ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی علمی و ادبی استعداد‘ تدریسی‘ تحقیقی اور تنقیدی مقام و مرتبہ اور اقبال شناسی کے حوالے سے ملکی ہی نہیں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً۵۳ برس کالجوں اورپنجاب یونی ورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی واد بی تحقیق میں بھی مصروف رہے۔ بیرونی ممالک میں اقبال پر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آپ دائتوبنکایونیورسٹی ٹوکیو جاپان میں فروری مارچ 2002ء میں وزیٹنگ سکالر رہے۔ ایچ ای سی ایمی نینٹ پروفیسر کے طور پرشعبہ اقبالیات پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک اقبال اکادمی پاکستان سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔آپ اقبال اکادمی کے تاحیات رکن اوراس کی گورننگ باڈی اورایگزیکٹوباڈی کے بھی رکن ہیں۔اس کے علمی رسالے’’اقبالیات‘‘کی بلکہ بہت سے دوسرے علمی وتحقیقی مجلوں کی ادارتی اورمشاورتی مجالس میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ ادبی کمیٹی بزم اقبال لاہور کے بھی رکن ہیں۔اسی طرح آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردواورشعبہ اقبالیات اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیزاینڈ ریسرچ کے ساتھ کئی طرح سے منسلک رہے ہیں۔ آپ کو علمی و ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات کا حق دار قرار دیا گیا جن میںداؤدادبی ایوارڈ1982ء،بیسٹ یونی ورسٹی ٹیچرزایوارڈ2000ء اورقومی صدارتی اقبال ایوارڈ 2005ء اہم ہیں۔ آپ کی چالیس سے اوپرتصنیفات اردوزبان وادب کے حوالے سے تحقیقی وعلمی سطح پر بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا جس کا احوال معزز قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔س:آپ یونیورسٹی میں آپ اوّل آئے؟ج:جی ہاں،اوّل آیااوراس بناپریونیورسٹی گولڈمیڈل ملا۔اسی طرح انجمن ترقیٔ اردو پاکستان کی طرف سے’’ تمغائے بابائے اردو‘‘بھی ملا۔س:اچھاڈاکٹرصاحب،لکھناکب شروع کیا؟ج: لکھنے لکھانے کاسلسلہ سکول کے زمانے سے شروع ہوا۔ ایف اے کے زمانے میں کچھ افسانے اورانشایے لکھے اور کچھ طنزومزاح بھی۔لیکن جب ایم اے میں پہنچا تو میری توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف زیادہ ہوگئی۔ لیکن تخلیق سے بھی تعلق برقراررہااور ابھی تک یہ تعلق قائم ہے۔ دو سفر نامے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اندلس کا ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ اور دوسرا جاپان کا ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اس کے علاوہ بھارت ،برطانیہ اورشمالی علاقہ جات کے اسفارکی رودادیں بھی لکھی ہیں کچھ مزیدسفرنامے لکھنا چاہتاہوں مگرتحقیقی مشاغل مہلت نہیں دیتے۔س:اچھا،کچھ عملی زندگی کے بارے میں بھی…ج:عملی زندگی ،اس میں صحافت میں جانے کے خاصے مواقع تھے مگرمزاجی مناسبت مجھے درس وتدریس سے تھی،اس لیے سوچا کہ پڑھنا پڑھانا بہتررہے گا۔شروع میں مجبوراً کچھ عرصہ اخبار، رسالوں میں کام کیاپھرجونہی موقع ملا،تدریس میں آگیا۔ غزالی کالج جھنگ صدر‘ ایف سی کالج لاہور‘ میونسپل کالج چشتیاں‘ انبالہ مسلم کالج سرگودھامیں پڑھاتا رہا پھر جب گورنمنٹ سروس میں آگیا تو گورنمنٹ کالج مری‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا۔ یہاں سے میں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو میں آگیا اور 2002ء میں یہیں سے ریٹائر ہوا۔ مزیددو برس پڑھایا لیکن اب مصروفیت لکھنے پڑھنے اور تحقیق و تصنیف ہی کی ہے۔ویسے یونی ورسٹی سے تعلق کئی طرح کااب بھی قائم ہے۔دائرہ معارف اقبال کے لیے ان دنوں کچھ مقالات زیرتحریرہیں۔س: اقبالیات آپ کا مرغوب موضوع رہا۔ تخصیص کے ساتھ اس سے وابستگی اور اسی میں تحقیق کے کیا محرکات تھے؟ج: ایک تو یہ تھا کہ ایم اے اردو کے نصاب میں علامہ اقبال کے مطالعے کا ایک پورا پرچہ ہے جس میں ان کی شاعری اور ان کے افکار کا تفصیلی مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ اس کے ایم اے اردواورفارسی کے نصاب میںاقبالیات کا پورا پرچہ شامل ہے۔توایک وابستگی تویہ تھی۔ دوسرے اس سے پہلے میرے گھر کا ماحول اور خاندانی پس منظر بھی اقبال کی جانب رغبت دلانے کے لیے سازگار تھا۔ میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا‘ ہمارے گھر میں بانگِ درا کا ایک نسخہ ہوتا تھا۔ میں اس کو کبھی کبھی دیکھتا تھا۔ اس میں شروع کی بعض نظمیں مثلاً’’پرندے کی فریاد‘‘یا’’ایک مکڑا ور مکھی‘‘یا’’ہمدردی‘‘وغیرہ دلچسپ محسوس ہوتی تھیں تویہ چیز اقبال سے ابتدائی دلچسپی کا سبب بنی۔ پھر ایف اے کے زمانے میں’’بالِ جبریل‘‘ میرے ہاتھ لگی۔ چھٹیوں کا زمانہ تھا، بار بار پڑھنے سے بہت سا حصہ مجھے یا دہوگیا ۔جب ایم اے میں اقبال کوپڑھا تو سب پچھلی باتیں تازہ ہوگئیں اور اس طرح وہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔اس کے بعد میں نے پی ایچ ڈی کیا جس کے لیے میرے مقالے کا موضوع تھا ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ وہ مقالہ تین مرتبہ چھپا ہے۔یوںزیادہ تر میری توجہ اقبال پر ہی رہی ہے۔ اقبالیات پرمیری چھوٹی بڑی بیس کتابیں ہیں۔ مثلاً’’ اقبال کی طویل نظمیں‘‘ میری سب سے پہلی کتاب ہے۔ وہ 1974ء میں چھپی تھی اب تک اس کے سات آٹھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ س: ڈاکٹر صاحب! آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ‘‘ کا موضوع منتخب کیا۔ اس میں اقبال کی تمام کتب اور ان میں شامل نظمیں‘ غزلیں‘ قطعات‘ رباعیات اور فردیات سب کچھ آ جاتا ہے، ان سب کا احاطہ کرنا آپ کے لیے کس قدر مشکل رہا۔ ج: اس میں جو تحقیقی مطالعہ تھا وہ اس طرح تھا کہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو کیسے جمع کیا اور کب اور کیسے شائع کیا مثلاً ان کی پہلی کتاب نثر میں چھپی ’’علم الاقتصاد‘‘ 1904ء میں۔ شاعری میں سب سے پہلی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ پھر ’’رموزِ بے خودی‘‘ پھر ’’پیامِ مشرق‘‘ اُس کے بعد’’بانگِ درا‘‘ چھپی ہے۔ ان سب اورباقی کتب کی بھی اشاعت کی کیا تاریخ وترتیب ہے؟ یہ بھی تھا کہ ایک کتاب ایک بار چھپنے کے بعد جب دوسری مرتبہ چھپتی تھی تو علامہ اقبال اس میں ترمیم کرتے تھے۔ وہ ترامیم کیا تھیں تحقیقی اعتبار سے ان کی نشاندہی اوران کاکھوج لگاناضروری تھا کیونکہ اس سے شاعر کی ذہنی تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے بعدکے ایڈیشنوں سے بعض اشعار نکال دیے اور ان کی جگہ نئے شعر شامل کر یے مثلاً اسرارِ خودی، میں حافظ شیرازی کے بارے میں بڑے سخت شعر تھے لوگوں نے بڑے اعتراض کیے۔ اکبر الٰٰہ آبادی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناراض ہوئے تو دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے ان اشعار کو نکال دیا۔ جب تیسرا ایڈیشن آیا تو اقبال نے پھر ترامیم کیں تو میں نے اپنے مقالے میں وضاحت کے ساتھ ان سب ترامیم اورتبدیلیوں کی وضاحت کی جومختلف شعری مجموعوںمیںعلامہ اقبال نے کیں۔ مثلاً ’’بانگ درا‘‘ کا تیسرا ایڈیشن حتمی نسخہ ہے۔ اسی طرح’’ پیامِ مشرق‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اس کا حتمی نسخہ ہے۔ اس لیے اقبال کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے ان کی ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری تھا۔ اوریہ کام بہت پھیلا ہوا تھا کیونکہ ان کی چار کتابیں اردو کی ہیں سات فارسی کی ہیںپھر نثر کی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ کے انگریزی خطبات ہیں جنھیں خطبات مدراس بھی کہتے ہیں اس کے دوسرے ایڈیشن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں، میںنے ان کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سارا کام اس لحاظ سے تحقیقی اہمیت کا حامل ہے کہ اب جو لوگ اقبال پر تحقیق کرتے ہیں انھیں اس مقالے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال اپنے نظریات اور تخلیقی عمل میں کن شخصیات سے متاثر تھے جبکہ ان کا زمانہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور آشوب کا تھا؟ج: علامہ اقبال کی فکر اوران کے نظریات دراصل ان کی شخصیت کاعکس ہیں،اوراقبال کی شخصیت کی تشکیل میں تین افراد کا بنیادی عمل دخل ہے۔ ایک تو خود ان کے والد تھے جو بڑے دُرویش منش اور صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے اقبال کی تربیت ایک خاص نہج پر کی ،مثلابیٹے کویہ نصیحت کی کہ قرآن پاک کو ایسے پڑھاکرو جیسے یہ تم پرنازل ہورہاہے۔یاجیسے یہ تمھارے جسم و جاں کا حصہ بن رہا ہے۔دوسری شخصیت مولوی سید میر حسن کی ہے۔ان کا بھی اقبال پر بڑا گہرا اثر ہے۔ وہ ان کے استاد تھے اوراقبال کے اندرعلمی وادبی ذوق پروان چڑھانے میں ان کابڑادخل ہے۔تیسرے شخص پروفیسرآرنلڈتھے، جو فلسفے کے استاد تھے۔ ان کا اقبال پراتنا اثر تھا کہ ا قبال نے پروفیسر آرنلڈ کے لیے نظم لکھی ’نالۂ فراق‘ جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ وہ جب یہاں سے ریٹائر ہو کر جا رہے تھے تواقبال نے یہ نظم لکھی تھی’’تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم‘‘ اور یہ پوری نظم اقبال پرآرنلڈ کے احسانات اور فیوض کااعتراف ہے۔ اس نظم کاایک اورمصرع ہے ’’توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو‘‘۔ 1904ء میں یہ نظم کہی اور 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اقبال آرنلڈ کے پیچھے پیچھے انگلستان پہنچ گئے اور تین سال میں کیمبرج‘ لنکنز ان اور میونخ سے تین ڈگریاں حاصل کیں۔ تویہ تین ہستیاں ہیںجنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تشکیل کی۔ ویسے میں سمجھتاہوں کہ اقبال کو صاحب اقبال اور باکمال بنانے میں ان کی والدہ اورسکاچ مشن کالج اورکیمبرج کے ان کے اساتذہ کابھی خاصا دخل ہے۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے کیا خدوخال تھے اور وہ اس کے لیے کیسا نظام پسند کرتے تھے؟ج:اقبال نے جس ریاست کی بات کی ہے،اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکمیت یاساورنٹی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،یعنی ’’سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکوہے‘‘۔اقبال مغربی جمہوریت کے خلاف تھے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے مگر اقبال عوام کو نہیں اللہ تعالیٰ کو حاکم مانتے ہیں۔کہتے ہیں’’حکمراں ہے اک وہی ،باقی بتانِ آزری‘‘۔معاف کیجیے اقبال کی نظر میں تو ہم آج کل بتانِ آزری کو پوج رہے ہیںاور اسی لیے خوار ہورہے ہیں۔…رہی یہ بات کہ اقبال کیسانظام پسند کرتے تھے ؟ قائداعظمؒ سے ان کی خط کتابت دیکھیے ،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل نہرو کی لادینی سوشلزم میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ میں ہے۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی ریاست کے لیے سیکولر یا سوشلسٹ نظام تجویز نہیں کرتے تھے۔ وہ دین اور سیاست کو بھی الگ الگ نہیں سمجھتے تھے۔ س: علامہ اقبال کے نزدیک اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ج: دیکھیے علامہ اقبال زندگی میں جس انقلاب پر زور دیتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: عجس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگیتوان کے مجوزہ انقلاب میں اجتہادناگزیر ہے اور ایک بنیادی نکتہ ہے۔دورحاضرمیں کسی قوم کو،خاص طورپرمسلم امہ اپنی بقا اورترقی کے لیے اجتہاد کی اشدضرورت ہے،اس لیے اقبال نے نئے زمانے میں نئے صبح وشام پیداکرنے کی تلقین کی ہے۔ان کے نزدیک طرز کہن پراڑنا،جموداور موت کی علامت ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ اجتہاداورآئین نو کے شوق میں اپنی تہذیب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہو جائیں۔اقبال کے نزدیک ہر ایراغیرا اجتہاد کااہل نہیں۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال وسیع المطالعہ تھے‘ انھوں نے اردو فارسی میں شاعری بھی کی اور نثر بھی لکھی۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار رہا۔ وہ ایک فلاسفر بھی تھے۔ا نہوں نے کالج میں اردو‘ فارسی فلسفہ اور انگریزی بھی پڑھائی ان سب صفات کے ہم آہنگ ہونے سے اقبالؒ کی کیا شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ج: دیکھیے علامہ اقبال کثیر المطالعہ اور جامع الحیثیات شخص تھے۔ وہ استاد بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور سیاست دان بھی مگر ان کی دیگر صفات ان کی شاعری کے تابع ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان کی شاعری پر غور کرنے اورتامل کرنے سے نئے سے نئے نکات سامنے آتے ہیں۔ دنیا کی چالیس زبانوں میں ان کی تخلیقات کے تراجم ہو چکے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے کلام میں ایک کشش ،جامعیت اورہمہ گیری پائی جاتی ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو 15 اگست کی رات کوبھارت کی اسمبلی کاافتتاح اقبال کے’’ ترانہ ہندی‘‘ سے ہوا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت کی دل نوازی ایک حدتک ان کے کٹر مخالفین کے لیے بھی قابل قبول تھی۔س: ڈاکٹر صاحب! علامہ اقبال نے جہاں حافظ اور مولانا روم کو پڑھا، وہاں مارکس، لینن، گوئٹے اور نٹشے کا بھی مطالعہ کیا اور انھوں نے ان کو اپنی شاعری میں بھی جگہ دی مگر ہر نظام کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور اسلام کو ہی بہترین نظام قرار دیا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ج:کہنا چاہیے کہ جن شخصیات کو انھوں نے پڑھا ان کا ذکر ان کی شاعری میں آیا ہے۔ اقبال نے سب کو پڑھا اور سب سے استفادہ کیا لیکن اقبال کی فکر کا جو سب سے بڑا ماخذ ہے وہ قرآن حکیم ہے۔ اور ان کے نزدیک جو سب سے عظیم شخصیت ہے وہ نبی کریمؐ کی ہے جن سے وہ سب سے زیادہ متاثر تھے۔ اس کے بعد مولانا رومی ہیں‘ اس کے بعد دوسرے لوگ بلاشبہ انھوں نے دوسرے لوگوں سے بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کیااوربعضچیزوںکو انھوں نے سراہا گویا جہاں سے بھی انھیں حکمت ودانش کی کوئی چیز ملی، اسے اپنی فکر کا حصہ بنا لیا۔ س: ڈاکٹر صاحب اقبال کے وسیع مطالعے اور فارسی و عربی زبانوں پر عبور ہونے کے سبب ان کا کلام مفرس اور معرب ہے اور اس میں مشکل پسندی پائی جاتی ہے۔ کیا یہ ابلاغ عامہ کے راستے میں حائل تو نہیں؟ج: ایک تو یہ ہے کہ اقبال کے زمانے میں فارسی زبان کی روایت بہت پختہ تھی۔ فارسی پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی ۔دوسری بات یہ کہ ایک بار کچھ دوستوں نے اقبال سے شکوہ کیاکہ آپ فارسی میں سب کچھ کہتے ہیں ،اردو والے منتظر رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا جواب تھا It comes to me in Persian. باقی مشکل کی بات تو یہ ہے کہ اب ہمارامعیار تعلیمبہت نیچے آ گیاہے اورہمیں اقبال کااردو کلام بھی فارسی کی طرح لگتا ہے۔ س: ڈاکٹر صاحب! اقبال کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک میں کانفرنسیں ہوتی رہیںاور پاکستان میں بھی اقبالیات کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہے ہیں آپ کی ان سیمینارز اور کانفرنسوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک بھرپور شرکت رہی، کچھ ان کا احوال بیان کیجیے۔ ج: اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں کا آغاز اقبال کے زمانے ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ روایت پاکستان بننے کے بعد پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اور کانفرنسوں کا یہ سلسلہ دنیا کے پیشتر ممالک تک پھیلا ہوا ہے مجھے بھی ایسی دس بارہ کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔ دوتین مرتبہ پاکستان میں‘ دو دفعہ بھارت میں‘ ایک دفعہ ترکی میں‘ ایک مرتبہ بلجیم میں‘ ایک ایک دفعہ برطانیہ اوراسپینمیں جانے کا موقع ملا۔ جو کانفرنس دسمبر 1977ء میں لاہور میں ہوئی جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن منایا گیا ،وہ سب سے بڑی کانفرنس تھی۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق اجلاس کے صدرتھے۔ بشیرحسین ناظم نے کلام اقبال پڑھا اور سماںباندھ دیا۔ جنرل خوش ہوگئے۔ فرمائش کی کہ ایک اورغزل پڑھیں ،بشیرصاحب نے اتفاقاًیا شاید شرارتاًبال جبریل کی وہ غزل شروع کی ’’دل بیدار فاروقی…‘‘ ناظم صاحب غزل پڑھ رہے تھے اورجنرل صاحب سن سن کر جھوم رہے تھے،جب آخری شعرپرپہنچے اور وہ یہ تھا:خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ دُرویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاریتو یہ شعر پڑھتے ہوئے بشیرحسین ناظم نے معنی خیزطورپر ضیاء الحق کی طرف دیکھا۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سائنس دانوں کا جدید اے آئی نظامطب کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز پیشرفت نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے، کیا انسان کے چہرے کی ایک عام سی تصویر یہ اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے کہ کینسر کا مریض کتنی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا جدید نظام تیار کیا ہے جو مریض کی سیلفی کا تجزیہ کرکے اس کی حیاتیاتی عمر اور کینسر سے متعلق موت کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریض کی حالت سمجھنے اور علاج کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں اور اس کی افادیت کی مزید جانچ ضروری ہے۔یہ نظام مریض کے چہرے کا تجزیہ کرکے ان افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے جنہیں موت کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ آزمائشوں کے دوران زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل نصف سے زائد مریض 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ اس کے برعکس کم خطرے والے گروپ میں اسی عرصے کے دوران صرف دو فیصد مریضوں کی موت ہوئی۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کن مریضوں کی جسمانی حالت کینسر کے سخت علاج کی متحمل ہو سکتی ہے اور کن مریضوں کیلئے نسبتاً محتاط طریقہ علاج اختیار کرنا ضروری ہے۔''فیس سروائیول‘‘ (FaceSurvival) نامی یہ نظام امریکا کے طبی تحقیقی ادارے میس جنرل بریگھم (Mass General Brigham)کے محققین نے تیار کیا ہے۔یہ تحقیق سابقہ مطالعات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ کینسر کے وہ مریض جو اپنی اصل عمر سے زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے ہیں، ان میں موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔تاہم، مریض کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت کا یہ نیا نظام چہرے کے ان معمولی اور باریک نشانات کا تجزیہ کرتا ہے جو مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔یہ تحقیق علاج شروع کرنے سے پہلے مریضوں کی حالت کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈاکٹر پہلے ہی مریض کو دیکھ کر اس کی صحت کے بارے میں فوری اندازہ لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو ''آئی بال ٹیسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مریض بظاہر کتنا کمزور یا ناتواں دکھائی دیتا ہے۔بڑی آنت اور مقعد کی سرجری کی ماہر اور تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر گریس لی کے مطابق معالجین پہلے ہی مریض کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کی صحت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارا تیار کردہ نظام اس تجرباتی اندازے کو ایک باقاعدہ اور قابلِ پیمائش طریقے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس سے بیماری کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی درستگی اور طبی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری کیلئے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو 4 کروڑ سے زائد عوامی طور پر دستیاب چہروں کی تصاویر کے ذریعے تربیت دی۔ اس کے بعد 34 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی تصاویر استعمال کر کے '' فیس سروائیول‘‘ کو موت کے خطرے کی پیش گوئی کرنا سکھایا گیا۔بعدازاں 3 ہزار 820 مریضوں کے ایک الگ گروپ پر اس نظام کی آزمائش کی گئی۔ اس دوران مصنوعی ذہانت نے ہر مریض کو صفر سے ایک کے درمیان خطرے کا اسکور دیا، جس کی مدد سے ان کیلئے موت کے خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔سب سے زیادہ خطرے کا اسکور حاصل کرنے والے 122 مریضوں میں سے 64 تین ماہ کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ کم ترین خطرے والے گروپ کے 975 مریضوں میں سے صرف 20 کی موت ہوئی۔مجموعی طور پر، سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے ایک چوتھائی مریضوں میں موت کا امکان، کم ترین خطرے والے گروپ کے مریضوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تھا۔ یہ فرق مریضوں کی عمر، جنس اور کینسر کی قسم کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔ محققین نے ان نتائج کی جانچ نیدرلینڈز کے تقریباً 4 ہزار 900 کینسر کے مریضوں پر بھی کی۔سائنس دانوں نے ''ایف اے ایچ آر فیس ایج‘‘ کے نام سے ایک دوسرا نظام بھی تیار کیاہے، جو چہرے کی تصویر سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے۔ عام عمر کے برعکس، حیاتیاتی عمر سے مراد یہ ہے کہ جسم پر بڑھتی عمر کے اثرات کس حد تک مرتب ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایک تحقیق میں ٹیم نے ہالی وڈ کے دو اداکاروں کی مثالوں کے ذریعے اس تصور کو واضح کیا تھا۔ دونوں کی تصاویر اس وقت لی گئی تھیں جب ان کی عمر 50 سال تھی۔فلم ''اینٹ مین‘‘ اور ''دی 40 ایئر اولڈ ورجن‘‘ کے اداکار پال رڈ، جن کی موجودہ عمر 57 سال ہے، کی حیاتیاتی عمر محض 42.6 سال لگائی گئی۔ اس کے برعکس، 1985ء کی فلم ''کوکون‘‘ میں اداکاری کرنے والے ول فورڈ برملے، جن کا انتقال 2020ء میں 85 سال کی عمر میں ہوا، کی حیاتیاتی عمر 69 سال بتائی گئی تھی۔تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے والے اس نئے نظام کو 38 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں پر آزمایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن مریضوں کے چہرے ان کی اصل عمر سے کم از کم پانچ سال زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، جو مریض اپنی حقیقی عمر سے پانچ سال چھوٹے دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔تحقیق میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا تعلق بھی عمر سے زیادہ بوڑھا دکھائی دینے والے چہرے سے سامنے آیا۔ ان عوامل میں تمباکو نوشی کا تعلق سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ موجودہ سگریٹ نوش افراد کے چہرے سابقہ سگریٹ نوشوں اور کبھی سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دینے کا رجحان رکھتے تھے۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ان دونوں نظاموں کو بیک وقت استعمال کرکے ڈاکٹروں کو مریضوں کی حالت کا زیادہ تیزی اور کم لاگت سے جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسپتالوں میں اس کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔ سائنسدان یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا پلاسٹک سرجری اور چہرے کی کاسمیٹک تبدیلیاں اس نظام کی درستگی کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔اس کے علاوہ، اگرچہ مصنوعی ذہانت زیادہ خطرے والے مریضوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نظام کی مدد سے علاج کے فیصلے کرنے سے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

انجینئرنگ کی مہارت کانمونہگاڑی کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک ایسی سواری کا خیال آتا ہے جس میں ڈرائیور آرام سے بیٹھ کر سفر کرسکے، لیکن اگر کوئی گاڑی محض 50 سینٹی میٹر چوڑی ہو تو اسے دیکھ کر حیران ہونا فطری ہے۔ جدید دور میں نت نئے تجربات اور غیر معمولی ایجادات نے آٹو موبائل کی دنیا کو بھی حیرت انگیز بنا دیا ہے۔ اٹلی کے ایک مکینک نے پرانی گاڑی کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وہ دنیا کی سب سے کم چوڑائی والی قابل ڈرائیونگ گاڑی بن گئی۔ یہ انوکھی سواری نہ صرف انجینئرنگ کی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی بھی دلچسپ مثال ہے۔ اس گاڑی کی لمبائی محض 3.38 میٹر (11 فٹ) اور چوڑائی 1.46 میٹر (4 فٹ 9 انچ) تھی۔ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ اٹلی کے قدیم شہروں کی تنگ اور پتھر کی اینٹوں سے بنی گلیوں میں باآسانی گزر سکے۔تاہم، اطالوی مکینک آندریا مارازی کے خیال میں اس پھرتیلی اور چھوٹی گاڑی کی جسامت مزید کم کی جا سکتی تھی۔ 2024ء میں جب 1993ء کی ایک اچھی حالت میں موجود فیٹ پانڈا گاڑی ان کے خاندانی کباڑ خانے میں لائی گئی تو آندریا نے اسے ایک نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ان کا مقصد دنیا کی سب سے پتلی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی تیار کرنا تھا۔کمپنی نے 1980ء سے 2003ء کے درمیان پانڈا ماڈل کی تقریباً 45 لاکھ گاڑیاں تیار کیں۔ اٹلی میں اس گاڑی کے بیشمار مداح ہیں۔ آندریا مارازی بھی کئی برس سے قریبی قصبے پانڈینو میں منعقد ہونے والے ''پانڈا اے پانڈینو‘‘ نامی اجتماع میں شرکت کرتے آ رہے ہیں، جہاں اس گاڑی کے شوقین افراد جمع ہوتے ہیں۔اگلے سال ہونے والی کار نمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے آندریا نے ایک منفرد منصوبے کا خاکہ تیار کیا، جسے انہوں نے ''پانڈا پر اونو‘‘ (ایک شخص کیلئے پانڈا) کا نام دیا۔ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی مختصر جسامت والی گاڑی کی چوڑائی گھٹا کر محض 50.2 سینٹی میٹر (ایک فٹ 7.6 انچ) کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آندریا کی تیار کردہ یہ حیرت انگیز چھوٹی گاڑی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی کتاب میں بھی شامل کی گئی ہے۔''پانڈا پر اونو‘‘ کی تیاریگزشتہ کئی برسوں کے دوران آٹو ڈیمو لیزیونے مارازی نامی خاندانی کباڑ خانے سے فیٹ پانڈا کی سیکڑوں گاڑیاں گزر چکی تھیں، اس لیے آندریا مارازی اس گاڑی کے ڈیزائن اور اس کی ساخت سے بخوبی واقف تھے۔انہوں نے سب سے پہلے گاڑی کے دروازے اور اطراف میں لگے پینل احتیاط سے اتارے۔ اس کے بعد گاڑی کے درمیانی حصے کو کاٹ کر اس کے مختلف حصوں کو دوبارہ ویلڈنگ کے ذریعے جوڑنے کا کام شروع کیا۔ آندریا نے گاڑی کے اگلے بونٹ، چھت اور پچھلے دروازے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت مخصوص باڈی ورک اور شیشے بھی تیار کیے، تاہم گاڑی کے باقی حصوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھا۔اپنی غیرمعمولی تبدیلیوں کے باوجود ''پانڈا پراونو‘‘ کی 90 فیصد ساخت انہی پرزوں سے تیار کی گئی ہے جو اصل گاڑی میں موجود تھے۔ اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ گاڑی کے فریم کو کاٹنا تھا، تاکہ دونوں حصوں کو دوبارہ جوڑنے پر وہ مکمل طور پر متناسب اور متوازن رہیں۔یہ گاڑی محض ایک خالی ڈھانچا نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک چھوٹی برقی موٹر، بیٹری پیک اور مختصر جسامت کا اسٹیئرنگ نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہیڈلائٹس اور اشارے بھی کام کرتے ہیں۔اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 15 کلومیٹر فی گھنٹہ (9.3 میل فی گھنٹہ) ہے۔ تاہم، اس کی کم رفتار مناسب ہی ہے، کیونکہ موڑ کاٹتے وقت یہ زیادہ مستحکم نہیں رہتی۔پانڈا گاڑیوں کی حیرت انگیز دنیا''پانڈا پراونو‘‘ اٹلی میں فیٹ پانڈا گاڑیوں کے نت نئے اور منفرد تجربات کی صرف ایک مثال ہے۔ ان پرانی گاڑیوں کی سادہ میکانکی ساخت اور کباڑ خانوں میں آسانی سے دستیابی نے شوقین افراد کیلئے ان میں مختلف تبدیلیاں کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ یوں اٹلی میں پانڈا گاڑیوں کی ایک دلچسپ دنیا آباد ہو چکی ہے۔پانڈینو میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں پانڈا کی کئی منفرد شکلیں بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ ان میں ''پانڈا کورٹا‘‘ (مختصر پانڈا) بھی شامل ہے، جس کے پہیوں کے درمیان فاصلہ صرف ایک میٹر (3 فٹ 3.3 انچ) ہے۔ اس گاڑی کی ایک اور خاص بات اس کی انتہائی کم بلندی ہے، جسے دنیا کی سب سے کم بلندی والی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔یہ منفرد گاڑی آندریا مارازی کے دوستوں کوکی روڈی، میٹیو مارزیٹی اور نکولا گواڈانین نے تیار کی۔ یہ تینوں سوشل میڈیا پر مشترکہ طور پر ''کارماگیڈن‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی تخلیقات ظاہر کرتی ہیں کہ پرانی گاڑیوں کو تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارت سے کس قدر حیرت انگیز شکل دی جا سکتی ہے۔اب اگلا منصوبہ کیا ہے؟آندریا مارازی کا رواں سال کا بڑا منصوبہ فیٹ پانڈا گاڑی کو 1980ء کی دہائی کے لینڈینی ٹریکٹر کے ڈرائیو ٹرین نظام کے ساتھ جوڑنا تھا، تاکہ اٹلی کے مخصوص انداز کا ایک دیوہیکل مونسٹر ٹرک تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ان کے دوستوں نے موسمِ گرما کے دوران کرسلر پی ٹی کروزر گاڑی کو ایک موٹر بوٹ میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیا۔آندریا اب بھی عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں جگہ پانے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں شامل ہونا ان کیلئے ایک اعزاز ہے اور وہ اس کامیابی پر بے حد پرجوش ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کا طویل ترین سمندری پل کا افتتاح24 اکتوبر 2018ء کو دنیا کے طویل ترین سمندری پل، ہانگ کانگ، ژوہائی اور مکاؤ کو ملانے والے پل کو عوامی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ عظیم الشان منصوبہ چین کے بنیادی ڈھانچے اور جدید انجینئرنگ کا ایک غیرمعمولی شاہکار ہے۔ اس پل کی تعمیر سے تین اہم علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ آسان ہوا اور سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئی۔ یہ پل سمندر کے اوپر تعمیر ہونے والے طویل ترین رابطہ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔چین کے پہلے قمری سیٹلائٹ کی روانگی24 اکتوبر 2007ء کو چین نے اپنے قمری تحقیقاتی پروگرام کے پہلے سیٹلائٹ ''چانگ ای ون‘‘ کو خلا میں روانہ کیا۔ اسے چین کے صوبے سیچوان میں واقع شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا۔اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کی سطح، ساخت اور جغرافیائی خصوصیات کا مطالعہ کرنا تھا۔ اس کامیابی نے چین کے خلائی تحقیقاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کی اور چاند کی تحقیق کیلئے مستقبل کے مزید مشنز کی راہ ہموار کی۔نیاگرا آبشار سے بیرل میں گرنے والی پہلی خاتون24 اکتوبر 1901ء کو امریکی خاتون اینی ایڈسن ٹیلر دنیا کی پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے لکڑی کے ایک بڑے بیرل میں بیٹھ کر نیاگرا آبشار سے نیچے گرنے کا خطرناک کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت ان کی عمر 63 سال تھی۔ انہوں نے یہ مہم شہرت اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کی تھی۔ بیرل کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ پانی کے شدید دباؤ اور بلندی سے گرنے کے باوجود محفوظ رہ سکیں۔ اس مہم کے بعد وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔جنگ عظیم اوّل: وٹوریو وینیٹو میں اٹلی کی فتح24 اکتوبر 1918ء کو پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی نے وٹوریو وینیٹو کے محاذ پر آسٹرو ہنگری افواج کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں اطالوی فوج نے اہم کامیابی حاصل کی، جس نے آسٹرو ہنگری سلطنت کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ معرکہ پہلی جنگ عظیم کے آخری مراحل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گیا۔ اس شکست کے بعد آسٹرو ہنگری سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا اور چند ہی دنوں بعد اس نے اٹلی کے ساتھ جنگ بندی کے لیے اقدامات کیے۔بیکانور خلائی مرکز میں آتش زدگی، سات افراد ہلاک24 اکتوبر 1963ء کو سوویت یونین کے بیکانور خلائی مرکز میں ''آر 9 ڈیسنا میزائل‘‘ سے آکسیجن کے اخراج کے باعث خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آکسیجن کے اخراج نے آگ لگنے کے خطرے کو بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں خلائی مرکز میں موجود اہلکاروں کو جان لیوا صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خلائی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی کی تاریخ کے اہم حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

انسانی وقار کسی عہدے، دولت، رنگ، نسل یا سماجی مرتبے کا محتاج نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے زیادہ اس رویے سے ہوتی ہے جو اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ کسی معاشرے میں انسان کی عزت کو اس کی حیثیت اور دولت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں حقیقی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔'عالمی یومِ انسانی وقار‘ جو کہ اکتوبر کے تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے، اسی بنیادی انسانی قدر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کا ہر فرد عزت، احترام اور مساوی سلوک کا مستحق ہے۔انسانی وقار کا مفہوم اور اہمیتوقار محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی بنیادی قدر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، اپنے حقوق سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی شخص کو اس کی غربت، جسمانی معذوری یا سماجی حیثیت کی وجہ سے کمتر سمجھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، وہاں نفرت، استحصال، ناانصافی اور تصادم نے جنم لیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے انسانی عزت، قانون کی بالادستی اور مساوات کو فروغ دیا، وہاں سماجی استحکام اور باہمی اعتماد کو تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی انسانی وقار اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں کسی انسان کی تذلیل نہ ہو اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع میسر آئے۔معاشرتی رویے اور احترامِ انسانیتانسانی وقار کا اصل امتحان روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر بڑے بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے سے کمزور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔کسی شخص کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا، کسی کمزور کا مذاق اڑانا، عوامی مقامات پر کسی کی تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی کرنا ایسے رویے ہیں جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے تضحیک، توہین اور کردار کشی کو عام کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بنانا، بغیر تصدیق الزام لگانا اور ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ کسی کی عزت اور نجی زندگی پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں شائستگی کو فروغ دیں۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل کے ساتھ، تنقید ضرور کی جائے مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ پاکستان میں انسانی وقار کے تقاضےپاکستانی معاشرے میں انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں غربت، طبقاتی فرق، صنفی امتیاز، کم عمر بچوں سے مشقت، ملازمت کے مقامات پر نامناسب رویے اور بعض کمزور طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد اور معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کی مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون کے تحت عزت و انصاف ملے اور کسی شخص کے ساتھ اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ہر فرد کی بات سنی جائے، اس کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اس کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔خصوصی افراد، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی بھی انسانی وقار کے تحفظ کا حصہ ہے۔اس مقصد کے حصول میں خاندان، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی عزت اس کے لباس، زبان، دولت یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔تعلیم، نوجوان اور بہتر مستقبلانسانی وقار کے فروغ میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ذمہ دار، باشعور اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا شہری بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، مساوات، ہمدردی اور اختلافِ رائے کے احترام کو عملی طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔نوجوان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔ وقار کا آغاز اپنے رویے سےعالمی یومِ انسانی وقار ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی عزت کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، محنت کش کی خدمات کو تسلیم کرنا، کمزور کے حق میں آواز اٹھانا، اختلاف رکھنے والے شخص کی بات سننا اور کسی کی تضحیک سے گریز کرنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو انسانی وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔بہتر معاشرے کی تعمیر اس وقت ممکن ہے جب عزت و احترام ہر انسان کا حق سمجھا جائے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانی وقار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سپرال نینو

سپرال نینو

عالمی ماحولیاتی نظام کیلئے نیا خطرہقدرتی موسمیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کبھی کبھار پوری دنیا کے موسم، زراعت، سمندری حیات اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ال نینو بھی ایسا ہی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن 2026ء میں اس کے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونے کے خدشات نے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ ال نینو انتہائی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور انسانی خوراک کے وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ال نینو مضبوط ہو رہا ہے اور جنوری سے مارچ 2027 ء تک اس کے شدید یا انتہائی شدید رہنے کا امکان نمایاں ہے۔ تاہم اس کی شدت اور مختلف علاقوں پر اس کے اثرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو مسلسل نئے مشاہدات کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔ال نینو اور سپر ال نینو کیا ہے؟ال نینو بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کے موسمیاتی عمل کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ، ہواؤں کی سمت اور بارش کے معمولات متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہو تی ہے جبکہ دوسرے حصے میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور اس کے ساتھ فضائی گردش میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں تو اسے سپر ال نینو کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال کے باعث گرم ہو رہی ہے۔ ایسے میں ال نینو کی اضافی حرارت عالمی درجہ حرارت کو مزید بلند کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر علاقے میں یکساں گرمی یا خشک سالی ہوگی۔ اس کے اثرات خطے، موسم اور سمندر و فضا کی دیگر تبدیلیوں کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ بحری اور جنگلی حیات پر اثرات سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات میں سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہوتی ہیں، اس عمل کو کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔مرجان کی چٹانیں بے شمار مچھلیوں اور دوسرے سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تباہی سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی میں غذائی اجزا کی فراہمی اور سمندری جانداروں کی نقل مکانی میں تبدیلیاں مچھلیوں کی آبادی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں آگال نینو کے اثرات زمین پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا جیسے علاقوں میں خشک پیٹ لینڈز اور جنگلات میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے۔ اس سے انسانی صحت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ساحل اور مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پہلے سے کمزور ماحولیاتی نظام شدیدموسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ تاہم ہر آفت کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا درست نہیں؛ مقامی حالات، انسانی سرگرمیاں اور طویل مدتی عالمی حدت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبق پاکستان میں ال نینو کے اثرات خاص طور پر مون سون، پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ال نینو جنوبی ایشیا کے مون سون پر اثر انداز ہو تا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں بارشوں میں کمی ہو سکتی ہے تو کہیں مقامی موسمی نظام کے باعث شدید بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں آب پاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، زیرِ زمین پانی پر دباؤ پڑتا ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو تا ہے۔ان حالات میں بروقت موسمی پیشگوئی، پانی کا محتاط استعمال، فصلوں کی منصوبہ بندی اور کسانوں کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ موسمیاتی نگرانی کے نظام مضبوط کریں، خشک سالی اور سیلاب کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت کریں اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ طویل مدت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے۔سپر ال نینو ایک قدرتی رجحان ہے مگر اس کے ممکنہ نقصانات کا پیمانہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ انسان اور معاشرے اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بروقت سائنسی معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف ایک طاقتور موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا میں زمین کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ ٹرافلگر جنگِ ٹرافلگر یورپ کی بحری تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے میں فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ یورپ پر اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا تھا اور برطانیہ پر حملے کے امکانات بھی زیرِ غور تھے۔ اس مقصد کے لیے فرانسیسی اور ہسپانوی بحری بیڑوں کی مشترکہ طاقت اہم سمجھی جاتی تھی۔ 21 اکتوبر 1805ء کو برطانوی بحریہ کا مقابلہ فرانسیسی اور ہسپانوی بحری افواج سے ہوا۔ برطانوی بیڑے کی قیادت ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کر رہے تھے۔ انہوں نے روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر اپنے جہازوں کو دو کالموں میں آگے بڑھایا اور دشمن کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کو اس جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی لیکن نیلسن جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور بعد میں وفات پا گئے۔ تھامس ایڈیسن کا برقی بلب21 اکتوبر 1879ء کو امریکی موجد تھامس الوا ایڈیسن نے برقی روشنی کی ترقی میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ انیسویں صدی میں گھروں، دکانوں اور کارخانوں میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ اور گیس کے لیمپ عام تھے۔ ایڈیسن اور ان کی ٹیم ایک ایسا برقی بلب تیار کرنے پر کام کر رہے تھے جو مناسب مدت تک روشن رہ سکے۔ اس روز ان کی تجربہ گاہ میں کاربنائز کیے گئے دھاگے پر مشتمل ایک بلب کامیابی سے روشن ہوا اور کئی گھنٹوں تک جلتا رہا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایڈیسن برقی بلب کے پہلے موجد نہیں تھے؛ ان سے پہلے بھی مختلف موجد اس ٹیکنالوجی پر کام کر چکے تھے۔ تاہم ان کی کوششوں نے بلب کو زیادہ عملی اور تجارتی طور پر قابلِ استعمال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آچن پر اتحادیوں کا قبضہدوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں 21 اکتوبر 1944ء کو امریکی افواج نے جرمنی کے شہر آچن پر قبضہ مکمل کر لیا۔ آچن مغربی جرمنی میں واقع ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اتحادی افواج کی پیش قدمی کے لیے اہم تھا۔ جون 1944ء میں نارمنڈی کے ساحل پر اتحادی افواج کے اترنے کے بعد مغربی یورپ میں جرمن فوجوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ امریکی فوجیوں نے آچن کے دفاع کے لیے موجود جرمن دستوں کے خلاف شدید لڑائی لڑی۔ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد جرمن مزاحمت ختم ہوئی اور شہر اتحادیوں کے قبضے میں آ گیا۔ آچن مغربی محاذ پر اتحادی افواج کے ہاتھوں قبضہ کیا جانے والا پہلا بڑا جرمن شہر تھا۔ فرانس میں خواتین کا ووٹ 21 اکتوبر 1945ء فرانس کی جمہوری تاریخ میں خواتین کے سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک اہم دن تھا۔ اس روز فرانس میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے اور فرانسیسی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا۔ فرانس میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا قانونی فیصلہ اپریل 1944ء میں جنرل ڈیگال کی قیادت میں قائم عارضی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا۔ تاہم اس حق کا عملی استعمال جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد 1945ء میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس پیش رفت کے بعد فرانسیسی خواتین پارلیمانی سیاست اور عوامی زندگی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوئیں۔ ایبرفان کا المناک حادثہ21 اکتوبر 1966ء کو ویلز کے گاؤں ایبرفان میں ایک ایسا المناک حادثہ پیش آیا جس نے پورے برطانیہ کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا فضلہ اور مٹی ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کی جاتی تھی۔ مسلسل بارش کے باعث کان کے فضلے کا ایک بڑا حصہ غیر مستحکم ہو گیا اور اچانک ڈھلوان سے نیچے گاؤں کی طرف بہہ نکلا۔ مٹی اور کوئلے کے اس تودے نے راستے میں موجود عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پینٹگلاس جونیئر سکول بھی اس کی زد میں آ گیا۔ حادثے میں مجموعی طور پر 144 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 116 بچے شامل تھے۔ اس سانحے نے صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے، کان کنی کے ضوابط اور خطرات کی بروقت نشاندہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔