ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انسان کی بنائی ذہانت انسان کی دشمن؟

انسان کی بنائی ذہانت انسان کی دشمن؟

مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کو آسان بنانے سے لے کر پیچیدہ ترین مسائل حل کرنے تک اپنی حیرت انگیز صلاحیت ثابت کردی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی اب ایک ایسے سوال کو جنم دے رہی ہے جس نے سائنسدانوں اور ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت انسان سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی تو کیا وہ خود اپنے خالق کیلئے خطرہ بن سکتی ہے؟ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انتہائی ذہین اے آئی نظام اگر انسانی مفادات اور قابو سے باہر ہوگئے تو وہ ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں جن کے نتائج پوری نسل انسانی کیلئے تباہ کن ثابت ہوں۔ یوں انسان کی اپنی تخلیق کردہ ذہانت مستقبل میں اس کے وجود کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی Anthropic میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں معاونت کرنے والے جیکب کوکسن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کی طاقت کو ''کم نہ سمجھیں‘‘، خصوصاً اس صورت میں جب یہ ٹیکنالوجی ''انتہائی ذہین‘‘ بن جائے۔ کوکسن کا دعویٰ ہے کہ Anthropic، جو اے آئی نظام Claude تیار کرنے والی کمپنی ہے، اور ChatGPT کی خالق کمپنی OpenAI، دونوں ہی اے آئی کی حفاظت کے معاملے میں ''ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کر رہیں‘‘۔لیکن آخر یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث کیسے بن سکتی ہے؟ماہرین کے مطابق انسانیت کی تباہی کے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں جو درج ذیل ہیں۔اہم نظاموں کی ہیکنگانتہائی ذہین مصنوعی ذہانت سے لاحق زیادہ تر خطرات کی بنیاد اس مسئلے میں ہے جسے ماہرین ''الائنمنٹ پرابلم‘‘ کہتے ہیں۔ بنیادی تصور یہ ہے کہ جب ہم انسانوں سے زیادہ ذہین اے آئی تیار کرلیں گے تو شاید اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوجائے کہ اس کے مقاصد اور ترجیحات انسانی مفادات کے مطابق رہیں۔ دنیا کو حال ہی میں ان خطرات کی ایک واضح جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب OpenAI کے تیار کردہ ایک ہزار سے زائد بے قابو اے آئی بوٹس اپنے محفوظ ماحول سے باہر نکل گئے اور اوپن سورس ماڈلز کی میزبانی کرنے والی عوامی ویب سائٹ ''Hugging Face‘‘ کو ہیک کر لیا۔ ان بوٹس کو اس پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ انہیں غلطی سے ایک ایسا کام سونپ دیا گیا تھا جسے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ جوابات چوری کرنا ہے۔ بعض محققین کو خدشہ ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز میں بھی یہی الائنمنٹ کی خرابی کہیں زیادہ تباہ کن پیمانے پر پیدا ہوسکتی ہے۔برمنگھم یونیورسٹی کے مصنوعی ذہانت کے ماہر پروفیسر مارک لی کے مطابق یہ خطرہ ''مسلح روبوٹس‘‘ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑی اے آئی کمپنیاں ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں ہیں جو انسانوں جتنی یا ان سے بھی زیادہ ذہین ہو، ہمارے پاس انہیں قابو میں رکھنے کے ذرائع موجود نہیں ہیں‘‘۔معاشرتی انتشار اور افراتفری پیدا کرنابے قابو مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے خاتمے کا سبب بننے کیلئے براہِ راست انسانوں کو نقصان پہنچانا بھی ضروری نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی معاشرے میں ایسی افراتفری پیدا کر سکتی ہے جو ہماری موجودہ زندگی کے نظام کو ہی بدل کر رکھ دے۔ سرے انسٹی ٹیوٹ فار پیپل سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈاکٹر اینڈریو روگوئسکی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک ''واقعی ذہین اے آئی یہ سمجھ لے گی کہ وہ انسانیت پر منحصر ہے اور انسان بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے مطلوبہ کام انجام دینے کیلئے اے آئی کی ضرورت ہوگی، جبکہ اے آئی کو خام مال، بجلی، ٹھنڈک، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کیلئے ہماری ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر کسی انتہائی ذہین اے آئی کیلئے انسانیت کو ایک تباہ کن جنگ یا کسی ہولناک حادثے کے ذریعے ختم کرنا اس کے اپنے بہترین مفاد میں نہیں ہو گا۔ جوہری جنگ بھڑکانے کا خطرہجب یہ بات سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دنیا میں انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب عملی طور پر کیسے بن سکتی ہے تو سب سے واضح خطرات ان ہتھیاروں سے وابستہ ہیں جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس وقت دنیا کے نو ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ان کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12,187 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک ملک میں انتہائی غیر ہم آہنگ یا بے قابو مصنوعی ذہانت نظام کا کنٹرول حاصل کر لے تو یہ ہتھیار انسانیت کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔تشویش کی بات یہ ہے کہ اے آئی کے مقاصد اور انسانی مفادات کے درمیان عدم مطابقت کے باعث کسی انتہائی ذہین اے آئی کا بدنیت ہونا بھی ضروری نہیں کہ وہ ایسی تباہی کا سبب بنے۔ مثلاً کوئی اے آئی اپنے مالک کے منافع میں اضافے کیلئے اسٹاک مارکیٹ میں ایسی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں، یا عالمی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے یہ غیر متوقع نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ۔ تاہم، یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب طاقتور ممالک جنگی نظاموں میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ جان لیوا حیاتیاتی ہتھیاروں کا خطرہآخرکار مصنوعی ذہانت انسانیت کو اپنی خواہشات کے تحت تباہ کرنے کے بجائے خطرناک آلات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچا کر بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے جو انہیں استعمال کرنے پر آمادہ ہوں۔ ماضی میں خطرناک بیکٹیریا یا وائرس کو بطور ہتھیار تیار کرنے کیلئے عموماً پوری پوری ریاستوں کی اجتماعی علمی صلاحیت، مہارت اور مالی وسائل درکار ہوتے تھے۔ تاہم ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے جدید آلات نے مہلک حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنا کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ پروفیسر لی کا کہنا ہے کہ زیادہ حقیقی خطرہ دہشت گردوں یا بے قابو ریاستوں جیسے عناصر سے ہے، جو اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کرسکتے ہیں جو ایک اور، پہلے سے زیادہ مہلک عالمی وبا کا باعث بن جائے۔Anthropic نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اپنے Claude ماڈل کو حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ''بدنیتی پر مبنی‘‘ کوششوں کو ناکام بنانا پڑا۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسے پانچ واقعات کا پتا چلا جن میں صارفین نے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔ یہ انکشاف ایک ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ مارکیٹ میں عام دستیاب ''آف دی شیلف‘‘ اے آئی ماڈلز میں معمولی تبدیلیاں کرکے ان کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرنا ممکن ہے۔

کمر اور کندھے کے درد کا سستا علاج

کمر اور کندھے کے درد کا سستا علاج

کمر اور کندھے کا درد روزمرہ زندگی کو اس حد تک متاثر کر سکتا ہے کہ معمول کے کام بھی دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ خاص طور پر ''فروزن شولڈر‘‘ میں کندھے کی حرکت محدود ہو جاتی ہے اور درد کے باعث مریض کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اب ماہرین نے وٹامن ڈی کے ممکنہ کردار کی جانب توجہ دلائی ہے اور اسے ایک نسبتاً سستا غذائی جزو قرار دیا ہے جو بعض افراد میں ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر درد کا علاج وٹامن یا نام نہاد ''قدرتی‘‘ نسخوں میں تلاش کرنا درست نہیں، بلکہ درد کی اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔کندھے کا درد ان عام تکالیف میں سے ایک ہے جس میں معمولی سی حرکت بھی ناقابلِ برداشت درد کا باعث بن سکتی ہے۔ فروزن شولڈر یعنی منجمد کندھے کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جوڑ کے گرد موجود بافتوں میں سوزش پیدا ہونے کے ساتھ وہ سکڑنے لگیں۔ کم از کم ہر 20 میں سے ایک شخص اس تکلیف کا شکار ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، کھنچاؤ اور کندھے کی حرکت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ تنگ اور سکڑی ہوئی بافتوں کو ڈھیلا کرنے کیلئے فزیوتھراپی کے علاوہ بہت سے مریضوں کیلئے جنرل پریکٹیشنرز کے پاس محدود علاج موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگسپیلنٹس اور تجرباتی طریقہ علاج کا رخ کرتے ہیں۔حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان میں سے بعض طریقوں کا کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس سائنسدانوں کی شائع کردہ ایک تحقیق میں فروزن شولڈر اور کمر کے درد کے درمیان ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا اور اس کا ربط نام نہاد ''سن شائن وٹامن‘‘ یعنی وٹامن ڈی سے جوڑا گیا۔ سائنسدانوں نے 5 ہزار سے زائد افراد کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا اور معلوم کیا کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی تھی، ان میں فروزن شولڈر کا شکار ہونے کا امکان کہیں زیادہ تھا۔ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کم سطح ایسی خلیاتی سرگرمی کو متحرک کرسکتی ہے جو سوزش کو بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں درد اور اکڑاؤ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ تو کیا فروزن شولڈر سے متاثرہ افراد کو روزانہ وٹامن ڈی کی گولیاں لینا شروع کردینی چاہئیں؟ اور کیا دیگر غذائی سپلیمنٹس بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں؟اس مضمون میں ماہرین نے عام درد اور تکالیف کیلئے ان سپلیمنٹس کے بارے میں بتایا ہے جنہیں وہ ترجیح دیں گے، ان کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے جو مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔وٹامن ڈی مفید، ہلدی نہیںاس بات کے شواہد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ فروزن شولڈر اور دائمی کمر درد جیسی کیفیات جسم میں ہونے والی سوزش کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض غذائی اجزا کی کمی اس سوزش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ میگنیشیم، بی وٹامنز اور وٹامن ڈی کی کم سطح سے پٹھوں، ہڈیوں اور جوڑوں سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔2024ء میں فلوریڈا کے روتھ مین آرتھو پیڈک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے اس موضوع پر ہونے والی متعدد تحقیقات کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ وٹامن ڈی میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جبکہ یہ پٹھوں کی کارکردگی اور بافتوں کی بحالی کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنا، جو تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شخص کو لاحق ہے، کندھے کے مسائل کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم فزیوتھراپسٹ سیمی مارگوٹ واضح کرتی ہیں کہ وٹامن ڈی کا ممکنہ فائدہ غالباً صرف ان افراد کو ہوگا جن میں واقعی اس کی کمی پائی جاتی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹھوں، ہڈیوں اور جوڑوں کے کسی بھی مسئلے میں جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار یقینی بنانا اہم ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وٹامن ڈی فوری طور پر درد ختم کرنے والی دوا ثابت ہو گا۔دوسری جانب، فروزن شولڈر کے علاج میں دیگر غذائی سپلیمنٹس کے کردار پر تحقیق ابھی محدود اور غیر واضح ہے۔ سیمی مارگوٹ کے مطابق بہت سے مریض یہ سمجھتے ہیں کہ ہلدی جیسے سپلیمنٹس، جنہیں سوزش کم کرنے کی خصوصیات کیلئے جانا جاتا ہے، فروزن شولڈر کی علامات میں کمی لاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق ایسی کوئی مخصوص تحقیق موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ہلدی فروزن شولڈر کے علاج میں مؤثر ہے۔ہلدی اور جوڑوں کے درد پر ہونے والی بیشتر تحقیقات گھٹنے کے اوسٹیو آرتھرائٹس سے متعلق ہیں، جو فروزن شولڈر سے مختلف بیماری ہے۔ تو پھر کونسا علاج مؤثر ہے؟ فزیو تھراپسٹ سیمی مارگوٹ کے مطابق اسٹیرائیڈ انجیکشنز مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے ذریعے سوزش کم کرنے والی دوا براہِ راست کندھے کے جوڑ میں پہنچائی جاتی ہے، جس سے درد اور سوجن میں کمی آتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ علاج کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ مریض بیماری کے کس مرحلے میں علاج شروع کرتا ہے۔ اگر بیماری کے ابتدائی اور زیادہ تکلیف دہ مرحلے میں انجیکشن لگایا جائے تو اس کے مؤثر ہونے کے شواہد زیادہ ہیں۔ جب درد کی کیفیت کم ہونا شروع ہوجائے تو ورزشیں اور اسٹریچنگ کندھے کی حرکت بحال کرنے کیلئے اہم ہوجاتی ہیں۔ بعض ماہرین انجیکشن کے ساتھ فزیوتھراپی بھی تجویز کرتے ہیں۔ اومیگا تھری اور ہلدی کا امتزاجکمر درد ان عام تکالیف میں شامل ہے جن سے نجات کیلئے لوگ اکثر درد کش ادویات، غذائی سپلیمنٹس اور متبادل طریقۂ علاج کا سہارا لیتے ہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہر شخص اس تکلیف کا سامنا کرتا ہے۔ سیمی مارگوٹ کے مطابق بعض سپلیمنٹس کمر درد کی علامات میں بہتری لانے میں ''کچھ کردار‘‘ ادا کرسکتے ہیں۔ ہلدی میں موجود سوزش کم کرنے والا جزو کرکیومِن کمر کی شدید تکلیف میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس طبی جریدے SAGE میں شائع ہونے والی ایک معیاری تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مقدار والی ہلدی کی ایک خوراک، جب اسے بوسویلیا نامی جڑی بوٹی کے ساتھ استعمال کیا گیا، تو زیرِمطالعہ 90 فیصد افراد میں صرف چار گھنٹے کے اندر کمر کے درد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

آج کا دن

آج کا دن

''اوسلو معاہدہ‘‘ 13 ستمبر 1993ء کو وائٹ ہائوس امریکہ میں فلسطین اور اسرائیل کے مابین ''اوسلو معاہدہ‘‘ طے پایا۔ یہ اسرائیلی فوج کے غزہ اوراردن کے علاقوں سے انخلا کا معاہدہ تھا جس پر فلسطین کے صدر یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیرا عظم اسحاق رابن نے دستخط کئے۔ یہ معاہدہ کرانے میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اہم کردار ادا کیا۔جوئیانیا تابکاری13ستمبر1987ء کو برازیل میں تابکاری آلودگی کا ایک حادثہ پیش آیا جسے ''جوئیانیا تابکاری حادثہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعدتقریباً ایک لاکھ 12ہزار افراد کا تابکاری آلودگی کیلئے معائنہ کیا گیا،249افراد میں اس کے اثرات پائے گئے۔بین الاقوامی جریدے نے اسے دنیا کی بدترین جوہری آفات میں سے ایک قرار دیا۔انگولا ٹرین حملہ2001ء میں آج کے روز انگولا میں ایک مسافر ٹرین کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ٹرین پر سوار مسافروں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا اور مجموعی طور پر 252 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ انگولا کی تاریخ کے انتہائی المناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ کالا ماتا زلزلہ1986ء میں آج کے روز یونان میں زلزلہ آیا، جس کی شدت 6.0 سے6.2 تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ کالا ماتا میں آنے والے بدترین زلزلو ں میں سے ایک تھا۔ اس زلزلے میں تقریباً20 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے۔ یونان میں معمول سے زیادہ زلزلے اس لئے آتے ہیں کہ یہ پلیٹوں کے سنگم کے ایک پیچیدہ زون میں واقع ہے۔خلائی شٹل پروگرام 2001ء میں امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کو مشن ایس ٹی ایس105 کے تحت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ کیا گیا۔ اس مشن کے دوران ایکسپیڈیشن 3 کے خلابازوں کو خلائی اسٹیشن پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں موجود ایکسپیڈیشن 2 کے عملے کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مستقل انسانی موجودگی برقرار رکھنے اور سائنسی و تکنیکی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوششوں کا اہم حصہ تھا۔گیس لائن حادثہ2018ء میں آج کے روز لارنس، اینڈور اور نارتھ اینڈور کے قصبوں میں گیس پائپ لائنز میں ضرورت سے زیادہ دباؤ ہونے کی وجہ سے اچانک دھماکے شروع ہو گئے۔ 40گھروں سمیت متعدد مقامات پر گیس کے پائپ پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کی وجہ سے 30ہزار سے زائد افراد کوگھر خالی کرنے کا کہا گیا۔باسوٹوگن جنگ''باسوٹو گن جنگ‘‘ باسوٹو اور برطانوی کالونی کے درمیان ایک تنازع تھا۔ یہ13ستمبر 1880ء سے 29 اپریل 1881ء تک جاری رہا اور باسوٹو کی فتح پر ختم ہوا۔ 12 مارچ 1868ء کو باسوٹو لینڈ کے برطانوی شاہی تسلط میں تبدیل ہونے کے بعد، یہ کالونی انتظامیہ کی جانب سے تیزی سے اس کا نظام مغربی طرز پر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی۔ 1879ء میں، کیپ پارلیمنٹ نے پیس پرزرویشن ایکٹ کو باسوٹو لینڈ تک بڑھا دیا، جس کا مقصد باسوٹو لوگوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔

مینڈکوں کی دیوانی امریکی خاتون

مینڈکوں کی دیوانی امریکی خاتون

13 ہزار اشیاء جمع کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنا دیادنیا میں شوق رکھنے والوں کی کمی نہیں، مگر بعض افراد کا شوق اس قدر منفرد ہوتا ہے کہ وہ ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مینڈکوں سے اپنی غیر معمولی محبت کو محض پسند تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی بھر کے شوق میں بدل دیا۔ انہوں نے برسوں کے دوران مینڈکوں سے متعلق 13 ہزار سے زائد اشیاء جمع کرلیں، جن میں مختلف نوعیت کی یادگاری اور آرائشی چیزیں شامل ہیں۔ ان کا یہ حیرت انگیز ذخیرہ دنیا کے سب سے بڑے مینڈکوں سے متعلق مجموعوں میں شمار ہوتا ہے، جو ان کے منفرد ذوق، محنت اور غیر معمولی لگن کی دلچسپ داستان بیان کرتا ہے۔مینڈک عام طور پر ایسے جانوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ خوش ہونے کے بجائے گھبرا جاتے ہیں، لیکن اس امریکی خاتون کیلئے مینڈک محض ایک جانور نہیں بلکہ دلچسپی اور خوشی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی زندگی میں مینڈکوں کی موجودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان سے متعلق مختلف اشیاء ان کے گھر اور ذاتی مجموعے کا نمایاں حصہ بن چکی ہیں۔ چھوٹی بڑی یادگاری اشیاء جمع کرنے کے اس منفرد شوق نے انہیں ایک ایسے مقام تک پہنچا دیا جہاں ان کا مجموعہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔سوزن برگوس (Susan Burgos) مینڈکوں کی دیوانی ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ ان کے گھر میں مینڈک ہی مینڈک دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت انہیں مختلف اقسام کی مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنے کا جنون ہے۔خاتون کے پاس باضابطہ طور پر دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے پاس ایسی حیرت انگیز طور پر 13,201 اشیاء ہیں، جنہیں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر کیمارِیلو میں واقع اپنے گھر میں جمع کر رکھا ہے۔یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ ان کے گھر میں ننھے سبز مینڈکوں سے متعلق اشیاء ہر طرف نظر آتی ہیں۔درحقیقت ان کا ذخیرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ تمام اشیاء رکھنے کیلئے انہیں ایک دوسرا گھر خریدنا پڑا، جس میں ایک بڑا گیراج بھی موجود ہے، تاکہ ان کی پوری کلیکشن کو مناسب جگہ مل سکے۔جنوری میں اس ریکارڈ کی باضابطہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد سوزن برگوس نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس سے پہلے دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ 10,502 اشیا پر مشتمل تھا، جو برطانیہ کی شیلا کراؤن(Sheila Crown) کے پاس تھا۔ یہ ریکارڈ آج نمایاں کرنے کیلئے بھی نہایت موزوں ہے، کیونکہ آج ہی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی باضابطہ اشاعت کا دن ہے۔ اس کتاب کا سرورق بھی انتہائی دلکش چمکدار سبز رنگ کا ہے، جو مینڈکوں کی اس حیرت انگیز دنیا کی خوب یاد دلاتا ہے۔سوزن نے 1983ء میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنا شروع کیں، جب ایک روز انہیں اپنے باورچی خانے میں درخت پر رہنے والا ایک ننھا سا مینڈک نظر آیا۔انہوں نے بتایا کہ اس ننھے مینڈک نے میرا دل موہ لیا۔ اس نے مجھے تحریک دی اور میں نے اپنی کلیکشن کی پہلی چیز خریدی، جو زمرد جیسی سبز آنکھوں والی سونے کی مینڈک کی انگوٹھی تھی۔ اس کے بعد سے سوزن جہاں بھی جاتی ہیں، اپنی کلیکشن میں شامل کرنے کیلئے نئی اشیاء تلاش کرتی رہتی ہیں۔ سفر کے دوران بھی ان کی نظر ایسی منفرد چیزوں پر رہتی ہے، جبکہ اکثر مختلف کیٹلاگز کے صفحات بھی الٹتی رہتی ہیں تاکہ اپنے مینڈکوں کے منفرد خاندان میں شامل کرنے کیلئے بہترین اشیاء تلاش کر سکیں۔نرم و ملائم کھلونوں سے لے کر آرائشی اشیاء، گھریلو استعمال کی چیزوں اور ملبوسات تک، سوزن نے تقریباً ہر قابلِ تصور چیز کا مینڈکوں کی تھیم والا نمونہ تلاش کرلیا ہے۔یہی نہیں، ان کے پاس مینڈکوں سے متعلق کرسمس کی اتنی زیادہ سجاوٹی اشیاء بھی موجود ہیں کہ وہ اپنے کرسمس ٹری کو مکمل طور پر ان ہی سے سجا سکتی ہیں۔تاہم، ان ہزاروں اشیاء میں سوزن کی ایک پسندیدہ چیز بھی ہے۔جب ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی کلیکشن میں سے صرف ایک پسندیدہ چیز کا انتخاب کریں تو انہوں نے بتایاکہ میرے ذہن میں فوراً ایک موٹر سائیکل پر سوار گانے والے اینیمیٹڈ مینڈک کا خیال آتا ہے، جو 'کوکومو‘ گانا بجاتا ہے۔ یہ گانا معروف امریکی میوزک بینڈ دی بیچ بوائز کا ہے۔13 ہزار سے زائد مینڈکوں سے متعلق اشیاء کی مالک سوزن کیلئے، جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اپنی اس وسیع و عریض کلیکشن کو محفوظ رکھنے اور اس کیلئے مناسب جگہ بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

جینزی، برقی گاڑیوں کی دیوانی

جینزی، برقی گاڑیوں کی دیوانی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی نسل کے رجحانات بھی اس تبدیلی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے گہری وابستگی رکھنے والی جنریشن زی کے نوجوان اب نقل و حمل کے روایتی ذرائع کو بھی نئے زاویے سے دیکھنے لگے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کے نزدیک پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اب اتنا ہی فرسودہ تصور ہے جتنا کسی گھر میں لینڈ لائن فون رکھنا۔ یہ نوجوان ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی سواری سمجھتے ہیں، جس سے گاڑیوں کی دنیا میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جینزی کے نوجوان مقبول اشیاء کو ''رد‘‘ کرنے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں، اور اب ان کا تازہ فیصلہ شاید سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا ہو۔ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اتنا ہی فرسودہ ہوچکا ہے جتنا لینڈ لائن فون رکھنا۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے میں 1,500 نوجوان ڈرائیوروں سے گاڑیوں کے بارے میں ان کی آرا معلوم کی گئیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اب نصف سے زیادہ، یعنی 55فیصد نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی پہلی گاڑی الیکٹرک وہیکل (ای وی) ہو۔ الیکٹرک گاڑیوں کے ماہر رابرٹ لیولین کا کہنا ہے کہ یہ نسل اس مفروضے کے ساتھ بڑی نہیں ہو رہی کہ ان کی پہلی گاڑی لازماً پیٹرول سے چلنے والی ہوگی۔ وہ آج دستیاب سہولتوں اور گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے عملی انتخاب کر رہے ہیں۔آج پہلے کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کے کہیں زیادہ ماڈلز دستیاب ہیں، گاڑی حاصل کرنے کیلئے نسبتاً سستے طریقے موجود ہیں اور گھر پر چارجنگ کے ذریعے اخراجاتِ سفر کم رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔بہت سے نوجوان ڈرائیوروں کیلئے الیکٹرک گاڑی رکھنا مستقبل کے حوالے سے محض ایک علامتی فیصلہ نہیں بلکہ آج کے حالات میں سب سے زیادہ مناسب اور معقول انتخاب ہے۔سروے کیلئے ای اون نیکسٹ نے 17 سے 20 سال عمر کے 1,500 برطانوی نوجوانوں سے الیکٹرک اور پیٹرول گاڑیوں کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔الیکٹرک گاڑی خریدنے کی خواہش کی سب سے بڑی وجہ اخراجات میں کمی تھی، جس کا ذکر 20 فیصد نوجوانوں نے کیا، جبکہ 19 فیصد نے گھر پر آسانی سے گاڑی چارج کرنے کی سہولت کو اہم وجہ قرار دیا۔پانچ میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ وہ خود کو کبھی پیٹرول گاڑی چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، جبکہ تقریباً دو تہائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی ہی میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیاں ختم ہوجائیں گی۔24 فیصد نوجوانوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نئی پیٹرول یا ڈیزل گاڑی نہیں خریدیں گے، جبکہ 53 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ شاید ایسی گاڑیاں معمول کے مطابق چلانے والی آخری نسل ہوں گے۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی پروپوزیشنز ڈائریکٹر گرین ریگن کے مطابق نصف سے زیادہ نوجوان ڈرائیور اپنی پہلی گاڑی الیکٹرک چاہتے ہیں اور واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ درست سمت میں ہے۔ ایندھن کے مقابلے میں پہلے سال میں 890 پاؤنڈ تک بچت اور رات کے وقت گھر پر صرف 8 پاؤنڈ میں چارجنگ کی سہولت کے باعث الیکٹرک گاڑی نئی نسل کے ڈرائیوروں کیلئے بتدریج زیادہ قابلِ رسائی انتخاب بنتی جا رہی ہے۔یہ نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ جینزی کے بہت سے نوجوان گاڑی چلانے سے خوفزدہ ہیں۔ٹیمپ کور کی جانب سے ماہرین نے نوجوانوں سے ان عام ڈرائیونگ اور موٹرنگ کے کاموں کے بارے میں سروے کیا جنہیں وہ سب سے زیادہ مشکل اور خوفناک سمجھتے ہیں۔پنکچر ہونے کی صورت میں ٹائر تبدیل کرنا نوجوان ڈرائیوروں کا سب سے بڑا خوف سامنے آیا، جبکہ متوازی پارکنگ، چڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا اور موٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا بھی سیکڑوں نوجوان ڈرائیوروں کیلئے انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔یہ نتائج جینزی کے بہت سے نوجوانوں کیلئے حیران کن نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے ٹک ٹاک پر گاڑی چلانے سے متعلق اپنے خوف اور پریشانیوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔آرٹیمس الیکسس کے مطابق''جب آپ کسی نئی جگہ گاڑی لے جانے والے ہوں اور آپ کو وہاں پارکنگ کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو تو اچانک گھبراہٹ طاری ہوجاتی ہے‘‘۔روملی جین نے کہا: ''لوگ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہوں، لیکن یہ واقعی بہت خوفناک ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں‘‘۔''جن زی‘‘ کو گاڑی چلانے کے دوران سب سے زیادہ خوفپنکچر ٹائر تبدیل کرنا 36 فیصدبیٹری ختم ہونے پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 36 فیصدمتوازی پارکنگ کرنا 24 فیصدگیراج میں ٹائر کا دباؤ چیک کرکے ہوا بھرنا 22 فیصدچڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 22 فیصدانجن آئل کی سطح چیک کرنا 20 فیصدانشورنس کمپنی کو فون کرنا یا کلیم دائر کرنا 19 فیصدموٹروے پر گاڑی چلانا 18 فیصدموٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا 18 فیصدگاڑی خراب ہونے کی صورت میں امدادی کمپنی کو فون کرنا 18 فیصد

آج تم یاد بے حساب آئے! میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جنگ ستمبر65کا ہیرو (1965-1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جنگ ستمبر65کا ہیرو (1965-1928ء)

٭... 6اگست1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد رائو عبداللہ ہانگ کانگ میں پولیس میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک تھے ۔بڑے بھائی نذیر احمد بھٹی بھی ایک استاد تھے۔ ٭...میٹرک تک تعلیم ہانگ کانگ میں حاصل کی، بعد میں کوئنز کالج میں داخلہ لے لیا۔٭...قیام پاکستان سے قبل ان کے خاندان نے ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش اختیار کی۔٭...21 جنوری 1948ء کو پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ ٭...1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں انہیں بہترین کیڈٹ کے اعزازکے ساتھ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا گیا۔٭... 1952 ء میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کیلئے کینیڈا بھی گئے۔ ٭...1957ء سے 1959ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ ٭...1960ء سے1962ء تک پنجاب رجمنٹ جبکہ 1962ء سے1964ء تک انفنٹری سکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ ٭...جنوری 1965 ء سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈر کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔٭...6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے۔ ٭...میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے رکھا۔٭...12ستمبر کو ایک گولہ ان کے سینے کے آرپار ہوگیا۔ جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔٭...وطن کی خاطر اپنی جان نثار کرنے پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا، جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ نے وصول کیا۔ عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔