قدرت نے شاعر , زمانے نے ناقد بنا دیا
اسپیشل فیچر
ممتاز محقق ، نقاد ، شاعر ڈاکٹر تحسین فراقی قریباً تین ،چارہفتے قبل ’’ مجلس ِترقی ِادب ‘‘ کے ناظم (ڈائریکٹر) تعینات ہوئے ہیں ۔قبل ازیں ڈاکٹر فراقی اُردو دائرہ معارفِ اسلامیہ ،پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) کے ساتھ بطورِ پروفیسر منسلک تھے اور اس سے قبل اورینٹل کالج کے شعبۂ اُردو کے پروفیسر اور سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ڈاکٹر صاحب اُردو،فارسی ،عربی اور مغربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اُنھوں نے تین سال تک شعبہ اُردو تہران یونی ورسٹی میں تدریسی فرایض انجام دیے اور درس و تدریس و دیگر علمی اُمور کے سلسلے میں وہ انڈیا ، بلجیم ،جرمنی،فرانس،ہالینڈ، انگلستان،جاپان اور ترکی وغیرہ کے دورے بھی کر چکے ہیں۔اُنھوں نے ممتاز علمی شخصیت مولانا عبد الماجد دریا بادی پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ،جسے اُردو ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔تحقیق و تنقید پر مشتمل اب تک اُن کی درجنوں کتب شایع ہو چکی ہیں۔ ’’ مجلس ِ ترقی ِادب‘‘ کے وسائل اور مسائل کے علاوہ شعر و ادب کے حوالے سے اُن سے ہونے والی گفت گو یہاں پیش ِ خدمت ہے:سوال: ڈاکٹر صاحب ! سب سے پہلے بطورِناظم ’’ مجلس ِ ترقی ِ ادب ‘‘ ہمارے قارئین کو اس ادارے کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟جواب:’’مجلس ِ ترقی ِادب‘‘ کے بارے میں کچھ کہنے سے قبل اس ادارے کی تاریخ کا اجمالی ذکر ناگزیر ہے۔یہ ادارہ 1950ء میں’’مجلس ِترجمہ‘‘ کے نام سے قایم کیا گیااور بلا شبہ اس نے پہلے آٹھ برس میں بہت سے تراجم کرائے ۔اس مختصر عرصے میں مجلس نے غیب و شہود ، فلسفہ ٔ شریعت اسلام ،دولت ِاقوام ،مطالعۂ تاریخ،مقدمۂتاریخ ِسائنس ، تشکیل ِ انسانیت ، شاہ جہان نامہ،تاریخ ِبخارا اور نفسیات ِ وارداتِ روحانی جیسے بے مثل ترجمے شایع کیے۔ان کتابوں کو دیکھنے سے اندازہ ہو گا کہ یہ انگریزی ،فارسی اور عربی سے ترجمہ ہوئیں ۔اس سے اراکین ِمجلس کی وسعت ِنظرکا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔1958ء میں’’ مجلس ترجمہ‘‘کے آئین و قواعد تبدیل کر کے اس کے دائرہ کا ر میں اعلیٰ پائے کی علمی کتابوں کے اُردو تراجم کے ساتھ کلاسیکی ادب کے مستند متون کی اشاعت کو بھی شامل کر لیا گیا اور ادارے کا نام ’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ رکھا گیا۔ 1960ء میں سیّد امتیاز علی تاج اس ادارے کے پہلے ناظم بنے ۔اُن کی رحلت کے بعدپروفیسر حمید احمد خاں نے مجلس کی نظامت سنبھالی اور اُن کی وفات کے بعد احمد ندیم قاسمی کو مجلس کا ناظم مقرر کیا گیا ۔قاسمی صاحب کی وفات کے بعدشہزاد احمد کا تقررہوا۔اُنھوں نے مجلس کو بہت فعال بنایاتاہم اُن کی رحلت کے بعد یہ ادارہ قریباً8 ماہ تک ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات و ثقافت طاہر رضا ہمدانی کی اضافی ذمہ داری کا مرہون ِ منّت رہا۔ میَں نے یہ عہدہ قریباً تین ،چار ہفتے قبل18 مارچ کو سنبھالاہے۔ سوال:آپ بطور ِ ناظم اب اس ادارے کے لیے کیا منصوبے رکھتے ہیں؟جواب:’’مجلس ِترقی ِادب ‘‘ جہاں کلاسیکی ادب کو محفوظ کر رہی ہے، وہاں ہم ’’ مجلس ترجمہ‘‘ کے احیا کے بھی آرزومند ہیں۔ ہم ادارے میں تراجم کا کام باقاعدگی سے اور اعلیٰ پیمانے پر شروع کرنا چاہتے ہیں،جس کے لیے حکومت سے بھی درخواست کی جائے گی کہ وہ ہماری مالی معاونت کرے۔ہم ادارے میں کمپیوٹرائزڈ شعبہ بنا کر کمپیوٹر کے ذریعے تراجم کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔دُنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس ضمن میں سر گرم عمل ہیں۔ایسے سافٹ وئیراستعمال کیے جا سکیں گے، جو انگریزی سے اُردو ترجمہ کر سکیں ۔ یہ منصوبہ دو سطحوں پر شروع کیا جائے گا۔پہلے مرحلے پر مشرقی اور مغربی ادب کی اعلیٰ درجے کی کتابوں کے تراجم کے لیے اہل ِ قلم سے درخواست کی جائے گی اور اگلے مرحلے پر عمومی کتابوں کے مشینی ترجمے کی طرف توجہ کی جائے گی۔یہاںیہ ذکر کرنا بے محل نہ ہو گا کہ میرے پیشرو شہزاد احمد ’’ مشینی ترجمے‘‘ کے سلسلے میں بڑے پرُ جوش تھے اور اس ضمن میں اہلِ علم سے تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے ۔ کچھ جُزئیات اُنھوں نے طے بھی کی تھیں۔ میرا ارادہ ہے کہ اس شعبے کے بارے میں خصوصی معلومات رکھنے والے اہل ِ علم سے مشاورت بھی کی جائے ۔اس کے علاوہ چند اورباتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ جہا ں تک ’’مجلس ِترقی ِ ادب‘‘ کے زیر اہتمام شعری و نثری کلاسیکی متن شایع کرنے کا تعلق ہے، اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان اور خصوصاََ لاہور کی لائبریریوں میں ہماری اُردو کلاسیکی شاعری اور ادب سے متعلق متعدد نہایت نادر اور قابل ِ قدر مخطوطات ہیں۔ایسے مخطوطات کی تدوین سے اُردو کا سرمایہ مزید با ثروت ہو سکتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اہلِ علم سے اُن مخطوطات کی تدوین،تدوین کے مسلّمہ اُصولوں کی روشنی میں کروائی جائے۔’’ مجلس ِترقی ِادب‘‘ کی پوری ادبی دنیا میں شہرت اُس کے کلاسیکی شعری ونثری متون اور اعلیٰ علمی کُتب کے تراجم کی اشاعت کے ناتے سے ہے۔میَں اپنی نظامت میں اس روایت کی نہ صرف پاسداری بل کہ اسے آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔اس باب میں متون کی صحت اور استناد پر میَں خصوصی توجہ دینا چاہتا ہوں اور اس ضمن میں ہونے والی کو تاہیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔میری آرزو ہے کہ پاکستان میں لکھے جانے والے ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات میں سے معیاری تحقیقی و تنقیدی مقالات کا انتخاب کر کے اُن کی اشاعت زیادہ تیز رفتاری سے شروع ہو۔اس ضمن میں ملک کی دانش گاہوں کے صدوراور شعبہ ہائے اُردو سے وابستہ اساتذہ سے عنقریب رابطوں اور مشوروں کا آغاز کرنا چاہتا ہوں تا کہ ’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ کی رفتار ِ کار کو بڑھایا جا سکے۔آپ جانتے ہیں کہ’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ اُردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے قایم کی گئی تھی۔اس ہوش رباگرانی کے دَور میں مجلس کی مطبوعات کی قیمتیں بھی بڑھیں ،مگر میرا ارادہ ہے کہ مطبوعات کی قیمتیں کم کی جائیں تا کہ یہ آسانی سے قارئین کی دسترس میں رہیں ۔’’مجلس ِترقی ِ ادب‘‘ کوئی کاروباری ادارہ نہیں بل کہ اُردو اور تقابلی ادب کا خدمت گزار ادارہ ہے اور حکومت ِ پنجاب کی مالی معاونت سے چلتا ہے۔لہٰذا اس کی شایع کردہ کُتب کو کاروباری اشاعتی اداروں کی مطبوعات کے مقابلے میں کم قیمت ہونا چاہیے۔ میرا ارادہ ہے کہ کالج، یونی ورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے کتابوں کے سستے ایڈیشن شایع کیے جائیں۔آپ صرف انگلستان کے دو علمی اور اشاعتی اداروں کیمبریج یونی ورسٹی پریس اور آکسفرڈ کی مطبوعات دیکھیے ! آپ کو اُن کا ایک قابلِ لحاظ حصہ پیپر بیک میں ملے گا۔ مجلس سے بھی بعض کُتب خصوصاََ کم ضخامت کی کتابیں پیپر بیک پر چھاپنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات بھی قابل ِ توجہ ہے کہ دُنیا بھر کے علمی ادارے اور مجالس اپنی مطبوعات کو اشاریوں کے ساتھ شایع کرتی ہیں تا کہ اس عہد ِکم فرصت میں کتابوں سے اپنے مطلب اور ذوق کے مشمولات کو فوراََ نشان زد کیا جا سکے۔ مجلس کی شایع کردہ کُتب کو اشاریوں کے ساتھ شایع کرنا لازم ہے۔میرا یہ عزم مؤثر بہ ماضی بھی ہو گا اور اس کی کارفرمائی مستقبل میں شایع ہونے والی کُتب میں بھی نظر آئے گی (ان شاء اللّٰہ) ۔ میَں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اُردو کے کلاسیکی شعری اور نثری ادب کے منتخبات بھی شایع کیے جائیں۔اگر ایسا ہو جائے ،تو ان جواہر پاروں تک طالب علموں اور کم فرصت عوام الناس کی رسائی بھی ہو سکے گی اور یوں کلاسیکی ادب کا دائرہ وسیع تر ہو سکے گا۔سوال:آپ نے بہت اچھے منصوبے بتائے ، لیکن مجلس کی بہت سی کتابیں خطِ نسخ میں شایع شدہ ہیں۔اس حوالے سے آپ کیا اقدامات کر رہے ہیں؟جواب:خطِ نسخ ایسا خط ہے، جو ایران اور عرب دُنیا میں ایک عرصے سے رائج ہے اور ایک مدت تک ہمارے ہاں مستعمل رہا ہے اور ایک حد تک اب بھی ہے ۔اس کی وجہ ایک سابقہ حکومت کی پالیسی بھی تھی ،جس کے تحت خطِ نسخ کو رواج دینا مقصود تھا۔ اس خط کے استعمال میں آسانی بھی ہے،وہ یہ کہ آپ بآ سانی الفاظ پر اعراب لگا سکتے ہیں ۔خط ِ نستعلیق کے سلسلے میں اعراب لگانے میں کچھ مشکلات بہرحال پیش آتی ہیں۔ میَں نستعلیق کا شیدا ہونے کے باوجودذاتی طور پر خط ِ نسخ کو بہتر سمجھتا ہوں،مگر برعظیم پاک و ہند کی جمالیاتی حس نستعلیق کو پسند کرتی ہے۔مجلس نے شہزاد صاحب کے عہد ِ نظامت میں کمپیوٹر نستعلیق پر کتابیں بڑے پیمانے پر چھاپیں ،مگر نسخ سے نستعلیق کی طرف اس پیش قدمی سے متن میں بیسیوں غلطیاں راہ پا گئیں ۔اس کی تلافی اسی صورت میں ممکن ہے کہ ’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ میں کم ازکم وسیع لسانی علم کے حامل دو، تین مشّاق پروف ریڈر بھرتی کیے جائیں۔سوال:’’مجلس ِترقی ِ ادب‘‘ کے ترجمان سہ ماہی ’’صحیفہ ‘‘ کے متعلق بھی کچھ بتائیں؟جواب::’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ کے قیام کے بعد اس کے ترجمان کے طور پر ادبی و علمی مجلے ’’ صحیفہ‘‘ کا اجرا کیا گیا۔معروف شاعر اور نقاد سیّدعابد علی عابداس کے پہلے مدیر تھے۔صحیفے کا پہلا شمارہ جون1957ء میں شایع ہوا۔سیّد صاحب نے دس سال تک اس کی ادارت کے فرایض انجام دیے ۔اُن کے زمانے میں ’’صحیفہ ‘‘جراید کی ممتاز صف میں شامل ہوا۔1967ء میں ’’مجلس ِترقی ِادب‘‘ نے اس کی ادارت نامور محقق اور نقاد ڈاکٹر وحید قریشی کے سپرد کی۔ اُن کی ادارت میں ’’صحیفہ‘‘ ایک تحقیقی علمی مجلے کے طور پر معروف و ممتاز ہوا ۔ 1974ء میں مجلس کے نامساعد معاشی حالات کے سبب ’’صحیفہ ‘‘بند کرنا پڑا۔1976ء میں احمد ندیم قاسمی نے اسے دوبارہ شایع کرنا شروع کیا۔اُن کے دَور میں معروف محقق اورمدوّن کلب علی خان فائق اور بعد ازاں ڈاکٹر یونس جاوید اس مجلے سے وابستہ رہے،پھر احمد رضا اس کے مدیر بنے۔ ’’صحیفہ‘‘ کے بعض خاص نمبروں نے علمی اور ادبی حلقوں میں بڑا اہم مقام حاصل کیا اور آج بھی یہ نمبرحوالے کی چیز ہیں،جن میں غالبؔنمبر ،حالی ؔنمبر،ادبیات فارسی نمبر، اقبالؒ اور قائداعظمؒ نمبرنیز تاج اور عابد نمبر لائق ذکر ہیں۔ان میں سے بیشتر نمبر ڈاکٹر وحید قریشی کی ادارت میں شایع ہوئے۔ پانچ جلدوں میں’’ صحیفہ‘‘ کا معرکہ آرا غالبؔ نمبر اُنھی کے زمانہ ٔ ادارتمیںشایع ہوا۔ میَںچاہتا ہوں کہ ’’صحیفہ ‘‘پہلے کی طرح دوبارہ برصغیرکے بڑے تحقیقی و علمی مجلّوں میں شمار ہونے لگے۔سرِ دست اس کے قریباََ دو سو کے قریب شایع شدہ شماروں کا تین جلدوں میں انتخاب چھاپنے کا ارادہ ہے اور اس سمت میں کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔سوال:ڈاکٹر صاحب! اب کچھ آپ کی ذاتِ باصفات کے متعلق بھی بات ہو جائے ،یہ بتائیے کہ آپ کاشعر وادب کی طرف رجحان کیسے ہوا؟جواب:جی! مجھے بچپن میں جو اساتذہ ملے ،وہ بہت گہرا ادبی ذوق رکھتے تھے اورگھر کا ماحول بھی ادبی تھا۔میَں نے بچپن میں رومی ؔ، عطار ؔ اور اقبالؒ کے شعر والد صاحب سے سُنے۔ اُن کا لحن بہت اچھا تھا، وہ لحن ہمارے وجود کا حصہ بنتا رہا۔ابتدائی دنوں میں جو تربیت ہو جاتی ہے، وہ آگے چل کر مثبت اثر دکھاتی ہے۔دادا نے ہندی اور سنسکرت ادب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہواتھا اور اُن کی انگریزی بھی اچھی تھی ۔ اُنھوں نے ہندی اساطیر بھی ہمیں انگریزی میں سنائیں ۔یہ وہ ماحول تھا، جس میں میَںپلا بڑھا چناں چہ شعر و ادب کی جانب میرا رُحجان فطری ہے۔سوال:آپ بطور محقق و اُستاد زیادہ معروف ہیں جب کہ آپ شاعر بھی ہیں،کیا آپ اپنی شعر گوئی کے آغازکے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟جواب:اگر آپ سچ پو چھیں ، تو میرے کیریئر کا آغاز ہی شاعری سے ہوا۔ میَں 1970ء سے شعر کہہ رہا ہوں تاہم پہلا مجموعہ’’ نقشِ اوّل‘‘ 1992ء میں شایع ہوا۔ سالِ گزشتہ میں میرا دوسرا شعری مجموعہ ’’شاخ ِزریاب‘‘ کے نام سے شایع ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میَں شاعری کو وقت نہیں دے پایا کیوں کہ زیادہ وقت تحقیق و تنقید نے لے لیا ۔ہمارے محقق بزرگ دوست رشید حسن خان کہا کرتے تھے کہ تحقیق شرک گوارا نہیں کرتی ۔ میَں بھی یہی کہتا ہوں ،مگر صرف تحقیق کیا، شاعری بھی شرک گوارا نہیں کرتی۔میَں شاعری کی دیوی کے رو برو شرمندہ ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ قدرت نے مجھے شاعر ہی پیدا کیا تھا تا ہم زمانے نے اُستاد ، محقق اور ناقد بنا دیا۔سوال:آپ نے ایک مدت تک اورینٹل کالج کے شعبہ اُردو میں بھی تو بطورِ اُستاد اور صدر شعبہ خدمات انجام دیں۔اس ضمن میں کچھ ارشاد فرمائیں گے؟جواب:میَں اورینٹل کالج سے بطور ِاُستاد (اور بعد ازاںبہ حیثیت صدرِ شعبہ) تقریباََ چھبیس برس وابستہ رہا۔یہ زمانہ میری علمی و ادبی زندگی کا بہترین زمانہ ہے۔میَں کالج کی علمی فضا اور اُس کے درخشاں ماضی سے بہت متاثر رہا ۔میَں سالہا سال اس ادارے میں کلاسیکی شاعری ، اقبالیات ،اسالیب ِنثر اور مشرقی و مغربی تنقید جیسے پر چے پڑھاتا رہا۔ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات کو نہ صرف پڑھایا ۔ اُن کے لیے اپنے رفقا کی مشاورت سے عمدہ نصابات بھی ترتیب دیے۔ عربی اور فارسی کے دو لازمی پر چے میرے زمانۂ سربراہی ہی میں ایم اے کے نصاب کا حصہ بنے۔ مغربی کلاسیک کا پر چہ بھی میرے ایما پر شامل ِنصاب ہوا۔میرے زمانے میں وہاں ہندی کا ابتدائی نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا۔لسانیات بھی ایم اے کی سطح پر پڑھائی جاتی رہی۔بد قسمتی سے ہندی کا پر چہ میری غیر موجودگی میں نصاب سے نکال دیا گیااور لسانیات کو بھی قابلِ توجہ نہ سمجھاگیا۔خدا نہ کرے کہ عربی و فارسی کے لازمی پرچوں کا بھی یہی حشر ہو۔ میری دانست میں عربی ،فارسی اورہندی کا جاننا اُردو والوں کے لیے نا گزیر ہے ۔خصوصاً اپنے کلاسیکی ادب کو عربی فارسی جانے بغیر نہ ہم سمجھ سکتے ہیں ،نہ اس پرکوئی ڈ ھنگ کا تحقیقی کام کر سکتے ہیں۔ میری سربراہی میں شعبے کی فعالیت بہت بڑھی ۔ اورینٹل کالج کا شعبۂ اُردو علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ شعبے نے متعدد بین الاقوامی علمی و لسانی اداروں سے ایم او یو کیے۔ پورے بر صغیر میںمحمد حسین آزادؔ صدی کا سب سے پہلے آغاز کیا اور اس ضمن میں ایک بین الاقوامی سیمی نار کا انعقاد کیا، جس میں جاپان ، ہندوستان ، ایران اور ترکی سے بھی مندوب شریک ہوئے۔ اُردو اور شعبۂ اُردو کے نامور اور صاحبِ نظراُ ستاد ڈاکٹر سید عبداللہ کے لیے نہ صرف ’’ارمغان‘‘ شایع کیا بل کہ سالانہ ’’سید عبداللہ یادگاری لیکچر ‘‘ کا بھی ڈَول ڈالا۔ پہلے خطبے کے لیے ہندو پاک کے نامور نقاد ،دانشور اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے پروفیسر ایمیریطس ڈاکٹر شمیم حنفی کو دعوت دی ۔اُنھوں نے بڑا فکر افروز خطبہ دیا۔ افسوس میرے بعد یہ سالانہ خطبہ پچھلے تین برس سے تعطل کا شکار ہے اور ’’کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا‘‘ کی صورت ِ حال ہے۔ ٭…٭…٭