شیخ المشائخ امام ربانی مجددالف ثانی

شیخ المشائخ امام ربانی مجددالف ثانی

اسپیشل فیچر

تحریر : مختار احمد کھوکھر


حضرت مخدوم علامہ شیخ عبدالاحدؒ خواب دیکھتے ہیں کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔ سور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اسی اثناء میں ان کے سینے سے نور نکلا اور اس میں ایک تخت ظاہر ہوا۔جس پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کوذبح کیاجارہاہے، کوئی شخص بلند آواز میں کہہ رہا ہے،’’اور فرما دیجیے، حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ صبح حضرت شیخ شاہ کمال کیتھلی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر خواب بیان کرتے ہیں اور آپ سے تعبیر پوچھتے ہیں۔ آپؒ نے فرمایا ،تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دور ہوگی۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ تعبیر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی اور صرف آپ کے لختِ جگر حضرت مخدوم شیخ احمد سرہندی مجدّد الف ثانی ؒنے الحاد ، بدعت ، شرک اور کفر خاتمہ کیا۔ آپ کی ولادت باسعادت شہر سرہند کی پاک سرزمین پر شب جمعۃ المبارک 14 شوال 971ھ ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب 32 بتیسویں پشت پر حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے۔ اس کا اظہار آپ نے اپنے مکتوب شریف میں فرمایا ہے۔ آپ کا نام مبارک ’’احمد‘‘ رکھا گیا۔ آپ دسویں صدی کے واحد بزرگ ہیں کہ جن کے اِشارے احادیث نبویؐ میں بھی ملتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ بچپن میں نہایت سرخ و سپید تھے۔ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے اور بیماری اس قدر بڑھی کہ آپ نے ماں کا دودھ پینا چھوڑ دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگے۔ سب گھر والے آپ کی زندگی سے مایوس ہوکر مغموم اور پریشان ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ سے ایک عظیم کام لینا تھا، ابھی تو اس سورج کو نصف النہار پر چمکنا تھا۔ اس لیے حضرت خواجہ شاہ کمال کیتھلیؒ آپ کے گھر تشریف لائے، گھر والوں نے آپ کی آمد کو رحمت خداوندی کا باعث جانا اور حضرت کو اٹھاکر اسی حالت میں آپ کی گود میں ڈال دیا۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی زبانِ مبارک بچے کے منہ میں دے دی۔ آپ ؒنے اسے اچھی طرح چوسنا شروع کردیا۔ اس کے بعد حضرت شاہ کمال کیتھلی ؒنے فرمایا کہ ’’مطمئن رہو، اس بچے کی عمر بڑی ہوگی، اللہ تعالیٰ اس سے بہت کام لینا چاہتا ہے۔ میں آج اسے اپنا بیٹا بناتا ہوں۔ یہ میری طرح ہی ہوگا۔‘‘ اسی اثنا میں آپ کو مکمل صحت یابی حاصل ہوگئی۔ حضرت شاہ کمال ؒنے آپ کے والدِ ماجد کو آپ سے متعلق بہت سی بشارتیں دیں۔ آپ کو حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ اقدس رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا شوق مُدت سے دامن گیر تھا لیکن والد ماجد کی کبرسنی کے باعث یہ ارادہ ملتوی رکھا لیکن جب 27 جمادی الآخر 1007ھ بمطابق 1598ء میں اَسّی سال کی عمر مبارک میں والد ماجد واصل بحق ہوئے تو دوسرے سال آپ نے قصدِ حج فرمایا اور سرہند شریف سے روانہ ہوئے۔ جب دہلی پہنچے تو مولانا حسن کشمیری نے جو آپ کے دوستوں میں سے تھے حضرت خواجہ باقی باللہؒ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی تو آپ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا اور حضرت خواجہ خواجگان محمد باقی باللہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ خواجہ صاحب کی طبیعت مبارک بڑی غیور تھی۔ وہ خود کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں فرماتے تھے لیکن یہاں معاملہ برعکس تھا کیوں کہ طالب خود مطلوب اور مرید خودمُراد تھا یعنی حضرت خواجہ صاحب نے استخارے میں جس طوطی کو دیکھا تھا اور اس کی وجہ سے آپ نے ہندوستان کا سفر فرمایا تھا، اس وقت حضرت مجدّد کی صورت میں آپ کے سامنے موجود تھا۔ اسی لیے حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کا قول ہے کہ ’’ہم نے پیری مریدی نہیں کی بلکہ ہم تو کھیل کرتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ ہمارے کھیل اور دکان داری میں گھاٹا نہیں رہا، ہمیں شیخ احمد جیسا صاحبِ استعداد شخص مل گیا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ خود مرشد برحق نے بڑھ کر فرمایا کہ آپ کچھ عرصہ ہمارے پاس قیام فرمائیں۔ حضرت مجدّد بخوشی رضامند ہوگئے۔ حضرت مجدّدکی اعلیٰ فطری استعداد اور قوی النسبت مرشد کی خصوصی توجہ سے وہ روحانی احوال و مقامات جو برسوں کے مجاہدے سے حاصل ہوتے ہیں دنوں میں حاصل ہوگئے۔ روحانی منازل میں آپ کی استعداد دیکھ کر مرشد کو یقین ہوگیا کہ یہی وہ طوطی ہے کہ جس کی خوش نوائی سے ہندوستان کیا بلکہ پورے عالمِ اسلام میں تازہ بہار آئے گی۔ دسویں صدی ہجری کے اختتام کا ہندوستان بڑی تیزی سے ایک ہمہ پہلو دینی، تہذیبی اور ذہنی ارتداد کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس شیطانی تحریک کی پشت پر مضبوط ترین سلطنت ، فوجی طاقت اور اپنے وقت کے متعدد ذہین افراد کی علمی اور ذہنی کمک بھی موجود تھی۔ ان حالات میں اگر کوئی ذہنی، روحانی اور علمی میدان میں طاقت ور شخصیت راستہ روکنے کے لیے کھڑی نہ ہوتی تو اسلام کی حقیقت ختم ہوجاتی۔ ہندوستان کے اس وقت کے حالات کا اندازہ آپ کے ایک مکتوب سے ہوتا ہے جو آپ نے ایک مرید حضرت سیّد فرید بخاری جو دربارِ اکبری سے وابستہ تھے ،کے نام لکھا ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ’’عہد اکبری میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کفار غالب تھے اور اعلانیہ دار الاسلام میں کفر کے احکامات جاری کرتے تھے اور مسلمان اپنے دین پر عمل کرنے سے عاجز تھے۔ وہ اگر ایسا کرتے تو قتل کردیے جاتے‘‘۔ اس خط سے اکبر کی حکومت کے دور میں اسلام کی زبوں حالی کا نقشہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔ ہندوستان میں اسلامی معاشرے کی باگ ڈور ہمیشہ تین طبقوں کے ہاتھ رہی ہے، وہ اگر ہدایت پر رہے تو معاشرے میں تعمیر، ترقی ،نیکی اور بھلائی کو فروغ حاصل ہوا، وہ بگڑے تو پورے معاشرے میں فساد پھیل گیا ادارے یہ تھے۔ دار العلوم( مکاتب و مدارس)، خانقاہیںاور حکومت ۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ان تینوں اداروں یا طبقوں کی اصلاح فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں اسلامی تشخص بچانے کا کام حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندیؒ کی جامع کمالات شخصیت سے لیا۔ یہی آپ کا سب سے بڑا انقلابی کارنامہ ہے جو اس سے قبل کسی مجدّد نے نہیں کیا۔ تجدیدِ دین میں آپ کے طریقۂ کار کا تیسرا پہلو آپ کے مکتوبات شریف ہے جنہوں نے مشعل ِراہ کا کام دیا۔ جو شریعت و طریقت کے اِسرار و رموز کے جامع ہیں۔ ان کے ایک ایک لفظ سے اقامتِ دین، تعظیمِ شریعت، ترویجِ سنّت اور ردِ بدعت کے لیے آپ کی تڑپ اور دل سوزی ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کی تعلیمات اور مجدّدانہ طریقہ کار جاننے اور سمجھنے کے لیے مکتوبات شریف قابل اعتماد اور مستند ذریعہ ہیں۔آپ کی تجدیدِ دین کی مساعی کا پیغام نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ ہندوستان سے باہر بھی بلادِ اسلامیہ کے ایک ایک خطے میں پہنچا اور آپ کے خلفاء کرام مختلف ممالک گئے اور آپ کی دعوت عام کی۔ آپ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ اصلاحِ معاشرہ اور تجدیدِ دین کی کوئی کوشش اس وقت تک پوری طرح کام یاب نہیں ہوسکتی جب تک معاشرے کے سب سے زیادہ طاقت ور ادارے یعنی نظام حکومت کی اصلاح نہ ہو۔ اس سلسلے میں آپ کی مساعی جمیلہ انتہائی انقلاب آفریں ہے۔ 1012ھ میں جب آپ نے دعوت و اصلاح کا کام شروع کیا اس وقت مغل بادشاہ اکبر کا دورِ حکومت تھا ،جس کی بے دینی اور اسلام دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ اس کے درباری علمائے سوء نے اسے دینِ الٰہی کے نام سے نیا مذہب گھڑ دیا تھا کہ جو سراسر گمراہی کی طرف لے جاتا تھا۔ دینِ الٰہی یا دینِ اکبری کی بنیاد اسلام دشمنی پر تھی، جس کے پیروکار نبوت، وحی،روزِ حشر ، جنت اور دوزخ کا مذاق اڑاتے تھے، قرآن کااللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا مشکوک گردانتے تھے۔ زندگی بعد موت ناممکن اور عقیدہ تناسخ کو عین ممکن سمجھا جانے لگا۔ کلمۂ توحید کو بدل کر ’محمد رسول اللہ‘ (صلّی اللہ علیہ وسلم) کی جگہ ’اکبر خلیفۃ اللہ‘ تجویز کیا گیا۔ اس دین کو قبول کرنے کے لیے دینِ اسلام سے توبہ ضروری تھی۔ سجدۂ تعظیمی کو جائز قرار دیا گیا۔ اسلام کی ضد میں سود، جوا اور شراب نوشی جیسے قبیح افعال حلال قرار پائے اور خنزیر کو مقدس سمجھا جانے لگا۔ گائے کا گوشت حرام قرار پایا۔ مردوں کو دفنانے کے بجائے جلادیا جاتا یا پانی میں بہا دیا جاتا۔ چچازاد اور ماموں زاد سے نکاح ممنوع ، ایک سے زیادہ بیویاں نکاح میں رکھنا قابلِ تعزیر جرم ٹھہرا۔ آتش پرستی اور سورج کی پرستش جائز قرار پائی یعنی یہ دین سراسر اسلام اور مسلمانوںکے خلاف تھا۔ حضرت مجدّد الف ثانیؒ اس بات سے آگاہ تھے کہ دربارِ اکبری میں بعض بااثر حضرات دینِ الٰہی کے خلاف اور اکبر کی غیر اسلامی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان میں بعض تو حضرت خواجہ باقی باللہؒ کے حلقہ بگوش بھی تھے۔ آپ نے ان افراد کو نظامِ حکومت کی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ اکبر کے انتقال کے بعد جہانگیر کی تخت نشینی کے وقت آپ نے ان افراد سے کام لیا۔ ان افراد نے جہانگیر کی تاج پوشی سے پہلے اس سے عہد لیا کہ حدود ِسلطنت میں شراب اور نشہ آور چیزیں تیار اور فروخت نہ کی جائیں۔ کسی بھی جرم میں آدمی کی ناک اور کان نہ کاٹے جائیں، کوئی سرکاری عہدے دار معاوضہ ادا کیے بغیر رعایا کے کسی مکان میں رہائش اختیار نہ کرے، ہر بڑے شہر میں شفاء خانے بنائے جائیںاور ان کے علاوہ بھی شقیں تھیں۔یہ بارہ نکاتی فارمولا تھاجسے منظورکرایاگیاتھا۔ حضرت مجدّد نے حکومت کے اس دین دار طبقے سے رابطہ بحال رکھا اور مختلف مواقع پر خطوط ارسال فرماتے رہے جو مکتوبات شریف میں موجود ہیں۔ جہانگیر کی طبیعت میں اسلام سے عداوت کے بجائے اس سے خوش عقیدگی کا رجحان تھا۔ اس لیے حضرت مجدد الف ثانی ؒکے حلقے سے تعلق رکھنے والے محبِ اسلام امراء کے بروقت نیک، مفید مشورے بڑی حد تک کارگر ثابت ہوئے اور حکومت کا رُخ اسلام دشمنی سے ہٹ گیا لیکن آپ مسلم حکومت کو اسلام کا مکمل خادم بنانا چاہتے تھے۔ اس کا موقع آپ کو 1028ھ میں مل گیا کیوں کہ اس وقت آپ شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ خواص و عوام کا رجوع آپ کی طرف تھا۔ کچھ آپ کی شہرت اور کچھ امراء کی سرگوشیوں نے جہانگیر کو وہم میں مبتلا کردیا اور اس نے آپ کو دربارِ شاہی میں طلب کرلیا۔ آپ دربارِ شاہی تشریف لے گئے اور مسنونہ طریقے پر السلام علیکم کہا اور تشریف فرما ہوگئے۔ جہانگیر کو بداندیشوں نے بہکایا کہ انہوں نے آداب شاہی ادا نہیں کیے۔جہانگیر نے آپ کو آداب شاہی کے مطابق سجدہ ٔ تعظیمی کا حکم دیا لیکن آپ نے ببانگ دہل فرمایا ،میں نے خدائے واحد کے سوا کسی کو سجدہ کیا ہے اور نہ کروں گا۔ آپ کے اسی عمل پر علامہ اقبال نے آپ کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ہے کہ گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگےجس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیء احرار جہانگیر کو آپ کی یہ بات پسند نہ آئی اور آپ کو قلعہ گوالیار کی جیل میں بھیج دیا۔ آپ نے وہاں پر ہزاروں غیر مسلم قیدیوں کو فیض ِمحمدی کا جام پلایا جو آپ کی تربیت اور نظر کیمیا کے اثر سے مسلمان ہوگئے۔ آپ نے ایک سال اسیری کے ایام کاٹے۔ اس دوران جہانگیر کو نبی پاک صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپؐ نے ارشاد فرمایا، جہانگیر تم نے کتنے بڑے شخص کو قید میں ڈال دیا ہے۔ بیداری کے بعد اس نے فوراً آپ کی رہائی کے احکامات جاری کردیے ۔ آپ رہا ہوکر بادشاہ کے ساتھ ہی رہے اوربادشاہ ولشکریوں کی اصلاح فرمائی۔ جہانگیر نے توبہ کی اور آپ کے دست حق پرست پر بیعت فرمائی ۔اس طرح آپ نے شعار اسلام کو بادشاہ کے ذریعہ زندہ کردیا۔ آپ نے علوم ِشرعیہ کی ترویج و اشاعت کے لیے درس و تدریس کا جو سلسلہ قائم فرمایا وہ اب تک برصغیر میں قائم و دائم ہے اور محبتِ الٰہی و عشق ِرسولؐ کی چنگاریاں روشن کرنے میں مصروف ہے۔ یہی تاریخ ساز کارنامہ آپ کو مجدد الف ثانیؒ بنانے کا باعث بنا اور یہ لقب بارگاہ الٰہی میں قبول ہوا۔ سب سے پہلے حضرت مولانا عبدالحکیم سیالکوٹیؒ نے آپ کو اس لقب سے یاد کیا ۔مکتوبات شریف میں آپ نے خود بھی اپنے لیے مجدد الف ثانی کا لقب تحریر کیا۔ 12 محرم الحرام1034ھ کو آپ نے فرمایا ’’مجھے بتایا گیا ہے پینتالیس دن کے اندر تمہیں اس دنیا سے دوسری دنیا کا سفر کرایا جائے گا اور مجھے قبر کی جگہ بھی دکھائی گئی ہے۔‘‘ آپ شدید بیمار تھے۔ اسی شدید بیماری کی حالت میں اٹھ کر وضو کیا، کھڑے ہوکر تہجد کی نماز پڑھی، پھر فرمایا یہ ہماری تہجد کی آخری نماز ہے۔ 28 صفرالمظفر کو چاشت کے وقت استنجا کرنے کے لیے طشت منگوایا، اس میں ریت نہ تھی، چھینٹوں کے خیال سے واپس کردیا اور فرمایا میں اپنا وضو توڑنا نہیں چاہتا، مجھے بستر پر لٹادو۔ آپ کو لٹادیا گیا۔ آپ مسنون طریقے کے مطابق اپنے دائیں رخسار کے نیچے دایاں ہاتھ رکھ کر ذکراللہ میں مشغول ہوگئے اور اسی حالت میں اس باکمال عاشق کی روح جسدِ اقدس سے پرواز کرکے جلوہ ٔ احدیت میں واصل ہوئی، بعد از وصال بھی آپ کے چہرۂ مبارک پر نورانی مسکراہٹ رہی، سرہند شریف میں آپ کا مزار پُراَنوار مرجع خلائق ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

دنیا کے وہ شہر جو فاصلے میں دور مگرایک ہی لائن(عرض بلد) پر واقع ہیںدنیا کے مختلف شہر اگرچہ اپنی ثقافت، موسم اور طرزِ زندگی میں ایک دوسرے سے بہت مختلف نظر آتے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ شہر جغرافیائی طور پر ایک ہی عرضِ بلد (Latitude) پر واقع ہوتے ہیں۔ جدید نقشہ جات اور سا ئنسی تحقیق یہ دلچسپ حقیقت سامنے لائی ہے کہ بظاہر دور دکھائی دینے والے شہر دراصل زمین کے ایک ہی فرضی خط پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر نیویارک اور میڈرڈ جیسے بڑے شہر ایک ہی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جس سے ان کے موسم اور دن رات کے اوقات میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ انکشاف جغرافیہ اور انسانی رہائش کے درمیان تعلق کو سمجھنے کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے آبائی شہر کو نقشے پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کے کونسے شہر اسی عرضِ بلد پر واقع ہیں؟ ایک نیا انٹر ایکٹونقشہ: (vicnaum.github.io/parallel-cities) یہ دلچسپ امکان فراہم کرتا ہے کہ آپ دیکھ سکیں کہ دنیا بھر میں آپ کے شہر کے برابر کون کونسے مقامات موجود ہیں۔اس نقشے کے مطابق لاہور، شنگھائی اور قاہرہ31° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جبکہ کراچی اور تائیوان کا دارالحکومت تے پائی 25.1° شمالی عرضِ بلد پر ایک ہی خط میں آتے ہیں۔اسی طرح نیویارک اور میڈرڈ 40.9° شمالی عرضِ بلد پر موجود ہیں، جن کے ساتھ نیپلز، استنبول اور بیجنگ بھی اسی لائن میں شامل ہیں۔جنوبی نصف کرے میں بوئنوس آئرس اور پرتھ 32.2° جنوبی عرضِ بلد پر ایک دوسرے کے متوازی واقع ہیں۔یہ نقشہ ایک ایکس صارف(@vicnaum) کی تخلیق ہے جن کا کہنا ہے کہ ا س سادہ ویب سائٹ کے ذریعے لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے شہر ایک ہی متوازی خط پر ہیں، اور ساتھ ہی دوسرے نصف کرے میں اس کا عکس بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آپ ان مقامات پر تقریباً یکساں سورج کی روشنی کے اوقات کی توقع کر سکتے ہیں (یعنی دن اور رات کی لمبائی میں مشابہت)۔ اس نقشے کو آزمانے والے صارفین نے اپنی دلچسپ آرا آن لائن شیئر کی ہیں۔ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ انہیں انٹارکٹیکا جتنی ہی سورج کی روشنی ملتی ہے۔ایک صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اورلینڈو اور دہلی ایک ہی عرضِ بلد پر ہیں۔ ایک اور شخص نے لکھا کہ جب آپ شکاگو میں سردی سے کانپ رہے ہوں تو یاد رکھیں کہ یہ میڈرڈ کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔ دیگر متوازی مقامات میں لندن اور کینیڈا کا شہر سسکاٹون شامل ہیں، دونوں 52.1° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں۔ اسی طرح اینڈورا ، شکاگو کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو آسٹریلوی شہر ایلس اسپرنگز کے متوازی ہے۔ایک ہی عرضِ بلد پر واقع مقامات پر عموماً دن یکساں طوالت کے ہوتے ہیں تاہم ان مقامات پر سورج طلوع اور غروب ایک ہی وقت پر نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں لازمی طور پر سورج کی ایک جیسی روشنی ملتی ہے کیونکہ اس کا انحصار موسمی حالات پر بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر جیسے جیسے آپ خطِ استوا سے دور جاتے ہیں دن اور رات کے اوقات میں موسمی تبدیلیاں زیادہ واضح اور شدید ہوتی جاتی ہیں۔ اسی طرح سورج کے طلوع اور غروب کا اصل وقت اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ کوئی جگہ مشرق یا مغرب میں کتنی دور ہے۔دوسری جانب ماہرین نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ Mercator Projection جو دنیا بھر میں عام طور پر تجارتی اور تعلیمی نقشوں کیلئے استعمال ہوتا ہے، دراصل زمین کی اصل جسامت کو درست انداز میں ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس میں کافی بگاڑ پایا جاتا ہے۔اس نقشے میں شمالی امریکہ اور روس کو افریقہ کے برابر یا اس سے بڑا دکھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں افریقہ شمالی امریکہ سے تقریباً تین گنا بڑا ہے اور روس سے بھی کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔ برطانوی سائنسدانوں کا نیا نقشہ دکھاتا ہے کہ کئی ممالک جن میں روس، کینیڈا اور گرین لینڈ شامل ہیں حقیقت میں اس قدر بڑے نہیں جتنے عام طور پر محسوس ہوتے ہیں۔گزشتہ سال افریقی ممالک نے مطالبہ کیا کہ دنیا کے بگڑے ہوئے نقشے کو دوبارہ بنایا جائے تاکہ براعظم افریقہ کا اصل حجم درست طور پر ظاہر ہو سکے۔ افریقن یونین نے اس مہم کی حمایت کی ہے جس کا مقصد حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے 16ویں صدی کے Mercator Projection کے استعمال کو ختم کرنا ہے اور اس کی جگہ ایسا نقشہ اپنانا ہے جو افریقہ کے اصل سائز کو زیادہ درست انداز میں دکھا سکے۔ 55 ممالک پر مشتمل اس بلاک نے اس نقشے پر اعتراض کیا ہے کہ یہ براعظموں کے سائز کو غلط پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ نقشہ قطبین کے قریب علاقوں، جیسے شمالی امریکہ اور گرین لینڈ کو غیر حقیقی طور پر بڑا دکھاتا ہے جبکہ افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے بڑے براعظموں کو نسبتاً چھوٹا ظاہر کرتا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ بگاڑ افریقہ کے اصل حجم اور اہمیت کو کم کرتا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ کو غیر متناسب طور پر بڑا دکھا کر ان کی وسعت کو حقیقت سے زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تصورات میڈیا، تعلیم اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مہم چلانے والوں کے مطابق نقشے میں افریقہ کا کم دکھایا جانا اس کے جغرافیائی اور معاشی کردار کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے، جو عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

دنیا بھر میں ہر سال 25 مئی کو ‘‘ٹاول ڈے'' منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ دن ایک عام تولیے سے منسوب محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ادب، مزاح، سائنس فکشن اور تخلیقی سوچ کی ایک دلچسپ داستان موجود ہے۔ یہ دن معروف برطانوی مصنف Douglas Adams کے مداحوں کی جانب سے ان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ڈگلس ایڈمز نے اپنی مشہور تصنیف '' The Hitchhikers Guide To The Galaxy‘‘ کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور لاکھوں قارئین کو اپنے منفرد اندازِ تحریر سے متاثر کیا۔ٹاول ڈے کی ابتدا 2001ء میں ہوئی، جب ڈگلس ایڈمز اچانک دل کا دورہ پڑنے سے 49برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے مداحوں نے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا اور فیصلہ کیا کہ ہر سال 25 مئی کو لوگ اپنے ساتھ تولیہ رکھ کر ان کی یاد تازہ کریں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ روایت دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہوگئی اور آج سوشل میڈیا، ادبی حلقوں اور سائنس فکشن کے شائقین میں بھرپور جوش و خروش سے منائی جاتی ہے۔ڈگلس ایڈمز کے ناول میں تولیہ ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کائنات میں سفر کرنے والے شخص کیلئے تولیہ سب سے کارآمد چیز ہے۔ یہ نہ صرف روزمرہ استعمال میں آتا ہے بلکہ مشکل حالات میں مددگار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تصور نے تولیے کو محض ایک عام کپڑے سے بڑھا کر ذہانت، تیاری اور مزاح کی علامت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاول ڈے پر لوگ اپنے کندھوں یا گردن پر تولیہ ڈال کر گھومتے ہیں اور اس ادبی روایت سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔''ٹاول ڈے‘‘ صرف ایک ادبی دن نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مطالعے کے شوق اور فنونِ لطیفہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات میں کھو چکی ہے، ایسے مواقع انہیں کتابوں کی دنیا کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ڈگلس ایڈمز کی تحریروں میں مزاح کے ساتھ ساتھ فلسفہ، سائنس اور انسانی رویوں پر گہری سوچ بھی پائی جاتی ہے، جو قاری کو تفریح کے ساتھ علم بھی فراہم کرتی ہے۔اس دن مختلف ممالک میں تقریبات، ادبی نشستیں، کتابوں کی نمائشیں اور آن لائن مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ ڈگلس ایڈمز کی کتابوں سے اقتباسات شیئر کرتے ہیں، ان کے مشہور جملوں کو یاد کرتے ہیں اور سائنس فکشن ادب پر گفتگو کرتے ہیں۔ بعض تعلیمی ادارے طلبہ کو مطالعے کی اہمیت سمجھانے کیلئے بھی اس دن کو استعمال کرتے ہیں۔ یوں ''ٹاول ڈے‘‘ ادب اور تعلیم دونوں کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔ٹاول ڈے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بظاہر چھوٹی اور سادہ چیزیں بھی بڑی معنویت رکھ سکتی ہیں۔ ایک عام تولیہ جو روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتا ہے، ادب کے ذریعے عالمی ثقافتی علامت بن گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تخلیقی سوچ انسان کو عام چیزوں میں بھی غیر معمولی معنی تلاش کرنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نوجوان نسل اب سائنس فکشن ادب کی طرف دلچسپی لینے لگی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں اس صنف کو ماضی میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور عالمی ادب تک آسان رسائی نے نوجوانوں میں نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ ٹاول ڈے جیسے عالمی دن نوجوانوں کو مطالعے، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں، جو ایک مثبت رجحان ہے۔ڈگلس ایڈمز کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی سوچ کو وسیع کرنے کا طاقتور وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے اپنے مزاحیہ انداز میں انسانی کمزوریوں، سماجی رویوں اور کائناتی تصورات کو اس مہارت سے بیان کیا کہ قاری ہنستے ہوئے بھی گہری بات سمجھ لیتا ہے۔ یہی کامیاب ادب کی پہچان ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ''ٹاول ڈے‘‘ محض ایک تفریحی یا غیر رسمی دن نہیں بلکہ ادب، تخلیقی صلاحیت اور علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک منفرد روایت ہے۔ یہ دن ہمیں کتابوں سے محبت اور علم کی قدر کا احساس دلاتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ادبی اور ثقافتی مواقع کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

دھوبی

دھوبی

علی گڑھ میں نوکرکوآقا ہی نہیں ''آقائے نامدار‘‘ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جو آج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ! اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ نوکرکا کیا درجہ ہے۔ پھرایسے آقا کا کیا کہنا ''جو سپید پوش‘‘ واقع ہو۔ سپید پوش کا ایک لطیفہ بھی سن لیجئے۔ آپ سے دور اور میری آپ کی جان سے بھی دور ایک زمانے میں پولیس کا بڑا دور دورہ تھا اسی زمانہ میں پولیس نے ایک شخص کا بدمعاشی میں چالان کر دیا کلکٹر صاحب کے یہاں مقدمہ پیش ہوا۔ ملزم حاضر ہوا تو کلکٹر صاحب دنگ رہ گئے۔ نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے صورت شکل سے مرد معقول بات چیت نہایت نستعلیق کلکٹر صاحب نے تعجب سے پیشکار سے دریافت کیا کہ اس شخص کا بدمعاشی میں کیسے چالان کیا گیا دیکھنے میں تو یہ بالکل بدمعاش نہیں معلوم ہوتا! پیشکار نے جواب دیا حضور! تامل نہ فرمائیں یہ سفید پوش بدمعاش ہے!‘‘ لیکن میں نے یہاں سفید پوش کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں نے آج تک کسی دھوبی کو میلے کپڑے پہنے نہیں دیکھا۔ اور نہ اس کو خود اپنے کپڑے پہنے دیکھا۔ البتہ اپنا کپڑا پہنے ہوئے اکثر دیکھا ہے بعضوں کو اس پر غصہ آیا ہوگا کہ ان کا کپڑا دھوبی پہنے ہو۔ کچھ اس پر بھی جز بز ہوئے ہوں گے کہ خود ان کو دھوبی کے کپڑے پہننے کا موقع نہ ملا۔ میں اپنے کپڑے دھوبی کو پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ کہ دیکھئے زمانہ ایسا آگیا کہ یہ غریب میرے کپڑے پہننے پر اتر آیا گو اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اپنی قمیص دھوبی کو پہنے دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں افتخار بھی محسوس کیا ہے۔ اپنی طرف سے نہیں تو قمیص کی طرف سے۔ اس لیے کہ میرے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس قمیص کو پہنے دیکھ کر مجھے در پردہ کسی نے اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو گا۔ ممکن ہے خود قمیص نے بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو۔دھوبی کپڑے چراتے ہیں بیچتے ہیں کرائے پر چلاتے ہیں، گم کرتے ہیں، کپڑے کی شکل مسخ کردیتے ہیں، پھاڑ ڈالتے ہیں یہ سب میں مانتا ہوں اور آپ بھی مانتے ہوں گے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے آپ کے کپڑے اکثر ایسی حالت میں اترتے ہیں کہ دھوبی کیا کوئی دیوتا بھی دھوئے تو ان کو کپڑے کی ہیئت و حیثیت میں واپس نہیں کرسکتا۔ مثلاً غریب دھوبی نے ہمارے آپ کے ان کپڑوں کو پانی میں ڈالا ہو میل پانی میں مل گیا اللہ اللہ خیر سلا جیسے خاک کا پتلا خاک میں مل جاتا ہے خاک خاک میں آگ آگ میں پانی پانی میں اور ہوا ہوا میں۔ البتہ ان کپڑے پہننے والوں کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے کپڑے کو تو اپنی شخصیت میں جذب کر لیا اور شخصیت کو کثافت میں منتقل کر دیا۔ مثلاً لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی! اور یہی کثافت ہم دنیا داروں کو قمیص، پگڑی اور شلوار میں نظر آتی ہو۔ یہ بات میں نے کچھ یوں ہی نہیں کہہ دی ہے۔ اونچے قسم کے فلسفے میں آیا ہے کہ عرض بغیر جوہر کے قائم رہ سکتا ہے اور نہ بھی آیا ہو تو فلسفیوں کو دیکھتے یہ بات کبھی نہ کبھی ماننی پڑے گی۔دھوبی کے ساتھ ذہن میں اوربہت سی باتیں آتی ہیں مثلاً گدھا، رسی، ڈنڈا، دھوبی کا کتا، دھوبن (میری مراد پرند سے ہے) استری (اس سے بھی میری مراد وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں) میلے ثابت پھٹے پرانے کپڑے وغیرہ۔ ممکن ہے آپ کی جیب میں بھولے سے کوئی ایسا خط رہ گیا ہو جس کو آپ سینے سے لگا رکھتے ہوں لیکن کسی شریف آدمی کو نہ دکھا سکتے ہوں اور دھوبی نے اسے دھو پچھاڑ کر آپ کا آنسو خشک کرنے کیلئے بلاٹنگ پیپر بنا دیا ہو یا کوئی یونانی نسخہ آپ جیب میں رکھ کر بھول گئے ہوں اوردھوبی اسے بالکل ''صاف نمودہ‘‘ کر کے لایا ہو۔لڑائی کے زمانے میں جہاں اور بہت سی دشواریاں ہیں۔ وہاں یہ آفت بھی کم نہیں کہ بچے کپڑے پھاڑتے ہیں عورتیں کپڑے سمیٹتی ہیں۔ دھوبی کپڑے چراتے ہیں دوکاندار قیمتیں بڑھاتے ہیں اور ہم سب کے دام بھگتے ہیں۔ لڑائی کے بعد زندگی کی ازسر نو تنظیم ہو یا نہ ہو کوئی تدبیرایسی نکالنی پڑے گی کہ کپڑے اوردھوبی کی مصیبتوں سے نوع انسانی کو کلیتہً نجات نہ بھی ملے تو بہت کچھ سہولت میسر آ جائے۔کپڑے کا مصرف پھاڑنے کے علاوہ حفاظت، نمائش اور ستر پوشی ہے میراخیال ہے کہ یہ باتیں اتنی حقیقی نہیں ہیں جتنی ذہنی یا رسمی۔ سردی سے بچنے کی ترکیب تویونانی اطبا اور ہندوستانی سادھو جانتے ہیں ایک کشتہ کھاتا ہے دوسرا جسم پر مل لیتا ہے۔ نمائش میں ستر پوشی اور ستر نمائی دونوں شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ستر کے رقبہ پر کنٹرول عائد کر دیا جائے تو کپڑا یقیناً کم خرچ ہو گا اور دیکھ بھال میں بھی سہولت ہو گی۔ جنگ کے دوران میں یہ مراحل طے ہو جاتے تو صلح کا زمانہ عافیت سے گزرتا۔لیکن اگرایسا نہ ہو سکے تو پھردنیا کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تمام سائنس دانوں اور کاریگروں کو جمع کر کے قوم کی اس مصیبت کو ان کے سامنے پیش کریں کہ آئندہ سے لباس کے بجائے ''انٹی دھوبی ٹینک‘‘ کیوں کر بنائے اوراوڑھے پہنے جا سکتے ہیں۔ اگریہ ناممکن ہے اوردھوبیوں کے پھاڑنے پچھاڑنے اور چرانے کے پیدائشی حقوق مجروح ہونے کا اندیشہ ہو جس کو دنیا کی خدا ترس حکومتیں گوارا نہیں کر سکتیں یا بعض بین الاقوامی پیچیدگیوں کے پیش آنے کا اندیشہ ہے تو پھر رائے عامہ کو ایسی تربیت دی جائے کہ لباس پہننا ہی یک قلم موقوف کر دیا جائے۔ اورتمام دھوبیوں کو کپڑا دھونے کے بجائے بین الاقوامی معاہدوں اورہندوستان کی تاریخوں کودھونے پچھاڑنے اور پھاڑنے پرمامورکردیا جائے۔

حکایات سعدی:اپنے آپ پر بھروسہ کرو

حکایات سعدی:اپنے آپ پر بھروسہ کرو

کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا کہ پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا۔کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ حقیقتاً ایسا ہی ہوا اور باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا کہ میں اس دن پھل توڑنے نہ آ سکا کیونکہ میرے دوست وعدے کے باوجود نہ آئے لیکن میرے دوبارہ کہنے پر انہوں نے پکا وعدہ کیا ہے کہ کل وہ ضرور آئیں گے اور پھل توڑنے باغ میں جائیں گے۔کبوتر نے یہ بات بچوں کی زبانی سن کر کہا کہ گھبراؤ نہیں، باغ کا مالک اب بھی پھل توڑنے نہیں آئے گا۔ یہ کل بھی گزر جائے گی۔ اسی طرح دوسرا روز بھی گزر گیا اور باغ کا مالک اور اس کے دوست باغ نہ آئے۔ آخر ایک روز باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ پھر باغ میں آیا اور بولا: میرے دوست تو بس نام کے ہمدرد ہیں۔ ہر بار وعدہ کرکے بھی ٹال مٹول کرتے ہیں اور نہیں آتے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنا کام میں خود کروں گا اور کل باغ سے پھل توڑوں گا۔کبوتر نے یہ بات سن کر پریشانی سے کہا بچو! اب ہمیں اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔ باغ کا مالک کل یہاں ضرور آئے گا کیونکہ اس نے دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔حاصل کلام: دوسروں پر بھروسہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اپنا کام خود کرنا چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!جعفر طاہر:اردو کے ممتاز شاعر  (1977-1917ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جعفر طاہر:اردو کے ممتاز شاعر (1977-1917ء)

٭...29 مارچ 1917ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام سید جعفر علی شاہ تھا۔٭...ابتدائی تعلیم علاقائی اسکول میں حاصل کی ، پرائیویٹ بی اے کیا اور فوج میں بھرتی ہوگئے۔٭... 1966ء میں فوج کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستگی اختیار کی اور اپنی وفات تک یہ تعلق برقرار رکھا۔٭...جعفر طاہر کے شعری مجموعے ''ہفت کشور، ہفت آسمان اور سلسبیل‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ ٭...جعفر طاہر کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے غزل کو روایتی دائرے سے نکال کر تازگی بخشی اور اس صنف سخن کو تخلیق کے نئے آہنگ کے ساتھ وسعت عطا کی۔٭...جعفر طاہر کی غزلوں کے موضوعات اور ان کا اسلوب بھی اپنی انفرادیت کے سبب انھیں تخلیقی وفور سے مالا مال اور ثروت مند ظاہر کرتا ہے۔٭...انہوں نے غزلوں کے علاوہ نظمیں بھی کہیں، ساتھ ہی انہوں نے ایک نئی صنف 'کینٹو‘(Canto) کو متعارف کرایا۔٭... ان کے 'کینٹو‘ کا پہلا مجموعہ ''ہفت کشور‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کیلئے انہیں آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ٭... 25 مئی 1977ء کو راولپنڈی میں وفات پائی۔اردو کے اس ممتاز شاعر کو جھنگ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔چند اشعاراے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلادیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا٭٭٭٭٭٭آپس کی گفتگو میں بھی کٹنے لگی زباںاب دوستوں سے ترک ملاقات چاہئے٭٭٭٭٭٭اک عمر بھٹکتے ہوئے گزری ہے جنوں میںاب کون فریب نگہ یار میں آئے٭٭٭٭٭٭طاہر خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیں٭٭٭٭٭٭اٹھی تھی پہلی بار جدھر چشم آرزووہ لوگ پھر ملے نہ وہ بستی نظر پڑی٭٭٭٭٭٭عرصہ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹے٭٭٭٭٭٭اے زلف خم بہ خم تجھے اپنا ہی واسطہہموار ہونے پائے نہ عمر رواں کی راہ٭٭٭٭٭٭ناز ہر بت کے اٹھا پائے نہ جعفر طاہرچوم کر چھوڑ دیے ہم نے یہ بھاری پتھر٭٭٭٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

اسلحہ ڈپو میں دھماکہ25 مئی 1865ء کو امریکی ریاست الاباما میں ایک اسلحہ گودام کے خوفناک دھماکے کے نتیجے میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ امریکی خانہ جنگی کے اختتامی دنوں میں پیش آیا اور اسے اُس دور کے بدترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور دور دور تک آگ پھیل گئی۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ کارلو کی لڑائی25مئی 1798ء کو آئر لینڈ کے شہر کارلو میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب کارلو باغی 1798 ء کی بغاوت کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بغاوت کائونٹی کلڈیرے میں ایک دن پہلے شروع ہوئی تھی۔ کارلو میں یونائیٹڈ آئرش مین آرگنائزیشن کی قیادت ایک نوجوان کر رہا تھا جس کا نام مک ہیڈن تھا۔ اس نوجوان کو پچھلے رہنما پیٹر آئورز کی گرفتاری کے بعد قیادت دی گئی تھی۔ سابق رہنما کو مارچ میں اولیور بانڈ کے گھر سے متحدہ آئرلینڈ کے کئی دیگر سرکردہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔انقلاب مئی''انقلاب مئی‘‘ ریو ڈی لا پلاٹا کے وائسرائیلٹی کے دارالحکومت بیونس آئرس میں 18 سے 25مئی 1810ء تک ہونے والے واقعات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اس ہسپانوی کالونی میں تقریباً موجودہ ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، یوراگوئے اور برازیل کے کچھ حصے شامل تھے۔ نتیجتاً 25 مئی کو وائسرائے بالتاسر ہائیڈالگو ڈی سیسنیروس کی برطرفی ہوئی اورنئی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اسے وہاں سے نکال دیا گیا اور اس کی حکومت کو صرف ان علاقوں تک محدود کر دیا گیاجو ارجنٹائن سے تعلق رکھتے تھے۔ایکسپلورر32کی لانچنگ''ایکسپلورر32‘‘کو 25مئی 1966ء کو ڈیلٹا سی1وہیکل کیپ کینورل کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ لانچ کئے جانے والے پانچ ایکسپلوررز میں سے ایک تھااور اس کا نمبر دوسرا تھا۔ اس سے پہلے '' ایکسپلورر17‘‘ کو لانچ کیا گیا تھا۔ اگرچہ اسے خرابی کی وجہ سے توقع سے زیادہ مدار کے قریب رکھا گیا تھا۔ اپنی لانچ وہیکل پر دوسرے مرحلے میں، ایکسپلورر 32 نے ناکام ہونے سے پہلے دس ماہ تک ڈیٹا بھیجا۔''دی اوپرا ونفرے شو‘‘ کا اختتام25مئی2011ء کو معروف امریکی میزبان اور میڈیا شخصیت اوپرا ونفری نے اپنے مشہور پروگرام ''دی اوپرا ونفری شو‘‘کی آخری قسط نشر کی، جس کے ساتھ ہی 25 سالہ کامیاب سفر اختتام پذیر ہوا۔ یہ پروگرام دنیا کے مقبول ترین ٹاک شوز میں شمار کیا جاتا تھا اور اس نے لاکھوں ناظرین کے دل جیتے۔ اوپرا ونفری نے اپنے منفرد انداز، سماجی موضوعات اور متاثر کن انٹرویوز کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ آخری پروگرام کے موقع پر جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور مداحوں نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔چائنہ فضائی حادثہ2002ء میں آج کے روز چائنہ ایئر لائنز کی پرواز 611 فضا میں ہی ٹکڑوں میں بکھر گئی اور آبنائے تائیوان میں جا گری، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 225 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ ایشیا کی بدترین فضائی تباہیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارے کے ڈھانچے میں پرانی خرابی اور ناقص مرمت اس سانحے کی بڑی وجہ بنی۔ اس المناک واقعے نے عالمی فضائی صنعت کو حفاظتی معیارات مزید سخت کرنے اور جہازوں کی بروقت جانچ کی اہمیت کا احساس دلایا۔