ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دیو ہیکل سبزیاں

دیو ہیکل سبزیاں

انگلینڈ میں منفرد مقابلہ، غیر معمولی حجم اور وزن والی سبزیاں توجہ کا مرکزسبزیوں کا شمار عام طور پر روزمرہ خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن برطانیہ کے شہر مالورن میں ہونے والا ایک منفرد مقابلہ انہیں غیر معمولی شہرت بخش دیتا ہے۔ یہاں کاشت کار اور شوقیہ باغبان ایسی سبزیاں اگانے کیلئے برسوں محنت کرتے ہیں جو اپنے غیر معمولی حجم اور وزن کے باعث دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ دیوہیکل کدو، گاجر، گوبھی اور دیگر سبزیوں کی نمائش نہ صرف باغبانی کے شوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ محنت، تجربے اور قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس سال بھی مالورن میں کئی ''دیوہیکل سبزیوں‘‘ نے سبقت حاصل کی ہے۔برطانیہ میں خزاں کا موسم آچکا ہے اور کینا یو کے نیشنل جائنٹ ویجیٹیبلز چیمپئن شپ کا وقت آگیا ہے۔یہ انتہائی متوقع مقابلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مالورن آٹمن شو میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس غیر معمولی جسامت کی سبزیوں کو دیکھنے کیلئے اس شو کا رخ کرتے ہیں۔ 25 سے 27 ستمبر تک منعقد ہونے والے اس سال کے مقابلے میں آنے والے شائقین کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ہفتے کے اختتام پر پانچ باغبانوں کی اگائی ہوئی مجموعی طور پر سات غیر معمولی جسامت کی سبزیوں اور پھلوں نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی تصدیق حاصل کی۔یہ سات ریکارڈ توڑنے والی سبزیوں اور پودوں میں ایک دیوہیکل چقندر بھی شامل تھا، جس کا ریکارڈ 2019ء سے ناقابلِ شکست چلا آ رہا تھا۔ اس کے علاوہ بٹرنٹ اسکواش کی ایک انتہائی طویل قسم ''ٹرومبونچینو‘‘ بھی شامل تھی، جبکہ شاید بہت سے لوگوں کیلئے سب سے حیران کن چیز وہ پودا تھا جسے عام طور پر باغیچے کی ایک ناپسندیدہ جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ریکارڈ قائم ہونا اس لحاظ سے بھی خاصا متاثر کن ہے کہ رواں موسمِ گرما کے دوران برطانیہ کو کئی مرتبہ طویل اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ثابت قدم باغبانوں سے گفتگو کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس انتہائی موسم کا بھی حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔مقابلے میں شامل تمام امیدواروں کی چیف جج اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دیوہیکل سبزیوں کے ماہر سیباسٹین سوسکی نے انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے ہر زمرے کے مقررہ قواعد کے مطابق شرائط پوری ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد سبزیوں اور پودوں کی پیمائش اور وزن کرنے کا اہم مرحلہ مکمل کیا گیا۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کامیاب نمونوں کا قریب سے معائنہ کیا اور ان کے کاشت کاروں کو سرٹیفکیٹس پیش کیے۔کیون فورٹی، جنہیں ''مسٹر جائنٹ ویج‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس سال ان دو کاشت کاروں میں شامل تھے جنہوں نے دو، دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ دوسرے کاشت کار ونسنٹ سجوڈن تھے۔ کیون فورٹی کے خاندان میں دیوہیکل سبزیاں اگانے کی روایت تین نسلوں سے چلی آ رہی ہے اور اب تک خاندان کے افراد مجموعی طور پر 17 عالمی اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔فورٹی کا کہنا ہے کہ ان کی نگاہیں 20 عالمی ریکارڈز کا سنگ میل عبور کرنے پر ہیں۔سب سے پہلے فورٹی نے سب سے بھاری لوفا کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لوفا ایک بیل دار گرم خطے کا پودا ہے، جس کے خشک ہونے کے بعد اس کے پھل کو عموماً باتھ روم میں استعمال ہونے والے قدرتی اسفنج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فورٹی نے ایک بالکل نئے زمرے میں بھی پہلا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا، جو سب سے لمبی ٹرومبونچینو کا تھا۔ شمالی اٹلی سے تعلق رکھنے والی یہ لمبی اور خمدار اسکواش کی زیادہ سے زیادہ لمبائی حاصل کرنے کیلئے باغبان کے سامنے اصل چیلنج یہ تھا کہ پھل کو سیدھا رکھا جائے۔ ٹرومبونچینو بھی بحیرہ روم کے خطے کی ایک ایسی سبزی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ کے باغبانوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔2026ء میں عالمی ریکارڈ کیلئے ایک اور نیا زمرہ سب سے لمبی ڈینڈیلائن کی جڑ کا متعارف کرایا گیا۔ اگرچہ مقابلے میں نمائش کیلئے پیش کی جانے والی دیگر سبزیوں کے مقابلے میں ڈینڈیلائن شاید زیادہ معروف نہ ہو، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پودے کے تمام حصے قابلِ خوراک ہیں۔ اس کے پتے اور پھول سلاد میں استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ جڑ کو چائے کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے بھون کر کافی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔واروک شائر سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے باغبانی کے شعبے سے وابستہ ماہر اور یوٹیوبر ٹیری کنگ کئی برسوں سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بالآخر اپنا پہلا گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنا ان کیلئے ایک خواب پورا ہونے کے مترادف تھا۔

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہےدنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانوں میں جانوروں کے حقوق، ان کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحول میں ان کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ جانور قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور زمین پر زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان صدیوں سے مختلف جانوروں سے خوراک، لباس، زراعت، نقل و حمل اور دیگر ضروریات کیلئے فائدہ اٹھاتا آیا ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انسانی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سال یہ دن ''ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔جانوروں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1925ء میں جرمنی کے شہر برلن میں منایا گیا تھا۔ بعدازاں یہ دن دنیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ 4اکتوبر کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مسیحی روایت میں جانوروں اور قدرتی ماحول کے سرپرست سمجھے جانے والے سینٹ فرانسس آف اسیسی سے منسوب دن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج مختلف ممالک میں جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔جانوروں کی دنیا انسانوں سے کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ جنگلات، پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور سمندروں میں لاکھوں اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ہر نوع قدرتی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور تتلیاں پودوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہیں، پرندے بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ بہت سے جانور قدرتی خوراکی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ کسی ایک نوع کی تعداد میں غیر معمولی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے متعدد جانوروں کو بقا کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار، آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت نے کئی انواع کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بعض جانوروں کی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں جبکہ کئی دیگر معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بہت سے جانوروں کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔شہری علاقوں میں بھی جانوروں کے ساتھ رویہ معاشرے کی اخلاقی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پالتو جانوروں کو مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آوارہ کتوں اور بلیوں کے ساتھ تشدد کے بجائے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی تعداد کو منظم کیا جانا چاہیے۔ زخمی یا بیمار جانور کو تکلیف پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ماہرین حیوانات سے مدد حاصل کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں مخلوقات خدا کے ساتھ رحم، شفقت اور ذمہ داری کا درس ملتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں جانوروں کے ساتھ رحم کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔جانوروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسانوں کیلئے نہیں۔ قدرت نے تمام جانداروں کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں ہر مخلوق کا اپنا مقام اور کردار ہے۔ جانوروں کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انسان ترقی کے ساتھ رحم، ذمہ داری اور ماحول دوستی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف جانور محفوظ رہیں گے بلکہ ہماری اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک متوازن اور صحت مند دنیا برقرار رہ سکے گی۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

٭... 9 جون 1938ء کو سندھ کے شہر میرپور خاص میں پیدا ہوئے، پورا نام مسعود احمد رانا تھا۔ ٭...1955ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا۔٭...60ء کے عشرے میں میوزک بینڈ بنایا، جس میں اداکار ندیم اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔٭...1962ء میں فلم ''انقلاب‘‘ سے فلمی گیت گانے کی خواہش پوری ہوئی۔٭...ہلکے پھلکے رومانوی گیت ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ یا پھر لمبی تانیں وہ ہر قسم کے گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ٭...پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائیں۔٭... فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے، جنھوں نے 600 سے زائد فلموں کیلئے نغمہ سرائی کی۔٭... پہلی فلم ''انقلاب‘‘ سے لے کر اپنی آخری فلم ''سناٹا‘‘ تک فلمی صنعت کی ضرورت بنے رہے۔٭...34سالہ کریئر میں ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔ ٭...ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں ''پاکستانی رفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ٭...منفرد لہجے کے حامل اس گلوکار نے مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔٭...ان کے گیتوں سے سجی فلموں میں ''آئینہ، دھڑکن، مجاہد، نائلہ، کون کسی کا، بھیّا، سنگ دل، پاک دامن، احساس، دامن اور چنگاری، میرا ماہی، مرزا جٹ، دھی رانی،دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی،چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام‘‘ نمایاں ہیں۔٭... تین موسیقاروں کے ساتھ سو، سو سے زائد گیت بھی گائے، جن میں بابا جی اے چشتی، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔٭...دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ 4 اکتوبر1995ء کو غروب ہو گیا۔حمد،نعت ، قوالی٭...مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا٭...وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے٭...کرم کی اک نظر ہم پر خدارا، یا رسول اللہﷺ ٭...مدینے والے کو میرا سلام کہہ دینا ٭...مولا تیرا کرم ہے ، ہمیں مصطفیﷺ ملے٭...داتا ،میرے، جھولی بھر دے، میں سوالی تیرے در کاملی نغمے٭...ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ٭...سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے٭...ساتھیو، مجاہدو، جاگ اْٹھا ہے سارا وطن ٭...اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں٭...اے وطن، اسلام کی امید گاہ آخری، تجھ پر سلاممقبول گیت٭...تمہی ہو محبوب میرے،میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں٭...ٹانگے والا خیر منگدا ٭...عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی٭...تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے٭...برا مان کر کہاں چل دیئے،٭...حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتا ہے٭...دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری٭...میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا٭...اک سانولی سی لڑکی میرے دل کو بھا گئی ٭...نہ جا میرے دلربا، سن لے دل کی صدا

آج کا دن

آج کا دن

اسپیس شپ ون کی تاریخی کامیابی4اکتوبر 2004ء کو نجی خلائی پرواز کے شعبے میں اسپیس شپ ون نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ''انصاری ایکس پرائز‘‘ جیتا۔ یہ انعام ایسی نجی ٹیم کیلئے مقرر کیا گیا تھا جو انسان بردار خلائی پرواز کی مخصوص شرائط کامیابی سے پوری کرے۔ اسپیس شپ ون نے کامیاب پروازوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ نجی شعبہ بھی انسانوں کو خلا کی حدود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں تاریخی ڈکیتی کی واردات1997ء میں آج کے روز امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ملک کی تاریخ کی دوسری بڑی ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واردات میں لومِس فارگو نامی سکیورٹی اور نقد رقم منتقل کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی مقدار میں نقد رقم لوٹ لیے جانے کے باعث یہ واقعہ امریکی تاریخ کی نمایاں ترین ڈکیتیوں میں شمار ہوا۔ رومی امن معاہدہ''روم جنرل پیس ایکارڈز‘‘ ایک امن معاہدہ تھا جو موزمبیق اوررینیامو کی حکومت کے درمیان طے پایا تھا، جس سے 4 اکتوبر 1992ء کو موزمبیقن خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔اس امن معاہدہ کی وجہ سے 16برسوں سے جاری سول جنگ کا خاتمہ ہوا۔یہی وجہ تھی کہ اس معاہدے کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔سانحہ ایسٹرن ایئر لائنز 1960ء میں آج کے روز ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز 375 بوسٹن کو حادثہ پیش آیا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد جہاز کا سامنا پرندوں کے جھنڈ سے ہوا،کچھ پرندے انجن میں داخل ہوگئے۔ انجن بند ہوتے ہی جہاز بے قابو ہوکر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں72افراد ہلاک جبکہ62افراد زخمی ہوئے۔

ایپل کے مہنگے ترین موبائل

ایپل کے مہنگے ترین موبائل

جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائنآئی فون ڈیو تقریباً59لاکھ روپے کا ،''پالمیٹ18کے‘‘ ہیروں سے مزینٹیکنالوجی کی دنیا میں جدید سمارٹ فونز جہاں نت نئے فیچرز اور منفرد ڈیزائن کے باعث صارفین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں، وہیں بعض کمپنیاں اور لگژری برانڈز ان آلات کو محض ضرورت کے بجائے شان و شوکت کی علامت بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایپل کے فولڈ ایبل ''آئی فون ڈیو‘‘ کے ''لیکوئیڈ میٹل‘‘ ورژن نے اپنی غیر معمولی قیمتوں کے باعث ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ ایپل کے اس خصوصی فون کی قیمت تقریباً 59لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جو اسے عام اسمارٹ فونز سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائن کے امتزاج سے تیار کیا گیا یہ ماڈل اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ صارفین جدید موبائل فون کیلئے آخر کتنی بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ایپل کا اب تک کا سب سے مہنگا آئی فون رواں ماہ کے آغاز میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں اس فولڈ ایبل ڈیوائس کی قیمت 1,999 سے 3,199 پاؤنڈ کے درمیان ہے، جو ایپل کے جدید ترین فلیگ شپ فونز ''آئی فون 18 پرو‘‘ اور ''آئی فون 18 پرو میکس‘‘ سے بھی زیادہ ہے، جن کی ابتدائی قیمت 1,199 پاؤنڈ ہے۔آئی فون ڈیو کا یہ نرخ بھی اس کے ایک خصوصی ماڈل کے مقابلے میں معمولی دکھائی دیتا ہے۔ اسے لگژری کمپنی کیویار (Caviar) نے تیار کیا ہے۔''لیکوئیڈ میٹل‘‘ (Liquid Metal) کے نام سے متعارف کرایا گیا خصوصی فون مکمل طور پر اسٹرلنگ سلور (خالص چاندی کی مخصوص قسم) سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق ''اس کی سطح حرکت میں منجمد دھات کا تاثر دیتی ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عکس فون کی ساخت میں گہرائی اور سیال پن کو مزید نمایاں کرتے ہیں‘‘۔ تاہم، اگر آپ یہ منفرد فون حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے خاصی بڑی رقم خرچ کرنا ہوگی۔ لیکوئیڈ میٹل آئی فون ڈیو کی قیمت 21,340 ڈالر (تقریباً 59لاکھ روپے) تک ہے، جو ایپل کے پیش کردہ آئی فون ڈیو سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔کیویار کے مطابق، لیکوئیڈ میٹل ورژن ایپل آئی فون میں موجود تبدیلی کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے اور اسمارٹ فون کو ایک ہموار دھاتی ساخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے مطابق، ''مجسمہ نما سیال لکیریں فون کی نئی ساخت کو نمایاں کرتی ہیں اور مسلسل حرکت کا احساس پیدا کرتی ہیں، گویا ڈیوائس کے ساتھ اس کی سطح بھی خود تبدیل ہو رہی ہو‘‘۔جہاں تک اس میں استعمال ہونے والے مواد کا تعلق ہے، کمپنی نے آئینے جیسی چمک رکھنے والی اسٹرلنگ سلور کا انتخاب کیا ہے۔ کیویار نے مزید بتایا کہ اسٹرلنگ سلور کو مجسمہ نما ابھری ہوئی ساخت میں ڈھالا گیا ہے اور اسے آئینے جیسی چمک کے ساتھ پالش کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق، اس خصوصی فون کے صرف 17 یونٹ تیار کیے گئے ہیں۔ 256 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 18,840 ڈالر جبکہ 512 جی بی ورژن کی قیمت 19,200 ڈالر ہے۔ اسی طرح 1 ٹی بی اسٹوریج والا ماڈل 19,910 ڈالر میں دستیاب ہے۔ دوسری جانب سب سے مہنگا 2 ٹی بی ورژن 21,340 ڈالر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کیویار نے ایپل کے فلیگ شپ ڈیوائسز آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کو بھی لگژری انداز میں پیش کیا ہے۔ کمپنی نے ان دونوں فونز کے 76 خصوصی کسٹم ورژنز تیار کیے ہیں، جن کی قیمت 7,130 ڈالر سے شروع ہو کر 8890 ڈالر تک جاتی ہے۔ان میں مہنگے ترین ماڈلز میں ''پالمیٹ 18کے‘‘ بھی شامل ہے، جسے آرٹ ڈیکو طرز کے ڈیزائن میں 18 قیراط سونے اور ہیروں سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ''اس فون کا باڈی 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے اور اسے کھجور کے پتوں کے نقش سے سجایا گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی مشہور کھجوروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق، 100 سے زائد ہیرے ہاتھ سے نصب کیے گئے ہیں، جو اس آرائشی ڈیزائن کو مزید خوبصورت بناتے ہیں، جبکہ قیمتی پتھروں سے مزین ایپل کا لوگو ڈیزائن کی سادگی اور متناسب ساخت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب کیویار نے ایپل کی مصنوعات کے غیر معمولی اور لگژری ورژن متعارف کرائے ہوں۔ رواں سال اپریل میں بھی کمپنی نے آئی فون 17 پرو میکس کا ایک خصوصی لگژری ورژن تیار کیا تھا، جس میں ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کے مشہور سیاہ ٹرٹل نیک لباس کا ایک ٹکڑا شامل کیا گیا تھا۔

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

آبی پرندوں کو بھگانے کیلئے سائنسدانوں کا انوکھا و دلچسپ تجربہسمندری ساحلوں پر سی گلز کی بڑی تعداد بعض اوقات شہریوں اور ماہی گیروں کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں یہ پرندے انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں اور بعض مقامات پر کچرے اور خوراک کے مقامات کے گرد جمع ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انہیں دور رکھنے کیلئے سائنسدانوں نے اب ایک دلچسپ اور غیر معمولی طریقہ آزمایا ہے۔ برطانیہ کے کارن وال کے ساحل پر بڑے بڑے گوگلی آنکھوں والے ''تیرتے ڈراؤے‘‘ پانی میں چھوڑے گئے ہیں، جن کا مقصد سی گلز کو خوفزدہ کرکے مخصوص علاقوں سے دور رکھنا ہے۔سائنس دانوں نے برطانیہ کے علاقے کارن وال کے ساحل کے قریب سمندر میں ایک ''تیرتا ڈراؤنا مجسمہ‘‘ نصب کیا ہے۔یہ تیرتا ہوا ڈراؤنا مجسمہ ''لومنگ آئی بوائے‘‘ (LEB) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے سمندری پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے سے بچانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔فِش ٹیک میرین کے سینئر فشریز سائنس دان ٹام ہوپر کے مطابق ''لومنگ آئی بوائے بنیادی طور پر ایک گھومتا ہوا سر ہے جس پر ایک آنکھ بنی ہوئی ہے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی متحرک یا ابھرتی ہوئی آنکھ پرندوں کو دیکھ رہی ہو، جس کے باعث پرندے ماہی گیری کے جالوں کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔ اگرچہ یہ طریقہ سننے میں قدرے مزاحیہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تکنیک انتہائی مؤثر ہے۔ اس تیرتے ڈراؤنے مجسمے کو نصب کرنے کے بعد گِلِموٹ اور ریزربِل نامی سمندری پرندوں کے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد تک کم ہوگئے۔ہر سال یورپ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 95 ہزار سمندری پرندے غیر ارادی طور پر ماہی گیری کے جالوں میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔ اس عمل کو ''بائی کیچ‘‘ (Bycatch) کہا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی اقسام کے سمندری پرندوں کو متاثر کرتا ہے، جن میں گِلِموٹ اور ریزربِل بھی شامل ہیں۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں سے دور رکھنے کیلئے دو طریقوں کا تجربہ کیا۔ ان میں ''لومنگ آئی بوائز‘‘ (LEBs) اور ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شامل تھیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شکاری پرندوں کی شکل میں تیار کی جاتی ہیں، تاکہ دوسرے پرندے انہیں دیکھ کر اس علاقے سے دور رہیں۔دو سال تک جاری رہنے والے تجربے کے دوران کارن وال کے 10 ماہی گیروں کی کشتیوں پر کیمرے نصب کیے گئے، جن کے ذریعے یہ جائزہ لیا گیا کہ ان طریقوں سے جالوں میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی طور پر پھنسنے کی شرح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔ ''لومنگ آئی بوائز‘‘ کے استعمال سے پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد جبکہ شکاری پرندوں کی شکل والی پتنگوں کے ذریعے 71 فیصد کم ہوگئے۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے تحقیق کے مرکزی مصنف ٹام ہورٹن نے کہا کہ یہ مطالعہ اب تک کے مضبوط ترین شواہد میں سے ایک فراہم کرتا ہے کہ سادہ اور عملی حفاظتی طریقے گل نیٹ فشریز میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی شکار کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کن اوقات اور مقامات پر پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کی مدد سے اب حفاظتی اقدامات کو ان مقامات اور اوقات پر مرکوز کیا جاسکتا ہے جہاں کمزور سمندری پرندوں کی آبادی کے تحفظ کیلئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ ہو، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔مسٹر ہوپر نے مزید کہا کہ سمندر میں استعمال ہونے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی سادہ اور مضبوط ہونی چاہیے۔ اسی لیے ماہی گیروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ یہ آلات عملی طور پر کس طرح استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس تجربے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اب ہم ان آلات کو مزید بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں تاکہ وہ ماہی گیروں کی عملی ضروریات کے مطابق ہوں‘‘۔یہ پہلا موقع نہیں کہ سائنس دانوں نے سمندری پرندوں کو دور رکھنے کیلئے بڑی بڑی ''گوگلی آنکھوں‘‘ کا سہارا لیا ہو۔رواں سال کے آغاز میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے سائنسدانوں نے شرارتی سی گلز کو کھانے کی اشیا سے دور رکھنے کیلئے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر بڑی بڑی آنکھیں چسپاں کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر گوگلی آنکھیں چسپاں کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا ان کا بھوکے سی گلز کیلئے کھانے کی کشش پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔حیرت انگیز طور پر تحقیق میں معلوم ہوا کہ آنکھوں کی موجودگی سے سی گلز بدک جاتے ہیں۔ وہ ایسے ڈبوں کی طرف نسبتاً دیر سے بڑھتے اور ان پر چونچ مارنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنف ڈاکٹر لورا کیلی نے ''دی کنورسیشن‘‘ کیلئے لکھے گئے ایک مضمون میں وضاحت کی کہ بہت سے جانور، خواہ جنگلی ہوں یا پالتو، آنکھوں کی موجودگی کے بارے میں خاصے حساس ہوتے ہیں۔ آنکھیں کسی شکاری کی موجودگی کی علامت ہوسکتی ہیں یا ارادے کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست آنکھوں میں دیکھنا اکثر جارحیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ نظریں چرانا خطرہ نہ ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جانور عموماً اس وقت دفاعی ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ کوئی آنکھیں گاڑ کر انہیں دیکھ رہا ہے۔سی گلز کو دور رکھنے کے سائنسی طریقے٭...سی گلز کو ڈانٹیں یا بلند آواز میں چلائیں۔٭...زیبرا کی دھاریوں یا چیتے کی کھال جیسے نمایاں اور متضاد ڈیزائن والے کپڑے پہنیں۔٭...جو سی گلز بہت قریب آنے لگیں، ان سے آنکھوں کا رابطہ برقرار رکھیں۔٭...کھانا پیراسول، چھتری، چھت یا قریب قریب فاصلے پر لگی جھنڈیوں کے نیچے بیٹھ کر کھائیں، یا دیوار سے پشت لگا کر کھائیں۔٭...اپنا بیگ کبھی کھلا نہ چھوڑیں اور اس کی زِپ ضرور بند رکھیں۔٭...محض تفریح کیلئے سی گلز کو کبھی کھانا نہ کھلائیں۔٭...اپنے کھانے کے ڈبے یا پیکنگ پر گوگلی آنکھیں چسپاں کریں۔