آج کا دن
اسپیشل فیچر
بیناک برن کی جنگ
23 جون 1314 ء کو سکاٹ لینڈ کی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا جسے بیناک برن کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں آزادی کی جدوجہد کا اہم مرحلہ تھی۔ سکاٹ فوج کی قیادت رابرٹ دی بروس کر رہے تھے جبکہ انگریز فوج کی قیادت ایڈورڈدوم کے ہاتھ میں تھی۔ سکاٹ لینڈ کئی برسوں سے انگریزی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ رابرٹ دی بروس نے سکاٹ قوم کو متحد کیا اور انگریز افواج کے خلاف مزاحمت کو منظم کیا۔ اس جنگ کے نتائج دور رس ثابت ہوئے۔ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کو زبردست تقویت ملی اور رابرٹ دی بروس کی حیثیت ایک قومی ہیرو اور بادشاہ کے طور پر مستحکم ہوئی۔ بعد ازاں 1328ء میں انگلستان نے سکاٹ لینڈ کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔
ٹائپ رائٹر پیٹنٹ کا اجرا
23 جون 1868ء کو امریکی موجدکرسٹوفر لیتھم شولز اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے آلے کا پیٹنٹ ملا جس نے تحریری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ یہ آلہ ٹائپ رائٹر تھا جسے جدید کمپیوٹر کی بورڈ کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں سرکاری اور تجارتی امور میں تحریری ریکارڈ کی اہمیت بڑھ رہی تھی لیکن تمام کام ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ شولز نے ایک ایسی مشین تیار کی جو حروف کو کاغذ پر تیزی اور یکسانیت کے ساتھ منتقل کر سکتی تھی۔ بعد ازاں اسی مشین کی بنیاد پر QWERTY کی بورڈ لے آؤٹ متعارف ہوا جو آج بھی دنیا بھر کے کمپیوٹروں اور موبائل آلات میں استعمال ہو رہا ہے۔ٹائپ رائٹر نے صحافت، کاروبار، عدالتی نظام، سرکاری دفاتر اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔
اولمپک کمیٹی کا قیام
23 جون 1894 کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کا قیام فرانس کے شہر پیرس میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام میں فرانسیسی ماہرِ تعلیم کوبرٹین نے مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا خیال تھا کہ کھیل مختلف قوموں کے درمیان امن، دوستی اور صحت مند مقابلے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں جدید اولمپک تحریک وجود میں آئی۔ 23 جون کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی قائم کی گئی۔IOC کا بنیادی مقصد اولمپک کھیلوں کا انعقاد، ان کے اصولوں کی نگرانی اور عالمی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے دو سال بعد 1896 ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں جدید دور کے پہلے اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔
انٹارکٹک معاہدے کا نفاذ
23 جون 1961ء کوانٹارکٹک ٹریٹی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ یہ معاہدہ سرد جنگ کے دور میں بین الاقوامی تعاون کی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا ہے۔انٹارکٹکا زمین کا سب سے جنوبی اور انتہائی سرد براعظم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک کئی ممالک اس خطے پر دعوے کر رہے تھے جس سے مستقبل میں تنازعات کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک نے ایک معاہدہ تشکیل دیا جس کے تحت انٹارکٹکا کو صرف سائنسی تحقیق اور پرامن مقاصد کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔اس معاہدے نے براعظم میں فوجی سرگرمیوں، ہتھیاروں کی آزمائش اور جوہری دھماکوں پر پابندی عائد کی۔ سائنسدانوں کو تحقیق کے لیے آزادانہ رسائی دی گئی اور مختلف ممالک کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
بریگزٹ ریفرنڈم
23 جون 2016ء کو بریگزٹ ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں برطانیہ کے عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 51.9 فیصد ووٹرز نے یورپی یونین چھوڑنے جبکہ 48.1 فیصد نے اس میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ ریفرنڈم کئی برسوں سے جاری سیاسی اور عوامی بحث کا نتیجہ تھا۔ یورپی یونین کے مخالفین کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کو اپنی سرحدوں، قوانین اور اقتصادی پالیسیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حامیوں کا خیال تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے فائدہ مند ہے۔نتائج سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور ملک کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔