نظر کمزوری کا مسئلہ
اسپیشل فیچر
ایک عام عادت کا نتیجہ ہو سکتا ہے
دنیا بھر میں نظر کی کمزوری، خصوصاً مایوپیا (قریب کی چیزیں صاف اور دور کی دھندلی نظر آنا)، تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ چشم اسے صحت کا عالمی بحران قرار دے رہے ہیں۔ سائنسی جریدوں اور ویب سائٹس مثلاً ScienceAlert پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق اس اضافے کی ایک ممکنہ وجہ ہماری روزمرہ کی ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی عادت ہے: طویل عرصے تک اندرونی ماحول میں قریب کی چیزوں پر نظر جمائے رکھنا، خاص طور پر کم روشنی میں۔
روایتی طور پر مایوپیا کاذمہ دار سکرین ٹائم کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کو اس مسئلے کا مرکزی سبب سمجھا گیا تاہم تازہ تحقیق ایک اہم نکتہ سامنے لاتی ہے کہ مسئلہ صرف سکرین نہیں بلکہ قریب کا کام ہے ، یعنی کتاب پڑھنا، کاپی پر لکھنا یا موبائل استعمال کرنا ، سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ سرگرمیاں طویل وقت تک اور کم روشنی میں کی جائیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق جب ہم کسی قریبی شے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو آنکھ کے عضلات سکڑتے ہیں تاکہ فوکس برقرار رہے۔ اسی دوران پتلی (pupil) بھی سکڑتی ہے تاکہ تصویر واضح ہو۔ اگر کمرے کی روشنی کم ہو تو ریٹینا تک پہنچنے والی روشنی کی مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق مسلسل کم روشنی میں نزدیک دیکھنے سے آنکھ کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو مایوپیا کے امکانات بڑھا دیں۔یہ نظریہ اس بات سے بھی تقویت پاتا ہے کہ جو بچے زیادہ وقت باہر کھیلتے ہیں ان میں مایوپیا کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی ہے۔ بیرونی ماحول میں قدرتی روشنی زیادہ ہوتی ہے اور آنکھوں کو دور کی اشیا پر فوکس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دن کی روشنی ریٹینا کو زیادہ متحرک رکھتی ہے جس سے آنکھ کی نشوونما متوازن رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عالمی سطح پر اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق 2050ء تک دنیا کی تقریباً نصف آبادی مایوپیا کا شکار ہو سکتی ہے اور نوجوانوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تعلیمی دباؤ، مقابلے کا رجحان اور ڈیجیٹل آلات کا بڑھتا استعمال سب اس رجحان میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ شہری زندگی میں بچوں کا زیادہ وقت گھروں اور کلاس رومز میں گزرنا بھی ایک اہم عامل سمجھا جا رہا ہے۔تاہم ضروری ہے کہ اس تحقیق کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ سائنس میں کسی ایک مطالعے سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا۔ جینیاتی عوامل، خاندانی تاریخ، تعلیمی ماحول اور طرزِ زندگی سب مایوپیا کے خطرے کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ تحقیق ایک مفروضہ پیش کرتی ہے جسے مزید تجربات اور بڑے پیمانے کے مطالعوں کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دانشمندی ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کے لیے۔ چند عملی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں: مطالعہ اور سکرین کا استعمال مناسب اور روشن ماحول میں کیا جائے۔ ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی شے کو دیکھنے کی عادت اپنائی جائے (20-20-20 اصول)۔ روزانہ کم از کم ایک سے دو گھنٹے باہر کھیلنے یا چہل قدمی کا اہتمام کیا جائے۔ کم روشنی میں موبائل یا کتاب کا طویل استعمال ترک کیا جائے۔ باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے۔ مایوپیا کا بڑھتا ہوا رجحان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے اثرات ہماری آنکھوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر ہم روشنی، وقت اور فاصلہ کے تین اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو شاید اس خاموش وبا کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔ سائنس ابھی حتمی جواب کی تلاش میں ہے، مگر احتیاط اور اعتدال ہمیشہ بہترین حکمتِ عملی رہتے ہیں۔