ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

دماغی ماڈلنگ کیلئے دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیارکرلیانسانی دماغ کو کائنات کا پیچیدہ ترین نظام قرار دیا جاتا ہے، جس کے اسرار جاننے کیلئے سائنس دان دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹنگ اور جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی نے اس تحقیق کو نئی جہت عطا کی ہے، مگر دماغی سرگرمیوں کی برق رفتار نقل (Brain Modeling) ہمیشہ ایک بڑا تکنیکی چیلنج رہی ہے۔ اب چین کے سائنسدانوں نے ایک نئی چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دماغی ماڈلنگ میں ہونے والی تاخیر کو سیکنڈز سے کم کرکے محض ملی سیکنڈز تک لے آئی ہے۔ اگر یہ پیشرفت عملی میدان میں اپنی افادیت ثابت کر دیتی ہے تو نہ صرف دماغی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی تبدیلیاں آسکتی ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور اعصابی تحقیق کے شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کا بھی مظہر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی معیشت اور سائنسی برتری کا بنیادی محور بنتے جا رہے ہیں۔چینی سائنسدانوں نے ''فیز چینج میمریسٹرز‘‘ (phase-change memristors) پر مبنی دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیار کر لی ہے، جس نے دماغی ماڈلنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس جدید چپ نے ایک مرحلے (Single Step) کی کمپیوٹیشنل تاخیر کو محض 2.12 ملی سیکنڈ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ دماغ کے بیرونی حصے (Brain Cortex) کی تھری ڈی ساخت کی تشکیل نو کے دوران موجودہ جدید ترین گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے مقابلے میں 50 سے 478 گنا تک زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ہے۔یہ اہم تحقیق گزشتہ ہفتے عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے ''سائنس‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس منصوبے کی قیادت پیکنگ یونیورسٹی کے اسکول آف انٹیگریٹڈ سرکٹس کے پروفیسر یانگ یوچاؤ (Yang Yuchao) نے کی۔ انہوں نے چینی اخبار گوانگ منگ ڈیلی (Guangming Daily) کو بتایا کہ اگر مشینوں کو حقیقی وقت (Real Time) میں طبعی دنیا کو سمجھنے اور اس کا درست ماڈل تیار کرنے کے قابل بنانا ہے تو اس کیلئے نیورل ڈائنامیکل سسٹم ناگزیر ہے۔ یہ نظام مصنوعی اعصابی نیٹ ورکس (Neural Networks) اور تفاضلی مساوات (Differential Equations) کو یکجا کرتا ہے۔پروفیسر یانگ کے مطابق ایسا نظام نامکمل، شور زدہ اور غیر مکمل معلومات سے بھی دماغ کی نہایت ہموار، درست اور سہ جہتی ساخت دوبارہ تشکیل دے سکتا ہے۔ جس کے باعث طب، مصنوعی ذہانت اور اعصابی سائنس سمیت متعدد شعبوں میں اس کے بے شمار عملی استعمال ممکن ہیں۔ تاہم روایتی کمپیوٹنگ نظام ایک بنیادی رکاوٹ کا شکار ہیں، جسے میموری اور کمپیوٹیشن کی علیحدگی کہا جاتا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر آرکیٹیکچر میں حساب کتاب کے دوران بے شمار درمیانی متغیرات مسلسل میموری اور پروسیسر کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے کسی بڑی فیکٹری میں زیادہ وقت مصنوعات بنانے کے بجائے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر صرف ہو رہا ہو۔ نتیجتاً کمپیوٹنگ میں تاخیر بڑھ جاتی ہے، توانائی کا بے جا استعمال ہوتا ہے اور مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔اسی مسئلے کے حل کیلئے چینی محققین نے فیز چینج میموری کی ایک منفرد طبعی خصوصیت، یعنی کنڈکٹنس ڈرفٹ (Conductance Drift) سے فائدہ اٹھایا۔ اس خاصیت کی اہم بات یہ ہے کہ ایک مخصوص مدت کے دوران اس کی تبدیلی نہ صرف قابل پیشگوئی ہوتی ہے بلکہ اسے انتہائی درست انداز میں قابو بھی کیا جا سکتا ہے۔اسی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے ''کنٹرول ایبل اِن میموری کمپیوٹنگ‘‘ (Controllable In Memory Computing) کے نام سے ایک نیا کمپیوٹنگ تصور پیش کیا۔ سادہ الفاظ میں، وہ تمام پیچیدہ حسابی مراحل جن کیلئے پہلی بار بار ڈیجیٹل کمپیوٹیشن، کیش میموری تک رسائی اور ڈیٹا کی مسلسل منتقلی درکار ہوتی تھی، اب خود میموری ڈیوائس کی طبعی تبدیلیوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے مصنوعی اعصابی نیٹ ورک کے ویٹس (Weights) کو فیز چینج میموری کی مختلف ملٹی لیول کنڈکٹنس اسٹیٹس پر منتقل کیا، جس کے نتیجے میں میٹرکس ملٹی پلائی (Matrix Multiplication) اور اکیومولیشن (Accumulation) جیسے بنیادی کمپیوٹیشنل عمل ایک ہی میموری ایرے (Memory Array) کے اندر انجام پانے لگے۔یوں کمپیوٹنگ کے یہ دونوں بنیادی مراحل صرف 0.28 مربع ملی میٹر رقبے پر مشتمل ایک انتہائی چھوٹے میموری کمپیوٹنگ ارے میں یکجا کر دیے گئے۔ اس جدید چپ کو 40 نینو میٹر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا، جو سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک مستند اور مؤثر پیداواری معیار سمجھا جاتا ہے۔اس چپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف 2.12 ملی سیکنڈ میں ایک مکمل کمپیوٹیشنل دور (Single Iteration) مکمل کر لیتی ہے، جس کے ساتھ پہلی مرتبہ نیورل ڈائنامیکل ہارڈ ویئر حقیقی معنوں میں ملی سیکنڈ دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پروفیسر یانگ کے مطابق رفتار کے اعتبار سے یہ نئی چپ موجودہ جدید ترین مخصوص کمپیوٹنگ ایکسیلیریٹرز کے مقابلے میں 3.82 سے 36.27 گنا زیادہ تیز ہے، جبکہ اس کی توانائی کی کھپت بھی نمایاں طور پر کم ہے۔دماغ کے بیرونی حصے یعنی برین کورٹیکس کی سطح کی تشکیل نو کے دوران اس چپ نے غیر ملکی جدید ترین ''گرافکس پروسیسنگ یونٹس‘‘ کے مقابلے میں 478.18 گنا زیادہ رفتار کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ذریعے تیار کردہ دماغی ماڈلز نہایت ہموار، ساختی اعتبار سے درست (Topologically Consistent) اور دماغ کی پیچیدہ تہہ دار ساخت کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ چپ روایتی طریقوں میں پیدا ہونے والی غیر ضروری ساختی خرابیاں (Artifacts) اور خود ساختہ باہمی تقاطع کو بھی مؤثر انداز میں ختم کر دیتی ہے۔پروفیسر یانگ نے کہا کہ یہ پیشرفت برین کمپیوٹر انٹرفیس اعصابی بیماریوں کی تشخیص اور جدید طبی تحقیق کیلئے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مستقبل میں ہر فرد کے دماغ کا انفرادی اور ڈائنامک ڈیجیٹل ٹوئن تیار کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمیوں کی عکاسی کرے گا۔ ایسی ٹیکنالوجی دماغی آپریشنز کے دوران ریئل ٹائم نیورل نیوی گیشن، الزائمر جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، ذاتی نوعیت کے علاج اور اعصابی امراض کے بروقت تدارک کیلئے ایک مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اس تحقیق کو کامیابی کے ساتھ عملی سطح پر منتقل کر دیا گیا تو یہ صرف مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ نیورو سائنس، روبوٹکس، طبی تشخیص، ذہین کمپیوٹنگ اور مستقبل کے خودکار نظاموں میں بھی ایک نئے انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کامیابی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، میموری کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین تیزی سے عالمی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ شعبہ سائنسی، صنعتی اور طبی دنیا کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

بونی اور سمبا نے فٹ بال مہارتوں سے دنیا کو حیران کر دیااگر اس ورلڈ کپ میں یہ باصلاحیت فٹ بال کھیلنے والے کتے میدان میں ہوتے تو شاید کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کو بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے ورلڈ کپ کہیں یا ''ورلڈ پَپ‘‘، بات ایک ہی ہے!برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں اپنی مالک اولگا جونز کے ساتھ رہنے والے پانچ سالہ بارڈر کولی سمبا اور اس کی سات سالہ بہن شو ٹائپ انگلش اسپرنگر اسپینیئل بونی نے ورلڈ کپ کا جشن منفرد انداز میں مناتے ہوئے اپنے اعزازات کی طویل فہرست میں فٹ بال کے نئے عالمی ریکارڈ بھی شامل کر لیے ہیں۔ مسلسل عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے سمبا نے ایک منٹ میں سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے صرف ایک منٹ میں 12 گول کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ دوسری جانب بونی نے صرف 30 سیکنڈ میں 5 گول کر کے اس عرصے میں کسی بھی کتے کی جانب سے سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔اس سے قبل سمبا ایک منٹ میں 5 گول کر کے بھی ریکارڈ قائم کر چکا تھا، مگر اس نے اپنی ہی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہوئے نیا سنگ میل عبور کر لیا۔بلاشبہ یہ ننھے فٹ بالر اپنی مہارت اور پھرتی سے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیتے ہیں۔ اولگا جونز، جن کا تعلق طب کے شعبے سے رہا ہے لیکن اب وہ اپنے ریکارڈ ساز کتوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ ان کے تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی کوششوں کا خیال یقیناً فیفا ورلڈ کپ سے ہی متاثر ہو کر آیا۔انہوں نے کہا کہ فٹ بال ان کھیلوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے فٹ بال سے متعلق ایک نیا ریکارڈ متعارف کرایا تو ہمیں محسوس ہوا کہ یہ سمبا اور بونی کیلئے بہترین موقع ہے۔ دونوں کو پہلے ہی گیند سے کھیلنا، نشانے لگانا اور مختلف مسائل حل کرنے والے کھیل بے حد پسند ہیں، اس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں پینلٹی شوٹ آؤٹ کا اپنا منفرد، کتوں والا انداز آزمانے کا موقع دیا جائے۔اولگا جونز نے مزید بتایا کہ سمبا کو فٹ بال کے گول کرتے دیکھ کر بونی خود کو زیادہ دیر تک روک نہ سکی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر دیکھتی رہی، پھر جیسے اس نے خود سے کہا، ''اچھا، اب میری باری ہے‘‘۔ موقع ملتے ہی وہ بے حد جوش و خروش کے ساتھ میدان میں دوڑ پڑی، اپنے گول کیے اور ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص توانائی، دلکشی اور خوشگوار شرارت سے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ اولگا نے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ بالکل! ہم دل و جان سے انگلینڈ کی حمایت کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ٹیم بہترین ٹورنامنٹ کھیلے گی۔ سمبا اور بونی نے اگرچہ فٹ بال میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن انگلینڈ کے گول کیپروں کے برعکس انہیں کسی شاٹ کو روکنے کی ذمہ داری نہیں نبھانا پڑی۔49 سالہ اولگا جونز بونی اور سمبا کی تربیت اُس وقت سے کر رہی ہیں جب وہ بالکل چھوٹے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے انہیں تفریحی کرتب اور کھیل سکھائے، پھر بتدریج ان کی تربیت کو مزید اعلیٰ سطح تک لے گئیں۔ آج یہ دونوں کتے مختلف ڈاگ اسپورٹس، فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں شرکت، ڈاگ ڈانسنگ اور متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے جیسے غیرمعمولی کارنامے انجام دے چکے ہیں۔اولگا کے مطابق بونی اور سمبا ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ہر نئے چیلنج کو نہایت شوق سے قبول کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کتوں کی نظر میں یہ سب محض ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے، جو وہ کبھی اپنی مالک اور کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جب وہ کوئی کام کامیابی سے انجام دیتے ہیں تو انہیں انعام کے طور پر مزیدار خوراک دی جاتی ہے، جس سے ان کا جوش اور سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اولگا کے بقول، جب کھیل بھی ہو، تعریف بھی ملے اور پسندیدہ انعام بھی، تو پھر اسے پسند نہ کرنے کی آخر کوئی وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟بونی اور سمبا سیکڑوں کرتب، احکامات اور زبانی اشاروں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ متعدد باوقار مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹیلی وژن پروگراموں، اشتہارات اور اسٹیج شوز میں بھی مرکزی کردار ادا کر کے خوب شہرت حاصل کر چکے ہیں۔سمبا کو مصوری کا بھی بے حد شوق ہے۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر فروخت کر کے فلاحی اداروں کیلئے فنڈز جمع کیے ہیں۔ دوسری جانب بونی نے برطانیز گاٹ ٹیلنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی پر جج سمیت پورے حاضرین سے کھڑے ہو کر داد وصول کی تھی۔جب اولگا سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنے کتوں کی کون سی بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے تو انہوں نے کہاکہ شاید ان کی مکمل طور پر نئے تصورات کو سیکھنے کی صلاحیت۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کتے صرف حرکات یاد کرتے ہیں، لیکن سمبا اور بونی کسی بھی کام کے اصل مقصد کو غیرمعمولی انداز میں سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسے انجام دینے کیلئے اپنا منفرد طریقہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستان عالمی مالیاتی اداروں میں11جولائی1950ء کو پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور بین الاقوامی بینک برائے تعمیر و ترقی (ورلڈ بینک) کی رکنیت حاصل کی۔ اس اہم پیش رفت سے ملک کو عالمی مالیاتی نظام میں باقاعدہ مقام ملا اور اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ترقیاتی منصوبوں کیلئے قرضوں اور تکنیکی معاونت کے حصول کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ قدم پاکستان کی ابتدائی معاشی اور مالی پالیسیوں میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔جدہ فضائی حادثہ11جولائی1991ء کو نائیجیریا ایئرویز کی ''پرواز 2120‘‘ سعودی عرب کے شہر جدہ سے پرواز کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارے میں آگ لگنے کے باعث وہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 261 مسافر اور عملہ جاں بحق ہو گئے۔ تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ طیارے کے پہیوں میں خرابی اور ان میں لگنے والی آگ تھی۔ یہ سانحہ دنیا کے مہلک ترین فضائی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔سکائی لیب کا اختتام11جولائی1979ء کو امریکہ کا پہلا خلائی اسٹیشن اسکائی لیب اپنے مشن کی تکمیل کے بعد زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوتے ہوئے تباہ ہو گیا۔ یہ خلائی اسٹیشن بحرِ ہند کے اوپر فضا میں جل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، جبکہ اس کا کچھ ملبہ مغربی آسٹریلیا کے علاقوں میں بھی گرا۔ 1973ء میں خلا میں بھیجا گیا اسکائی لیب امریکی خلائی تحقیق کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اس نے کئی سائنسی تجربات میں نمایاں کردار ادا کیا۔8 ہزار مسلمانوں کا قتل عامسریبرینیکا کا قتل عام 11 جولائی 1995ء کو سریبرینیکا میں بوسنیائی جنگ کے دوران پیش آیا۔ اس افسوس ناک واقعہ میں سریبرینیکا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 8ہزار بوسنیائی مسلمانوں کا بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس قتل عام کا آغاز بوسنیائی سرب آرمی کے یونٹس نے کیاجبکہ اس کارپئینز نامی فوجی یونٹ جو 1991ء تک سربیا کے وزارت داخلہ کا حصہ تھی نے بھی سرب آرمی کو مدد فراہم کی۔سپین پہلی بارفٹ بال چیمپئن بنا2010ء میں آج کے روز جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اسپین نے نیدرلینڈز کو اضافی وقت میں 0-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا عالمی کپ اپنے نام کیا۔ سنسنی خیز مقابلے کا واحد اور فیصلہ کن گول آندریس انیئستا نے 116ویں منٹ میں کیا، جس نے اسپین کو تاریخی فتح دلائی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین یورپی چیمپئن شپ (2008ء) اور ورلڈ کپ (2010ء) جیتنے والی دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو گیا۔عالمی شطرنج مقابلہ11جولائی1972ء کو عالمی شطرنج چیمپئن شب کے نام سے ایک مقابلہ منعقد کیا گیا جو امریکہ چیلنجر بوبی فشراور سوویت یونین کے دفاعی چیمپئن بورس اسپاسکی کے درمیان تھا۔ یہ میچ آئس لینڈ کے شہر یکجاویک کے لاگارڈ الشول میدان میں ہوا اور اسے میچ آف دی سنچری کا نام دیا گیا۔فشر اس مقابلے میں فتح کے بعد شطرنج کا عالمی مقابلہ جیتنے والے پہلے امریکی بن گئے۔ فشر کی جیت نے عالمی چیمپئن شپ پر سوویت یونین کی 24سالہ اجارہ داری بھی ختم کر دی۔

میتھ 2.0 ڈے

میتھ 2.0 ڈے

مستقبل کی معیشت،سائنسی ترقی کی بنیادہر سال 8 جولائی کو میتھ 2.0 ڈے (Math 2.0 Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاضی اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے وقف ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا منظور شدہ عالمی دن نہیں تاہم دنیا بھر میں تعلیمی ادارے، ریاضی دان، سائنسدان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس موقع پر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی ترقی میں ریاضی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دن کا آغاز 2009ء میں Math 2.0 Interest Groupکے قیام کی یاد میں کیا گیا، جس کا مقصد ریاضی کی تعلیم کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ریاضی: ہر جدید ایجاد کی بنیادآج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس، خلائی تحقیق، سائبر سکیورٹی، انجینئرنگ، مالیاتی نظام، موسمیاتی پیشگوئی ، طبی تحقیق غرض سائنس جس قسم کی بھی ہو، کسی شعبے کا ریاضی کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سمارٹ فون، آن لائن بینکنگ، نیویگیشن سسٹم، ای کامرس، سرچ انجن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی پیچیدہ ریاضیاتی اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ریاضی صرف اعداد و شمار کا علم نہیں بلکہ منطقی سوچ، تجزیہ، درست فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کا فن بھی سکھاتی ہے۔ یہی صلاحیتیں آج کی عالمی معیشت میں سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک ابتدائی جماعتوں ہی سے بچوں میں ریاضیاتی سوچ پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔پاکستان میں ریاضی کے فروغ کی ضرورتپاکستان میں ریاضی کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ہمارے ملک میں عموماً طالب علموں کی ریاضی کی قابلیت کمزور ہے اور بہت سے طلبہ ریاضی کو صرف امتحان پاس کرنے کی مجبوری سمجھتے ہیں ، اس کے عملی استعمال، منطقی پہلو اور سائنسی اہمیت پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ رٹے پر مبنی تدریسی انداز، عملی سرگرمیوں کی کمی اور محدود وسائل اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ریاضی کو کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انجینئرنگ اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ساتھ پڑھایا جائے ، طلبہ اس علم کو عملی زندگی سے جوڑ سکیں۔اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انہیں جدید تدریسی تکنیک، ڈیجیٹل ٹولز، انٹرایکٹو سافٹ ویئر اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح سکولوں اور کالجوں میں ریاضی کے مقابلوں، STEM سرگرمیوں، سائنس میلوں اور روبوٹکس کلبوں کا فروغ طلبہ میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟بچوں کی تعلیمی کامیابی میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاضی کے حوالے سے گھر کا ماحول بچے کے اعتماد پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین خود ریاضی کو مشکل یا خوفناک مضمون قرار دیں تو بچے بھی یہی تاثر لیں گے ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے کی ترغیب دیں، غلطیوں پر تنقید کے بجائے رہنمائی کریں اور انہیں مسلسل مشق کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہیں۔نیز خریداری، گھریلو بجٹ، وقت، فاصلے، کھیلوں کے سکور اور روزمرہ کے دیگر معاملات میں ریاضی کے استعمال کو بچوں کے سامنے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ریاضی صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے عددی کھیل، منطقی پہیلیاں، تعمیراتی بلاکس اور ذہنی مشقیں ریاضیاتی سوچ کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ریاضی کو محض امتحانی مضمون کے بجائے ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر دیکھیں۔علم پر مبنی معیشت کی جانب سفردنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، فِن ٹیک اور جدید صنعتوں میں کامیابی کے لیے مضبوط ریاضیاتی بنیاد ناگزیر ہے۔ اگر ہم علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تشکیل چاہتے ہیں تو ریاضی کی تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ حکومت، سکولز، اساتذہ اور والدین کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں تجزیاتی سوچ، تحقیق، اختراع اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ ملے۔میتھ 2.0 ڈے ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ریاضی صرف نمبروں کا علم نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، سائنسی ترقی اور قومی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اگر آج کے بچوں کی تعلیمی بنیاد کو ریاضی کی تعلیم اور جدید سائنسی سوچ فراہم کی جائے تو یہ کل پاکستان کو ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک لے جا ئیں گے۔

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان کو قدرت نے ایسی جغرافیائی دولت سے نوازا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نہ صرف بے مثال قدرتی حسن پیش کرتے ہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور قطبی علاقوں سے باہرگلیشیئرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند صرف 14 چوٹیاں موجود ہیں، جنہیں ایٹ تھاوزنڈرز(Eight Thousanders) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جس کے باعث نیپال کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔کے ٹو (K2)کے ٹو پاکستان کی سب سے بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر (28251 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں ضلع شگر، گلگت بلتستان میں پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی انتہائی دشوار گزار چڑھائی، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں اور شدید برفانی طوفانوں کی وجہ سے اسےSavage Mountain کہا جاتا ہے۔ 31 جولائی 1954ء کو اطالوی کوہ پیما اچیلے کمپاگنونی اور لینو لاچیڈیلی نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا۔نانگا پربت نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8126 میٹر (26660 فٹ) ہے۔ یہ ہمالیہ کے مغربی کنارے پر ضلع دیامر، گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ ماضی میں متعدد ناکام مہمات اور ہلاکتوں کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کہا جاتا تھا۔ 1953ء میں آسٹریا کے ہرمن بوہل نے پہلی مرتبہ تنہا اس چوٹی کو سر کر کے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دامن میں واقع فیری میڈوز دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔گاشر برم ۔iگاشر برم۔i جسے ہڈن پیک بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر (26509 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال مشرق میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس چوٹی کی برفانی دیواریں اور دشوار راستے اسے انتہائی مشکل مہمات میں شمار کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1958ء میں امریکی کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔براڈ پیک براڈ پیک پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8051 میٹر (26414 فٹ) ہے۔ اس کا نام اس کی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی برفانی چوٹی کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ کے ٹو سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ 1957ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ اسے سر کیا۔گاشر برم ۔iiگاشر برم ۔ii پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر (26362 فٹ) ہے۔ یہ بھی قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں اسے نسبتاً کم دشوار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی کوہ پیما اس کا رخ کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1956ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔ملک عزیز میں صرف یہی پانچ عظیم چوٹیاں نہیں بلکہ 7000 میٹر سے بلند 108 اور 6000 میٹر سے بلند سینکڑوں چوٹیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں 7000 سے زائد گلیشیئر پائے جاتے ہیں جن میں بالتورو، بیافو، ہسپر، بتورا اور سیاچن نمایاں ہیں۔پولر علاقوں سے باہر یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا ذخیرہ ہے جو دریائے سندھ کے آبی نظام کو پانی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی زراعت، ماحولیات اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان عالمی کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹورازم کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ہر سال یورپ، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور گاشر برم کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیاں برفانی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول، آبی وسائل اور پہاڑی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان قدرتی ذخائر کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی فلک بوس چوٹیاں صرف جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ قومی فخر، قدرتی ورثے اور عالمی سیاحتی امکانات کی علامت ہیں۔ اگر ان قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان ماؤنٹین ٹورازم میں دنیا کے ممتاز ترین مقامات میں اپنی مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

واسکو ڈی گاما کی ہندوستان مہم 8 جولائی 1497ء کو پرتگالی ملاح واسکو ڈی گاما چار جہازوں کے ساتھ لزبن سے روانہ ہوا۔ اس مہم کا مقصد یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا تھا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا سے تجارت کے لیے زمینی راستوں یا عرب تاجروں پر انحصار کرتے تھے، جس کی وجہ سے مصالحہ جات، ریشم اور دیگر قیمتی اشیاکی تجارت محدود اور مہنگی تھی۔واسکو ڈی گاما نے افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگایا اور تقریباً دس ماہ بعد ہندوستان کے ساحلی شہر کالیکٹ پہنچا۔ اس سفر نے عالمی تجارت کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ پرتگال نے بحرِ ہند میں اپنی تجارتی اور عسکری موجودگی مضبوط کی جس کے بعد برطانیہ، ہالینڈ اور فرانس سمیت دیگر یورپی طاقتیں بھی ایشیا میں داخل ہوئیں۔ جنگِ پولٹاوا میں روس کی فتح8 جولائی 1709ء کو عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) کے دوران جنگِ پولٹاوا لڑی گئی جس میں روس کے بادشاہ پیٹر دی گریٹ نے سویڈن کے بادشاہ چارلس XII کو فیصلہ کن شکست دی۔سترہویں صدی میں سویڈن شمالی یورپ کی سب سے طاقتور سلطنت تھا لیکن پولٹاوا کی شکست کے بعد اس کی عسکری برتری ختم ہونا شروع ہوگئی۔ اس فتح کے بعد روس کو بحیرہ بالٹک تک مضبوط رسائی ملی اور سینٹ پیٹرزبرگ کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی جو بعد میں روسی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔اس جنگ نے یورپ کے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا۔ روس نہ صرف فوجی اعتبار سے مضبوط ہوا بلکہ سفارتی اور معاشی میدان میں بھی اس کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔ کموڈور پیری کی جاپان آمد8 جولائی 1853ء کو امریکی بحریہ کے کموڈور میتھیو سی پیری اپنے جنگی جہازوں کے ساتھ جاپان کی ایڈو بے (موجودہ ٹوکیو بے) پہنچے۔ اس وقت جاپان تقریباً ڈھائی سو برس سے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر عمل کر رہا تھا۔پیری نے امریکی صدر کا خط جاپانی حکام کے حوالے کیا اور تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جدید جنگی جہازوں کی موجودگی نے جاپانی حکومت پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں اگلے سال معاہدہ کھاناگاوا طے پایا۔ اس معاہدے نے جاپان کے دروازے مغربی دنیا کے لیے کھول دیے۔اس واقعے کے بعد جاپان میں جدید اصلاحات کا آغاز ہوا جو بعد میں میجی اصلاحات کی صورت میں سامنے آئیں۔ ورمونٹ میں غلامی کا خاتمہ8 جولائی 1777ء کو ورمونٹ جمہوریہ نے اپنا پہلا آئین منظور کیا جس میں غلامی کے خاتمے کی شق شامل تھی۔ اس وقت ورمونٹ ابھی امریکہ کی ریاست نہیں بنا تھا بلکہ ایک آزاد جمہوریہ تھا۔ یہ شمالی امریکہ کی پہلی آئینی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے جس نے غلامی کو آئینی سطح پر مسترد کیا۔اس آئین میں غلامی کے خاتمے کے علاوہ عوامی تعلیم، مذہبی آزادی، شہری حقوق اور نمائندہ حکومت جیسے جدید اصول بھی شامل کیے گئے تھے۔اس اقدام نے بعد میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔1791ء میں ورمونٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔ شٹل پروگرام کا آخری مشن 8 جولائی 2011ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل اٹلانٹس نے مشن STS-135کے ساتھ اپنی آخری پرواز کا آغاز کیا۔ یہ تقریباً تیس برس تک جاری رہنے والے امریکی سپیس شٹل پروگرام کا آخری مشن تھا۔1981ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے دوران 135 کامیاب خلائی مشنز انجام دیے گئے۔ ان مشنز کے ذریعے متعدد مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا گیا اور سائنسی تحقیق کے بے شمار منصوبے مکمل ہوئے۔اٹلانٹس کی آخری پرواز کے بعد امریکہ نے چند برس تک اپنے خلابازوں کو روسی خلائی جہازوں کے ذریعے خلائی سٹیشن بھیجنا جاری رکھا۔