ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ڈی ہائیڈریشن کی علامات !جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں

ڈی ہائیڈریشن کی علامات !جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں

گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ اور بدلتے ہوئے موسمی حالات انسانی صحت کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر موسمِ گرما میں جسم میں پانی کی کمی، جسے طبی اصطلاح میں ''ڈی ہائیڈریشن‘‘ کہا جاتا ہے، ایک عام مگر خطرناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بہت سے لوگ پانی کی کمی کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں محض گرمی کے اثرات سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے۔ حالیہ طبی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ تھکن، چکر آنا، سر درد، بے چینی اور غیر معمولی کمزوری جیسی علامات دراصل جسم میں پانی کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان علامات پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ کیفیت سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پانی کے مناسب استعمال اور جسمانی کیفیت پر نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔جون سخت گرمی کا مہینہ مانا جاتا ہے، اس لیے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کی علامات جاننے کا اس سے بہتر وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بالغ فرد روزانہ تجویز کردہ مقدار کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم پانی پیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پانی کی کمی اور اس سے جڑے متعدد صحت کے مسائل کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن اس کیفیت کو کہتے ہیں جب جسم سے خارج ہونے والے سیال کی مقدار، جسم میں داخل ہونے والے سیال سے زیادہ ہو جائے۔ یہ حالت اسہال، زیادہ پسینہ آنے، تیز بخار یا طویل وقت تک دھوپ میں رہنے کے باعث پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پانی کی کمی کئی خطرناک طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کی علامات کو پہچانا جائے اور بروقت احتیاط کی جائے۔ آئیے جسم میں پانی کی کمی کی ان اہم علامات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں سے بعض آپ کو حیران بھی کر سکتی ہیں۔پیاس لگناڈی ہائیڈریشن کی سب سے واضح اور عام علامت سادہ سی ہے، پیاس۔ہم سب نے کبھی نہ کبھی طویل وقت تک پانی نہ پینے کے بعد شدید پیاس کا احساس ضرور کیا ہوگا اور یہی کیفیت جسم میں پانی کی کمی کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جسم کے پانی میں صرف دو فیصد کمی دماغ کو پیاس کا سگنل دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ گرم موسم میں پسینہ زیادہ آنے کے باعث گرمیوں کے دنوں میں پیاس کا احساس زیادہ عام ہو جاتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہے۔ پانی اس مقصد کیلئے سب سے بہتر اور سادہ انتخاب ہے۔تناؤ محسوس ہوناڈی ہائیڈریشن کے اثرات ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے، ان میں تناؤ (stress) کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد روزانہ تجویز کردہ تقریباً 1.5 لیٹر پانی پیتے ہیں، ان کے جسم میں کورٹیسول (cortisol) یعنی تناؤ کے ہارمون کی سطح ان افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو اس مقدار تک نہیں پہنچ پاتے۔اس سے قبل ایک تحقیق نے بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ پانی کی مقدار اور خوشی کے احساس کے درمیان تعلق موجود ہے۔اس تحقیق کے مطابق کم پانی پینے والے افراد نے خود کو زیادہ بے چین، کم اطمینان اور زیادہ تناؤ کا شکار محسوس کیا۔ اس کے برعکس جن افراد نے پانی کی مقدار میں اضافہ کیا، انہوں نے خود کو نسبتاً زیادہ خوش اور بہتر مزاج کا حامل بتایا۔سر میں درد ہوناجب کسی شخص کو سر درد ہو تو سب سے عام مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ پانی پی لیا جائے اور اس کی ایک واضح طبی وجہ بھی موجود ہے۔ انسانی جسم روزانہ تقریباً 2 سے 2.5 لیٹر پانی مختلف طریقوں سے ضائع کرتا ہے، اور اگر یہ سیال مناسب مقدار میں پورا نہ کیا جائے تو شدید سر درد پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی دماغ پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے درد کے احساس سے متعلق اعصاب اور ریسیپٹرز متاثر ہوتے ہیں، جبکہ پانی پینے سے یہ دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پانی کا استعمال مائیگرین (شدید سر درد) کی شدت کو بھی کم کر سکتا ہے۔پیشاب کا گہرا یا بدبودار ہوناجسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ پیشاب کا رنگ اور بو ہے۔ ہلکا پیلا یا تقریباً شفاف پیشاب عام طور پر مناسب مقدار میں پانی پینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ گہرا پیلا یا بھورا رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جسم کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔ توجہ مرکوز نہ کر پاناانسانی جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ دماغ میں پانی کی مقدار اس سے بھی زیادہ یعنی اندازاً 75 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ جسم میں پانی کی کمی ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی معمولی کمی بھی ذہنی صلاحیتوں جیسے یادداشت، توجہ اور ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔یہ کیفیت بعض اوقات روزمرہ فیصلوں تک کو متاثر کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اس حد تک کہ انسان یہ فیصلہ کرنے میں بھی مشکل محسوس کرے کہ سڑک کب پار کرنا محفوظ ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی آئین کی توثیق و نفاذامریکہ نے 1776ء میں آزادی حاصل کی، ابتدائی طور پر وہ ''آرٹیکل آف کنفیڈریشن‘‘ کے تحت ایک کمزور وفاقی ڈھانچے پر قائم تھا، جس میں مرکزی حکومت کے پاس محدود اختیارات تھے۔1787ء میں ایک مضبوط وفاقی آئین تیار کیا گیا۔21 جون 1788ء کو نیو ہیمپشائر نویں ریاست بنی جس نے اس نئے آئین کی توثیق کی۔آئین کی منظوری کیلئے کم از کم 9 ریاستوں کی توثیق ضروری تھی ۔نجی خلائی جہاز2004ء میں نجی سرمایہ کاری سے تیار کیا گیا خلائی جہاز ''سپیس شپ ون‘‘تاریخ رقم کرتے ہوئے خلا تک پہنچنے والا دنیا کا پہلا نجی فنڈ سے تیار کردہ خلائی طیارہ بن گیا۔ اس کامیاب پرواز نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور ثابت کیا کہ نجی ادارے بھی خلائی سفر کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کامیابی نے بعد میں تجارتی خلائی سیاحت اور نجی خلائی منصوبوں کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اٹلی کا فرانس پر حملہ21جون1940 ء کو اٹلی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانس پر حملہ کیا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ اس جنگ کو ''الپس کی جنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اٹلی کی پہلی بڑی لڑائی تھی اور فرانس کیلئے یہ آخری بڑی لڑائی ثابت ہوئی۔جنگ میں اٹلی کی شمولیت کی وجہ سے اس کا دائرہ کار اور وسیع ہو گیا۔اٹلی کا مقصد فرانس کا تسلط ختم کرنا اور ان علاقوں کو واپس حاصل کرنا تھا جن پر اٹلی کی حکمرانی تھی۔کینیڈا کی پہلی خاتون وزیراعظم 21جون 1957ء میں کینیڈا کی سیاستدان کو ایلن لوکس فیئرکلو نے پہلی خاتون وزیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ کینیڈا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی خاتون کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ایلن لوکس 1950ء سے 1963ء تک کینیڈا کے ہاؤس آف کامنز کی رکن رہیں۔ ایلن28جنوری 1905ء کو پیدا ہوئیں،پیشے کے اعتبار سے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھیں اور ایک اکاؤنٹنگ فرم بھی چلا رہی تھیں۔ایلن نے ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے اپنے انتخاب سے قبل کینیڈا کی گرل گائیڈز کی ایگزیکٹو رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہوگا؟

چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہوگا؟

ٹم پیک نے خاتون خلاء باز روزمیری کوگن کو مضبوط امیدوار قرار دے دیاانسانی تاریخ میں چاند ہمیشہ سے تجسس، حیرت اور جستجو کی علامت رہا ہے۔ 1969ء میں جب انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سطح پر قدم رکھا تو یہ کارنامہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوا۔ نصف صدی گزرنے کے باوجود چاند آج بھی خلائی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے اور مختلف ممالک اپنے خلا بازوں کو وہاں بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں یہ سوال دلچسپی کا باعث بن گیا ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہو گا؟ برطانیہ کے معروف خلا باز ٹم پیک (Tim Peake) نے اس حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ برطانوی خلا باز روزمیری کوگن (Rosemary Coogan) آئندہ دس برس کے دوران یہ تاریخی اعزاز حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی خلائی تحقیق کی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ناسا نے اپنے متنازعہ ''آرٹیمس III‘‘ مشن کے مکمل مردانہ عملے کا اعلان کر دیا ہے، اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا اگلا انسان کون ہو گا؟ اگرچہ 2029ء میں متوقع ''آرٹیمس IV‘‘ مشن کے ذریعے چاند پر اترنے والا عملہ غالباً مکمل طور پر امریکی خلا بازوں پر مشتمل ہو گا، تاہم برطانوی خلا باز بھی اس دوڑ میں زیادہ پیچھے نہیں ہوں گے۔ اب تجربہ کار برطانوی خلا باز ٹم پیک نے اس شخصیت کا نام بتایا ہے جس کے بارے میں ان کے خیال میں وہ چاند پر قدم رکھنے والی پہلی برطانوی بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خلا باز روزمیری کوگن اس اعزاز کے حصول کیلئے برطانیہ کی سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔میجر ٹم پیک کا کہنا ہے کہ اگر 2030ء تک کوئی یورپی خلا باز پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا تو ہم خود کو خوش قسمت سمجھیں گے، اور اگر مجھے شرط لگانی پڑے تو میں کہوں گا کہ اس کا تعلق غالباً جرمنی یا فرانس سے ہو گا۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ 2030ء کی دہائی کے وسط تک کسی برطانوی خلا باز کو چاند پر دیکھنے کے ہمارے امکانات کافی روشن ہیں۔ یہ کوئی نیا خلا باز بھی ہو سکتا ہے، یا پھر روز (روزمیری کوگن) جیسی کوئی شخصیت، جو شاید اس سے پہلے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کا مشن مکمل کر چکی ہو۔ اگر انہیں 2030ء کے آس پاس یہ مشن مل جاتا ہے تو پھر وہ 2035ء کے قمری مشن کیلئے پوری طرح تیار ہوں گی۔روزمیری کوگن نے 2019ء میں سوسکس یونیورسٹی سے فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد وہ فرانسیسی خلائی ادارے CNES میں شامل ہو گئیں۔ 2022ء میں انہیں ''یورپیئن سپیس ایجنسی ‘‘(European Space Agency) کی جانب سے خلا باز امیدوار منتخب کیا گیا، جبکہ 2024ء میں وہ باقاعدہ طور پر سند یافتہ خلا باز بن گئیں۔اس طرح وہ یورپی خلائی ایجنسی کے اہل خلا بازوں کے اس گروپ کا حصہ ہیں جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مشنز کیلئے منتخب کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ڈاکٹر کوگن کو ابھی تک خلا میں سفر کا عملی تجربہ حاصل نہیں ہوا، تاہم جب تک برطانیہ کو کسی قمری مشن میں شمولیت کا موقع ملے گا، تب تک وہ اس ذمہ داری کیلئے کہیں زیادہ تیار ہو سکتی ہیں۔برطانوی خلا باز ٹم پیک کا کہنا ہے کہ یورپی خلائی ایجنسی کی ہماری پیشہ ور خلا باز روزمیری کوگن جلد ہی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے طویل المدتی عملے کے رکن کے طور پر اپنی باری کی منتظر ہیں۔مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی ریٹائرمنٹ سے پہلے انہیں ایک طویل المدتی خلائی مشن ضرور مل جائے گا۔اگر ڈاکٹر کوگن ناسا کی جانب سے کسی برطانوی شراکت دار کی تلاش شروع ہونے تک خلائی سفر کا عملی تجربہ حاصل کر لیتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ واحد تجربہ کار برطانوی خلا باز ہوں جو قمری مشن کیلئے اہل قرار پائیں۔چاند پر کون کون جا چکا ہے؟21 جولائی 1969ء کو انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سرزمین پر قدم رکھا اور یوں خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہوا۔ آج تک صرف بارہ خوش نصیب انسان چاند کی سطح پر چلنے کا اعزاز حاصل کر سکے ہیں۔ ان بہادر خلا بازوں نے نہ صرف انسانی جستجو اور حوصلے کی نئی مثال قائم کی بلکہ کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی راہ بھی ہموار کی۔1 اور 2: ''اپالو 11‘‘( 21 جولائی 1969ء)نیل آرمسٹرانگ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بز آلڈرن(Buzz Aldrin)نے بھی چاند پر قدم رکھا۔3 اور 4: ''اپالو 12‘‘( 19 اور 20 نومبر 1969ء)پیٹ کونراڈ(Pete Conrad) اور ایلن بین (Alan Bean)اپالو 12 مشن کے دوران چاند پر چلنے والے خلا باز تھے۔اپالو 12 کے عملے کو اس وقت غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا سیٹرن فائیو راکٹ پرواز کے فوراً بعد دو مرتبہ آسمانی بجلی کی زد میں آ یا۔5 اور 6: ''اپالو 14‘‘( 5 فروری 1971ء)ایلن شیپرڈ (Alan Shepard)اورایجر میچل(Edger Mitchell) ''اپالو 14 مشن‘‘ کا حصہ تھے۔ وہ 31 جنوری 1971ء کو روانہ ہوئے اور چاند کے فرا مورو (Fra Mauro) علاقے میں اترے، جو دراصل اپالو 13 کا اصل ہدف تھا۔7 اور 8: ''اپالو 15‘‘( 31 جولائی 1971ء)ڈیوڈ سکاٹ (David Scott)اور جیمز آئرون(James Irwin) چاند پر اترے اور 2 اگست تک وہاں تقریباً تین دن قیام کیا۔9 اور 10: '' اپالو 16‘‘( 21 اپریل 1972ء)جان ینگ (John Young)اور چارلس ڈیوک(Charles Duke) چاند پر چلنے والے اگلے دو افراد تھے۔جب عملہ چاند کے مدار میں پہنچا تو کمانڈ اور سروس ماڈیول کے مرکزی انجن میں خرابی کے باعث مشن تقریباً منسوخ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔11 اور 12: ''اپالو 17‘‘ ( 11 دسمبر 1972ء)چاند پر قدم رکھنے والے آخری افراد جین سرنن (Eugene Cernan)اور ہیریسن شمٹ (Harrison Schmitt) تھے۔چاند سے روانگی سے قبل جین سرنن نے اپنی بیٹی ٹریسی کے نام کے ابتدائی حروف چاند کی مٹی پر کندہ کیے۔ چونکہ چاند پر ہوا، بارش یا دیگر موسمی عوامل موجود نہیں جو ان نشانات کو مٹا سکیں، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ یہ حروف بہت طویل عرصے تک وہاں محفوظ رہیں گے۔

پناہ گزینوں کا عالمی دن

پناہ گزینوں کا عالمی دن

انسانی بحران، عالمی ذمہ داری اور امید کی کرنہر سال 20 جون کو دنیا بھر میں پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان لاکھوں افراد کی مشکلات، قربانیوں اور جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے جو جنگ، ظلم، سیاسی عدم استحکام، مذہبی و نسلی تعصب یا قدرتی آفات کے باعث اپنا گھر، شہر اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پناہ گزین صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے انسان ہیں جن کی زندگیاں بکھر چکی ہوتی ہیں اور جو ایک محفوظ مستقبل کی تلاش میں دربدر ہوتے ہیں۔آج کی دنیا میں پناہ گزینوں کا بحران ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اپنے وطن سے بے دخل ہو کر دوسرے ممالک یا عارضی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو طویل عرصے سے غیر یقینی حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ شام، افغانستان، یوکرین، سوڈان اور افریقہ کے کئی خطوں میں جاری تنازعات نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔پناہ گزین کیمپوں کی صورتحال اکثر نہایت کٹھن ہوتی ہے۔ وہاں بنیادی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم دستیابی، صحت کے ناکافی انتظامات اور تعلیم کے محدود مواقع پناہ گزینوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بچے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے جبکہ خواتین کو تحفظ اور صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔پناہ گزینوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج اپنی شناخت اور وقار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جب کوئی فرد اپنا گھر بار چھوڑتا ہے تو وہ صرف جغرافیائی طور پر نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر بھی متاثر ہوتا ہے۔ اپنے وطن، ثقافت اور خاندان سے دوری ایک ایسا درد ہے جو وقت کے ساتھ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارے، خصوصاً یو این ایچ سی آر (UNHCR)، پناہ گزینوں کی مدد کیلئے مختلف پروگرام چلا رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف فوری امداد فراہم کرنا ہے بلکہ پناہ گزینوں کو دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ تاہم وسائل کی کمی اور بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے یہ کوششیں اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف امداد سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے بنیادی طور پر عالمی سطح پر امن، انصاف اور سیاسی استحکام ضروری ہے۔ جب تک جنگیں اور تنازعات جاری رہیں گے، پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس لیے عالمی طاقتوں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اوّلین ترجیح دیں۔میزبان ممالک کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہم ہے۔ کئی ممالک پناہ گزینوں کو پناہ اور سہولیات فراہم کر کے انسانیت کی بہترین مثال قائم کرتے ہیں، لیکن بعض جگہوں پر امتیازی سلوک اور سخت قوانین پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک انسانی بنیادوں پر یکساں رویہ اختیار کریں اور پناہ گزینوں کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیں۔تعلیم اور روزگار کے مواقع پناہ گزینوں کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان افراد کو ہنر سیکھنے، تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ میزبان ملک کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پناہ گزین بوجھ نہیں بلکہ مواقع بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔پناہ گزینوں کا عالمی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم بطور عالمی شہری اس بحران کے حل میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمدردی، رواداری اور تعاون کے جذبات کو فروغ دیں اور متاثرہ افراد کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ اس کا حل صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر دنیا امن، انصاف اور مساوات کے اصولوں پر عمل کرے تو نہ صرف پناہ گزینوں کا بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور محفوظ دنیا بھی تشکیل دی جا سکتی ہے۔پناہ گزینوں کی مدد دراصل انسانیت کی خدمت ہے، اور یہی خدمت ہمیں ایک بہتر اور مہذب معاشرے کی طرف لے جاتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایران: ہولناک زلزلہ20جون 1990ء کو ایران کے شمالی علاقے میں آنے والے زلزلے نے شدید تباہی مچائی۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی۔ اس ہولناک زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 35 ہزار سے 50 ہزار افراد جاں بحق اور 60 ہزار سے ایک لاکھ تک زخمی ہوئے۔ ہزاروں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔خلائی مشن ایس ٹی ایس 781996ء میں آج کے روز اسپیس شٹل کولمبیا نے اپنے مشن ایس ٹی ایس 78 کے تحت خلاء کیلئے پرواز کی۔ اس مشن کا مقصد اسپیس لیب میں حیاتیاتی علوم اور مائیکرو گریویٹی کے ماحول پر مختلف سائنسی تجربات انجام دینا تھا۔ سائنسدانوں نے انسانی جسم، پودوں اور دیگر جانداروں پر خلائی ماحول کے اثرات کا مطالعہ کیا۔ پہلی تجارتی ٹیلی فون سروس20جون 1877ء کو الیگزینڈر گراہم بیل نے کینیڈا میں دنیا کی پہلی تجارتی ٹیلی فون سروس انسٹال کی۔یہ پہلا موقع تھا جب ٹیلی فون کی سہولت کو عام عوام کیلئے کمرشل سطح پر شروع کیا گیاتھا۔ٹیلی فون سروس کا آغاز کرنے کیلئے اس کو کئی تجرباتی مراحل سے گزارکر اس میں موجود خامیوں کودور کیا۔ ٹروجن کی دریافت20جون1990ء کو پہلا یوریکا مریخ ٹروجن 5261 دریافت ہوا۔اسے ڈیوڈ لیوی اور ہنری ہولٹ نے پالومر آبزرویٹری میں دریافت کیا۔ اس کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ اس کا مدار مستحکم ہے۔یہ ٹائپ اے کا ایسٹراؤڈ ہے جس کا رنگ تھوڑا زرد ہے اوریہ مریخ کے مدار میں مستحکم حالت میں موجود ہے اس میں ہی چکر لگاتا رہتا ہے۔ ڈیٹرائٹ ہنگامہ آرائی مشی گن میں 20 جون 1943ء کو اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جب شہر میں افواہ پھیلی کہ گوروں کے ہجوم نے ایک سیاہ فام ماں اور بچے کو دریائے ڈیٹرائٹ میں پھینک دیا ہے۔جب یہ خبر شہر میں پھیلی تو سیاہ فام افراد نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے سفید فام لوگوں کی املاک کو لوٹنا اور تباہ کرنا شروع کر دیا ۔ یہ سلسلہ دو دن جاری رہا ۔احمد پاشا کی تقرری20جون 1652ء میں طرہونجو احمد پاشا کو سلطنت عثمانیہ کا گرینڈ وزیر مقرر کیا گیا۔ وہ عثمانی سلطنت کے ان ممتاز سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مالی اصلاحات اور حکومتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے۔ اپنے دورِ وزارت میں انہوں نے ریاستی اخراجات میں کمی اور خزانے کی بحالی کی کوشش کی۔ تاہم درباری مخالفت کے باعث ان کا دورِ اقتدار مختصر ثابت ہوا۔تاریخی مذہبی اجتماع1926ء میں 28ویں بین الاقوامی یوکرسٹک کانگریس کا آغاز امریکی شہر شکاگو میں ہوا۔ یہ رومن کیتھولک چرچ کا ایک اہم عالمی مذہبی اجتماع تھا، جس میں دنیا بھر سے مذہبی رہنما، علماء اور عقیدت مند شریک ہوئے۔ افتتاحی جلوس میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جس سے اس تقریب کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔