ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 6صدیوں پرانا  بحری’’عجوبہ‘‘ ڈنمارک کے قریب سمندر کی تہہ سے دریافت

6صدیوں پرانا بحری’’عجوبہ‘‘ ڈنمارک کے قریب سمندر کی تہہ سے دریافت

ڈنمارک کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے برآمد ہونے والا چھ سو سال پرانا عہد وسطیٰ کا دیوہیکل ''سپر جہاز‘‘ ماہرین آثارقدیمہ اور تاریخ دانوں کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث بن گیا ہے۔ اسے اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا قرونِ وسطیٰ کا بحری جہاز قرار دیا جا رہا ہے، جو اس دور کی بحری طاقت، انجینئرنگ مہارت اور تجارتی سرگرمیوں پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ غیر معمولی دریافت نہ صرف یورپی بحری تاریخ کو ازسرِنو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ عہدوسطیٰ میں سمندری سفر اور جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جوابات بھی فراہم کرے گی۔ڈنمارک کے قریب دریافت ہونے والایہ جہاز تقریباً 600 سال پرانا ''کاگ‘‘ (Cog) قسم کا ایک غیر معمولی طور پر بڑا بحری جہاز ہے، جو قرونِ وسطیٰ میں سامانِ تجارت لے جانے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اندازہ ہے کہ اس کی لمبائی تقریباً 28 میٹر (92 فٹ)، چوڑائی 9 میٹر (30 فٹ) اور اونچائی 6 میٹر (20 فٹ) تھی، جبکہ یہ قریباً 300 ٹن (3 لاکھ کلوگرام) سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ دریافت اسے دنیا کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا کاگ جہاز بناتی ہے اور 1400ء کی دہائی میں سمندری زندگی کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کرتی ہے۔یہ جہاز جس چینل میں ملا، اس کے نام پر اسے ''سویلگٹ 2‘‘ (Svælget 2) کہا گیا ہے۔ یہ غیر معمولی حد تک محفوظ حالت میں ہے اور اس میں رِگنگ (رسیوں، کیبلز اور سازوسامان کا نظام جو بوجھ اٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے) کے آثار بھی موجود ہیں۔ غوطہ خوروں نے رنگ شدہ لکڑی کے برتن، جوتے، کنگھیاں اور تسبیح کے دانے بھی دریافت کئے ہیں، جو جہاز پر موجود عملے کی روزمرہ زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی سے بنے ایک مکمل اسٹرن کیسل (پچھلا محفوظ ڈیک) کے وسیع آثار بھی ملے ہیں، جہاں عملہ پناہ لے سکتا تھا اور نسبتاً محفوظ رہتا تھا۔کھدائی کے سربراہ اوٹو اُلڈم (Otto Uldum) نے کہا کہ یہ دریافت بحری آثارِ قدیمہ کیلئے ایک سنگ میل ہے۔ یہ سب سے بڑا کاگ جہاز ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، اور یہ ہمیں عہدِ وسطیٰ کے سب سے بڑے تجارتی جہازوں کی تعمیر اور ان پر موجود زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کاگ جہاز ایک نہایت مؤثر قسم کا بحری جہاز تھا، جسے بھاری بھرکم سامان سے لدا ہونے کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم عملہ چلا سکتا تھا۔ یہ بات ڈنمارک کے وائکنگ شپ میوزیم کے ماہرین نے بتائی ہے۔ یہ جہاز اس مقصد کیلئے تیار کیے جاتے تھے کہ موجودہ نیدرلینڈز سے اسکیگن (Skagen) کے خطرناک سمندری راستے کو عبور کرتے ہوئے آبنائے ساؤنڈ کے ذریعے بحیرہ بالٹک کے تجارتی شہروں تک پہنچا جا سکے۔ یہ ملبہ 13 میٹر کی گہرائی میں کھود کر نکالا گیا، جہاں یہ ان قدرتی قوتوں سے محفوظ رہا جو عام طور پر ساحل کے قریب جہازوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ ریت کی ایک تہہ نے اس جہاز کو غیر معمولی حد تک تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ایسے آثارِ قدیمہ دستیاب ہوئے جو اس سے قبل کبھی دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان میں کیسلز بھی شامل ہیں، یعنی جہاز کے دونوں سروں پر لکڑی سے بنے اونچے چبوترے، جن کا ذکر تو بے شمار تاریخی تصویروں میں ملتا ہے، لیکن آج تک عملی طور پر دریافت نہیں ہو سکے تھے۔اوٹو اُلڈم نے کہا کہ ہمارے پاس کیسلز کی بہت سی تصاویر موجود ہیں، لیکن وہ کبھی دریافت نہیں ہوئیں، کیونکہ عام طور پر جہاز کا صرف نچلا حصہ ہی محفوظ رہتا ہے۔ اس بار ہمارے پاس اس کا ٹھوس آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود ہے۔ایک اور بڑی حیرت اس جہاز میں اینٹوں سے بنے باورچی خانے کی دریافت تھی، جو ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والا اپنی نوعیت کا سب سے قدیم نمونہ ہے۔اسی حصے میں ماہرین آثارقدیمہ کو کانسی کے برتن، مٹی کے پیالے اور مچھلی و گوشت کی باقیات بھی ملیں۔اوٹو الڈم نے کہا کہ ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والے کسی بھی قرونِ وسطیٰ کے جہاز میں ہم نے اس سے پہلے اینٹوں کا بنا باورچی خانہ نہیں دیکھا۔یہ جہاز پر موجود غیر معمولی سہولت اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ عظیم الجثہ جہاز آخر کیا سامان لے جا رہا تھا، تاہم اب تک محققین کو اس کے کارگو کا کوئی نشان نہیں ملا۔جہاز کا نچلا حصہ ڈھکا ہوا نہیں تھا، اس لیے نمک سے بھرے ڈرم یا کپڑے کی گٹھڑیاں ڈوبتے وقت پانی میں بہہ گئی ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق لکڑی کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا ہوگا۔جہاز میں بیلَسٹ (وزنی سامان جو توازن کیلئے رکھا جاتا ہے) کی عدم موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جہاز بھاری تجارتی سامان سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔کارگو کی عدم موجودگی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ''سویلگٹ 2‘‘ ایک تجارتی جہاز تھا۔ اوٹو الڈم نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہاکہ اب ہم بلا شبہ جانتے ہیں کہ کاگ جہاز اس قدر بڑے بھی ہو سکتے تھے، اور اس طرز کے جہاز کو اپنی انتہا تک پہنچایا جا سکتا تھا۔''سویلگٹ 2‘‘ ہمیں تاریخ کی پہیلی کا ایک ٹھوس ٹکڑا فراہم کرتا ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس دور میں، جب بین الاقوامی تجارت کی اصل قوت سمندری سفر تھا، ٹیکنالوجی اور معاشرہ کس طرح ساتھ ساتھ ترقی کر رہے تھے۔

دیوارِ چین: انسانی عزم اور تاریخ کا عظیم شاہکار

دیوارِ چین: انسانی عزم اور تاریخ کا عظیم شاہکار

دنیا کے سات عجوبوں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلا نام دیوارِ چین کا آتا ہے۔ یہ چین کی ہزاروں سالہ تاریخ، دفاعی حکمتِ عملی اور انسانی عزم و ہمت کی وہ داستان ہے جو زمین کے سینے پر ہزاروں میل تک پھیلی ہوئی ہے۔دیوارِ چین کی تعمیر کا آغاز کسی ایک بادشاہ یا دور میں نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد ساتویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی جب چین مختلف چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ ان ریاستوں نے اپنے دفاع کیلئے چھوٹی چھوٹی دیواریں تعمیر کر رکھی تھیں۔ تاریخ کا اہم موڑ تب آیا جب چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) نے 221 قبل مسیح میں چین کو متحد کیا اور اسے سلطنت کی شکل دی۔ اس نے بکھری ہوئی دیواروں کو جوڑنے اور عظیم فصیل بنانے کا حکم دیا تاکہ شمال سے آنے والے منگول اور دیگر خانہ بدوش حملہ آوروں کا راستہ روکا جا سکے۔دیوار کی موجودہ شکل جو ہم آج دیکھتے ہیں، وہ زیادہ تر منگ خاندان (Ming Dynasty) (1368-1644) کی مرہونِ منت ہے۔ چن خاندان نے ابتدائی مٹی اور لکڑی کی دیواریں بنائیں۔ ہان خاندان نے دیوار کو مزید وسعت دی تاکہ شاہراہِ ریشم کی حفاظت کی جا سکے۔ منگ خاندان کے دور میں دیوار کو پتھروں، اینٹوں اور چونے سے پختہ کیا گیا اور جابجا واچ ٹاورز (Watchtowers) تعمیر کیے گئے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیوارِ چین سیدھی لکیر ہے جبکہ حقیقت میں یہ مختلف شاخوں، پہاڑی سلسلوں اور قدرتی رکاوٹوں کا مجموعہ ہے۔ 2012ء میں چینی محکمہ آثارِ قدیمہ کے جامع سروے کے مطابق دیوارِ چین کی کل لمبائی 21,196 کلومیٹر (13,171 میل) ہے۔ یہ فاصلہ زمین کے کل محیط کے آدھے سے بھی زیادہ ہے۔اس دیوار کی تعمیر میں اس دور کے بہترین انجینئرنگ کے نمونے ملتے ہیں۔ اس دور میں مٹیالے ڈھانچے سے اینٹوں تک جب پتھر میسر نہیں تھے، وہاں مٹی کو دبا کر دیوار بنائی گئی اور جہاں پہاڑ تھے وہاں وہیں کے پتھر تراش کر لگائے گئے۔ اس کے علاوہ دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اینٹوں کو جوڑنے کیلئے جو مسالہ استعمال ہوا، اس میں چپچپے چاولوں کا آٹا ملایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ دیوار آج سینکڑوں سال بعد بھی مضبوط کھڑی ہے۔ دیوار کی اوسط بلندی 6 سے 8 میٹر ہے، جبکہ اس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس پر 5 گھڑ سوار یا 10 پیادہ سپاہی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دیوارِ چین مکمل کمیونیکیشن سسٹم تھا۔ دیوار پر ہزاروں واچ ٹاورز بنے ہوئے تھے جہاں سپاہی پہرہ دیتے تھے۔دشمن کے حملے کی صورت میں دن کے وقت دھوئیں اور رات کے وقت آگ کے ذریعے ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک پیغام پہنچایا جاتا تھا۔ یوں چند گھنٹوں میں دارالحکومت تک خبر پہنچ جاتی تھی۔اس دیوار کی تعمیر کے پیچھے لاکھوں انسانوں کا خون اور پسینہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں تقریباً 10 لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا، جن میں قیدی، سپاہی اور عام کسان شامل تھے۔ سخت موسم، بھوک اور تھکن کی وجہ سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ قدیم لوک داستان کے مطابق، بہت سے مزدوروں کو دیوار کے اندر ہی دفن کر دیا گیا تھا، اسی لیے اسے دنیا کا طویل ترین قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔سائنس اور معلومات کے اس دور میں بھی کچھ غلط فہمیاں عام ہیں۔ کیا یہ خلا سے نظر آتی ہے؟ ناسا کے مطابق، انسانی آنکھ سے دیوارِ چین کو خلا یا چاند سے دیکھنا ناممکن ہے کیونکہ اس کا رنگ زمین سے ملتا جلتا ہے۔ البتہ لو ارتھ آربٹ سے کیمرے کی مدد سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا یہ مسلسل دیوار ہے؟ جی نہیں، یہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، کہیں پہاڑ دفاع کا کام دیتے ہیں اور کہیں خندقیں کھودی گئی ہیں۔دیوارِ چین دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہے۔ بیجنگ کے قریب بدالنگ کا حصہ سب سے زیادہ مشہور ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ تاہم، قدرتی کٹاؤ، موسمی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کی وجہ سے دیوار کا تقریباً 30فیصد حصہ غائب ہو چکا ہے یا کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔ چینی حکومت اب اس کے تحفظ کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔دیوارِ چین انسانی عزم کی وہ مثال ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان کچھ کر گزرنے کا ارادہ کر لے تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی راستے بنا لیتا ہے۔ یہ دیوار ہمیں چین کے شاندار ماضی، ان کی دفاعی صلاحیتوں اور محنت کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ پوری انسانیت کا ایسا اثاثہ ہے جسے آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دیوارِ چین کو یونیسکو (UNESCO) نے 1987 میں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

کتا وفادار جانور !

کتا وفادار جانور !

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سرکھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے، دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ، ''کتا وفادار جانور ہے‘‘۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لئے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے، تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر ''طرح‘‘ کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف سے ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھیے۔کمبخت بعض تو دو غزلے، سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے۔ وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ''آرڈر آرڈر‘‘ پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پردھان کی بھی کوئی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کونسی شرافت ہے؟اورپھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔ اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اس کا ذکر ہی جانے دیجیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بارہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔جوں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے، کتے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی ''بخ‘‘ کردی اور پھر منہ بند کرکے کھڑا ہو گیا۔ ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر ''بخ‘‘ کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سر، نہ سر نہ پیر۔ تان پہ تان لگائے جاتے ہیں۔ بیتالے کہیں کے۔ نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہچانتے ہیں۔ بس گلے بازی کئے جاتے ہیں۔ گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں لیکن ہم سے قسم لے لیجئے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی ستیا گرہ سے منہ موڑا ہو۔ شاید آپ اس کو تعلّی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر دوستوں نے صلاح دی کہ رات کے وقت لاٹھی، چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہیے کہ دافع بلیات ہے، لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ ہمیں اگر اس وقت دیکھیں تو یقیناً یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔ شاید آپ اس وقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے۔ ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش کروں تو کھرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبیعت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اتر جائے گی۔ اس کی جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجے چھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آ رہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نومشقی کا عالم بھی ہے اس لئے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بے سرے بھی ہوگئے، تو کوئی یہی سمجھے گا انگریزی موسیقی ہے۔ اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو۔آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا۔ ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ چھڑی کی گردش دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول زاویے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھی تھرتھرا کر خاموش ہوگئی لیکن کیا مجال جو ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔گویا ایک بے آواز لے ابھی تک نکل رہی تھی۔طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں، بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔

حکایت سعدیؒ:وائے حسرتا!

حکایت سعدیؒ:وائے حسرتا!

بقول شیخ سعدی ایک شب ایام جوانی میں کچھ دوست باہم مل کر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ہمارا ایک ہمدم بوڑھا بھی آ گیا۔ ایک نوجوان نے بڑے میاں کو خاموش پا کر کہا کہ آپ کس سوچ میں غلطاں ہیں، ہنسی ٹھٹھول سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں۔بوڑھے نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ برخوردار! صبا کے جھونکوں سے جھومنا ان درختوں کو ہی زیبا دیتا ہے جن کی شاخیں پتوں سے لدی ہوئی ہوں، بوڑھا درخت جنبش کرے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ شب جوانی کی سحر ہونے پر ہوس کو سر کے نہاں خانوں سے نکال دینا ہی بہتر ہے۔ میری جوانی دیوانی فضول کاموں میں ختم ہوگئی۔ فضول خواہشات نے مجھے دین سے غافل رکھا۔ وائے افسوس کسی استاد نے اپنے شاگرد سے کہا تھا:''وائے حسرتا! وقت ختم ہو گیا اور کام ابھی باقی ہے‘‘۔حاصل کلام :بڑھاپے میں کم از کم انسان کو لہو و لعب سے اجتناب کرنا چاہیے۔ زندگی کا انجام بہرحال موت ہے۔ اس فانی زندگی کے مقابلے میں غیر فانی زندگی کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!  لالہ سدھیر پہلے پاکستانی سپر سٹار (1997-1922ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! لالہ سدھیر پہلے پاکستانی سپر سٹار (1997-1922ء)

٭...سدھیر ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے پہلے سپر سٹار اور ابتدائی دور کے سب سے کامیاب اور مقبول ترین فلمی ہیرو تھے۔٭... 25جنوری 1922ء کولاہور کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے،اصل نام شاہ زمان خان تھا۔٭... 1946ء میں لاہور کی فلمی دنیا سے ہوتے ہوئے بمبئی تک جا پہنچے۔تقسیم کے بعد واپس اپنے شہر لاہور کا رخ کیا۔٭... 1947ء میں ہدایت کار نذیر بیدی نے ان کا فلمی نام سدھیر رکھا۔٭...ان کی پہلی فلم ''فرض‘‘ تقسیم سے قبل لاہور میں بنی تھی۔٭... قیام پاکستان کے بعد تیسری ریلیز شدہ فلم ''ہچکولے‘‘ (1949ء) کے ہیرو بھی وہ تھے۔٭... انھیں بریک تھرو 1952 ء میں ریلیز ہونے والی ملکہ ترنم نورجہاں کی مشہور زمانہ نغماتی فلم ''دوپٹہ‘‘ سے ملا ۔٭...پاکستان کی فلمی تاریخ میں پچاس کا پہلا عشرہ سدھیر کے نام تھا جس میں کل پانچ گولڈن جوبلی منانے والی اردو فلموں میں سے چار کے ہیرو تھے۔ ٭...سب سے زیادہ گیارہ سلورجوبلی فلمیں بھی ان ہی کے کریڈٹ پر تھیں۔ ایسی فلموں میں پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم ''سسی‘‘ اور پہلی ایکشن فلم ''باغی‘‘ جیسی یادگار فلمیں بھی تھیں۔٭... ان کی بلاک بسٹر فلموں ''دلا بھٹی‘‘ (1956ء) اور ''یکے والی‘‘ (1957ء) نے بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔٭...کرتار سنگھ (1959) جیسی تاریخی فلم بھی سدھیر کے کریڈٹ پر ہے۔ ٭...سدھیر، اپنے ابتدائی دور میں ایک آل راؤنڈ اداکار تھے۔ سماجی اور نغماتی فلموں کے ساتھ رومانوی اور لوک داستانوں پر مبنی فلموں میں بھی کاسٹ کیا گیا ،ایکشن اور تاریخی فلموں کا ہیرو ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔٭...سدھیر نے 200 سے زائد فلموں میں اپنے وقت کی معروف اداکاراؤں کے مقابل مرکزی کردار نبھایا ۔٭...1980ء میں اپنی ذاتی فلم ''دشمن کی تلاش‘‘ کے بعد فلمی دنیا سے ریٹائرمنٹ لے کر گمنامی اختیار کر لی۔ ٭...27رمضان المبارک 20جنوری 1997ء کو ظہر کی نماز کے دوران روزہ کی حالت میں وہ جونہی سجدہ میں گئے تو ملک الموت نے اِن کی روح قبض کر لی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔سماجی و نغماتی فلمیںگمنام (1954ء)، طوفان (1955ء)، چھوٹی بیگم، ماہی منڈا (1956ء) داتا ، آنکھ کا نشہ، یکے والی (1957ء)، جان بہار، جٹی (1958ء) جھومر (1959ء) لوک داستانوں پر مبنی فلمیںسسی (1954ء)، سوہنی (1955ء)، دلابھٹی، مرزا صاحباں (1956ء)نوراں (1957ء)، انارکلی (1958ء)، گل بکاؤلی (1961ء)تاریخی و ایکشن فلمیںحاتم (1957ء)کرتار سنگھ (1959ء) غالب (1961ء)باغی (1956ء)آخری نشان (1958ء) عجب خان (1961ء) فرنگی (1964ء)

آج کا دن

آج کا دن

ایران امریکہ معاہدہ1981ء میں آج کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت 52 امریکی شہریوں کو رہائی دینے پر اتفاق کیا گیا جو چودہ ماہ سے تہران میں امریکی سفارت خانے میں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ یہ بحران 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد شروع ہوا تھا اور اس نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو شدید متاثر کیاتھا۔معاہدے کے بعد یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوئی اور ایک طویل بحران کا خاتمہ ہوا۔جدید بجلی کے نظام کی بنیاد19جنوری1883ء کومشہور موجد تھامس ایڈیسن کے تیار کردہ برقی روشنی کے نظام نے عملی طور پر کام شروع کیا۔ یہ نظام اوورہیڈ تاروں کے ذریعے بجلی فراہم کرتا تھا اور امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر روزیل میں نصب کیا گیا۔ اس منصوبے نے گھروں اور سڑکوں کو محفوظ اور مستقل روشنی فراہم کرنے کی راہ ہموار کی۔ ایڈیسن کا یہ کارنامہ جدید برقی نظام کی بنیاد ثابت ہوا ۔ یہ پیش رفت صنعتی ترقی اور شہری زندگی میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ریڈیو کی ایجاد 1903ء میں آج کے دن سائنسی دنیا میں ریڈیو کی ایجاد سے ایک کہرام برپا ہوا، جس نے قصبوں، شہروں اور ممالک کے درمیان نشریات کا دائرہ وسیع کیا اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی۔ اس دن ریڈیو کی لہروں پر امریکی صدر تھیوڈور روز ویلٹ کی طرف سے ایک تہنیتی پیغام برطانوی شاہ ایڈورڈ ہفتم کو بھیجا گیا تھا۔ ریڈیو کی ایجاد کئی موجدوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے، لیکن مارکونی کو اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ٹور ڈی فرانس کا آغازدنیا کے مشہور سائیکل دوڑ کے مقابلے ٹور ڈی فرانس کا پہلی دفعہ انعقاد 19جنوری 1903ء کو ہوا۔ یہ مقابلہ 19 روز تک جاری رہا جس کا فاصلہ 2428 کلومیٹر تھا اور جس میں 59 سائیکل سواروں نے حصہ لیا تاہم، اس مقابلے میں صرف 20 سائیکل سوار ہی اختتامی حد کو عبور کر سکے جس میں اول درجہ فرانسیسی سائیکل سوار ماریس گارین نے حاصل کیا۔مولانا ظفر علی خان19جنوری 1873ء کو مولانا ظفر علی خان کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں انہیں ایک عظیم سیاسی رہنما، ایک جیّد صحافی، ادیب، شعلہ بیاں مقرر، بے مثل نقاد اور آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے قلم کار کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک کاوش ''زمیندار‘‘ اخبار ہے۔ بابائے صحافت کا لقب پایا۔ متعدد تصانیف منظر عام پر آئیں جن میں نثری اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ 27 نومبر 1956ء کو زندگی کا سفر تمام ہوا۔''ترکوں کارخت سفر‘‘ لندن کی رائل آرٹ اکیڈمی نے 2005ء میں ایک ایسی نمائش کا اہتمام کیا جس کا عنوان ''600 تا 1600 ترکوں کا ایک ہزار سالہ رخت سفر‘‘ تھا۔ واضح رہے کہ ترکوں کا 600 سے 1600 عیسوی تک کا سفر ایک غیر معمولی داستان ہے۔ یہ دور ان کی خانہ بدوش زندگی سے لے کر عظیم سلطنتوں کے قیام تک کا احاطہ کرتا ہے۔٭٭٭٭٭٭