لاہور اپنی تاریخی مساجد، باغات اور مغلیہ طرزِ تعمیر کے دیگرحوالوں کے باعث برصغیر کا اہم ثقافتی مرکز رہا ہے۔ انہی تاریخی یادگاروں میں مسجد دائی انگہ ایک ایسی عمارت ہے جو اپنی دلکش ساخت، تاریخی اہمیت اور تزئینی حسن کے باوجود نسبتاً کم معروف ہے۔ یہ مسجد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مغلیہ عہد کی فنکارانہ روایت کا ایک قیمتی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔تاریخی پس منظراس مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل دور کے عروج کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کا سال 1635ء بتایا جاتا ہے جبکہ بعض کتبوں کے مطابق اس کی تکمیل 1649ء کے قریب ہوئی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ (رضاعی ماں) دائی انگہ نے تعمیر کروائی جن کا اصل نام زیب النساتھا‘ جن کا اپنا مقبرہ یو ای ٹی لاہور کے پاس واقع ہے اور گلابی چوکی کے نام سے بھی معروف ہے ۔دائی انگہ مغل دربار کی بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس مسجد کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور میں خواتین بھی مذہبی اور فلاحی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔محلِ وقوع اور شہری اہمیتیہ مسجد لاہور کے تاریخی علاقے نولکھا کے قریب، لاہور ریلوے سٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ مغل اشرافیہ اور درباری شخصیات کی رہائش گاہوں کے لیے مشہور تھا۔ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ نے اس علاقے کی ساخت کو بدل دیا مگر مسجد آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔شہر کے مصروف تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ مسجد ایک تاریخی سکون اور روحانیت کا احساس دیتی ہے، جو ماضی اور حال کے امتزاج کی خوبصورت مثال ہے۔مسجد دائی انگہ نے اپنی طویل تاریخ میں کئی ادوار دیکھے۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں اس مسجد کو بارود کے گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد برطانوی دور میں اس عمارت کی مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے رہائش گاہ اور بعد ازاں ریلوے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس بحالی نے اس تاریخی عمارت کو اپنی اصل مذہبی شناخت واپس دلائی۔مغلیہ فن کا خوبصورت نمونہمسجد دائی انگہ کا بنیادی منصوبہ مغلیہ مساجد کے روایتی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مرکزی گنبد بلند جبکہ اطراف کے گنبد نسبتاً چھوٹے ہیں جو توازن اور جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں۔یہ ترتیب مغلیہ طرزِ تعمیر میں روحانی مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مرکزی گنبد عبادت کے مقام کو نمایاں کرتا ہے۔مسجد کے سامنے ایک کشادہ صحن موجود تھا، جو اجتماعی عبادت اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ صحن میں وضو کے لیے حوض کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کو مکمل مذہبی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔کاشی کاری اور تزئینی حسنمسجد دائی انگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاندار کاشی کاری ہے۔ بیرونی دیواروں پر نیلے، زرد اور نارنجی رنگوں کی ٹائلوں کا استعمال مغلیہ فنِ تعمیر کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔پیش طاق (بلند مرکزی محرابی دروازہ) اور دیواروں پر کی گئی ٹائل موزیک آرائش اسے لاہور کی دیگر مغلیہ عمارتوں سے جوڑتی ہے۔ یہ آرائش فارسی اور مقامی فنون کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ابتدائی دور میں مسجد کے اندرونی حصے میں خوبصورت فریسکو (دیواروں پر رنگین نقاشی) موجود تھی۔ وقت گزرنے، موسمی اثرات اور مرمت کے مختلف مراحل کے باعث اصل فریسکو کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور بعد میں کچھ جگہوں پر ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔اندرونی محرابیں گہری اور نفیس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ دیواروں پر خطاطی کے آثار بھی ملتے ہیں، جو مغلیہ دور کی مذہبی آرائش کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔مینار اور بیرونی خدوخالمسجد کے اگلے حصے کے دونوں کونوں پر چھوٹے مگر خوبصورت مینار قائم ہیں جن کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور اوپر چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ خصوصیت مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔بیرونی سطح پر ٹائل ورک، محرابی دروازے اور متوازن ساخت اس مسجد کو فنِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت اہم بناتے ہیں۔یہ مسجد ایک محفوظ تاریخی ورثہ سمجھی جاتی ہے مگر شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی اثرات اور غیر پیشہ ورانہ مرمت نے اس کے اصل حسن کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس مسجد کی اصل کاشی کاری اور فریسکو آرائش کی سائنسی بنیادوں پر بحالی نہایت ضروری ہے۔مسجد دائی انگہ لاہور کی ان تاریخی یادگاروں میں شامل ہے جو اپنی خاموش عظمت میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ ایک بااثر مغلیہ خاتون کی سرپرستی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد فنِ تعمیر، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔اگر اس تاریخی مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور مستند طرز پر بحالی کی جائے تو یہ نہ صرف سیاحتی بلکہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی لاہور کے اہم تاریخی مقامات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یوں مسجد دائی انگہ محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ماضی کی شان و شوکت، فن اور مذہبی روایت کی ایک زندہ داستان ہے۔