ کا آکسفورڈ'' بھی کہا جاتا تھا، جو اس کی علمی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ٹمبکٹو کی مساجد بھی اس کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ جِنگیریبر مسجد (Djinguereber Mosque)، جو چودھویں صدی میں تعمیر کی گئی، نہ صرف عبادت کا مرکز تھی بلکہ علمی سرگرمیوں کا بھی محور تھی۔ اس کے علاوہ سانکورے مسجد اور سیدی یحییٰ مسجد بھی اس شہر کی تاریخی و مذہبی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان مساجد کا منفرد مٹی سے بنا ہوا فن تعمیر آج بھی سیاحوں اور ماہرین فن کو حیران کر دیتا ہے۔ٹمبکٹو کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کے نایاب مخطوطات (Manuscripts) ہیں۔ یہاں ہزاروں قدیم کتابیں اور دستاویزات محفوظ کی گئی تھیں، جن میں سائنس، تاریخ، فقہ، ادب اور دیگر علوم پر قیمتی معلومات درج ہیں۔ یہ مخطوطات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افریقہ میں علم و تحقیق کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے، جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان قیمتی علمی خزینوں کی حفاظت کیلئے مختلف ادوار میں مقامی افراد اور عالمی اداروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم ٹمبکٹو کی تاریخ صرف عروج کی داستان نہیں بلکہ زوال کی کہانی بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سترہویں صدی کے بعد جب تجارتی راستے تبدیل ہوئے اور یورپی طاقتیں ساحلی علاقوں میں مضبوط ہونے لگیں تو ٹمبکٹو کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ اس کے باوجود یہ شہر اپنی علمی اور ثقافتی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اکیسویں صدی میں ٹمبکٹو کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب 2012ء میں شدت پسند گروہوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا اور کئی تاریخی مزارات اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ نہ صرف مالی بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک ثقافتی سانحہ تھا۔ بعد ازاں بین الاقوامی کوششوں کے نتیجے میں ان تاریخی مقامات کی بحالی کا کام شروع کیا گیا، اور آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ٹمبکٹو کو یونیسکو (UNESCO) نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کا اعتراف ہے۔ یہ شہر نہ صرف افریقہ بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی گلیوں، مساجد اور کتب خانوں میں ایک ایسی تاریخ سانس لیتی ہے جو ہمیں علم، برداشت اور تہذیب کی قدروں کا درس دیتی ہے۔آج کے دور میں، جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ٹمبکٹو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ علم اور ثقافت کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ یہ شہر اس بات کی زندہ مثال ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی علم کی شمع روشن رکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ وقت نے اس کی چمک کو کچھ مدھم ضرور کیا ہے، لیکن اس کی تاریخی اور علمی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

سماج

سماج

بچپن میں بھوتوں پریتوں کی فرضی کہانیاں سننے کے بعد جب سچ مچ کی کہانیاں پڑھیں تو ان میں عموماً ایک مشکل سا لفظ آیا کرتا۔ سب کچھ سمجھ میں آجاتا، لیکن وہ لفظ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس لفظ کا پتہ ہی نہ چل سکا۔ وہ لفظ ہے ''سماج‘‘۔ یوں تو یہ لفظ آسان سا ہے، اس کے معنی برادری یا معاشرہ وغیرہ ہوں گے۔ لیکن پتہ نہیں اس جماعت کے لوگ بستے کہاں ہیں اور کیوں بات بات پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ لوگوں کو کچھ کرنے نہیں دیتے، کسی کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ نہ جانے اس جماعت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اور یہ لوگ کیوں سکون کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی یہ سننے میں آیا۔ ظالم سماج، خوفناک سماج، مکروہ سماج، سنگ دل سماج!کچھ یوں معلوم ہوتا جیسے سماج کوئی بیہودہ سا آوارہ گرد شخص ہے۔ جس کا کام دن بھر ظلم کرنا اور لوگوں کو ڈرانا ہے، چنانچہ بچپن میں جتنا شیطان سے ڈرلگتا اتنا ہی سماج سے ڈرا کرتے۔ اس کے بعد ایک اور دماغی تصویر بن گئی۔ یہ لفظ بڑے بڑے دکھائی دینے لگے۔ سماج کا شکار۔ سماج کے تیز پنجوں میں حقیر سی جان۔ سماج کے بھیانک منہ کا نوالہ۔ کئی سال تک ہمارے لیے سماج ایک ڈراؤنا سا جانور رہا جو اونٹ کی طرح بے تکا، ریچھ کی طرح مکار اور بھدا اور چیتے کی طرح خوفناک تھا۔ کوئی پوچھے کہ یہ اونٹ ریچھ وغیرہ اکٹھے کیسے ہوگئے؟ بس یونہی ہوگئے۔ لڑکپن ہی تو تھا اور پھر سماج کوئی سادہ سی چیز تو نہیں۔ خیر کتنے ہی دنوں ہم سماج کو خوفناک درندوں میں گنتے رہے۔اس کے بعد ذرا عقل مند ہوئے۔ اب سماج پر ایک نقاد کی طرح غور کیا تو چند اور الفاظ کھٹکنے لگے۔ سماج کے ٹھیکے دار، سماج کے اجارہ دار۔ نتیجہ جو نکلا تو افسوس ہوا کہ اب تک سماج کو بالکل غلط سمجھتے رہے۔ سماج تو ایسی چیز ہے جس کا ٹھیکہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ کوئی تجارتی جنس ہوگی۔ یا شاید کاروباری چیزوں میں سے کچھ ہو۔ بہرحال ہمیں یہ ضرور معلوم ہو گیا کہ سماج کا ٹھیکہ لینا آسان نہیں۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں، کیونکہ بچہ بچہ ان ٹھیکے داروں کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے۔ ساری خلقت ان کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑی ہوئی ہے۔کتنے دنوں ہمیں یہی تلاش رہی کہ کسی سماج کے ٹھیکے دار کا بغور ملاحظہ کریں۔ بازاروں میں تلاش کی، گلی کوچوں میں پھرے، ہر قسم کے ٹھیکے دار دیکھے۔ کوئلے کے، لکڑی کے، عمارتوں کے اور نہ جانے کس کس چیز کے۔ لیکن اس قسم کا ٹھیکے دار کہیں نہ ملا۔ سیانے لوگوں سے کہا کہ آپ ہی یہ مشکل آسان کردیجیے، لیکن کوئی مدد پر آمادہ نہ ہوا۔ پھر ایک خاتون سے جن کے ہر افسانے کے ہر صفحے پر ہر پانچ چھ سطروں کے بعد سماج کا لفظ آتا تھا، ملنے گئے اور بڑی عاجزی سے کہا کہ محترمہ آپ کو تو ان ٹھیکے داروں کا اتہ پتہ معلوم ہوگا۔ اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو اس خاکسار سے ملا دیں، تو ایک بوجھ میرے سینے سے اتر جائے۔ لیکن وہ یہی سمجھیں کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔سماج کی کہانیوں میں عموماً ایک مزدور کی محبت کسی امیر لڑکی سے ہوجاتی ہے۔ فریقین مختلف ذات پات کے ہوتے ہیں۔ آنکھ جھپکتے ہی محبت ہوجاتی ہے۔ پریم کی شراب نینوں میں چھلکنے لگتی ہے۔ پریم کے تیر نینوں کو چیر کر دلوں میں کھب جاتے ہیں۔ پھر رسوائی ہوتی ہے اور رسوائی کیا اچھی خاصی پبلسٹی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں نہ کچھ ہونا تھا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن سماج نہ جانے کہاں سے بیچ میں آجاتا ہے۔ سماج کے ٹھیکے داروں سے اپیل کی جاتی ہے۔ پھر بغاوت ہوتی ہے اور محض سماج کی ضد میں ہیرو ہیروئن کو لے کر بھاگ نکلتا ہے۔ اگر ہیروئن پوچھے کہ بھلا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ دور۔۔۔ دور۔۔۔! اس مکر و فریب کی دنیا سے بہت دور! جہاں آشائیں مچلتی ہیں۔ جہاں امنگیں پنپتی ہیں۔۔۔ جہاں سماج کا خوفناک پنجہ معصوم روحوں کا تعاقب نہیں کرتا۔ وغیرہ۔اس قسم کی جگہ کی مجھے بڑی تلاش رہی ہے۔ خاص طور پر امتحان کی تیاری کے دنوں میں، تاکہ یکسوئی سے پڑھ سکوں۔ کوہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے سی پی کے جنگلوں تک اور وہاں سے سندھ کے ریگستانوں تک جاکر دیکھ لیا، لیکن اس قسم کی پرسکون جگہ کہیں نہیں ملی۔ جہاں بھی گیا وہاں وہی مکر و فریب کی قسم کی دنیا ملی۔فرض کیا وہ دونوں چل پڑے۔ اب کہانی لکھنے والے کی ڈیوٹی ہے کہ وہ یا تو دونوں کی، ورنہ کم از کم ایک کی تو ضرور خودکشی کروا دے۔ ورنہ پھر کہانی ہی کیا رہی۔ اور اگر ایک انتقال کر گیا (یا کر گئی) تو دوسرے کا انجام بھی نزدیک ہی ہے۔ عموماً یہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں اکٹھے سماج کے چنگل میں آ جاتے ہیں اور شہیدانِ محبت کی لاشیں کسی دریا میں تیرتی ملتی ہیں۔ یا یوں ہوتا ہے کہ ایک کچھ دیر پہلے مرتا ہے اور دوسرا اس کی لاش پر چیخ مارکر گرتا ہے اور مرجاتا ہے۔ میری حقیر رائے میں اس قسم کی موت بہت مشکل ہے۔ مشکل کیا ایک حدتک ناممکن ہے۔ پھر یہ فقرہ آتا ہے، ''ان معصوم ہستیوں کی یاد میں جو سماج کی بھینٹ چڑھ گئیں‘‘۔ اور آخر میں سماج پر دل کھول کر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اسے خوب کوسا جاتا ہے۔ گالیاں دی جاتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھلا ایک مزدور سے کس حکیم نے کہا ہے کہ وہ ضرور ایک سیٹھ کی لڑکی سے محبت کرے۔ بالفرض وہ محبت کر بھی لے تو پھر خواہ مخواہ اس سے شادی کرنے پر بھی اتر آئے۔ کم از کم یہی سوچ لے کہ اسے لاکر بٹھائے گا کہاں۔ اس قسم کے لوگ سماج کو کوسنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے عملی باتوں پر غور کرلیا کریں تو یقیناً افاقہ ہوگا۔