فضیلت شب ولادت النبی ہؐ
اسپیشل فیچر
نسبت ایک عظیم حقیقت ،ایک محکم اساس اور مضبوط ستون ہے۔اسلام ، اسلامی معاشرہ اور اسلامی تہذیب وتمدن کی عمارت کی مضبوطی میں نسبت کا بڑا عمل دخل ہے۔ اسلامی معاشرے کا قیام،استحکام اور بقاء بھی نِسبتوں کی فضیلت اورپاس داری پر موقوف ہے۔نسبت کی اہمیت اور فضیلت کیا ہے۔تمام کپڑے دھاگے سے تیار ہوتے ہیں اورکپڑوں کو کوئی فی نفسہٖ کوئی مقام حاصل نہیں لیکن اگرکسی کپڑے سے قرآن پاک اور کعبۃ اللہ کا غلاف بنایا جائے تو اُس کا مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمام ایّام اورراتیں برابرہیں لیکن جِس دن اور رات کواللہ تعالیٰ کے محبوب اور مُحسن کائنات حضرت محمد مصطفیؐ کی آمدوبعثت کی نسبت حاصل ہے ،اس کی عظمت وفضیلت باقی ایام سے کہیں بڑھ کرہے۔نسبتوں کی پاس داری کرنے کاسبق قرآن کریم اوراحادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر ملتاہے۔اللہ تعالیٰ نے نبیوں ، رسولوں، ولیّوں اور بزرگوں کے ادب واحترام کی تعلیم دی ہے اور ان سے نسبت رکھنے والے مکان وزَمان اوراشیاء کا مقام ومرتبہ بُلند فرمایاہے۔اللہ تعالیٰ نے حضور سیّد عالمؐ کی ولادت اور اقامت والے شہر مکّہ مکّرمہ کی قسم فرمائی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے’’میں اس شہر(مکّہ) کی قسم کھاتاہوں(اے حبیب مکرمؐ) اس لیے کہ آپ اس شہر (مکّہ مکّرمہ)میں تشریف فرما ہیں۔‘‘(سورۃ البلد)ان آیات مقدسہ سے واضح ہواکہ جس مکان وزمان کو،جس دن اور رات کو،جس ذات کو، جس کتاب کو، جس گھر کو،جس کام کواور جس چیز کوبھی حضورسرکاردوعالَمؐ سے نسبت حاصل ہے، ہمیں ان سب کی تکریم کرنی ہے کیوں کہ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور یہی صحابہ کرامؓ کا عمل ہے۔ یوں تو تمام مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا اور ہر ایک مہینہ کی عظمت و فضیلت اور مقام اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ماہ ربیع الاول کو یہ عظیم الشّان شَرف حاصل ہے کہ یہ مہینہ حضور نبی کریمؐ کی طرف منسوب ہے ۔ حضور نبی کریمؐ کی ولادت باسعادت کے مہینے اور دن پرتو تمام اُمت ِمُسلمہ کا اجماع ہے کہ حضورنبی کریمؐ ماہ ربیع الاول میں پیر کے دن اس دُنیا میںرونق افروز ہوئے ،جب کہ تاریخ میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے لیکن مُستند علمائے کرام، محققّین اورنام ور مؤرخین کے نزدیک ربیع الاول کی 12 تاریخ ہی مُستندومعتبرہے۔عالم اسلام کے ممتاز اسکالر،فقیہِ ملت پروفیسرمفتی مُنیب الرحمان اپنی کتاب ’’تفہیم المسائل‘‘ میںحضور نبی کریمؐ کی تاریخِ ولادت کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری اورجسٹس پیرمحمد کرم شاہ الازہری کی تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ فخرِ کائنات سرورِ دوعالمؐ کا یومِ میلاد دوشنبہ (پیر ) کا دن تھا،اس پر بھی تمام علمائے اُمّت کا اتفاق ہے کہ ربیع الاول کا بابرکت مہینہ تھا اورمتقدمین ومتأخرین کا اجماع اسی پر ہے کہ تاریخِ ولادت 12ربیع الاول عام الفیل ہے ۔مشہورمؤرخ امام ابنِ جریر طبری (متوفی310ھ)لکھتے ہیں ’’رسول کریمؐ کی ولادت با سعادت پیر کے دن ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔ (تاریخ طبری)معروف سیرت نگار علامہ ابنِ ہشام ( متوفی 213ھ) اوّلین سیر ت نگار امام محمد بن اسحاق کے حوالے سے رقم طراز ہیں’’ رسول کریمؐ کی ولادت با سعادت پیر کے دن ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔‘‘ ( سیرۃ النبویہؐ، بیروت لبنان)مشہورمؤرخ علامہ ابنِ خلدون (متوفی 808ھ)جو فلسفہ اور علم تاریخ کے امام اور مُوجدتسلیم کیے جاتے ہیں ، وہ نبی کریمؐ کی تاریخ ولادت کے بارے میں لکھتے ہیں’’رسول کریمؐ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی جب کہ نوشیروان کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا۔(تاریخ ابن خلدون )عصر حاضر کے سیرت نگار محمد صادق ابراہیم عرجون ، جو جامعہ ازہر مصر کے کُلیہ’’ اُصول الدین‘‘ کے مدیر رہے ہیں،اپنی تصنیف ’’محمد رسول اللہؐ ‘‘میں لکھتے ہیں،’’بکثرت طُرقِ روایت سے یہ بات صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ حضور نبی اکرمؐ عام الفیل اور کسریٰ نوشیرواں کے زمانے میںبروز دو شنبہ (پیر) بارہ ربیع الاول کوپیدا ہوئے اورایسے علماء جوشمسی اور قمری تاریخوں میں مطابقت کرتے ہیں، نے کہا ہے کہ اس دن شمسی تاریخ 20اگست 570ء بنتی ہے۔‘‘(محمد رسول اللہؐ )مفتی محمد شفیع دیوبندی (متوفی 1369ھ) ’’سیرتِ خاتم الانبیا‘‘میں رقم طراز ہیں’’ الغرض جس سال اصحابِ فیل کا حملہ ہوا،اس کے ماہِ ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ کے روزِ دوشنبہ دنیا کی عمر میں ایک نرالا دن ہے کہ آج پیدائش عالم کا مقصد،لیل ونہارکے انقلاب کی اصلی غرض، آدمؑ اوراولادِ آدمؑ کا فخر، کشتیٔ نوحؑ کی حفاظت کاراز، ابراہیمؑ کی دُعا، موسیٰ وعیسیٰؑ کی پیش گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقائے نامدارمحمد رسول اللہؐ رونق افزائے عالم ہوتے ہیں۔‘‘(سیرت خاتم الانبیا)اس موضوع پر تحقیقی اور مدلل بحث رقم کرتے ہوئے اپنے وقت کے ممتاز عالم دین پیر محمد کرم شاہ الازہری اپنی مایہ نازتصنیف’’ضیاء النبیؐ ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ابن ابی شیبہ نے اپنی تصنیف میں یہی تاریخ روایت کی ہے ،چناں چہ وہ بیان کرتے ہیں’’حضرت جابر اور ابنِ عباسؓ بیان کرتے ہیں ’’رسول اللہؐ عام الفیل روز دوشنبہ (پیر) بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے، اسی روز آپؐ کی بعثت ہوئی،اسی روزآ پ کو معراج عطا ہوئی ،اسی روزآپؐ نے مکّہ مکّرمہ سے مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت کی اورآ پؐ کے وصال مُبارک کادن بھی یہی ہے،جمہورِ اُمّت کے نزدیک یہی تاریخ (بارہ ربیع الاول) مشہور ہے۔ ‘‘اس روایت کے پہلے راوی ابو بکر بن ابی شیبہؓ ہیں ،اُن کے بارے میں ابو زرعہ رازیؓ (متوفی 264 ھ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن ابی شیبہؓ سے بڑھ کر حافظِ حدیث نہیںدیکھا ۔ محدث ابن حبانؓ فرماتے ہیں کہ ابو بکرؓ عظیم حافظِ حدیث تھے۔ دوسرے راوی عفان ہیں، اُن کے بارے میں محدثین کی رائے ہے کہ عفانؓ ایک بلند پایہامام ثقہ اور صاحب ضبط واتقان ہیں. تیسرے راوی سعید بن میناء ہیں, ان کا شمار بھی ثقہ راویوں میں ہوتا ہے.یہ صحیح لاسناد روایت دو جلیل القدر صحابہ حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے.علومِ قرآن وسُنت اورسیرت وتاریخ کے ان مُستند ومعتبرعلمائے کرام، محققّین اور مؤرخین کے ان حوالوں کے علاوہ سیرت اور تاریخ کی سیکڑوں کتابوں میں نبی کریمؐ کی تاریخ ِ ولادت 12ربیع الاول لکھی گئی ہے۔ مضمون کی طوالت کی وجہ سے صرف انہی حوالہ جات پر اکتفا کیاجاتا ہے۔ضور سیّد عالمؐ اس بزم جہاں میں ’’پیر‘‘ کے دن تشریف لائے، اس لیے آپؐ اپنایومِ میلاد منانے اوراپنی ولادت پراللہ تعالیٰ کاشکر اداکرنے کے لیے ہر ’’پیر‘‘ کے دن روزہ رکھتے تھے۔ چناں چہ حضرت ابو قتا دہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہؐ سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہؐ!آپ ہر پیر کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ تو آپؐ نے ارشاد فر مایا کہ’’یہ وہ دن ہے جس دن میری ولادت ہوئی ہے۔‘‘(صحیح مسلم ،کتاب الصیام)فضیلتِ شبِ ولادت النبیؐ (بارہ ربیع الاوّل) کے حوالے سے علامہ احمد قسطلانی (متوفی911ھ) اپنی مایہ نازتصنیف ’’المواہب اللد نیہ‘‘ میں ایک بڑا ایمان افروز اور روح پرورنکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضور اکرمؐ کی شب ولادت (بارہ ربیع الاول) شب قدر سے افضل و اعلیٰ ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کی تین وجوہ ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ شب ولادت آپؐ کی ذات گرامی کے ظہور کی رات ہے اور شب قدر آپؐ کو عطا کی گئی ہے اور اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اس لحاظ سے شب ولادت ، شب قدر سے افضل واعلیٰ ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ شب قدر، نزولِ ملائکہؑ کی وجہ سے مُشرف ہے اورشبِ ولادت بہ نفس نفیس آپؐ کے ظہور کی وجہ سے شرف یاب ہے اور وہ ذات جس کی وجہ سے شب ولادت کو عظمت و فضیلت دی گئی ہے، یقیناً ان صفات سے افضل ہے جن کی وجہ سے شبِ قدر کو فضیلت دی گئی ہے، لہٰذا شبِ ولادت ،شبِ قدر سے افضل واقع ہوئی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ لیلتہ القدر میں صرف اُمت مصطفویؐ پر فضل و انعام واقع ہوتا ہے اور شبِ ولادت النبیؐ میں تمام مُخلوقات پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہوا ہے۔(وَمَااَرْسَلْٰنکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ) اللہ تبارک وتعا لیٰ نے آپؐ کو تمام جہانوں (کی مُخلوقات) کے لیے سر اپا رحمت (رحم کرنے والا) بنا کر بھیجا ہے،جس کی بدولت تمام مُخلوقات عالَم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور رحمتیں عام ہوئی ہیں، چناں چہ اس لحاظ سے بھی شب ولادت النبیؐ کا نفع بہت زیادہ ہے اور یہی افضل واعلیٰ ہے۔(المواھب اللدنیہ)علامہ ابن الحاج(متوفی 737ھ) ماہ ربیع الاول اور پیر کے دن کی عظمت واہمیت کے سلسلے میں ایک نہایت ایمان اَفروز اور روح پر ورنکتہ بیان فرماتے ہیں کہ … اگر یہ سوال کیا جائے کہ رسول اللہؐ کی ولادت ماہ ربیع الاول میں پیر کے دن ہوئی، ماہ رمضان میں نہیں ہوئی کہ جس میں قرآن نازل ہوا،نہ لیلتہ القدر میں ہوئی، نہ شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت)میں ہوئی، نہ جمعہ کے دن اور نہ اس کی شب میں ہوئی، اس میں کیا حکمت ہے؟ علامہ ابن الحاج فر ماتے ہیں کہ اس کا جواب چار طریقوں سے ہے۔پہلا طریقہ یوں ہے کہ درخت اور پھل وغیرہ پیر کے دن پیدا کیے گئے اور اس میں یہ خاص نکتہ اوراشارہ ہے کہ جس طرح انسان کی مادی حیات کے اسباب پیر کے دن بنائے گئے، اسی طرح اس کی روحانی حیات کا سبب کا مل (یعنی حضورنبی کریمؐ کی ذات مبارکہ کو)بھی پیر کے دن پیدا کیا گیا۔دوسرا طریقہ یوں ہے کہ ’’ربیع‘‘ کے معنی ہیں ’’بہار‘‘ اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ انسانیت کا گلشن یوں تو صدیوں سے آباد تھا لیکن اس میں بہار اس وقت آئی جب حضور سیّد عالمؐ کی ولادت با سعادت ہوئی۔تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح ’’فصلِ ربیع‘‘ تمام فصلوں سے افضل و ا علیٰ ہوتی ہے، اسی طرح حضور نبی کریمؐ کی شریعت بھی تمام شریعتوں سے افضل واعلیٰ ہے۔چو تھا طریقہ یہ ہے کہ آپؐ اگر رمضان المبارک، لیلتہ القدر ، جمعہ کی شب کو پیدا ہوتے تو ان اوقات سے آپؐ کو فضیلت ملتی اور جب آپؐ ماہ ربیع الاول میں پیر کے دن پیدا ہوئے تو اس ماہ اور اس دن کو آپؐ کی بدولت عظمت و فضیلت ملی ہے۔ اور امر واقعہ بھی یہ ہے کہ آپؐ کسی سے فضیلت نہیں پاتے بلکہ کائنات میں جو بھی فضیلت پاتا ہے وہ آپؐ کی نسبت کی وجہ سے ہی فضیلت پاتا ہے۔(المدخل)حضرت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ’’بے شک حضور سرورِعالمؐ کی شب ولادت،شب قدر سے بھی افضل ہے ، کیوں کہ شبِ ولادت حضو رنبی کریمؐ کے اس دُنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے، جب کہ لیلتہ القدر حضو رنبی کریمؐ کو عطاکردہ شَب ہے اور جو رات ظہورِ ذاتِ سرورِ کائناتؐ کی وجہ سے مُشرف ہو ، وہ اُس رات سے زیادہ شرف وعزت والی ہے جو ملائکہؑ کے نزول کی بنیاد پر مشرف ہے‘‘۔(ماثبت بالسنۃ)ولادتِ مصطفویؐ تمام کائنات کے لیے بالعموم اورانسانیت کے لیے بالخُصوص اَبدی مسرتوں، حقیقی کامیابیوںاوراخروی فلاح ونجات کی پیغامبر بن کرآئی تھی، جس سے کائنات کی ہر شے خوشیاںمنارہی تھی اور مُسرتوں کا اظہا ر کررہی تھی۔ فرشتے بھی اس نعمتِ خداوندی پراللہ تعالیٰ کا شکر بجا لا رہے تھے۔انبیاء سابقین نے آپؐ کی آمد مبارکہ کی خوش خبریاںدیں۔ عرش اور فرش میں جشن اور بہار کا سماں تھا لیکن ایک ذات ایسی بھی تھی جو کہ فریادکناں اورچیخ وچلا رہی تھی ،جسے ولادت نبویؐ کی خوشی نہیںتھی اور وہ ملعون ابلیس کی ذات تھی اور سب سے پہلے حضور اکرمؐ کی ولادتِ مبارک پر شیطانیت غم گین ہوئی تھی۔حاصل کلام یہ ہے کہ حضور رحمتِ دوعالمؐ کے میلاد شریف کی برکت سے نہ صرف حضرت ثویبہؓ بلکہ لاتعداد غلاموں کونعمت ِ آزادی ملی۔ ابو لہب ایسے کافر کو عذاب ِ دوزخ میں تخفیف ملی ۔اہل ِکفر کوایمان کی دولت ملی۔اہل ضلالت کو رُشد وہدایت کی سعادت ملی۔تمام مخلوقات کو رحمت ِ مصطفویؐ میسر آئی۔ اہلِ قرن (زمانہ)کو افضل ترین زمانہ ملا۔بے زبانوں اور بے جانوں کو بھی سلام وکلام اور کلمہ پڑھنے کا شرف ملا۔اہل لسان کو فصاحت و بلاغت کا عظیم شاہ کار ملا۔ اہل ایمان صحبت یافتہ کو ’’صحابیت‘‘ ایسی انمول ترین نعمت وسعادت حاصل ہوئی اور ان شاء اللہ تعالیٰ میلادُ النبیؐ کی برکت سے تمام صاحبانِ ایمان کو دنیوی اور اُخروی نعمتیں، سعادتیں، جنت الفردوس کی اعلیٰ ترین دولت، رفاقت مصطفویؐ اور دیدار ِ خداوندی ایسی لازوال اورعظیم الشّان نعمتیں ملیں گی، جن کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔حاصلِ کلام یہ ہے کہ تمام عالَم اسلام میں ماہ ربیع الاوّل میں محافل میلادکا انعقاد اور خوشی ومسرت کا اظہار کرنا،انواع واقسام کے صدقہ وخیرات کرنااور دعوت طعام کا اہتمام کرناوغیرہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا محبوب طرزِعمل رہاہے اور میلاد شریف کے خواص میں سے یہ ہے کہ میلاد شریف کی برکت سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کاخاص فضل وکرم ہوتا ہے۔وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندرجو سرورِ عالمؐ کا میلاد مناتے ہیںآقاؐ کی ثناء خوانی دراصل عبادت ہےہم نعت کی صورت میں قرآن سناتے ہیںعالم اسلام کے تمام مسلمان بارہ ربیع الاوّل کو یہ عظیم الشان اور ایمان افروز تہوار جشن عید میلادُ النبیؐ ہمیشہ سے مناتے چلے آرہے ہیں اور جب تک یہ دنیا قائم ودائم ہے اور ایک بھی مسلمان روئے زمین پرباقی ہے،جشن عید میلادُ النبیؐ اسی طرح عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت اورمکمل آب وتاب کے ساتھ منایاجاتا رہے گا اور اہل ایمان میلاد شریف کی برکتوں، رحمتوں اور دنیوی واُخروی سعادتوں سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔