نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- دیگرزرعی ٹیوب ویلز کےسسٹم میں جدت لانےکی تجویز
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کی شرائط پربجلی مزیدمہنگی کرنےکامعاملہ
  • بریکنگ :- حکومتی پالیسی گائیڈلائنز پرنیپراکی سماعت کل ہوگی
  • بریکنگ :- بجلی کےبنیادی ٹیرف میں مزید 95 پیسےفی یونٹ تک اضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کےبنیادی ٹیرف میں اوسط 53 پیسےاضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کے 100یونٹ استعمال تک 8 پیسےفی یونٹ اضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کے 101سے 200 یونٹ تک استعمال پر 18 پیسےاضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کے201سے 300 یونٹ استعمال پر 48 پیسےاضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کے301سے700یونٹ تک استعمال پر 95 پیسےاضافےکی تجویز
  • بریکنگ :- بجلی کی قیمت میں اضافےکااطلاق یکم فروری سےکرنےکی تجویز
  • بریکنگ :- غیرمستحق صارفین کیلئے 20ارب کی سبسڈی ختم کرنےکی تجویز
  • بریکنگ :- پاورڈویژن کاسابقہ سلیب کافائدہ ختم کرنےکی تجویز
  • بریکنگ :- زرعی ٹیوب ویلزکو 2 کیٹگریزمیں تقسیم کرنے کی تجویز
  • بریکنگ :- بلوچستان کےٹیوب ویلز کیلئےسبسڈی میں کمی کی تجویز
  • بریکنگ :- بلوچستان میں سولرٹیوب ویلز کیلئےسبسڈی کی تجویز
Coronavirus Updates

ڈاونچی کوڈ کے مصنف ڈین براؤن کے تازہ ناول Inferno کا شہرہ

ڈاونچی کوڈ کے مصنف ڈین براؤن کے تازہ ناول Inferno کا شہرہ

اسپیشل فیچر

تحریر : سید ابوالہاشم


امریکی ادیب ڈین براؤن کا لکھا ہوا تازہ ناول(انفیرنوInferno) آج کل جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کی تفریحی ادب کی بیسٹ سیلر فہرست میں سب سے اُوپر جا رہا ہے۔ اس میں اُنھوں نے عالمی آبادی میں ہونے والے خطرناک اضافے کو موضوع بنایا ہے۔اس ناول کی تشہیر کے سلسلے میں ڈین براؤن نے گزشتہ دنوں جرمنی بھی گئے ہوئے تھے، جہاں اُنھوں نے کولون میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں اپنے اس ناول میں سے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے۔ یاد رہے کہ ڈین براؤن کا شمار دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ڈین براؤن کا تازہ ناولInferno مئی کے وسط میں منظر عام پر آیا تھا جب کہ وہ مئی کے اواخر میں کولون گئے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ ڈین براؤن کسی عوامی اجتماع میں شریک ہوں۔ کولون میں منعقدہ تقریب جرمنی بھر میں واحد تقریب تھی، جس میں وہ شریک ہوئے۔اس موقع پر اُنھوں نے بتایا کہ آج کل ہر روز عالمی آبادی میں دو لاکھ انسانوں کا اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہ اُن کی نظر میں آج کل دنیا کا سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ آبادی میں تیزی سے ہوتا ہوا یہی اضافہ ہے۔ ڈین براؤن نے اپنے اس تازہ سنسنی خیز ناول میں اسی موضوع پر قلم اُ ٹھایا ہے۔اپنے اس ناول میں ڈین براؤن نے اس عالمی مسئلے کو دانتے کی ’ڈیوائن کامیڈی‘ میں بیان کیے گئے دوزخ کے منظر نامے سے مربوط کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’عالمی آبادی میں حد سے زیادہ اضافے کے بارے میں پڑھتے پڑھتے اچانک مجھے محسوس ہوا کہ دانتے نے دوزخ کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ ہمارے مستقبل سے کافی ملتا جلتا ہے چناں چہ مجھے ایک ایسا ولن تخلیق کرنے کا خیال آیا، جو دانتے کے تصورات کو محض ایک کہانی کے طور پر نہیں بل کہ ایک پیش گوئی کے طور پر لیتا ہے‘‘۔ ناولInferno کے واقعات زیادہ تر اطالوی شہر فلورینس میں پیش آتے ہیں، جو کہ دانتے کا شہر رہا۔ اسی شہر میں ڈین براؤن اپنے اس ناول کے سلسلے میں تحقیق بھی کرتے رہے ہیں۔ڈین براؤن خود کو ایک محتاط اور ہجوم سے گریزاں شخص قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُن کی کتابوں کا اولین مقصد قاری کو تفریح فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ناولوں کے لیے کسی اہم موضوع کا انتخاب کریں۔ ڈین براؤن کے مطابق ’’جب لوگ ناولوں میں بیان کیے گئے مقامات اور فنی شاہکاروں میں دلچسپی لیتے ہیں ،تو اُنھیں اور بھی زیادہ خوشی ملتی ہے‘‘۔ امریکی ادیب ڈین براؤن کا کہنا ہے ’’اُن کی کتابوں کو ملنے والی بے پناہ کامیابی سے اُن کی زندگی میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے، ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ اُنھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر شہر سے دُور دیہی علاقے میں ایک خوبصورت گھر ضرور بنایا ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی کتاب ’’ ڈا ونچی کوڈ‘‘ کی اشاعت کے برسوں بعد بھی وہ اپنی پرانی کار ہی استعمال کر رہے ہیں: ’’مَیں اور میری بیوی، ہم دو ایسے انسان ہیں، جنھیں آرٹ اور فن تعمیر سے دلچسپی ہے، ہمیں کاروں، زیورات اور اس طرح کی چیزوں کا کوئی شوق نہیں‘‘۔واضح رہے کہ ڈین براؤن کی کتاب ’’ ڈا ونچی کوڈ‘‘ نے پوری دنیا میں زبردست شہرت حاصل کی ہے، اس ناول پر فلم بھی بنائی گئی ہے۔ کولون میں اپنے تازہ ناول کے حوالے سے ڈین براؤن کا کہنا تھا: ’’اس کتاب کو تحریر کرنے میں تین سال سے کچھ زیادہ عرصہ لگا ہے تاہم ’ ڈاونچی کوڈ‘ کی کامیابی کے بعد مجھے ایسے بہت سے خفیہ مقامات کا پتا چلا ہے، جن کا مجھے پہلے علم نہیں تھا‘‘۔اپنی کتابوں میں ڈین براؤن نے جس انداز سے مسیحیت کو پیش کیا ہے، اُس پر ویٹی کن کے نمایندے اُن سے کافی ناراض ہیں۔ خود براؤن ہرگز نہیں سمجھتے کہ مذہب اور سائنس کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنا زیادہ اُنھوں نے الجبرا یا طبیعیات پر غور کیا ہے، اتنا زیادہ اُن پر مذہبی جہات کے دَر وَا ہوتے چلے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ آج کل اُنھیں اس بات کا یقین ہے کہ سائنس اور مذہب در حقیقت دو مختلف زبانیں ہیں، جو ایک ہی کہانی بیان کرتی ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، دشمن نہیں‘‘۔ڈین براؤن 1964ء میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد الجبرا کے پروفیسر تھے جب کہ والدہ موسیقار تھیں۔ ہنگامہ خیز ناولوں سے شہرت پانے سے پہلے اُنھوں نے انگریزی زبان کے اُستاد کے طور پر کام کیا۔ اپنے سنسنی خیزی، سائنسی اور تاریخی موضوعات اور سازشی نظریات سے عبارت ناولوں کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں گزشتہ چند عشروں کے کامیاب ترین ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
آج کا دن

آج کا دن

برسی عبداللہ بن عبدالعزیز (سعودی فرمانروا)سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود کا 23 جنوری 2015ء کو انتقال ہوا۔ خادم الحرمین الشریفین یکم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے اور شاہ فہد کے انتقال کے بعد 2005ء میں انہوں نے شاہی تخت سنبھالا۔ فوربز میگزین کے مطابق آپ دنیا کے آٹھویں طاقتور ترین انسان تھے، ان کی دولت کا تخمینہ 21ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ بیماری کے باعث ایک لمبے عرصے تک وہ منظر عام سے غائب رہے۔ ان کی کمر کے دو آپریشن ہوئے، جن میں 13 گھنٹے کا ایک طویل آپریشن بھی شامل تھا۔ 2010ء میں وہ تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیر علاج رہے۔ہدایتکار لقمان احمدپاکستان فلم اندسٹری کے پہلے ہدایتکار لقمان، سید شوکت حسین رضوی کے ہونہار شاگرد تھے، ان ہی سے تدوین و ہدایتکاری کے اسرار ورموز بھی سیکھے۔ فنی کریئر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل فلم ''ہمجولی‘‘ سے کیا۔قیام پاکستان کے بعد لقمان بھی پاکستان چلے آئے۔ پاکستان میں انہوں نے 16 فلمیں بنائیں جن میں 13 اردو اور 3 پنجابی شامل ہیں۔ 1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ''ایاز‘‘ اور ''فرشتہ‘‘ بھی ان کی انتہائی عمدہ فلمیں تھیں۔ دیگر کامیاب فلموں میں ''محل اور افسانہ‘‘، ''اک پردیسی اک مٹیار‘‘ ، '' پاکیزہ‘‘، '' ہمجولی‘‘، ''دنیا نہ مانے‘‘ ،'' پرچھائیں‘‘ اور''وفا‘‘ شامل ہیں۔ 23جنوری 1994ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔لیری کنگ(امریکی ٹی وی میزبان)امریکی ٹیلی ویژن کے شہرہ آفاق ٹاک شو میزبان لیری کنگ گزشتہ برس آج کے دن انتقال کر گئے تھے۔ سوالات پوچھنے کا ان کا ایک منفرد انداز تھا جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر شہرت اور پہچان ملی۔ لیری کنگ نے 6 دہائیوں پر مشتمل کریئر میں عالمی شہرت کے حامل سیاستدانوں، فن کاروں، کھلاڑیوں اور تجارتی شخصیات کے تقریباً 50 ہزار انٹرویوز کئے۔ اس فہرست میں سابق امریکی صدر جیرالڈ فورڈ سے لے کراب تک کے تمام امریکی صدور، مائیک ٹائی سن، روسی وزیراعظم ولادی میرپوٹین،نیلس منڈیلا اور فلسطینی رہنما یاسرعرفات جیسی شخصیات شامل ہیں۔25 برس وہ امریکی ٹی وی چینل سی این این کے ٹاک شو لیری کنگ لائیو کی میزبانی کرتے رہے۔ 87 برس کی عمرمیں انتقال ہوا۔اہم واقعات تباہ کن قدرتی آفت1556 ء میں چینی صوبے شان ژی میں ہولناک زلزلہ آیا، جس میں 8 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ کسی قدرتی آفت میں تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔''ایکس رے مشین‘‘ کی ایجاد1896ء میں ماہر فزکس ویل ہیلم کونریڈ رونٹگن نے ایک اہم ایجاد کو اپنا نام دیا۔ ''ایکس رے مشین‘‘ کی اس ایجاد کو 1912ء تک کسی قسم کی توجہ حاصل نہیں ہوئی مگر اس کے بعد عالم طب میں اسے ایک منفرد اور جدید ایجاد قرار دیا گیا۔ 

امریکہ کس نے دریافت کیا؟ کولمبس نے امریکیوں کا تعارف یورپ سے کرایا‘ مورخین متفق نہیں

امریکہ کس نے دریافت کیا؟ کولمبس نے امریکیوں کا تعارف یورپ سے کرایا‘ مورخین متفق نہیں

کرسٹوفر کولمبس کا تعلق اٹلی سے تھا اور اسے مہم جو بھی کہا جاتا ہے اور کھوجی بھی۔ عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ کولمبس وہ پہلا شخص تھا جس نے امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا، لیکن بہت سے مورخین اور محققین اس بات سے اختلاف کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ کولمبس نے شمالی امریکہ دریافت کیا۔ کچھ کا اصرار ہے کہ کولمبس نے امریکہ نہیں،جزائر غرب الہندمیں پہلا قدم رکھا۔ بہت سے امریکیوں کا موقف ہے کہ کولمبس کے آنے سے پہلے ہی یہاں بے شمار لوگ موجود تھے اور اس سرزمین پر 15ہزار برس پہلے لوگ آئے تھے۔بے شمار مورخین اس موقف کے حامی ہیں کہ کولمبس نے شمالی امریکہ میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ چارسفروں کے دوران کولمبس نے مختلف کیربین جرائز پر قدم رکھا۔ اس کا پہلا سفر 1492ء میں ہوا۔ ان جرائز کو پہلے بہاس اور بعد میں سپانیولا کہا جانے لگا۔بعد میں اس نے جو بحری سفر کئے ان کے ذریعے وہ جنوبی اور شمالی امریکہ گیا۔ محققین اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے سب سے پہلے یہ بتایا کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔ یہ بھی بڑے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ مہم جولیف اریکسن کولمبس کی پیدائش سے تقریباً500 برس پہلے کینیڈا پہنچا تھا۔ کرسٹوفر کولمبس نے بحراوقیانوس سے چار سفر کیے یہ سفر 1492ء، 1493ء، 1498ء اور 1502ء میں کئے گئے۔ اس نے عزم کیا ہوا تھا کہ وہ یورپ سے ایشیا تک براہ راست کوئی آبی راستہ ڈھونڈے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ دریافت نہیں کیا کیونکہ اس کے پہنچنے سے پہلے ہی لاکھوں لوگ وہاں آباد تھے۔ اس نے جتنے سفر کیے اس سے یہ ہوا کہ مہم جوئی کا ایسا عمل شروع ہوا جو صدیوں تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی امریکہ کو نو آبادی بنانے کا عمل بھی یہیں سے شروع ہوا۔کرسٹوفر کولمبس 1451ء میں جنیویا(اٹلی) میں پیدا ہوا۔ اس کا والد اُون کی تجارت کرتا تھا۔ ابھی وہ کمسن تھا جب اسے تجارت کرنے والے ایک بحری جہاز میں نوکری مل گئی۔وہ 1476ء تک سمندر پر موجود رہا۔ پھرقزاقوں نے حملہ کر دیا۔ اس وقت اس کا جہاز پرتگیزی ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یہ چھوٹا سا بحری جہاز ڈوب گیا لیکن کولمبس بچ نکلا اور لزبن چلا گیا جہاں اس نے ریاضی اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔15ویں صدی کے آخر تک یورپ سے ایشیا زمینی راستے کے ذریعے پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔ پہلے سفر کے بعد کولمبس نے دوسرا سفر ستمبر 1493ء میں کیا۔ اس نے دیکھا کہ ہسپانیولا کی آبادی نابود ہو چکی ہے اس نے اپنے بھائیوں بارٹو لومیو اور ڈیگو کولمبس کو اس پورے خطے کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے وہیں چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے جہازوں کے عملے کا کچھ حصہ اور سیکڑوں لوگوں کو جنہیں غلام بنا لیا گیا تھا، ان کو بھی اس عملے کے ساتھ وہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مغرب کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا مقصد سونے کی تلاش تھا لیکن اس کی یہ تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں ۔ اس کے گروپ میں بہت زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہیں یورپی لوگوں نے ان کی منشا سے غلام بنا لیا تھا۔ مادی اشیاء کے بدلے کولمبس نے سپین کے حکمرانوں سے وعدہ کیا کہ وہ ملکہ ازابیلا کو 500غلام بھیجے گا۔ اس پر ملکہ خوفزدہ ہو گئی اور اس نے کولمبس کا یہ تحفہ واپس کردیا۔ اسے یہ یقین ہو گیا کہ جن لوگوں کو کولمبس نے ''دریافت‘‘ کیا ہے وہ سپین کے باشندے ہیں جنہیں غلام نہیں بنایا جا سکتا۔مئی 1498ء میں کولمبس تیسری بار یورپ روانہ ہوا۔ وہ ٹرینیڈڈ اور جنوبی امریکہ گیا اور واپسی پر ہسپانیولا کے خطے کی طرف بھی گیا۔ لیکن یہاں وہ یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ نو آباد کاروں نے کولمبس کے بھائیوں کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور اس بغاوت میں بہت خون بہایا گیا تھا۔ اس بغاوت کی وجہ کولمبس کے بھائیوں کی بد انتظامی اور سفاکانہ کارروائیاں تھیں۔ صورت حال اتنی خراب تھی کہ سپین کے حکام کو ہسپانیولا کے معاملات سنبھالنے کیلئے نیا گورنر بھیجنا پڑا۔ بعد میں حالات کا دھارا کچھ ایسا بدلا کہ کرسٹوفر کولمبس کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے زنجیروں میں سپین واپس بھیجا گیا۔ 1502ء میں کرسٹوفر کولمبس نے سپین کے بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے بحراوقیانوس کا ایک اور دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس بار کولمبس پانامہ گیا۔ پانامہ میں اسے اپنے دو بحری جہاز چھوڑنے پڑے کیونکہ طوفانوں اور مقامی لوگوں نے ان جہازوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ یہ مہم جو خالی ہاتھ سپین پہنچا جہاں 1506ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کولمبس کے بارے میں متنازع باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس کے بارے میں اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ ایک جرات مند، مہم جو تھا جو راستے تلاش کرنے کا ماہر تھا اور جس نے ''نئی دنیا‘‘ کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ لیکن اس کے کچھ کام ایسے تھے جن سے تبدیلیاں آئیں اور انجام کار ان سے مقامی آبادیاں تباہ ہو گئیں۔1792ء میں امریکیوں نے سب سے پہلے اس کی آمد کی خوشی منائی تھی ،امریکہ میں10اکتوبر کو ''کولمبس ڈے‘‘ منایا جاتا ہے لیکن کچھ ریاستوں میں یہ دن نہیں منایا جاتا۔ اس کے اسباب اوپر بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر طور کولمبس کا نام تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس نے امریکہ دریافت کیا یا نہیں اس پر بحثیں جاری ہیں اور لگتا یہی ہے کہ یہ بحثیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

’’ڈیجیٹل ایمنشیا‘‘ ہمارے دماغ کو یادداشت بنانے کی عادت نہیں رہی!

’’ڈیجیٹل ایمنشیا‘‘ ہمارے دماغ کو یادداشت بنانے کی عادت نہیں رہی!

آپ نے ایمنشیا کا نام تو سنا ہو گا، جس میں انسان بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہم جس ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں، وہاں ڈیجیٹل ایمنشیا بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ قدرتی طور پر کچھ بھول جانا مثلاً چابیاں رکھ کر بھول جانا، موبائل فون بھول جانا، وقت پر دوائی لینا بھول جانا تو کوئی ایسی پریشانی والی بات نہیں یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن بہت بھولنا اور بار بار بھولنا پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ڈیجیٹل ایمنشیا میں ہوتا یہ ہے کہ ہماری چیزوں کو یاد کرنے کی قابلیت دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ موبائل فون آنے سے پہلے لوگ فون نمبرز یاد رکھا کرتے تھے ، دو سے تین مرتبہ ایک ہی نمبر ڈائل کرنے کے بعد وہ ان کو یاد ہو جایا کر تا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں خو د ایسے افراد کو دیکھا ہے جو چلتی پھرتی فون ڈائریکٹری ہوا کرتے تھے۔ تمام رشتہ داروں اوردوستوں کے نمبر انہیں زبانی یاد ہوا کرتے تھے۔پھر موبائل فون آیا اور لوگ نمبر یاد کرنے کے بجائے فون میں محفوظ کرنے لگے جس کی وجہ سے یاد کرنے کی عادت چھوٹ گئی۔ اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ نمبر تو دور کی بات ہے ہم اپنے روز مرہ کے کام بھی بھولنے لگے ہیں، انہیں یاد رکھنے کیلئے بھی موبائل میں نوٹ پیڈ یا ریمائنڈر کا استعمال کرتے ہیں۔یہ ڈیجیٹل ایمنیشیا کی ہی ایک کیفیت ہے۔ماہرین کے مطابق یادداشت کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ کچھ عرصے سے کویڈ کی وجہ سے لوگ پریشانی اور ڈپریشن میں ہیں، تنہائی کا شکار ہیں،گھر سے کام کرنے کی وجہ سے سکرین ٹائم میں بھی اضافہ ہوا ہے، نیند کی کمی کا سامناہے۔ ماہرین کے مطابق جب ہم سٹریس یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو تے ہیں تو اس کا براہ راست اثر ہماری یادداشت پر پڑتا ہے۔ سٹریس ہمارے جسم کے نارمل فنکشن کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یادداشت کا کمزور ہونا ہے۔آج کل ایمنشیا ہونے کی وجہ صرف سٹریس نہیں بلکہ موبائل فون کا بے جا استعمال ہے۔ایک ماہر نفسیات کے مطابق 40 سے 50 سال کے افراد جن کا موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہے میں یادداشت کی کمزوری کا مسئلہ دن بدن زیادہ بڑھ رہا ہے۔ اس میں سب سے اہم اور قابل ذکر چیز ڈسٹریکشن ہے۔ہمارا دماغ یادیں بناتا ہے اور اس ڈسٹریکشن کی وجہ سے ہمارے دماغ میں یادداشت بننا بند ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری توجہ کسی ایک جانب مرکوز نہیں ہے۔ جب ہم موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں مختلف ایپلی کیشن میں مصروف ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمارا دماغ کسی ایک انفارمیشن کو یاد نہیں رکھ پاتا۔ طلباء زیادہ تر پڑھائی موبائل پر ہی کرتے ہیں لیکن دیگر ایپلی کیشنز کی جانب سے آنے والے نوٹیفیکیشن ان کی توجہ بانٹ دیتے ہیں۔یہی وجہ بنتی ہے ان کی یادداشت کمزور ہونے کی۔اس صورتحال میں اگرآپ کچھ یاد کر بھی لیں گے تو وہ زیادہ عرصے یاد نہیں رہے گا ۔سمارٹ فون ہو یا کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی ،وہ آپ کی نیند پر بھی اثر انداز ہو گی۔دماغ کا بوجھ کم کرنے اور اس کو آرام فراہم کرنے کیلئے مناسب نیند بہت ضروری ہے۔ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو ایک بین الاقوامی کمپنی کے شعبہ آئی ٹی میں کام کرتا ہے ، اس کا موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال بہت زیادہ ہے ،اس نے بتایا کہ وہ رات کو ٹھیک سے سو نہیں پاتا جس کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی اور دفتر میں کام کرنے کے دوران وہ معمولی باتیں بھی بھول جاتا ہے۔گہری نیند آپ کے دماغ کیلئے بہت ضروری ہے۔یہ ہمارے دماغ کو اگلے دن کیلئے تیاراور تازہ دم کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ہماری فگرل میموری بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ فگرل میموری ہمارے دماغ میں تصویریں یاد رکھنے میں مدد کرتی ہے۔یہ ہمارے دماغ کے دائیں ہیم سفیئر میں ہوتی ہے اور جو لوگ اپنا موبائل فون دائیں کان کے ساتھ زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر آپ بھی ڈیجیٹل ایمنشیا جیسے مسئلے سے دوچار ہیں تو اس سے محفوظ رہنا نہایت آسان ہے۔ آپ کو بس کرنا یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت موبائل فون استعمال نہیں کرنااور نوٹیفیکیشن بند کر دیں۔ جی پی ایس کا کم سے کم استعمال کریں ، ایک مرتبہ میپ پر راستہ دیکھیں اور اسے یاد رکھنے کی کوشش کریں۔ہفتے میں ایک دن ایسا ضرور رکھیں جب آپ'' سکرین فری‘‘ ہوں ۔کوشش کریں کے اچھی خوراک لیں اور مناسب وقت پر ہی کھانا کھائیں۔ ان چند عادتوں کو اپنا کر آپ ایک ایسی بیماری سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جو شاید آج آپ کے لئے انتی اہمیت نہ رکھتی ہو لیکن بڑھاپے میں یہ آپ کے لئے شدید پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔تنزیل الرحمن نوجوان صحافی ہیں اورتحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں

یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

بہت سی صفات جو انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں، ان میں ایک نمایاں صفت زبان ہے۔ ان گنت مخلوقات کو الگ الگ زبانیں عطا کرنے والے نے انسان سے خصوصی محبت فرمائی اور اسے ایک سے زیادہ زبانیں بولنے اور سمجھنے کی طاقت سے نوازا۔ زبانوں کو ارتقا کے مراحل سے انتہا تک پہنچانے کے لیے شاعر اور ادیب پیدا کئے جاتے رہے۔ یہی سلسلہ چلتے چلتے جب اردو زبان تک پہنچا تو اس کے لئے عظیم مرقع نگار، فلالوجی کے ماہر، معروف اخبار نویس، جدید فارسی کے استاد کامل، ماہر تعلیم، نامور انشاء پرداز، جدید نظم کے بانی و مجدد شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد کا انتخاب کیا گیا۔مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیںمولانا محمد حسین آزاد، اردو کے پہلے شہید صحافی محمد باقر کے گھر 10جون 1830ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ والد کی شہرت اور وقار ''دہلی اردو اخبار‘‘ تھا۔ جس کا سفر 1836ء سے شروع ہو کر 1857ء میں اختتام پذیر ہوا۔ مولانا آزاد کو بچپن سے ہی ادبی ماحول میسر رہا اور ابراہیم ذوق کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اس لیے آپ لفظ کی طاقت اور خوبصورتی سے مکمل طور پر واقف تھے جبکہ طبیعت میں نازک مزاجی اور حساس پن زیادہ تھا۔ ان دونوں خوبیوں کی بدولت آپ کا تخیلی دنیا آباد کر لینا فطری عمل تھا۔ اس تخیل کو نثر کی صورت عطا کرتے ہوئے پورے کا پورا منظر ہی کاغذ پر اتار لیتے تھے کہ آج بھی پڑھنے والے کو اپنے سامنے، وہ سب کچھ حقیقت نظر آتا ہے۔ان کی نثر میں روانی سلاست اور فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے۔ مرقع نگاری کرتے ہوئے وہ تصوراتی تصویروں میں رنگ بھرنے کیلئے موقع محل کی مناسبت سے الفاظ و تراکیب کا خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔مولانا نے ایسا طرز ادا تخلیق کیا جس کی تقلید نہیں کی جا سکتی۔ آپ ''جدید شاعرانہ نثر‘‘ کی پہلی اور اہم مثال ہیں۔ آپ الفاظ کے صوتی اثرات کو کام میں لاکر عبارت میں موسیقی اور ترنم پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کی'' نیرنگ خیال‘‘ ہو یا پھر ''آب حیات ‘‘کسی کو بھی، کہیں سے بھی کھول کر پڑھنا شروع کردیں۔ آپ لفظوں کے حسن سے محظوظ ہوں گے۔ آپ کی نظریں لفظوں کو چومتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جائیں گی۔ دل کی دھڑکنیں تک مولانا کے اسلوب میں ڈھل جائیں گی۔ لفظوں کا طلسم آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دے گا کہ آپ کو ہر لفظ میں اس کا منظر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ الفاظ اجسام کی صورت آپ کے روبرو مسکرا رہے ہوں گے اور پھر ایسی حالت سے باہر نکلنا، کتاب کو بند کرنا، دل و دماغ کے لیے محشر برپا کر دینے کے مترادف بن جائے گا۔مولانا آزاد کی جملہ بندی، الفاظ کی نشست و برخاست قاری کو اپنے سحر میں قید کر لیتی ہے اور پھر آزاد کا قیدی کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ بطورنمونہ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔''سودا کے منہ سے رنگ رنگ کے پھول جھڑتے تھے۔ میر بد دماغی اور بے پروائی سے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے، شعر پڑھتے اور منہ پھیر لیتے۔ درد کی آواز درد ناک دنیا کی بے بقائی سے جی بیزار کیے دیتی تھی۔ میر حسن سحر بیانی سے پرستان کی تصویر کھینچتے تھے۔ انشاء اللہ خان انشاء قدم قدم پر نیا بہروپ دکھاتے تھے۔ ناسخ کی گلکاری چشم آشنا معلوم ہوتی اور اکثر جگہ گلکاری اس کی عینک کی محتاج تھی۔ مگر آتش کی زبان اسے جلائے بغیر نہ چھوڑتی۔ مومن کم سخن تھے مگر جب کچھ کہتے تھے تو جرات کی طرف دیکھتے تھے‘‘جس طرح موبائل اور دیگر ڈیوائسز ہوا میں موجود سگنل اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ بالکل اسی طرح مولانا آزاد کا قلم بھی جیسے ہی کاغذ کو چھوتا تو گویا سرکٹ مکمل ہوگیا ہے۔ اور آسمانِ تخیل میں معلق الفاظ کرنٹ فلو کی طرح کاغذ پر بہہ نکلتے۔ یہی وجہ تھی کہ آزاد کی آزادانہ طبیعت نے قلم کو پوری آزادی سے برتا۔ وہ صرف ایک صنف تک محدود نہیں رہے بلکہ انشائیہ، تاریخ، جدید نظم، شاعرانہ نثر ، تمثیل نگاری، مکالمہ نگاری اور تذکرہ نگاری بھی کرتے چلے گئے۔ اردو ادب کو گراں قدر تصانیف سے نوازا جن میں آب حیات، درباراکبری، سخندان فارس، ڈرامہ اکبر، سیر ایران، نگارستان فارس، نیرنگ خیال، دیوان ذوق، مکاتیب آزاد، مقالات آزاد، نظم آزاد اور حمکدہ آزاد شامل ہیں۔آپ کا شمار اردو کے عناصرخمسہ میں ہوتا ہے۔ سرسید، نذیر احمد، شبلی اور حالی جیسے ہم عصر ہونے کے باوجود، اپنا الگ اور نمایاں مقام بنانا، ایک ایسی کرامت ہے جو مولانا آزاد کے علاوہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آئی۔ادب کی انھی خدمات کے عوض حکومت ہند نے 1887ء میں آپ کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔مولانا آزاد پہلے شخص ہیں جنہوں نے لسانی موضوع کو اٹھایا۔ ماہر تعلیم ہونے کے حوالے سے کئی ایک درسی اور تعلیمی کتب لکھیں۔ جن میں اردو کی پہلی کتاب، اردو کی دوسری کتاب، فارسی کی پہلی کتاب، فارسی کی دوسری کتاب، جامع القواعد، قصص ہند، نصیحت کا کرن پھول۔ حکایاتِ آزاد، شہزادہ ابراہیم کی کتاب، جانورستان اور لغت آزاد شامل ہیں۔ علمی اور ادبی حوالے سے آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔مولانا آزاد شاعر، ادیب اورعظیم مفکر تھے۔ آپ نے اردو ادب کو تکلف، تصنع اور پرشکوہ الفاظ کی بھیڑ سے آزاد کرانے کے لیے بڑا کام کیا۔ آپ نے موضوع کی اہمیت اور متن کی سادگی و مانوسیت پر زور دیا۔ آپ ادب میں حقیقت نگاری، بے تکلفی اور سادگی کے قائل تھے۔مولانا آزاد کا تخیل اس قدرحسین اور بلند تھا کہ الفاظ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔آزاد کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے۔ لیکن جب ان کی زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو احساس غم سے گزرنا پڑتا ہے۔ والد گرامی کو پھانسی دیے جانے کے صدمے کے علاوہ بھی آپ کو کئی دکھ جھیلنے پڑے۔ 14 بچوں میں سے یکے بعد دیگرے 13 بچے فوت ہوگئے۔ بیٹی جس سے سب سے زیادہ پیار تھا اس کی وفات سے آپ کو ناقابل برداشت غم پہنچا اور ذہنی طور پر شدید جھٹکا لگا۔ سفر ایران سے واپس آتے ہوئے آپ اونٹ سے سر کے بل نیچے گرے تو ایک پسلی ٹوٹ گئی اور ساتھ ذہنی عارضے کا بھی شکار ہوگئے۔ 1890ء سے 1910ء تک 20 سال اسی حالت جنون میں رہ کر 22 جنوری بمطابق 9 محرم الحرام کو اردو ادب کا یہ بے مثال ستارہ غروب ہوگیا۔آپ کی وفات پر حالی نے اپنے پرملال دل سے آپ کو یوں خراج پیش کیا:آزاد وہ دریائے سخن کا دْر یکتاجس کی سخن آرائی پر اجماع تھا سب کاہر لفظ کو مانیں گے فصاحت کا نمونہجو اس کے قلم سے دمِ تحریر ہے ٹپکاملکوں میں پھرا مدتوں تحقیق کی خاطرچھوڑا نہ دقیقہ بھی کوئی رنج و تعب کادیکھا نہ سنا ایسا کہیں اہل قلم میںتصنیف کا، تدوین کا، تحقیق کالپکاصحت میں علالت میں اقامت میں سفر میںہمت تھی بلا کی تو ارادہ تھا غصب کاقرض اپنا ادا کرکے کئی سال سے مشتاقبیٹھا تھا کہ آئے کہیں پیغام طلب کاآخر شب عاشورا کو تھی جس کی تمناآ پہنچا نصیبوں سے بلاوا اس رب کاتاریخ وفات اس کی جو پوچھے کوئی حالیکہہ دو کہ "ہوا خاتمہ اردو کے ادب کا"انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالنے کی غرض سے منعقدہ اجلاس 19 اپریل 1874 ء میں آپ نے لیکچر میں کہا:ـ''فصاحت اسے نہیں کہتے کہ مبالغے اور بلند پردازیوں کے بازوں سے اڑے۔ قافیوں کے پروں سے فر فر کرتے گئے۔ لفاظی اور شوکتِ الفاظ کے زور سے آسمان پر چڑھ گئے اور استعاروں کی تہ میں ڈوب کر غائب ہو گئے۔ فصاحت کے معنی یہ ہیں کہ خوشی یا غم، کسی شے پر رغبت یا اس سے نفرت، کسی شے سے خوف یا خطر، کسی پر قہر یا غضب، غرض جو خیال ہمارے دل میں ہو اس کے بیان سے وہی اثر، وہی جذبہ، وہی جوش سننے والوں کے دل پر چھا جائے جو اصل کے مشاہدہ سے ہوتا ہے۔‘‘آپ نے انجمن پنجاب کے پہلے موضوعاتی مشاعرے میں اپنی مثنوی ''شب قدر‘‘ پڑھی۔ جو رات کی حالت پر لکھی گئی تھی۔ آپ نے انجمن پنجاب کے حوالے سے 4 نظمیں لکھیں اور 15 لیکچر دیئے ۔ انجمن پنجاب کے لیے کی جانے والی محنت کے تحت آپ کو ''جدید نظم‘‘ کا بانی کہا جاتا ہے۔ جبکہ مہدی افادی کے نزدیک آپ '' آقائے اردو ‘‘ ہیں۔ساجد ندیم انصاری شعبہ تدریس سے وابستہہیں، مختلف موضوعات پر ان کے مضامینمختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

دنیا میں سب سے بڑا بارشوں اور تیز ہواؤں پر مشتمل طوفان امریکہ میں 4 نومبر 1998ء میں آیا، جب 9745 افراد ہلاک اور 93 ہزار سے زائد لوگ لا پتہ ہو گئے تھے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے زیادہ چیخنے والے بندر امریکی ہیں جنکی خوفناک آوازیں 16 کلومیٹر دور سے بھی سنی جا سکتی ہیں۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے اونچا ہوائی جمپ لگانے کا اعزاز بھی دو امریکی کتوں کے پاس ہے جنہوں نے 3 اکتوبر 2003 ء کو 66 انچ اونچائی سے چھلانگ لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے لمبا اونٹ امریکہ میں ہے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے بڑی مچھلی شارک وہیل ہے جو بحر اوقیانوس میںپائی جاتی ہے ۔اس کی لمبائی 23 فٹ اور وزن 20 ٹن سے زائد ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ کیوبا کا ہے ۔جس کا جسم صرف 2.2 انچ اور وزن صرف 0.56 اونس ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے وزنی مادہ بندر جنوبی افریقہ میں ہے جس کا وزن 45 کلو سے بھی زائد ہے۔ جبکہ نر بندر 54کلو کا ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کی سب سے لمبی گالف کارٹ امریکی پیٹر نی نے بنائی جس کی لمبائی 5.81 میٹر ہے۔سب سے پہلے ملنے والے پیمائش کے اوزان کا تعلق 3800 قبل مسیح کی مصری تہذیب سے ہے۔ جس کا نام ''بیقا ‘‘ ہے جو مصر میںنقادہ کے مقام سے ملے۔

اقتباسات

اقتباسات

مجھے وہ بات یاد آرہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جس میں دنیا کا نقشہ تھا اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے، اس کو جوڑ کر دکھاؤ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہوکے بیٹھ گیا کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے، میرے جیسا بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا۔ اس کا باپ بڑ ا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا۔اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کے دوسری طرف ایک اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پورا آدمی جوڑ دیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ بابا اگر آدمی جڑ جائے تو ساری دنیا جڑ جائے گی۔(''زاویہ ۲‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)ناامیدی اور مایوسیرونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نم آنکھیں، نرم دل ہونے کی نشانی ہیں اور دلوں کو نرم ہی رہنا چاہئے۔ اگر دل سخت ہوجائیں تو پھر ان میں پیار و محبت کا بیج نہیں بویا جاسکتا اور اگر دلوں میں محبت ناپید ہوجائے تو پھر انسان کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ محبت وہ واحد طاقت ہے جو انسان کے قدم مضبوطی سے جمادیتی ہے اور وہ گمراہ نہیں ہوتا۔بس ان آنسوؤں کے پیچھے ناامیدی اور مایوسی نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ناامیدی ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اللہ سے ہمیشہ بھلائی اور اچھے وقت کی آس رکھنی چاہئے۔ وہ اپنے بندوں کو اسی چیز سے نوازتا ہے جو وہ اللہ سے توقع کرتے ہیں۔(فاطمہ عنبریں کے ناول ''رستہ بھول نہ جانا‘‘ سے اقتباس