کہاں گئے عظیم ساسانی!
اسپیشل فیچر
ایران پر عربوں کی حکومت اور اسلام کی آمد سے پہلے ساسانی خاندان کی حکومت تھی۔ ساسانی خاندان کی ایران پر 224 سے 251 تک حکومت رہی۔ جس میں ان کے تیس سے زائد بادشاہ ہوئے۔ جن میں سے بعض نے تو ایک آدھ سال حکومت کی جب کہ بعض نے بیس سے ساٹھ ستر سال بھی حکومت کی۔ ساسانی خاندان کے بادشاہ آتش پرست یعنی آگ کے پجاری تھے۔ ان کے دور میں ایران کافی پھلا پھولا۔ ادب، شعر و شاعری، ثقافت اور دیگر فنون میں ترقی ہوئی۔ اس دور کے کئی بادشاہ آج بھی مشہور ہیں اور وہ عدل وانصاف اور رعیت کا خیال رکھنے کے باعث مشہور ہوئے۔ دنیا کی تاریخ میں ساسانیوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ عربوں کی جب ایران پر حکومت ہوئی یعنی وہ ساسانیوں کے جانشین بنے تو مذہب، نسل اور زبان کے اختلاف کے باوجود، عرب، ساسانیوں کے تمدن سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔عمر فاروقؓ کے دور میں جب کوفہ اور بصرہ میں چھائونیاں قائم کی گئیں (جہاں پہلے ساسانیوں کی حکومت تھی) تو عرب حاکموں نے زیرنگین آئے ہوئے ان نئے علاقوں کا انتظام چلانے کے لیے ایرانی آدمی مقرر کیے گئے۔ ساسانی سلطنت کی انتظامیہ (ایڈمنسٹریشن) اس قدر بہترین تھی کہ چار سو سال تک اردھ شیر کا خاندان ہی اس ملک پر حکومت کرتا رہا۔ اردھ شیر ساسانی خاندان کا پہلا حاکم تھا جس نے ایران پر 224 سے 241 تک یعنی سترہ سال حکومت کی۔ وہ اعلیٰ درجے کا جرنیل اور منتظم بادشاہ مانا جاتا ہے۔ اردھ شیر کا ایک قول مشرق سے مغرب تک دنیا میں آج بھی مشہور ہے کہ: ’’قدرت بے لشکر و لشکر بے زر و زر بے زراعت و زراعت بے عدالت و حسنِ سیاست نشود۔‘‘یعنی سلطنت کا مدار فوج پر ہے۔ فوج بنا زادِراہ (مال و دولت)، اکٹھی نہیں ہوسکتی، مال و دولت بنا زراعت حاصل نہیں ہوسکتی، اور زراعت امن اور انصاف بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ساسانی دور میں اردھ شیر کے علاوہ اور بھی کتنے ہی نام ور اور معروف بادشاہ ہوئے۔ جیسے کہ شاہ پور اول (241 سے 272 تک) ایران کے شہر جنڈی شاہ پور، شاد شاہ پور اور فارس میں نیشاپور، اسی بادشاہ نے آباد کیے۔ ہرمز، شاہ پور دوم، بہرام گور، فیروز، قباد، نوشیرواں، بہرام وغیرہ وغیرہ۔ ان ہی ساسانی بادشاہوں میں خسرو نامی بھی دو بادشاہ مشہور ہوئے۔ ایک خسرو اول کہلاتا ہے جس نے عیسوی531 سے 579 تک ایران پر 48 سال حکومت کی۔ دوسرا خسرو دوم جسے ہم خسرو پرویز بھی کہتے ہیں، جس نے 590 سے 628 تک تقریباً 38 سال ایران پر حکومت کی۔ یہ وہی ایرانی بادشاہ تھا جس کی طرف ہمارے نبی کریم ﷺ نے مسلمان ہونے کی دعوت کے سلسلے میں خط لکھا تھا۔خسرو پرویز جو کہ کسریٰ فارس کہلاتا ہے اس نے اسلام کی دعوت قبول نہ کی بلکہ غصے میں آکر نبی اکرم ﷺ کے مکتوب مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خط لانے والے سفیر کی بے عزتی بھی کی۔ آپ ﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح اس کی بادشاہت کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ پھر جلد ہی یہ پیش گوئی پوری بھی ہوگئی اور ساسانیوں کی حکومت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا سے ختم ہوگئی۔ وہ طاقت ور حکومت جو چار سو سال سے مضبوطی کے ساتھ چل رہی تھی، جس کا راج تینوں براعظموں کے کتنے ہی ممالک تک پھیلا ہوا تھا وہ ان تیس سال کے اندر اندر ساسانیوں سے الگ ہوکر عربوں کے حوالے ہوگیا۔ پہلے ایران کے بیرونی علاقے اور پھر اندرونی ایران، عربوں کے ہاتھ آگیا۔ساسانیوں کا دور علم و ادب اور ثقافت کے اعتبار سے ایران کا سب سے اہم اور بااثر تاریخی دور سمجھا جاتا ہے۔ اس قدر کہ ایران کے تہذیب و تمدن کی کتنی ہی باتیں یورپ کی رومن سلطنت پر بھی اثر انداز ہوئیں۔ رومن اس سے پہلے ایرانیوں کو کم تر سمجھتے تھے۔ ساسانی سلطنت کے دور میں انہوں نے پہلی دفعہ ایرانیوں کو برابری کا درجہ دیا اور رومن حاکم جب پرشیا (ایران) کے شہنشاہ کو خط لکھتا تھا تو ’’میرے بھائی‘‘ لکھ کر مخاطب کرتا تھا۔ ایران کی ثقافتی آرٹ، اور کلچر نہ صرف یورپ تک بلکہ افریقا، چین اور انڈیا تک اثر انداز ہوئے۔ایران کی ساسانی حکومت پر مسلمانوں نے پہلا حملہ 634 میں نبی مکرم ﷺ کی وفات کے بعد یک دم کیا۔ جس میں اگرچہ ساسانیوں کی فتح ہوئی لیکن عرب خاموش ہو کر نہ بیٹھے۔ عمر فاروقؓ کی خلافت (644 ۔ 634) کے دوران 637 میں قادسیہ کے میدان میں عربوں اور ساسانیوں کی لڑائی ہوئی اس میں تیسفون شہر (Ctesiphon) جو ساسانیوں کا دارالحکومت تھا وہ عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ یہ شہر دجلہ نہر کے مشرق والے کنارے پر بغداد سے 35 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ یہ شہر نہ صرف ساسانیوں کا بلکہ ان سے پہلے کی حکومت Arsacids والوں کا بھی دارالسلطنت تھا اور آٹھ سو سال تک ایران کے خوار واران صوبے کا حصہ تھا۔ ان دنوں ساسانی خاندان کا آخری شہنشاہ یزدگرد تخت پر تھا۔ بڑے رعب و دبدبے اور منظم طریقے سے تقریباً سوا چار سو سال تک چلنے والی ساسانیوں کی حکومت آخری پانچ سال میں ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔ ایران کے کچھ شہروں رے، اصفہان اور ہمدان وغیرہ میں باغی قوتوں نے کچھ رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کیں، ورنہ تمام ایران اور آس پاس کے ملک جو کہ ساسانیوں کے قبضے میں تھے، وہ عرب خلفاء کی حکومت کے تحت چلنے لگے تھے۔(سفر نامہ ایران کے دن سے انتخاب)