ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

چینی ماہرین فلکیات کی اہم دریافت،کہکشاں کے پوشیدہ راز کھلنے کی امیدہم جس وسیع و عریض کائنات کا حصہ ہیں، اس میں ہماری زمین ایک معمولی سے سیارے اور سورج ایک عام سے ستارے کی حیثیت رکھتا ہے، مگر ہمارا نظامِ شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے وہ اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔ ملکی وے کہکشاں میں ستاروں، گیس، گردوغبار اور دیگر اجرامِ فلکی کی اربوں سال پر محیط حرکات نے اسے ایک انتہائی پیچیدہ اور متحرک نظام بنا دیا ہے۔ اب چینی ماہرین فلکیات نے اس کہکشاں کے بارے میں ایک اہم دریافت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی لہروں کا سراغ لگایا ہے، جو ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ اہم دریافت چینی اکیڈمی آف سائنسز کے زیر انتظام ''پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری‘‘ (PMO) سے وابستہ محققین کی ایک ٹیم نے کی ہے۔سائنسی جریدے '' نیچر آسٹرونومی‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدات اس بات کے نئے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ ملکی وے کی بیرونی ساخت محض ایک ہموار ڈسک پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر عمودی اتار چڑھاؤ اور لہریلی ساختیں بھی موجود ہیں۔ملکی وے کی غیر معمولی ساختفلکیاتی مشاہدات سے پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ملکی وے ایک مکمل طور پر ہموار کہکشاں نہیں۔ اس کی مجموعی شکل کسی قدر ایسی خمیدہ پلیٹ یا ریکارڈ سے مشابہ ہے جس کے ایک جانب کا کنارہ اوپر اور دوسری جانب کا کنارہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ اس بڑے پیمانے کی بگاڑ کو فلکیات کی زبان میں ''وارپ‘‘ (Warp) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں کے بڑے پیمانے کے اس خم کے علاوہ اس کے اندر چھوٹی اور نسبتاً باریک عمودی ساختوں کے بارے میں معلومات محدود تھیں۔ سائنسدانوں کیلئے یہ جاننا ہمیشہ ایک اہم سوال رہا ہے کہ ملکی وے کی ڈسک میں یہ اتار چڑھاؤ کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا تعلق کہکشاں کے گرد موجود دیگر اجرام یا چھوٹی کہکشاؤں کی کششِ ثقل سے ہے۔چینی محققین کی حالیہ تحقیق نے اسی سوال کا ایک ممکنہ جواب پیش کیا ہے۔''وارپ‘‘ کو الگ کیا تو نئی حقیقت سامنے آگئیاس تحقیق میںسائنسدانوں نے پہلے ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں موجود بڑے پیمانے کے ''وارپ‘‘ کو ماڈل کی صورت میں پیش کیا۔ اس کے بعد اس بڑے خم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کیا،تاکہ اس کے پیچھے چھپی نسبتاً باریک ساختوں کا مشاہدہ کیا جا سکے۔یہیں سے تحقیق نے ایک دلچسپ رخ اختیار کیا۔بڑے پیمانے کے خم کو نکالنے کے بعد باقی ماندہ ساخت میں واضح لہریلے عمودی اتار چڑھاؤ نظر آئے۔ یہ ساختیں کسی حد تک پانی کی سطح پر پھیلنے والی لہروں سے مشابہ دکھائی دیتی ہیں۔ سائنسدانوں نے انہیں ''کورگیشنز‘‘ (Corrugations) قرار دیا ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں ان لہریلی ساختوں کے بڑے پیمانے پر پھیلے ہونے کے مشاہداتی شواہد سامنے آئے ہیں۔کہکشاں میں لہریں کیسے بنتی ہیں؟اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ملکی وے میں یہ لہریں پیدا کیسے ہوئیں؟محققین کے مطابق ان ساختوں کے پیچھے ممکنہ طور پر ثقلی خلل یا بیرونی کششِ ثقل کارفرما ہے۔ جب کسی بڑی یا چھوٹی کہکشاں کی کششِ ثقل ملکی وے پر اثر انداز ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری کہکشاں کی ڈسک میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے۔چینی محققین کا خیال ہے کہ یہ عمودی لہریں ممکنہ طور پر ایسی ہی بینڈنگ ویوز (Bending Waves)کا نتیجہ ہیں۔ یہ لہریں کہکشاں کی گیس، ستاروں اور دیگر مادے کی وسیع پیمانے پر ہونے والی عمودی حرکات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔سائنسدانوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بونی کہکشاؤں (Dwarf Galaxies)جیسی چھوٹی سیٹلائٹ کہکشائیں جب ملکی وے کے قریب سے گزرتی ہیں تو ان کی کششِ ثقل ہماری کہکشاں کی بیرونی ڈسک کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس ثقلی مداخلت کے نتیجے میں ملکی وے کی ڈسک میں لہریں پیدا ہوسکتی ہیں جو وقت کے ساتھ بیرونی حصوں میں پھیلتی رہتی ہیں۔کائناتی ماضی کے سراغماہرین فلکیات کیلئے کہکشاؤں میں موجود ایسی ساختیں دراصل ماضی کے واقعات کے نشان بھی ہوسکتی ہیں۔ جس طرح زمین پر کسی قدیم واقعے کے آثار ہمیں اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، اسی طرح کہکشاں کی موجودہ ساخت میں موجود لہریں اور بگاڑ اس کے ماضی میں ہونے والے ثقلی تعاملات کی یادگار ہوسکتے ہیں۔اگر سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ملکی وے میں یہ لہریں کس وقت اور کس بیرونی اثر کے نتیجے میں پیدا ہوئیں تو اس سے ہماری کہکشاں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان لہروں کے ذریعے ماضی میں ملکی وے کے قریب سے گزرنے والی کسی بونی کہکشاں یا دوسرے بڑے فلکیاتی جسم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاسکیں۔کائنات کو سمجھنے کی ایک نئی کھڑکیچینی سائنسدانوں کی یہ تحقیق اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ جدید دور میں فلکیات صرف دور دراز کہکشاؤں کے مشاہدے تک محدود نہیں رہی بلکہ سائنس دان ہماری اپنی کہکشاں کی انتہائی پیچیدہ اندرونی ساخت کو بھی تین جہتی نقشوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔30 ہزار سے زائد سالماتی بادلوں کے تفصیلی جائزے سے حاصل ہونے والے نتائج نے ملکی وے کی بیرونی ڈسک کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں مزید حساس دوربینوں اور جدید کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ان لہریلی ساختوں کا زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ممکن ہے مستقبل کی تحقیقات یہ واضح کردیں کہ ملکی وے میں ایسی لہریں کتنی وسیع ہیں، وہ کس رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان کے پیچھے کون سے ثقلی واقعات کارفرما رہے ہیں۔یوں چینی محققین کی یہ دریافت بظاہر کہکشاں میں موجود چند لہریلی ساختوں کا مشاہدہ ہے، لیکن اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ ملکی وے کے ''کائناتی ارتعاشات‘‘ دراصل ہماری کہکشاں کی ایک ایسی داستان سنا رہے ہیں جو اربوں سال سے جاری ہے۔ ان لہروں کا مطالعہ نہ صرف ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور حرکیات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ اس بات پر بھی نئی روشنی ڈال سکتا ہے کہ کہکشائیں کس طرح ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتی ہیں۔

ویپنگ

ویپنگ

نوجوان نسل کی صحت کیلئے بڑھتا ہوا خطرہجدید دور میں ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے نسبتاً کم نقصان دہ متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مضر صحت اثرات سے متعلق تشویشناک حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ پھیپھڑوں کے مسائل، ڈپریشن اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ اس عادت میں مبتلا نوجوانوں کے مستقبل میں روایتی سگریٹ نوشی کی جانب مائل ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال بالخصوص نوجوان نسل کی صحت اور مستقبل کے حوالے سے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپنگ کے آلات نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی مہلک عادت سے دور رکھنے کے بجائے اس کی جانب لے جانے کیلئے ''گیٹ وے‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگ برنگی پیکنگ اور مٹھائی جیسے ذائقوں نے نوجوانوں کو اس عادت کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ (RCPCH) کے محققین نے اپنے نتائج جریدے آرکائیوز آف ڈیزیز اِن چائلڈہڈ میں شائع کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد ''تشویشناک‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ویپنگ سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے، تاہم اسے کسی صورت بے ضرر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ویپنگ کا تعلق سانس کے مختلف مسائل، جن میں گھرگھراہٹ اور کھانسی شامل ہیں کے علاوہ بے چینی، ڈپریشن اور پینک ڈس آرڈر سے بھی پایا گیا۔محققین نے ویپنگ اور نیند کی خرابی، آنکھوں کی بیماریوں اور منہ کی صحت کے مسائل کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا، جن میں سوزش، منہ کے چھالے اور منہ کا خشک ہونا شامل ہیں۔مزید برآں، تحقیقی ٹیم نے ان بچوں کے حوالے سے بھی تشویشناک علامات کا مشاہدہ کیا جن کی ماؤں نے حمل کے دوران ویپنگ کی تھی۔ان بچوں میں غیر معمولی اضطراری حرکات (Reflexes) کی زیادہ تعداد اور حرکی نشوؤنما میں کمی دیکھی گئی۔ حرکی نشوؤنما سے مراد بچے کی جسمانی حرکات اور جسم کے ردعمل کی پختگی ہے۔ رحم مادر میں ویپنگ کے اثرات کا سامنا کرنے والے بچوں میں وزن بڑھنے کی رفتار بھی کم پائی گئی۔تحقیق کے مصنفین نے لکھا کہ یہ جامع جائزہ بچوں اور نوجوانوں پر ویپنگ اور ای سگریٹ کے استعمال سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ول کیرول نے کہاکہ ویپنگ کو جوانی یا بڑے ہونے کے عمل کا بے ضرر حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تحقیق میں نوجوانوں کے ویپنگ کرنے اور بعد ازاں روایتی سگریٹ نوشی شروع کرنے کے درمیان ''واضح تعلق‘‘ سامنے آیا۔ اگرچہ سگریٹ اور زیادہ تر ویپس دونوں میں نکوٹین موجود ہوتی ہے، تاہم ان کا طریقہ کار ایک دوسرے سے خاصا مختلف ہے۔سگریٹ میں تمباکو کو جلایا جاتا ہے، جس سے ہزاروں کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جن میں تار اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے کیمیکلز سرطان کا باعث بننے کیلئے معروف ہیں۔ پھیپھڑوں کے سرطان کے 60 فیصد سے زیادہ کیسز سگریٹ نوشی سے منسلک ہیں، جبکہ یہ بیماری ہر سال تقریباً 33 ہزار افراد کی جان لے لیتی ہے۔اس کے برعکس ویپنگ میں بیٹری سے چلنے والے ایک آلے کے ذریعے ایک مائع کو، جس میں عموماً نکوٹین شامل ہوتی ہے، گرم کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بخارات نما مادہ پیدا ہوتا ہے، جسے صارف سانس کے ذریعے اندر کھینچتا ہے۔ ویپنگ کے ذریعے صارفین کو سگریٹ کے مقابلے میں نقصان دہ کیمیکلز کی نسبتاً کم مقدار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے مقابلے میں خاصا کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین زور دیتے ہیں کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ویپنگ بے ضرر ہے۔تمباکو نوشی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ (ASH) کے مطابق برطانیہ میں 11 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 19 فیصد بچے اور نوجوان، یعنی لگ بھگ 10 لاکھ افراد ویپنگ آزما چکے ہیں۔ وزراء نے بچوں میں ویپنگ کی کشش کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اشتہارات، پیکنگ اور مختلف ذائقوں کی تشہیر سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔جولائی میں حکومت نے سادہ پیکنگ متعارف کرانے اور ویپ تیار کرنے والی کمپنیوں کو میٹھے پکوانوں اور الکحل سے متاثر دلکش ناموں کے بجائے سادہ نام استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔پروفیسر کیرول نے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا، تاہم وزراء پر زور دیا کہ وہ مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے صرف ذائقوں کے ناموں ہی نہیں بلکہ خود دستیاب ذائقوں کی اقسام کو بھی محدود کریں۔ ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ کی چیف ایگزیکٹو ہیزل چیزمین نے کہا کہ ویپنگ اب بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند بالغ افراد کیلئے ایک اہم مددگار ذریعہ ہے، تاہم نوجوانوں میں ویپنگ کے رجحان کو کم کرنے کیلئے اس کی مارکیٹنگ اور تشہیر پر سخت پابندیاں ضروری ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا دن1791ء میں 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب سینٹو ڈومینگو میں غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا آغاز ہوا جو آج کل ڈومینین ری پبلک اور ہیٹی کہلاتا ہے، جس کی یاد میں ہر سال 23 اگست کے روز غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی دن منانے کا مقصد تمام انسانوں کے ذہن میں غلاموں کی تجارت ، انسانوں کو غلام بنانے کے طریقہ کار، اِس تکلیف دہ عمل کے نتائج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔قمری مشن ''لونا 11‘‘23اگست 1966ء کو سوویت یونین نے اپنے خلائی پروگرام کے تحت قمری مشن ''لونا 11‘‘ روانہ کیا۔ جس کا مقصد چاند کی سطح اور اس کے مدار کا مطالعہ کرنا تھا۔ ''لونا 11‘‘ نے چاند کے مدار میں داخل ہو کر وہاں سے تصاویر، شعاعوں اور سطحی ساخت کے بارے میں قیمتی ڈیٹا زمین پر ارسال کیا۔ یہ مشن سوویت خلائی دوڑ کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا ۔ جنگ چالدیران: عثمانیوں کی فتح23 اگست 1514ء کو یورپ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب عثمانی سلطنت اور صفوی سلطنت کے درمیان جنگ چالدیران لڑی گئی۔ عثمانی فوج نے اپنی جدید توپ خانے اور بہتر عسکری تنظیم کے باعث صفوی فوج کو شکست دی۔ اس معرکے کے نتیجے میں اناطولیہ اور مشرق وسطیٰ میں عثمانی اقتدار مزید مضبوط ہوا اور صفوی سلطنت کی وسعت کو بڑا دھچکا لگا۔ سلووینیابیلون حادثہ2012ء میں آج کے روز سلووینیا کے دارالحکومت لبلیانا کے قریب ایک گرم ہوا کا غبارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس المناک حادثے میں چھ افراد ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے۔ غبارہ لبلیانا کے نواحی دلدلی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ یہ حادثہ سلووینیا کی فضائی تاریخ کے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔گلف ائیر کی پروازکو حادثہگلف ایئر کی ''پرواز 072‘‘ 23 اگست 2000ء کو ایئر پورٹ سے 5 کلومیٹر دور خلیج فارس کے گہرے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگئی۔ طیارے میں سوار تمام 143 افراد ہلاک ہو گئے۔فلائٹ 072 کا حادثہ بحرین کے علاقے میں ہوا بازی کا بدترین حادثہ تھا اور ایئربس A320 کا بھی سب سے مہلک حادثہ تھا۔آرمینیا کا آزادی کا اعلان23 اگست 1990ء کو آرمینیا نے سوویت یونین سے اپنی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یہ اعلان ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا جس نے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ بالآخر 21 ستمبر 1991ء کو آرمینیا نے ریفرنڈم کے ذریعے باضابطہ آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاماسولا جیل ہنگامہ23اگست2013ء کو بولیویا کے سانتا کروز کی ایک بہترین سکیورٹی والی جیل پاماسولا میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے پروپین ٹینکوں کو شعلے پھینکنے کیلئے استعمال کیا گیا۔اس ہنگامہ آرائی میں 31 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک18ماہ کا بچہ بھی شامل تھاجبکہ 37افراد شدید زخمی ہوئے۔

روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار، روبوٹ نے یوسین بولٹ کو پیچھے چھوڑ دیاروبوٹکس کی دنیا میں انسان نما مشینوں کو تیز، ذہین اور زیادہ باصلاحیت بنانے کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ''سپر مین‘‘ نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے حیران کن رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس روبوٹ نے دوڑتے ہوئے 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو تقریباً 45.5 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ رفتار عام انسان کیلئے حیران کن ہے اور روبوٹکس کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ایسی پیشرفت مستقبل میں روبوٹس کی نقل و حرکت، صنعتی کاموں اور مختلف مشکل حالات میں ان کے استعمال کے امکانات کو مزید وسیع کرسکتی ہے۔ایک حیرت انگیز ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چینی سائنس دانوں کا تیار کردہ روبوٹ ''سپر مین‘‘ ٹریک پر دوڑتے ہوئے 12.66 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرلیتا ہے۔اس کے مقابلے میں سپرنٹ کے عالمی چیمپئن یوسین بولٹ نے 2009ء میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 12.42 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 27.78 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔اس روبوٹ کو چین کے شہر ہانگژو میں قائم روبوٹکس کمپنی یونٹری (Unitree) نے تیار کیا ہے، جو جدید اور تیز رفتار روبوٹک کتوں اور انسان نما روبوٹس کی تیاری کے حوالے سے مشہور ہے۔ویڈیو کے ایک اور حصے میں یہ مشین کھڑے کھڑے دو میٹر عمودی بلندی تک ہوا میں چھلانگ لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کارکردگی بھی موجودہ انسانی عالمی ریکارڈ سے بہتر ہے۔ امریکا کے کرسٹوفر اسپیل نے 2021ء میں کھڑے ہوکر 1.7 میٹر (5 فٹ 7 انچ) بلند چھلانگ لگا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔کمپنی نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یونٹری کا نیا روبوٹ ''سپر مین‘‘ انسانی صلاحیتوں کی حدود توڑ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئی مشین کی تیاری کو ابھی صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔یہ شاندار مظاہرے بظاہر کسی عملی کام کے بجائے روبوٹ کی خالص جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ویڈیو محض کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا ایک مظاہرہ ہے اور روبوٹ کی تیز رفتار دوڑ اور بلند چھلانگ سے متعلق دعوؤں کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کی ٹانگوں کی لمبائی مبینہ طور پر صرف 0.85 میٹر (2.8 فٹ) ہے۔ نسبتاً چھوٹے قدموں کے باوجود اس قدر زیادہ رفتار حاصل کرنا اس کی کارکردگی کو خاص طور پر حیران کن بنا دیتا ہے۔یونٹری نے ابھی تک ''سپر مین‘‘ روبوٹ کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ ان تفصیلات میں روبوٹ کا قد، وزن، بیٹری کی گنجائش اور یہ معلومات بھی شامل نہیں کہ رفتار اور چھلانگ کے تجربات کتنی مرتبہ دہرائے گئے۔ یہ نئی مشین یونٹری کے اس سے قبل تیار کیے گئے انسان نما روبوٹ ''H1‘‘ کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے بھی دوڑنے کی صلاحیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ ایک سابقہ مظاہرے میں H1 نے 10 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 22.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔ اس روبوٹ کی موجودہ قیمت 13,500 امریکی ڈالر (تقریباً 9,980 برطانوی پاؤنڈ) بتائی جاتی ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے کے تجربہ کار تجزیہ کار ما جیہوا نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اس نوعیت کے انتہائی کارکردگی والے تجربات بنیادی طور پر روبوٹ کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے باہمی تال میل کے ''اسٹریس ٹیسٹ‘‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ روبوٹ کے مختلف نظام انتہائی جسمانی دباؤ کے دوران کس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔یہ تجربات روبوٹ کی دوڑنے، چھلانگ لگانے، دھماکہ خیز طاقت، توازن برقرار رکھنے اور انتہائی متحرک حرکات جیسی صلاحیتوں کو ان کی آخری حدود تک آزمانے کیلئے کیے جاتے ہیں، تاکہ نظام کی کارکردگی کی حقیقی حد کا تعین کیا جاسکے۔ما جیہوا کے مطابق، جس طرح گاڑیوں یا طیاروں کی تیاری کے دوران انتہائی حالات میں ان کی آزمائش کی جاتی ہے، اسی طرح روبوٹ کی حدود کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی روبوٹ کو حقیقی دنیا کے کاموں میں قابلِ اعتماد طریقے سے استعمال کیا جائے، یہ جاننا ناگزیر ہے کہ وہ کس حد تک دباؤ برداشت کرسکتا ہے۔ماہر کے مطابق، انتہائی متحرک حرکات میں مہارت حاصل کرنے سے مستقبل میں ہیومنائیڈ روبوٹس دشوار گزار علاقوں، قدرتی آفات کے مقامات اور دیگر خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں یونٹری نے بتایا تھا کہ وہ دیگر انسان نما ڈیزائنز اور پہیوں والے ماڈلز کو چھوڑ کر اب تک تقریباً 18 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرچکی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےاگرچہ ویڈیو نے لوگوں کو متاثر کیا، تاہم بعض افراد نے اس کے دوڑنے کے انداز کو مزاحیہ بھی قرار دیا۔ ایک شخص نے تبصرہ کیا: ''شاید یہ سب سے مضحکہ خیز دوڑ ہے جو میں نے کبھی دیکھی ہے‘‘ ۔ایک اور صارف نے لکھا: ''یہ تو عجیب انداز میں دوڑتا ہے۔‘‘ کسی نے مزاحاً کہا: ''اس کے بعد اسکول کے کھیلوں کے مقابلے پہلے جیسے نہیں رہیں گے‘‘۔تاہم کئی افراد روبوٹ کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر روبوٹ کا ہارڈویئر اسی رفتار سے بہتر ہوتا رہا تو ہیومنائیڈ روبوٹس بہت جلد انتہائی حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل ہوجائیں گے۔

کتابوں کی دیوانی خاتون

کتابوں کی دیوانی خاتون

مصنفین کے دستخط شدہ 2,652 کتابوں کا خزانہکتاب سے محبت انسان کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ کبھی کبھی یہی شوق زندگی بھر کی ایک منفرد داستان بن جاتا ہے۔ دنیا میں ایسے کتاب دوست افراد بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کو جمع کرنے کا شوق غیر معمولی حد تک پہنچا دیا۔ ایسی ہی ایک خاتون نے معروف مصنفین کے دستخط شدہ ناول جمع کرتے کرتے 2,652 کتابوں کا حیرت انگیز مجموعہ تیار کر لیا۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک کہانی سمیٹے ہوئے ہے، لیکن مصنف کے دستخط اسے ایک منفرد یادگار بنا دیتے ہیں۔ یہ غیر معمولی مجموعہ نہ صرف کتابوں سے گہری وابستگی کی مثال ہے بلکہ ادب، مصنفین اور مطالعے سے محبت کی ایک ایسی داستان بھی ہے جو قارئین کو حیرت اور تحسین دونوں میں مبتلا کرتی ہے۔کتاب جمع کرنے والی ایک پرجوش خاتون نے ادب سے اپنی گہری محبت کو گنیز ورلڈ ریکارڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے پاس معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی حیرت انگیز تعداد موجود ہے۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ویولیٹا سادوفسکا (Wioleta Sadowksa) مطالعے کے فروغ کیلئے کام کرنے والی شخصیت اور بک بلاگر ہیں۔ وہ اپنی نوعمری کے زمانے سے کتابیں جمع کرنے کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ 2011ء سے مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کے نسخے بھی باقاعدگی سے اپنے مجموعے میں شامل کر رہی ہیں۔3 جولائی کو پولینڈ کے شہر زوفیوفکا میں ان کے کتابوں کے مجموعے کی باقاعدہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد ویولیٹا سادوفسکا کو سب سے زیادہ دستخط شدہ کتابوں کے مجموعے کا عالمی ریکارڈ رکھنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔ ان کے مجموعے میں مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی مجموعی تعداد 2,652 ہے۔کتابوں کی صنعت سے وابستہ رہتے ہوئے 15 سال سے زائد عرصہ گزارنے اور بے شمار کتب میلوں اور ادبی میلوں میں شرکت کرنے کے بعد ویولیٹا کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ کتابوں سے ان کی گہری محبت اور شوق کا نقط عروج ہے۔ان کے مجموعے میں شامل ہونے والی پہلی دستخط شدہ کتاب پولینڈ کی مصنفہ مالگورژاتا موسے رووِچ کی تصنیف'' Noelka‘‘ تھی۔ اس کے بعد ان کا ذاتی کتب خانہ مسلسل وسعت اختیار کرتا گیا اور وقت کے ساتھ دستخط شدہ کتابوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ ویولیٹا کا کہنا ہے کہ ''میرے مجموعے میں گراہم ماسٹرٹن، سیسیلیا آہرن، رابن کک اور میلیسا ڈارووڈ جیسے معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتب کے علاوہ اداکار ژاں رینو کے دستخط بھی شامل ہیں۔ میرے پاس نکولس اسپارکس کے دستخط شدہ کتاب بھی موجود ہے، جن سے مجھے 2017ء کے کراکوف بک فیئر میں ملاقات کا موقع ملا تھا‘‘۔ان کی پسندیدہ کتاب زبیگنیو نیناکی(Zbigniew Nienacki) کی ''Nowe przygody Pana Samochodzika‘‘ ہے، جس نے ادب سے ان کی دلچسپی کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے سب سے قیمتی اثاثوں میں بھی اسی مرحوم پولش مصنف کی دستخط شدہ کتاب شامل ہے۔ یہ کتاب تلاش کرنا خاصا مشکل تھا، تاہم ان کے بلاگ کے ایک قاری نے یہ نایاب کتاب انہیں تحفے میں دے دی۔ویولیٹا نے اپنی پوری ذاتی لائبریری گھر میں شیلفوں پر سجا رکھی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ ان کے اس شاندار کتب خانے کی مالیت 10 لاکھ سے 15 لاکھ پولش زلوٹی کے درمیان ہے، جو تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار 984 سے 4 لاکھ 1 ہزار 278 امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ان کے مجموعے میں اہلِ خانہ، دوستوں اور ناشرین کی جانب سے دی گئی تحائف میں شامل کتابیں بھی موجود ہیں، جبکہ بعض مصنفین نے خود بھی اپنی دستخط شدہ کتابیں ویولیٹا کو بھیجی ہیں تاکہ وہ انہیں اپنے منفرد کتب خانے کا حصہ بنا سکیں۔ان کے مجموعے میں موجود سب سے مشہور مصنف کا دستخط برطانوی ہارر ناول نگار گراہم ماسٹرٹن (Graham Masterton)کا ہے۔ وہ اپنی خوفناک اور سنسنی خیز تحریروں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں ''دی مینیٹو‘‘ (The Manitou) بھی شامل ہے، جو 1976ء میں شائع ہوئی تھی۔ گراہم ماسٹرٹن کی اس کتاب نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا اور وہ ہارر ادب کے معروف مصنفین میں شمار ہونے لگے۔ویولیٹا نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کامیابی نے انہیں اپنی لائبریری کو مزید وسیع کرنے کیلئے نیا حوصلہ دیا ہے۔ اس کامیابی کے ذریعے میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے کوشش کرنا قابلِ قدر ہے اور پولینڈ کی کتاب دوستی اور مطالعے کی ثقافت دنیا کو بہت کچھ پیش کر سکتی ہے۔ان کے خوابوں میں ایک خواب یہ بھی ہے کہ انہیں معروف امریکی مصنف اسٹیفن کنگ کی دستخط شدہ کتاب حاصل ہو جائے۔ ویولیٹا امید کرتی ہیں کہ ریکارڈ قائم کرنے کی ان کی یہ منفرد داستان شاید خود اسٹیفن کنگ تک بھی پہنچ جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنیوا کنونشن22 اگست 1864ء کو12 ممالک نے پہلے جنیوا کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ جنگی تنازعات کے دوران زخمی اور متاثرہ افراد کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی اصول و ضوابط وضع کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ اس کنونشن کا بنیادی مقصد جنگوں میں زخمی فوجیوں اور دیگر متاثرین کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے نے بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیاد رکھنے اور بعدازاں جنیوا کنونشنز کیلئے راہ ہموار کی۔برازیل کا اعلان جنگ1942ء میں آج کے روزبرازیل نے جرمنی، جاپان اور اٹلی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ ایک اہم پیشرفت تھی۔ اس فیصلے کے بعد برازیل اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور محوری طاقتوں کے خلاف جنگی کوششوں میں شامل ہوا۔ برازیل نے بعد ازاں اپنی فوجی قوت بھی اتحادی افواج کے تعاون کیلئے استعمال کی۔ اس اقدام نے جنوبی امریکا میں جنگ کے سیاسی و عسکری اثرات کو مزید نمایاں کیا اور عالمی جنگ میں برازیل کے کردار کو اہم بنا دیا۔یوکرین فضائی حادثہ2006ء میں پلکووو ایوی ایشن انٹرپرائز کی پرواز 612 روسی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگئی۔ یہ مسافر طیارہ روس سے یوکرین کی فضائی حدود سے گزر رہا تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ فضائی سفر کی تاریخ کے ان المناک واقعات میں شمار ہوتا ہے جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پینٹنگز کی چوری2004ء میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ایک عجائب گھر سے معروف مصور ایڈورڈ منک کی دو شاہکار پینٹنگز ''دی اسکریَم‘‘ اور ''میڈونا‘‘ چوری کرلی گئیں۔ مسلح نقاب پوش چور عجائب گھر میں داخل ہوئے اور دونوں قیمتی فن پارے لے کر فرار ہوگئے۔ یہ چوری دنیا بھر میں فنونِ لطیفہ کے حلقوں کیلئے ایک بڑا صدمہ تھی، کیونکہ دونوں پینٹنگز منک کے مشہور ترین فن پاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ آئس لینڈکا تاریخی فیصلہ1991ء میں آج کے روز آئس لینڈ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے والی بالٹک ریاستوں، یعنی ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سوویت یونین میں سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی تھیں۔ آئس لینڈ کے اس فیصلے نے بالٹک ریاستوں کی عالمی سطح پر آزاد حیثیت تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کی۔فرانسیسی صدر پر حملہ22اگست 1962ء کو فرانس کے صدر چارلس ڈیگال کو قتل کرنے کی ایک بڑی کوشش کی گئی۔ یہ حملہ ''پیٹی کلامار حملے ‘‘کے نام سے معروف ہے، جس میں فرانسیسی خفیہ تنظیم او اے ایس (OAS) کے ارکان نے صدر ڈیگال کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، تاہم صدر ڈیگال محفوظ رہے۔ یہ واقعہ فرانس کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور سنسنی خیز واقعہ سمجھا جاتا ہے۔