ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

مصنوعی ذہانت کا حیران کن کارنامہمصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا روز بروز ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک صرف سائنسی فلموں اور تصوراتی کہانیوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ایک ایسا جدید روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں انسان کو کپڑے پہنا سکتا ہے۔ یہ منفرد ایجاد نہ صرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا مظہر ہے بلکہ معمر افراد، جسمانی معذوری کا شکار مریضوں اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کی مدد کے محتاج افراد کیلئے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گھریلو روبوٹس انسانی زندگی کا معمول بن سکتے ہیں، جو صرف گھریلو کام ہی نہیں بلکہ ذاتی نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔ یہ تصور سب سے پہلے اینیمیشن فلم ''والیس اینڈ گرومٹ‘‘ (Wallace & Gromit) میں دکھایا گیا تھا، جہاں ایک شخص بغیر ہاتھ لگائے کپڑے تبدیل کر لیتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایسا خودکار روبوٹک لباس تیار کر لیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں خود ہی جسم پر چڑھ جاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لباس کے اندر پھولنے والی باریک ''بیل نما نالیاں‘‘ (Vines Inflatable) نصب کی گئی ہیں، جو آہستہ آہستہ پھیلتے ہوئے لباس کو پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس یہ نیا نظام اس وقت بھی کام کرتا ہے جب لباس پہننے والا شخص حرکت کر رہا ہو، یعنی اسے کپڑے پہننے کیلئے ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد، جسمانی معذوری کا شکار لوگوں اور ایسے مریضوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ دوسروں کی مدد کے بغیر خود لباس پہن سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور طبی عملے کو بھی چند سیکنڈ میں حفاظتی لباس پہننے میں یہ ٹیکنالوجی مدد فراہم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں، جو سائنسی جریدے میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ہم نے ایک نیا نرم روبوٹک لباس پہنانے والا نظام پیش کیا ہے، جسے ''سیلف ویئرنگ ایڈاپٹو گارمنٹ‘‘ (SWAG) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کھلنے اور بتدریج پھیلنے کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے خودکار انداز میں لباس پہننے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ محققین کے مطابق روایتی روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس ''SWAG‘‘ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا منفرد انفولڈنگ بیسڈ ڈیپلائمنٹ طریقہ لباس اور جلد کے درمیان رگڑ کو تقریباً ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لباس پہننے کا عمل محفوظ، آرام دہ اور مؤثر بن جاتا ہے۔اس منفرد روبوٹک لباس کو تیار کرنے والی تحقیقی ٹیم، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دان شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ایجاد کا خیال اس بیل سے ملا جو دیواروں پر آہستہ آہستہ چڑھتی جاتی ہے۔ جب لباس کے اندر موجود نرم اور لچکدار ''بیل نما نالیاں‘‘ ہوا کے دباؤ سے پھولتی ہیں تو وہ لباس کو پہننے والے کے جسم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سرکاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بیل کسی دیوار یا سہارے پر چڑھتی ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف کم نامگیون نے بتایا کہ انہیں اس ایجاد کا خیال ایک بار بارش کے دوران آیا۔ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اسی لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر برساتی کوٹ سائیکل چلاتے ہوئے خود بخود پہنایا جا سکے تو یہ کتنا مفید ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیل نما روبوٹ انسان کے جسم کے قریب رہتے ہوئے لباس کو حرکت کے دوران اندر سے باہر کی جانب پلٹتے ہوئے پہناتا ہے، جس سے وہ جسم کی ساخت کے مطابق مستحکم انداز میں اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ لباس پہننے والے شخص کو بالکل ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ یہ نظام کسی پیچیدہ کنٹرول الگورتھم کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے اگلے حصے کو مسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پارٹی میں استعمال ہونے والی کاغذی سیٹی میں پھونک مارنے پر وہ کھل کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہوا بھرنے کے ساتھ یہ بیل نما نالیاں جسم کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور اسی دوران لباس کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نظام پورے جسم کا لباس تقریباً 10 سیکنڈ میں پہنا سکتا ہے۔ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی ہوان کے مطابق یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے آسانی سے گزر سکتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول اور جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور سطح چاہے پھسلن والی ہو، چپکنے والی ہو یا ڈھلوان پر مشتمل ہو، ہر حالت میں مؤثر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف بزرگ اور جسمانی معذوری کا شکار افراد تک محدود نہیں، مستقبل میں اسے ایسے تمام مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر نہایت تیزی سے لباس پہن کر فوری طور پر کام پر روانہ ہونا ہو۔ اسی طرح آگ بجھانے والا عملہ، ریسکیو اہلکاروں، طبی امدادی کارکنوں اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والے افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں چند سیکنڈ میں ذاتی حفاظتی لباس پہننے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے یا مستقبل میں انسانوں کی بہت سی روایتی ذمہ داریوں کی جگہ لے لیں گے۔

  پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ

پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے بچے ہوتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے معمار، سائنس دان، اساتذہ اور رہنما بنتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کیلئے اُس بچے کا تصور کیجیے جس کی زندگی کتابوں، کھیل کے میدانوں اور خوابوں کے بجائے اسپتال کے بستروں، خون کی بوتلوں اور سوئیوں کے گرد گھومتی ہو۔ جو ہر پندرہ سے بیس دن بعد صرف زندہ رہنے کیلئے خون لگوانے پر مجبور ہو۔ پاکستان میں ہزاروں بچوں کی زندگی اسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے اور یہی حقیقت تھیلیسیمیا کو ہمارے ملک کے سب سے بڑے مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے عوامی صحت کے مسائل میں شامل کرتی ہے۔تھیلیسیمیا کوئی لاعلاج یا ناقابلِ روک تھام بیماری نہیں۔ جدید طبی سائنس نے برسوں پہلے ایسے مؤثر طریقے فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے اس بیماری کے نئے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ مسئلہ بیماری نہیں بلکہ ہماری غفلت، کمزور پالیسی سازی اور صحت کے نظام کی ناکامی ہے۔پاکستان میں ساٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریض تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً چھ ہزار نئے بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد افراد تھیلیسیمیا جین کے کیریئر ہیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اپنی کیفیت کا علم بھی نہیں ہوتا۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔جب دو ایسے افراد، جو بظاہر صحت مند ہوں مگر دونوں تھیلیسیمیا جین کے حامل ہوں، آپس میں شادی کرتے ہیں تو ہر حمل میں پچیس فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوگا۔ پچاس فیصد امکان یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھی صرف کیریئر ہوگا، جبکہ صرف پچیس فیصد امکان رہ جاتا ہے کہ بچہ مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر والدین کو اس حقیقت کا علم اُس وقت ہوتا ہے جب ان کی گود میں ایک متاثرہ بچہ آ چکا ہوتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صرف مریض کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک بچے کے مسلسل علاج کیلئے والدین کو بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے، ملازمت سے چھٹیاں لینا پڑتی ہیں، معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور خاندان کے دیگر بچوں کی تعلیم اور ضروریات بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یوں یہ بیماری صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اگر پاکستان واقعی صحت مند اور مضبوط معاشرہ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بیماری کے علاج سے زیادہ اس کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک نے یہی راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوئے، جبکہ ہم اب بھی اُن بچوں کا انتظار کرتے ہیں جو ہر سال اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔تھیلیسیمیا میجر کے مریض کی زندگی ایک مستقل آزمائش ہوتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی آسان علاج نہیں بلکہ مریض کو پوری زندگی باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد خون نہ لگایا جائے تو جسم میں خون کی شدید کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف مسلسل خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جسے کم کرنے کیلئے آئرن چیلیشن تھراپی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر یہ علاج بروقت نہ ہو تو دل، جگر اور دیگر اہم اعضا نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس بیماری کا معاشی بوجھ بھی کسی سانحے سے کم نہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 85 فیصد متاثرہ خاندان علاج کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نجی اسپتال میں صرف ایک مرتبہ خون کی منتقلی پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، سفر اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ بہت سے والدین اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں، قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنے دوسرے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات قربان کر دیتے ہیں تاکہ ایک بچے کی زندگی بچائی جا سکے۔دنیا کے کئی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی اور سیاسی عزم کے ذریعے تھیلیسیمیا کے نئے کیسز میں حیرت انگیز حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ایران اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ 1990ء کی دہائی میں وہاں شادی سے قبل لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ کا قومی پروگرام متعارف کرایا گیا۔ شادی کے خواہشمند جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ کیریئر ثابت ہونے والے جوڑوں کو جینیاتی مشاورت فراہم کی گئی۔ مسلسل حکومتی سرپرستی، عوامی آگاہی اور مؤثر نظام کی بدولت ایران نے تھیلیسیمیا میجر کے نئے کیسز کو تقریباً ختم کر دیا۔ اس کامیابی نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ بیماری کے علاج سے کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ راستہ اس کی بروقت روک تھام ہے۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی 2004ء میں تھیلیسیمیا اور سکل سیل بیماری کیلئے شادی سے قبل لازمی اسکریننگ کا پروگرام نافذ کیا۔ حکومت نے صرف قانون سازی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علماء، طبی ماہرین، میڈیا اور کمیونٹی کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا۔ نتیجتاً عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا اور موروثی خون کی بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔یہ دونوں مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تھیلیسیمیا کے خلاف کامیابی صرف اسپتالوں میں نہیں بلکہ مؤثر پالیسی، عوامی شعور، سیاسی عزم اور معاشرتی تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کو تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے کسی نئے معجزے یا مہنگی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس قابل ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ، تشخیصی لیبارٹریاں اور سائنسی مہارت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو ایک انفرادی بیماری نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایک جامع قومی پالیسی مرتب کرے جس میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کیریئر اسکریننگ کو مرحلہ وار قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جینیاتی مشاورت کی سہولت ہر ضلع تک پہنچائی جائے، تاکہ نوجوان اور ان کے خاندان سائنسی معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلے کر سکیں۔ اسکریننگ کا مقصد کسی کی شادی روکنا یا سماجی رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔اس کے ساتھ محفوظ خون کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ملک بھر میں جدید بلڈ بینکنگ سسٹم، رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ثقافت اور خون کی سخت جانچ کے نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ تھیلیسیمیا کے تمام مریضوں کو معیاری خون، آئرن چیلیشن ادویات اور خصوصی طبی مراکز تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ علاج کسی خاندان کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر مریض کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔اگر ہم نے آج احتیاط، آگاہی اور سائنسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی بیماری سے محفوظ بنا سکتے ہیں جو بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہے۔ لیکن اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو ہر سال ہزاروں نئے بچے اور ان کے خاندان اسی اذیت ناک سفر کا آغاز کریں گے جسے ہم آج بھی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو ایک قابلِ روک تھام بحران کو مسلسل برداشت کرتے رہیں یا پھر قومی عزم، سائنسی شواہد اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں کسی بچے کا مستقبل ہر پندرہ دن بعد خون کی ایک بوتل کا محتاج نہ ہو۔اب صرف آگاہی کافی نہیں، عمل کا وقت آ چکا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کے ٹو پر بدترین سانحہیکم اگست 2008ء کو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو (K2) پر بین الاقوامی مہماتی ٹیموں کے 11 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہوئی۔ یہ حادثہ کے ٹو کی کوہ پیمائی کی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیا جاتا ہے۔ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کے مشن پر نکلنے والے ان کوہ پیماؤں کو شدید موسمی حالات، برفانی تودوں اور خطرناک راستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حادثے نے دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی خطرناک نوعیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔پیراگوئے: سپر مارکیٹ آتشزدگی 2004ء میں آج کے روز پیراگوئے کے دارالحکومت کی ایک سپر مارکیٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 424 افراد ہلاک جبکہ 360 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ ملک کی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کے اندر موجود لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑی تعداد میں افراد جان بچانے میں ناکام رہے۔جرمنی میں سمر اولمپکسیکم اگست1936ء کو جرمنی میں'' سمر اولمپکس‘‘ کا آغاز ہوا جسے ''نازی اولمپکس‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ ایک بین الاقوامی ملٹی سپورٹس ایونٹ تھا۔ جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں اتھلیٹ شریک ہوئے۔ یہ ہٹلر کے دور حکومت میں ہونے والے چند سپورٹس ایونٹس میں سے ایک تھا جس کیلئے جرمن حکومت نے نئے سٹیڈیم، جم اور ٹریک تعمیر کئے۔ یہ پہلا ایونٹ تھا جس کو ٹیلی ویژن کے ذریعے41ممالک میں نشر کیا گیا۔جرمن اولمپک کمیٹی نے 7ملین ڈالر میں کھیلوں کی کوریج کا ٹھیکہ دیا۔''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘ دوسری عالمی جنگ کے دوران کیا جانے والے ایک اہم امریکی آپریشن تھا۔ یکم اگست 1943ء کو رومانیہ کے ارد گرد نو آئل ریفائنریوں پر لیبیا میں مقیم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فضائیہ کے بمباروں کا حملہ تھا۔ یہ ایک اسٹریٹجک بمباری کا مشن تھا اور محوری طاقتوں کو پیٹرولیم پر مبنی ایندھن سے انکار کرنے کیلئے ''تیل کی مہم‘‘ کا حصہ تھا۔ اس مشن کے نتیجے میں ''مصنوعات کی مجموعی پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی‘‘۔اس لڑائی کو دوسری عالمی جنگ کے دوران بڑے محاذوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ کی اشاعتیکم اگست 1965ء میں امریکی مصنف فرینک ہربرٹ کا شہرہ آفاق سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ (Dune) پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ناول مستقبل کی ایک خیالی دنیا، سیاست، ماحولیات اور انسانی بقا کے موضوعات پر مبنی تھا۔ اپنی منفرد کہانی، گہرے تصورات اور تخلیقی انداز کے باعث ''ڈیون‘‘نے دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ 2003ء میں اسے دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سائنس فکشن ناول قرار دیا گیا۔سانحہ یونیورسٹی آف ٹیکساسچارلس جوزف سفید فارم ایک امریکی قاتل تھا جو ''ٹیکساس ٹاور سنائپرک‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ یکم اگست 1966ء کو چارلس جوزف نے اپنی ماں اور بیوی کوچاقو کے وار کر کے قتل کیا اور اس کے بعد آتشیں اسلحہ کے ساتھ یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن میں گھس کرلوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔اس نے مرکزی بلڈنگ کے اندر تین افراد کو گولی ماری پھر عمارت کے کلاک ٹاور میں رسائی حاصل کی، وہاں بھی اس نے گھنٹوں تک لوگوں پر فائرنگ کی۔ اس سانحہ میں 17افراد ہلاک اور 31افراد زخمی ہوئے۔

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کائنات کے راز ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس کا باعث رہے ہیں۔ انہی رازوں میں بلیک ہولز اور زمین سے باہر ذہین مخلوق (Extraterrestrial Intelligence) کا موضوع بھی شامل ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے معروف ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں سائنسدانوں کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس غیر معمولی سوال پر غور کیا گیا کہ کیا ممکن ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوقات بلیک ہولز کے گرد اپنی جدید ٹیکنالوجی قائم کر چکی ہوں؟ اس نشست میں کسی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس بات پر سائنسی غور و فکر تھا کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی موجود ہو تو اسے دریافت کرنے کے لیے کن طریقوں سے تحقیق کی جا سکتی ہے۔بلیک ہولز کیوں اہم ہیں؟بلیک ہولز کائنات کے وہ اجسام ہیں جن کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر گھومنے والے بلیک ہولز اپنے اردگرد بے پناہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر کوئی مخلوق انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں گنا زیادہ ترقی یافتہ ہو تو وہ اس توانائی کو استعمال کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔یہ تصور محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ طبیعیات کے بعض اصولوں پر مبنی ایک نظریاتی امکان ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اس موضوع کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا۔ایم آئی ٹی کی نشست کا سوال؟اس سال جون میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں فلکیات، طبیعیات، بلیک ہولز اور SETI (Search for extraterrestrial intelligence) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد ماہرین شریک ہوئے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں بلکہ یہ جاننا تھا کہ اگر ایسی تہذیبیں واقعی موجود ہوں تو ان کے آثار کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے مختلف نظریات، مشاہداتی طریقوں اور مستقبل کی تحقیق کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق جدید دوربینیں اور فلکیاتی مشاہدات اب اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ پہلے سے جمع شدہ ڈیٹا کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹیکنوسگنیچر کیا ہوتے ہیں؟روایتی طور پر خلائی مخلوق کی تلاش میں ریڈیو سگنلز پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے لیکن اب سائنس دان ٹیکنوسگنیچر (Technosignatures) کے تصور پر زیادہ کام کر رہے ہیں۔ٹیکنوسگنیچر سے مراد ایسے غیر معمولی آثار یا اشارے ہیں جو قدرتی فلکیاتی عمل سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جنہیں کسی ذہین تہذیب کی ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا سکے۔مثال کے طور پر غیر معمولی روشنی کے نمونے، غیر متوقع انفرا ریڈ شعاعیں یا بلیک ہول کے گرد ایسے ڈھانچے یا سرگرمیاں جو قدرتی قوانین سے مختلف نظر آئیں۔اگر مستقبل میں ایسے شواہد ملتے ہیں تو ان کا انتہائی احتیاط سے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلے تمام قدرتی وضاحتوں کو جانچا جا سکے۔کیا بلیک ہول توانائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟طبیعیات کے بعض نظریات کے مطابق گھومنے والے بلیک ہولز سے توانائی حاصل کرنا اصولی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اس قابل ہو تو وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو بلیک ہول سے توانائی حاصل کر کے اپنی ضروریات پوری کرے۔یہ تصور انسانی ٹیکنالوجی سے بہت آگے ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناممکن اور غیر دریافت شدہ چیز میں فرق ہوتا ہے۔ آج کی بہت سی سائنسی حقیقتیں بھی کبھی صرف نظریات سمجھی جاتی تھیں۔موجودہ مشاہدات سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟ایم آئی ٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا موجودہ فلکیاتی مشاہدات خصوصاً ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ اور دیگر رصدگاہوں کا ڈیٹا دوبارہ جانچنے سے کوئی غیر معمولی اشارہ سامنے آ سکتا ہے۔محققین کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی عجیب یا غیر متوقع مشاہدہ سامنے آئے تو اس کا مطلب فوری طور پر خلائی مخلوق نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے اس کی قدرتی وجوہات تلاش کی جائیں گی اور صرف تمام سائنسی امکانات ختم ہونے کے بعد ہی کسی غیر معمولی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔کیا خلائی مخلوق دریافت ہو گئی ہے؟اس سوال کا واضح جواب نہیں ہےایم آئی ٹی کی اس نشست میں ایسی کوئی دریافت یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ صرف ایک تحقیقی اور فکری نشست تھی جس کا مقصد مستقبل کی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی اور مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ جب تک قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہ ہوں، کسی بھی امکان کو حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مستقبل کی تحقیقکائنات کے بارے میں ہماری معلومات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نئی دوربینیں، طاقتور کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت فلکیاتی ڈیٹا کے تجزیے کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں سائنس دان بلیک ہولز، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام میں ایسے اشارے تلاش کر سکیں جو آج ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔اگرچہ خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، لیکن سائنس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر قابلِ آزمائش امکان کی تحقیق کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت ایم آئی ٹی کی یہ نشست منعقد ہوئی، جس نے سائنس دانوں کو نئی تحقیق، نئے سوالات اور نئی حکمتِ عملیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ایم آئی ٹی میں ہونے والی اس سائنسی نشست نے یہ واضح کیا کہ جدید سائنس صرف معلوم حقائق تک محدود نہیں بلکہ نامعلوم امکانات کی بھی منظم اور منطقی تحقیق کرتی ہے۔ بلیک ہولز کے گرد ممکنہ خلائی ٹیکنالوجی کا تصور فی الحال ایک نظریاتی امکان ہے،حقیقت۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی غیر معمولی ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ سائنسی دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن فی الحال یہ موضوع تحقیق، تجسس اور سائنسی جستجو کا حصہ ہے۔

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قومی ورثے کے تحفظ کا اہم امتحان قلعہ روہتاس پاکستان کے تاریخی ورثے کی ایک عظیم علامت ہے، جو ضلع جہلم میں واقع ہے۔ یہ قلعہ سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا اور اپنی منفرد فوجی تعمیر، بلند فصیلوں، عظیم الشان دروازوں اور مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 1997ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا جس کے بعد اس کی حفاظت اور بحالی عالمی اصولوں کے مطابق کرنا پاکستان کی ذمہ داری بن گئی۔مگر حالیہ دنوں قلعے میں جاری مرمتی کاموں پر یونیسکو کی جانب سے اظہارِ تشویش نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔یونیسکو کے تحفظات کی وجہخبروں کے مطابق یونیسکو کو اطلاع ملی کہ قلعہ روہتاس میں ہونے والے بعض بحالی کے کام عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ اس اطلاع کے بعد یونیسکو کے نمائندوں نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تعاون سے قلعے کا معائنہ کیا۔ معائنے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ مرمت کے دوران استعمال ہونے والے تعمیراتی طریقے، مواد اور تکنیک عالمی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر جدید تعمیراتی مواد استعمال کیے جانے اور اصل تاریخی ساخت میں تبدیلی کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق کسی بھی عالمی ثقافتی ورثے کی بحالی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس کی اصل شناخت، تاریخی اہمیت اور قدامت برقرار رہے۔ اگر غیر موزوں مواد یا جدید تعمیراتی انداز اختیار کیا جائے تو یادگار کی تاریخی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔تاریخی ورثے کی بحالی کے اصولدنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کی مرمت کے کچھ اصول ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق مرمت صرف اتنی ہی کی جاتی ہے جتنی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو۔ اس دوران اصل پتھر، اینٹ، چونا یا دیگر روایتی مواد کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ عمارت کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی عمارت میں جدید سیمنٹ، نئی اینٹیں یا مختلف طرزِ تعمیر استعمال کی جائے تو اس سے اس کی اصل تاریخی اہمیت کم ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ یونیسکو ہر مرمتی منصوبے پر گہری نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہوں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی تاریخی مقام کی بحالی پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے قبل ٹیکسلا کے بعض آثارِ قدیمہ پر بھی یونیسکو نے غیر معیاری مرمت کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے تھے اور متعلقہ اداروں کو اصلاحی اقدامات کی سفارش کی تھی۔ قلعہ روہتاس کی تاریخی اہمیت قلعہ روہتاس برصغیر میں فوجی فنِ تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار کلومیٹر طویل فصیل، بارہ عظیم الشان دروازے، متعدد برج، شاہی مسجد، باؤلی اور دیگر تاریخی عمارتیں اس قلعے کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف شیر شاہ سوری کی عسکری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کا بھی زندہ ثبوت ہے۔ہر سال ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں سیاح اس تاریخی مقام کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصل ساخت کو محفوظ رکھنا نہ صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ سیاحتی اور معاشی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ اگر بحالی کا عمل عالمی معیار کے مطابق نہ ہو تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔مستقبل کیلئے ضروری اقدامات قلعہ روہتاس کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ ضروری ہے کہ مستقبل میں ہر بحالی منصوبہ بین الاقوامی اصولوں، ماہرین آثارِقدیمہ کی سفارشات اور یونیسکو کی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں، آثارِ قدیمہ کے ماہرین، انجینئرز اور تحفظِ آثار قدیمہ کے بین الاقوامی ماہرین میں قریبی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ ہر مرمتی مرحلے کی مکمل دستاویزات، تصاویر اور تکنیکی رپورٹس بھی محفوظ رکھی جائیں تاکہ کسی بھی وقت اس عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔ قلعہ روہتاس صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی شناخت، تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ یونیسکو کے تحفظات کو تنقید کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے تاکہ اس عالمی ورثے کی اصل حیثیت محفوظ رہے۔ اگر عالمی معیار کے مطابق بحالی کو یقینی بنایا جائے تو قلعہ روہتاس آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ محفوظ رہے گا اور ملک عزیز کا ثقافتی تشخص عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

آرک دے تریومف کا افتتاح29 جولائی 1836ء کوپیرس میں مشہور یادگار، آرک دے تریومف کا افتتاح کیا گیا۔ اس یادگار کی تعمیر کا حکم 1806ء میں نپولین بوناپارٹ نے آسٹرلٹز کی جنگ میں فتح کے بعد دیا تھا۔ اگرچہ نپولین اپنی زندگی میں اس کی تکمیل نہ دیکھ سکا لیکن تقریباً تیس سال بعد یہ عظیم الشان یادگار مکمل ہوئی۔ اس کی دیواروں پر فرانسیسی جرنیلوں اور اہم جنگوں کے نام کندہ کیے گئے ہیں۔ بعد میں پہلی جنگِ عظیم کے نامعلوم سپاہی کی قبر بھی اسی یادگار کے نیچے بنائی گئی جہاں آج بھی شمع روشن رہتی ہے۔ آرک دے تریومف نہ صرف فرانس کی قومی شناخت کی علامت ہے بلکہ آزادی، حب الوطنی اور قومی اتحاد کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ لندن اولمپکس 29 جولائی 1948ء کو لندن میں چودہویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ مقابلے دوسری جنگِ عظیم کے بعد منعقد ہونے والے پہلے اولمپکس تھے کیونکہ 1940ء اور 1944ء کے اولمپکس جنگ کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ جنگ کے بعد بیشتر ممالک معاشی مشکلات کا شکار تھے اسی لیے ان کھیلوں کو سادگی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ تقریباً ساٹھ ممالک کے چار ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ لندن اولمپکس نے بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد کے اولمپکس کے لیے نئی امید پیدا کی۔The Lord of the Rings29 جولائی 1954ء کو برطانوی ادیب جے آر آر ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول The Lord of the Rings کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ کتاب جدید فینٹسی ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ ٹولکین نے کئی برسوں کی محنت سے ایک مکمل خیالی دنیا تخلیق کی جہاں انسان، ہوبٹ، ایلف، بونے اور دیگر مخلوقات خیر و شر کی عظیم جنگ میں شریک ہوتی ہیں۔ اس ناول کی کہانی ایک طاقتور انگوٹھی کے گرد گھومتی ہے جسے تباہ کرنا دنیا کو تاریکی کی قوتوں سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 2001ء سے 2003ء کے درمیان اسی ناول پر بننے والی فلمی سیریز نے عالمی سطح پر بے مثال کامیابی حاصل کی اور متعدد آسکر ایوارڈز جیتے۔آئی اے ای اے کا قیام29 جولائی 1957ء کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد دنیا بھر میں ایٹمی توانائی کے پرُامن استعمال کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ IAEA مختلف ممالک کے جوہری پروگراموں کا معائنہ کرتی ہے، حفاظتی معیارات مقرر کرتی ہے اور عالمی جوہری سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کے رکن ہیں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی29 جولائی 1981ء کو شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب بیسویں صدی کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں 70 کروڑ سے زائد افراد نے اسے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ اگرچہ یہ شادی بعد میں کامیاب نہ رہی اور 1996ء میں طلاق ہو گئی لیکن اس تقریب کو آج بھی برطانوی شاہی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے برطانوی شاہی خاندان کی عالمی مقبولیت میں اضافہ کیا اور شاہی تقریبات کی بین الاقوامی نشریات کا ایک نیا معیار قائم کیا۔