آج کا دن
اسپیشل فیچر
ورلڈ ٹریڈ سینٹر بم دھماکہ
26 فروری 1993ء کو نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا میں بم دھماکہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ عالمی دہشت گردی کے ابتدائی بڑے حملوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تحقیقات کے نتیجے میں شدت پسند نیٹ ورک کے افراد کو گرفتار کیا گیا اور عدالتوں نے انہیں سزائیں سنائیں۔ اس واقعے کے بعد بلند و بالا عمارتوں، عوامی مقامات اور انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی کے نظام کو مزید سخت بنایا گیا۔
کمیونسٹ بالادستی کا خاتمہ
26 فروری 1990ء کو سوویت یونین کی سپریم سوویت نے آئینی شق 6 کو ختم کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی بالادستی کا خاتمہ شروع ہوا۔ یہ فیصلہ سرد جنگ کے اختتام اور جمہوری اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ اس دور میں گورباچوف کی پالیسیوں نے سیاسی لبرلزم اور معاشی اصلاحات کو فروغ دیا۔ اس آئینی تبدیلی نے سوویت ریاست کے سیاسی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔سوویت یونین میں جمہوری رجحانات میں اضافہ ہوا مگر ساتھ ہی ریاستی اتحاد کمزور ہوتا گیا۔
ناروے :تیل کی دریافت
26 فروری 1969ء کو ناروے کے شمالی سمندر میں تیل کی تلاش کے اہم منصوبوں میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس نے ملک کی معیشت کی بنیاد تبدیل کر دی۔ بعد ازاں ناروے دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اس دریافت نے نہ صرف قومی آمدنی میں اضافہ کیا بلکہ سماجی بہبود کے نظام کو بھی مضبوط کیا۔ ناروے نے تیل کی دولت سے خودمختار ویلتھ فنڈ قائم کیا جو آج دنیا کے سب سے بڑے فنڈز میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کی دریافت کے نتیجے میں صنعتی ترقی، توانائی کی خود کفالت اور عالمی توانائی کی منڈی میں ناروے کا اثر و رسوخ بڑھا۔
بامیان مجسموں کو تباہی
26 فروری 2001ء کو افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے دنیا کے قدیم ترین تاریخی ورثے میں شامل بامیان کے بدھ مجسموں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ مجسمے تقریباً 1500 سال پرانے تھے اور افغانستان کے صوبہ بامیان کی پہاڑیوں میں تراشے گئے تھے۔ اقوام متحدہ، یونیسکو اور متعدد اسلامی ممالک نے اس فیصلے کی مذمت کی۔یہ واقعہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے ایک بہت بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے کیونکہ بامیان کے مجسمے بدھ مت تہذیب اور قدیم شاہراہِ ریشم کی تاریخ کے اہم آثار تھے۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا اور جنگ زدہ علاقوں میں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
برطانیہ کا ایٹمی پروگرام
26 فروری 1952ء کو برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ برطانیہ نے کامیابی کے ساتھ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ اعلان سرد جنگ کے دور میں کیا گیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی طاقت کی دوڑ جاری تھی۔برطانیہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی عالمی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا، نے دفاعی خودمختاری کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کو ضروری سمجھا۔ اس اعلان کے بعد اسی سال اکتوبر میں برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جس سے وہ دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت بن گیا۔