منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟
اسپیشل فیچر
تاریخ انسانی میں دولت مند افراد کی کمی نہیں رہی۔ قدیم مصر کے فرعون ہوں، روم کے شہنشاہ یا جدید دور کے ارب پتی سرمایہ دار، ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جن کی دولت نے دنیا کو حیران کیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ تاریخ کا سب سے امیر آدمی کون تھا تو بیشتر مؤرخین کی انگلی مغربی افریقہ کے چودہویں صدی کے ایک حکمران، منسا موسیٰ، کی جانب اٹھتی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کی دولت کا درست اندازہ آج بھی ممکن نہیں اور جس کے سفرِ حج نے مصر کی معیشت تک کو متاثر کر دیا تھا۔
سونے کی کانوں سے شاہی خزانے تک
چودہویں صدی عیسوی میں جب یورپ کے بیشتر حصے سیاسی انتشار اور معاشی مسائل کا شکار تھے، مغربی افریقہ میں سلطنت مالی خوشحالی اور ترقی کی علامت تھی۔اور اس سلطنت کا وحکمران تھا ، منسا موسیٰ تھا، جس کا نام آج بھی دولت، اقتدار اور فیاضی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔منسا موسیٰ 1312ء میں مالی سلطنت کا حکمران بنا۔ منسا دراصل شاہی لقب تھا جس کے معنی بادشاہ یا شہنشاہ کے ہیں۔ اُس کے دور میں مالی سلطنت موجودہ مالی، سینیگال، گنی، نائیجر اور موریطانیہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال تھا خصوصاً سونے کی کانیں اس کی اصل طاقت تھیں۔مؤرخین کے مطابق اس زمانے میں دنیا کے معلوم سونے کا ایک بڑا حصہ مالی سے حاصل ہوتا تھا۔ بامبوک(Bambouk) اور بری(Bure) کے علاقے سونے کی پیداوار کے اہم مراکز تھے۔ یہی سونا منسا موسیٰ کی بے مثال دولت کی بنیاد بنا۔ اس کے علاوہ مالی کی سلطنت صحارا کے پار تجارت کے اہم راستوں پر قابض تھی۔ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ جانے والے قافلے مالی سے گزرتے تھے، جس سے خزانے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔
منسا موسیٰ کا سفر حج
منسا موسیٰ کی شہرت صرف دولت کی وجہ سے نہیں پھیلی، اس کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ 1324ء میں مکہ مکرمہ کے لیے کیا جانے والا حج کا سفر ہے۔یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کے نام کا چرچا ہوا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 60 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاؤنڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 80 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ اندازہ ہے کہ موسیٰ نے 125 ٹن سونا اس سفر میں خرچ کیا۔ اس سفر کے دوران وہ جہاں سے بھی گزرا، غربا اور مساکین کی مدد کرتا رہا اور ہر جمعہ کو ایک نئی مسجد بنواتا رہا۔ اس حج کے بعد منسا موسیٰ کا نام اسلامی دنیا کے بڑے حکمرانوں میں شمار ہونے لگا۔ عرب مؤرخین نے اس کے بارے میں تفصیل سے لکھا اور یورپی نقشہ سازوں نے اپنے نقشوں میں مالی کو نمایاں مقام دینا شروع کر دیا۔ چودہویں صدی کے بعض نقشوں میں منسا موسیٰ کو تاج پہنے اور ہاتھ میں سونے کا ڈلا تھامے دکھایا گیا ہے جو اس کی دولت کی عالمی شہرت کا ثبوت ہے۔
دولت سے بڑھ کر علم و ثقافت کا سرپرست
منسا موسیٰ صرف دولت مند بادشاہ نہیں تھا بلکہ علم دوست حکمران بھی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کسی سلطنت کی اصل طاقت صرف خزانے میں نہیں بلکہ علم و دانش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ٹمبکٹو کو علمی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ٹمبکٹو اُس کے دور میں دنیا کے اہم علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ مصر، مراکش اور اندلس سے علما ، فقہااور معمار یہاں آنے لگے۔ مدارس، مساجد اور کتب خانے قائم کیے گئے۔ فقہ، ریاضی، فلکیات، تاریخ اور ادب کی تعلیم دی جانے لگی اور ٹمبکٹو کی شہرت بغداد، قاہرہ اور قرطبہ جیسے علمی مراکز کے ہم پلہ سمجھی جانے لگی۔
منسا موسیٰ کے روزمرہ معمولات کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ دربار میں مختلف علاقوں کے نمائندوں اور تاجروں سے ملاقاتیں کرتا، مشیروں سے مشورے کرتا اور سلطنت کے انتظامی امور کی نگرانی کرتا تھا۔ مذہبی رجحان کی وجہ سے عبادات اور اسلامی تعلیمات بھی اس کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔اس کی شخصیت میں شاہانہ وقار اور مذہبی وابستگی کا دلچسپ امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بے پناہ دولت کا مالک تھا دوسری طرف مساجد اور تعلیمی اداروں کی تعمیر پر خطیر سرمایہ خرچ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک امیر حکمران نہیں بلکہ ایک دور اندیش ریاست ساز کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
1337ء کے قریب منسا موسیٰ کا انتقال ہوگیا اور اس عظیم حکمران کے بعد مالی کا علمی، ثقافتی اور مالیاتی مقام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ منسا موسیٰ کے بعد مالی کی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ ایک ایک کرکے تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے اور 1854ء میں شہر گاد کے سونگھائی حکمران نے مالی کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔لیکن اس سلطنت کے نامور حکمران کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ آج جب دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست مرتب کی جاتی ہے تو جدید دور کے ارب پتی بھی اس کے سامنے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔